ذرا نم ہو یہ مٹی تو بڑی زرخیز ہوتی ہے

سائیکل مرمت کرنے والے کی بیٹی کا فیشن کی دنیا میں بڑا نام

0

یہ کہانی شروع ہوتی ہے مدھیہ پردیش کے دور دراز علاقے میں واقع ایک چھوٹے اور گمنام سے گاؤں سے۔ ہتپيپليا گاؤں کی ٹوٹی پھوٹی اور دھولبھری سڑک کے کنارے پر ایک شخص اپنی ایک چھوٹی سی سائیکل مرمت کی دکان میں مختلف قسم کے کام کر رہا ہے۔ ایک وقت وہ بھی تھا جب اس کی بیٹی کہیں کونے میں بیٹھ کر ٹکٹکی لگائے محنت کرتے اپنے والد کو دیکھتی رہتی۔

والد کو اتنے صبر و تحمل اور مضبوط قوۃ ارادی کے ساتھ کام کرتے ہوئے دیکھ کر بیٹی کے اندر ایک احساس گھر کرتا گیا، اس نے فیصلہ کیا کہ بڑی ہونے کے بعد وہ اپنے بل پر کچھ بڑا کام کر کے دکھائے گی اور اپنے ماں باپ کا نام روشن کرے گی۔

اس بیٹی نے آخرکار اپنے اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرہی دیا۔ آج وہی لڑکی خواتین کے لئے روایتی ہندوستانی لباس دستیاب کروانے والے ایک آن لائن فیشن اسٹورکی مالک ہے۔ ايلوفیشن ڈزائن کی بانی کے طور پروہ اپنی شناخت رکھتی ہیں۔

اندور سے 50 کلومیٹر دور ایک چھوٹے سے گاؤں میں پلی بڑھی پلوی کے لئے بچپن کی یادیں بہت خوشگوار رہی ہیں۔ انہیں اپنے بچپن سے شکایت ہے صرف اتنی کہ ان کے گاؤں میں پڑھنے کے لئے ایک مناسب اسکول نہیں تھا اور جو تھا وہ تعلیم کی بنیادی خصوصیات سے مکمل طور محروم تھا۔ کلاس کے نام پر اس اسکول میں صرف ایک بورڈ اورمیز ہوتی تھی اور بچوں کو زمین پر بیٹھ کر پڑھنا پڑتا تھا۔

پلوی کہتی ہیں، '' میرے والدین تعلیم کے معاملے میں بہت بیدار اور معاون تھے اور انہوں نے ہمیشہ ہمیں اپنی مرضی سے آگے بڑھنے کے لئے حوصلہ افزائی کی۔ ہمارے اپنے شہر میں تعلیم کا کوئی بہتر انتظام نہ ہونے کے باوجود میرے والدین نے اس بات کا یقینی بنایا کہ میں اور میری بہن، ہم دونوں اپنے گھر سے دور دوسرے شہروں میں جا کر اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں۔''

اچھی تعلیم اور تربیت کے نتیجے میں پلوی اندور کے دیوی اهليا یونیورسٹی سے منسلک ایک گجراتی کالج سے معاشیات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔

جلد ہی ان کی شادی ہو گئی اور وہ دو بچوں کی ماں بن گئیں، لیکن انہوں نے اپنے دل و دماغ میں ایک کاروباری بننے کے اپنے خواب کو زندہ رکھا۔ وہ اپنے طور پر کچھ کرنے کے لئے اتنی بےچین تھیں کہ انہوں نے خاموشی کے ساتھ کی اس تیاریاں شروع کر دیں۔ وہ روایتی لباس سے متعلق ایک آن لائن اسٹور شروع کرنا چاہتی تھیں۔

پلوی نے اپنے شوہر کے تعاون سے گھر کے قریب ہی ایک چھوٹی سی جگہ کرائے پرلے کر اپنا انٹرپرائز قائم کی۔ انہوں نے گھر کے قریب کی جگہ اس لئے لی تاکہ وہ کام کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں پر بھی توجہ دے سکیں۔ شروع میں انہوں نے اپنی مصنوعات کے پھوٹو شوٹ اور دیگر اخرجات کے لئے اپنی بچت کے علاوہ پرووڈینٹ فنڈ اور میوچول فنڈ کے پیسے کا استعمال کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپمنی فہرست میں مختلف مصنوعات کی ایک متنوع رینج پیش کرنے کے لئے تاجروں کو پیشگی ادائیگی کا بھی بندوبست کر لیا۔

اس انٹرپرائز کی بنیاد رکھنے کا خیال پلوی کوایک ہسپتال میں چل رہی بحث کے دوران آیا، جہاں ان کے شوہر ایک سرجری کے بعد بہتر صحت کے لئے رکے ہوئے تھے۔

