معاشرے کے طعنوں نے بدل دی زندگی، آج مخصوص اہلیت کے حامل دوسو بچّوں کی’ماں‘ ہیں سویتا

0

جسمانی طور سے معذور بچّوں کے لئے’ سویتا‘ چلاتی ہیں اسکول اور ہوسٹل ...

بچّوں کی صلاحیتوں کو اُبھارنے ، نکھارنےکے لئے کر رہی ہیں کام ...

بچّوں کی خدمت کرنے کے مقصد سے’ سویتا‘ نے نہیں کی شادی ...

دنیا بدل رہی ہے ۔ تبدیلی کی اِس ہوا نے لوگوں کے نقطۂ نظر کو بھی تبدیل کر دیا ہے ۔ کل تک جنہیں مجبور اور نااہل قرار دے کر حاشئیے پررکھا جاتا تھا، آج وہ کامیابی کی نئی عبارت لکھ رہے ہیں ۔ اپنے ہنر اور حوصلے کی بدولت انہوں نے یہ بتا دیا ہے کہ وہ مجبور اور معذور نہیں بلکہ مضبوط ہیں۔ ہم بات کر رہے ہیں جسمانی طور پر غیر فعال انسانوں کی ۔’ کاشی‘ سے وزیر اعظم نریندر مودی نے جسمانی طورپر معذور انسانوں کو نیا نام دیاہے ’ دیویانگ‘ اور ان کے تئیں سرکاری سطح پر ہمدردی دکھائی تو اس کا اثر بھی اب نظر آنے لگا ہے ۔ معاشرے میں کئی ایسے لوگ ہیں جوثانوی اہلیت کے حامل لوگوں کو مرکزی دھارے میں لانے کی کوشش میں مصروف ہیں ۔ ایسی ہی ایک خاتون ہیں غازی پور ضلع کی رہنے والی ’سویتا سنگھ‘۔ریوینیو ڈپارٹمنٹ میں اکاؤنٹس آفیسر کے عہدے پر کام کرنے والی سویتا سنگھ آج200 ’دیویانگ ‘ یعنی مخصوص اہلیت رکھنے والےبچّوں کے لئے ماں کی طرح ہیں ۔ سویتا سنگھ نے ان بچّوں کو جنم تو نہیں دیا، لیکن جنم دینے والی ماں سے کہیں بڑھ کر ہیں ۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی ان بچّوں کے لئے وقف کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ یہ بچّے ہی اب سویتا کی زندگی ہیں ۔ سویتا جیتی ہیں تو صرف ان بچّوں کے لئے ۔ دو پیسے کماتی ہیں تو ان بچّوں کے لئے ۔ بچّوں کی یہ دنیا ہی اب انہیں راس آگئی ہے ۔

سویتا نے کیسے سنواری مخصوص بچّوں کی دنیا

مخصوص اہلیت کے حامل ان ’دویانگ‘ بچّوں کو حوصلہ دینے اور انہیں مضبوط بنانے کے لئے سویتا آج جی جان سے مصروف ہیں۔ غازی پور کے شاستری نگر علاقے میں ان بچّوں کے لئے سویتا ایک اسکول چلا رہی ہیں، تاکہ بچّے پڑھ لکھ کر اپنے پیروں پر کھڑےہو سکیں ۔ سویتا کے اسکول میں اس وقت 200 سے زائد بچّے ہیں جو تعلیم حاصل کرنے کے لئے روزانہ ان کے اسکول میں آتے ہیں ۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ سویتا بچّوں کو روزگار دینے والے کورس کی ٹریننگ بھی دلاتی ہیں تاکہ تعلیم کے بعد یہ بچّے خود کا روزگار کر سکیں ۔ سویتا کے اسکول میں کمپیوٹر کے ساتھ سلائی کڑھائی کی تربیت دی جاتی ہے ۔ سویتا جانتی ہیں کہ اگر ان بچّوں کو نفسیاتی طور پر مضبوط و مستحکم بنانا ہے تو انہیں تعلیم دیناانتہائی ضروری ہے ۔ لہٰذا ایک اسکول کی ضرورت تھی، جہاں یہ بچّےتعلیم حاصل کر سکیں ۔ لیکن بدقسمتی سے’ پوروانچل‘ کے پسماندہ اضلاع میں شمار ہونے والے غازی پور میں ایسے مخصوص ’دویانگ‘ بچّوں کے لئے کوئی بھی اسکول نہیں تھا ۔’دویانگ‘ بچّوں کی اسی ضرورت کو سویتا نے سمجھا اور ایک اسکول کھولنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم یہ اتنا آسان نہیں تھالیکن سویتا نے بھی ہار نہیں مانی ۔’دویانگ‘ بچّوں کے لئے سویتا محلے محلے چکّرلگاتی رہیں ۔ لوگوں سے چندہ مانگا۔ کچھ لوگوں نے آگے بڑھ کر ان کا ساتھ دیا تو کچھ نے ’دویانگ‘ بچّوں کا نام سنتے ہی منہ پھیر لیا ۔’دویانگ‘ بچّوں کا مخصوص اسکول کھولنے کے لئے سویتا نے اپنی زندگی بھر کی گاڑھی کمائی لگا دی ۔برسوں کی محنت کے بعد آج شاستری نگر محلے میں ’دویانگ‘ بچّوں کا اسکول بن پایا ہے۔ اس اسکول میں بچّوں کے رہنے کے لئے ہوسٹل کا بھی انتظام ہے ۔ آج سویتا ان بچّوں کے ساتھ انتہائی خوش ہیں ۔

’دویانگ‘ بچّوں کے ساتھ کیوں وابستہ ہوئیں سویتا؟

’دویانگ‘ بچّوں کے ساتھ سویتا کے وابستہ ہونے کی کہانی بھی انتہائی دلچسپ ہے۔ دراصل سویتا خود بھی ’دویانگ‘یعنی مخصوص یا ثانوی اہلیت کی حامل خاتون ہیں۔ سویتا کا ایک پاؤں بچپن سے ہی خراب ہے ۔ لہٰذا سویتا عام بچّوں کی طرح نہ دوڑ پاتی تھیں اور نہ ہی رقص کر پاتی تھیں۔ لیکن اسی درمیان ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے سویتا کے جینے کا نظریہ ہی بدل دیا۔ سویتا نے’ يوراسٹوری ‘کو بتایا،

’’جب وہ اسکول جاتی تھیں تو ان کے ساتھی انہیں چِڑاتے تھے ۔ طعنے مارتے تھے ۔ عام بچّوں کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے میں مجھے خاصی دِقّت پیش آتی تھی ۔ میَں نے یہ کام اس لئے شروع کیا تاکہ پھر کسی بچّے کو میری جیسی ذِلّت نہ جھیلنی پڑے ۔‘‘

اپنی اس نئی دنیا سے آج سویتا انتہائی خوش ہیں۔ سرکاری ملازم ہونے کے باوجود سویتا ’دویانگ‘ بچّوں کے لئے وقت نکال لیتی ہیں۔ اپنی تنخواہ کا ایک بڑا حصّہ سویتا ان بچّوں کی پڑھائی لکھائی پر خرچ کرتی ہیں تاکہ یہ بچّے ہنر مند بنیں۔ انہیں دوسروں کے سہارے کی ضرورت نہ پڑے ۔ بنیادی طور سے ’دلدارنگر ‘علاقے کی رہنے والی سویتا چھ بھائی بہنوں میں سب سے چھوٹی ہیں۔ سویتا جب 6 ماہ کی تھیں تبھی وہ پولیو کا شکار ہو گئیں۔ پولیو کی وجہ سے ان کا ایک پاؤں خراب ہو گیا۔ ایک تو ’دویانگ‘ اُس پر طرّہ یہ کہ لڑکی ! یہ سب کچھ اتنا آسان نہیں تھا ۔ سویتا بتاتی ہیں کہ آس پاس کے لوگ اور رشتہ دار بس یہی کہتے تھے کہ اس لڑکی کا کیا ہوگا؟ کون اس سے شادی کرے گا؟ دنیا والوں کے طعنے سویتا کے ذہن میں تیر کی طرح چبھتے تھے۔ لیکن انہوں نے ہار نہیں مانی ۔ ابتدائی تعلیم کے بعد غازی پور پی جی کالج سے گریجویشن کی ڈگری لی اور مقابلہ جاتی امتحانات میں مصروف ہو گئیں۔ نتیجہ یہ کہ آج وہ ایک قابلِ قدر اور معززعہدے پر فائز ہیں ۔

 سویتا چاہتی ہیں کہ ان کے اسکول میں آنے والے بچّے صرف پڑھائی لکھائی ہی نہ کریں بلکہ انڈیپنڈنٹ یعنی خود کفیل بھی بنیں۔ اس لئے سویتا کی تمام تر توجہ ان بچّوں کی اِسکل ٹریننگ پر ہوتی ہے۔ سویتا کے اسکول میں کمپیوٹر، بیڈ شیٹ کی پرنٹنگ، پھولوں کی اگربتّی، گُلدان بنانے اور پینٹنگ کی ٹریننگ دی جا رہی ہے ۔ یہی نہیں ان بچّوں کے ٹیلنٹ کو معاشرے کے سامنے لانے کے لئے اب سویتا ’سُر سنگرام‘نام سے ميوزیكل شو پیش کرنے جا رہی ہیں تاکہ’دویانگ‘ بچّوں میں جو فن ہے اسے دنیا دیکھ سکے ۔ اس شو میں صرف مخصوص’دویانگ‘ بچّے ہی حصّہ لیں گے ۔ شو جیتنے والے بچّے کوانعام و اکرام سے نوازا جائے گا۔ پورے ضلع میں یہ شو موضوعِ بحث ہے۔

سویتا نے سال 2004/05 میں ’دویانگ‘ بچّوں کے لئے ’سمرپن‘ نام کا جو ادارہ قائم کیا تھا آج وہ برگدکی شکل لے چکا ہے ۔ لیکن سویتا کو ملال ہے کہ حکومت اس نیک کام میں ان کی اتنی مدد نہیں کر رہی ہے جتنا کرنی چاہئے ۔ سویتا بتاتی ہیں، تقریباً 10 سالوں کی سخت جدوجہد کے بعد حکومت ان بچّوں کے لئے گرانٹ دینے کو تیار ہوئی لیکن وہ بھی اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر ہے ۔ سویتا سوال کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ کیا یہ ممکن ہے کہ مہنگائی کے اِس دور میں ایک بچّے کی ایک وقت کی ڈائٹ فیس 6 روپے ہو؟ سویتا کے اسکول سے پڑھ کر نکلنے والے بچّے بھی اب اپنی دنیا میں خوش ہیں ۔ کئی ایسے بچّے ہیں جنہوں نے خود کا کاروبار شروع کر دیا ہے ۔ ان بچّوں کو سویتا کے ادارے کی جانب سے بینکوں سےقرض دلایا گیا ۔ یہی نہیں سویتا ہر موڑ پر ان بچّوں کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہیں ۔ ان کے دُکھ سکھ میں سویتا ساتھ رہتی ہیں۔ سویتا کے اسکول میں پڑھنے والا’ آکاش‘ بتاتا ہے،

’’جب سے میں میڈم کے اسکول میں آیا ہوں ،کبھی تنہا محسوس نہیں کرتا۔ زندہ رہنے کی جو امید میں نے چھوڑ دی تھی، ایک بار پھر وہ میرے اندر جاگ گئی ہے ۔‘‘

’دویانگ‘ بچّوں کے لئے کچھ کرنے کی یہ ضد ہی ہے کہ سویتا نے شادی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔ سویتا کو اُن کے اس نیک کام کے لئے کئی اعزاز بھی مل چکے ہیں۔’دویانگ‘ بچّوں کے لئے کئے جانے والے خصوصی کام کے سلسلے میں انہیں’ کیون کیئر ایبيلٹي ایوارڈ فار اےنيمیس‘ نیشنل ایوارڈ 2015 سے نوازا گیا۔ ان کو یہ ایوارڈآسكر ایوارڈ یافتہ معروف موسیقار اے۔ آر۔ رحمان نے چنئی میں منعقد ایک پروگرام میں دیا ۔ سماجی اور جسمانی معذوروں کے لئے کام کرنے والی اکلوتی’دویانگ‘ خاتون کے طور پر سویتا کو اس ایوارڈ کے لئے منتخب کیا گیا۔

یقیناً غازی پور کو اپنی اس بیٹی پر فخر ہے ۔ تاعمر دوسروں کے لئے جینے کا جذبہ اور کبھی حالات سے نہ ہارنے کی ضد نے سویتا کو آج اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں پہنچنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی ۔اپنے حوصلے سے سویتا نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر دل میں کچھ کرنے کی خواہش ہو تو کوئی بھی کام ناممکن نہیں ہوتا۔

قلمکار : آشوتوش سنگھ

مترجم : انور مِرزا

Writer : Ashutosh Singh

Translation by : Anwar Mirza

جد و جہد کے سفر سے کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے

’یور اسٹوری اُردو‘ کے FACEBOOK پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

یہ دلچسپ کہانیاں بھی آپ کو ضرور پسند آئیں گی۔

قلیل آمدنی والے خاندانوں کی بہترتعلیم کیلئے چھوڑ دی’انفوسِس‘کی ملازمت

بچّوں کوتعلیم یافتہ اور عورتوں کو خود کفیل بنانے کے جذبے سے سرشار’ گوپال کرشن سوامی