پلوی بتاتی ہیں، '' وہ کام پر واپس آنے کے لئے پریشان تھے اور میں ہمیشہ سے ہی اپنے طور پر کچھ کاروبار کرنا چاہتی تھی۔ ایسے میں ہم دونوں نے باہمی رضامندی سے ایک ساتھ مل کر کچھ شروع کرنے کا ارادہ کیا۔ '' مشاورت کے کچھ کئی دورہوئے، اس کے بعد ايلوفیشن دنیا کے سامنے آنے کے لئے تیار تھا۔ آخر ايلوفیشن نام ہی کیوں؟ ''اس لئے کہ یہ رنگ ہم دونوں کا پسندیدہ رنگ کو ہے۔''

شروع میں تو یہ خیال بہت دلچسپ تھا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ کاروبار کے ابتدائی مراحل میں آنے والے مسائل نے انکا امتحان لینے میں کسر باقی نہیں رکھی اور شروع کے چند ماہ تو بہت ہی مشکل تھے۔ پہلے تین ماہ میں تو ان کا کاروبار آہستہ آہستہ آگے بڑھتا رہااور انہیں صرف 20 سے 25 ساڑيوں کے ارڈر ہی ملے۔ تاہم ان کا پلیٹ فارم ساڑيوں سے بھرا ہوا تھا، لیکن خریدار نہیں تھے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی تجارت کی حکمت عملی پر توجہ دینا شروع کیا، لیکن ان کی سمجھ میں یہ نہیں آ رہا تھا کہ تین ماہ سے زیادہ کے ارسے میں صرف 20 سے 25 ارڈر ملنے کا کیا وجہ ہے اور آئندہ انہیں اور بھی زیادہ مشکلوں کا احساس ہوگیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی ویب سائٹ کو بہتر بنانے کا کام شروع کیا اور اس کے علاوہ مختلف سوشل میڈیا سائٹس کی مدد سے سے گاہک تک اپنی پہنچ بنانے کی کوشش شروع کی۔ رعایت کی بھی پیشکش کرنا شروع کر دی۔

اس کے علاوہ ایک ان کا دفتر ایک رہائشی کالونی میں سےہونے کا فائدہ بھی انھیں ہوا.آس پاس رہنے والی خواتین اکثر نئی نئی ساڑيوں کو دیکھنے کے لئے ان کے پاس آتی رہتی تھیں اور ان میں سے کچھ وہاں سے جاتے جاتے انہیں خرید بھی لیتی تھیں۔

بس اسی طرح ایلو فیشن نے کامیابی کا ذائقہ چکھنا شروع کر دیا تھا۔ تاہم انہیں وقت لگا، لیکن آج یہ برانڈ فیشن کی دنیا میں اپنا ایک الگ نام بنانے میں کامیاب رہی ہے۔ اب وہ توسیع کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اب یہ مختلف پیشہ ور خواتین کی پسند کو پورا کرنے کے لئے ساڑيوں کی ایک وسیع رینج شامل کرنے پر غور کر رہی ہیں - چاہے وہ ڈاکٹر ہوں یا پروفیسر ہوں یا پھر گھریلو خواتین ہی کیوں نہ ہوں اور گجرات سے لے کر جنوبی ریاستوں تک خواتین ان کے نشانے پر ہیں۔ اس کے علاوہ وہ خواتین کی پسند اور ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ان کی پسنداور مرضی کے مطابق بلاؤز تیار کرنے کا منصوبہ بھی بنا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ جلد ہی یہ ساڑيوں کے اپنے ذاتی لیبل کے ساتھ بھی بازار میں اتارنے کا ارادہ رکھتی ہیں.

پلوی کہتی ہیں، '' ابتدائی دور میں جب ہم نے کام شروع کیا تھا تب ہماری ٹیم بہت چھوٹی تھی اور ہم سب کو بہت کام کرنے پڑتے تھے۔ مجھے بہت اچھی طرح یاد ہے کہ اس دوران میں دکانداروں کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران اور بچوں کو پڑھاتے وقت حتیٰ کہ کئی بار تو کھانا پکاتے وقت کسٹمر کیئر نمبر کے طور پر اپنے موبائل نمبر کا استعمال کرتی تھی اور یہ سب کام کرتے ہوئے صارفین کے سوالات کا جواب دیتی رہتی تھی۔ ''

اس کے علاوہ پلوی کے لئے سب سے بڑی فخر کی بات یہ ہے کہ وہ اپنا انٹرپرائز کو خود کی محنت سی ایک نئی شناخت دے پائی ہیں۔ پلوی کہتی ہیں، '' ہم نے ابتدائی دور میں ممبئی کے اپنے صارفین کو ذاتی طور پر مصنوعات کو بھیجنے کا کام انجام دیا۔ اب بھی ہم مہینے میں کم از کم ایک دو بار ایسا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طرح ہم اپنے صارفین کو زیادہ قریب سے جاننے اور سمجھنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ گاہکوں اور ہمارے درمیان اچھے تعلقات قائم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ ''

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem