کوہ نور سے بھی زیادہ قیمتی 10 روپے کا نوٹ؟

0

نادر و نایاب اشیاء جمع کرنے کے شوقین ڈاکٹر علیم قادری کا دعویٰ

حیدرآباد کے مشہور و معروف ڈاکٹر علیم قادری (Osteopath) نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس 30برس پہلے ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے طبع کی گئی 10 روپئے کی نایاب نوٹ ہے۔ حیدرآباد کے مشہور (Coins and error notes collector) مسٹر کیشو راؤ جن کے پاس بہت سارے نایاب نوٹوں کا ذخیرہ ہے مسٹر کشیو راؤ نے ڈاکٹر علیم قادری سے نظام دور کے چند کرنسی نوٹوں کے بدلے آر بی آئی کی ایک 10 روپئے کی نایاب نوٹ دی تھی۔ اس نوٹ پر دائیں اوپر کی جانب بلاک میں سیریل نمبر چھپنا چاہئے لیکن ٹھیک اُسی کے پورا نیچے کی طرف چھپا ہوا ہے‘ جس پر یہ نمبر درج ہے L73-763703 اور بائیں جانب جہاں نیچے بلاک میں چھپنا چاہئے، وہ بلاک کے اوپر باہری جگہ پر چھپا ہوا ہے اور اس جانب درج نمبر L73-743703 دونوں جانب چھپے ہوئے نمبروں کا فرق پورے 20,000 ہزار کا ہے اصولاً ہر ایک نوٹ پر دونوں جانب ایک ہی سیریل نمبر چھاپا جاتا ہے۔ اب اس نمبر کے فرق کی وجہ سے اس کی قیمت کو سمجھئے (L73-763703 - L73-743703 X Rs.10x20,000 = Rs.2,00,000/-)

آج سے تقریباً 30 برس سے بھی پہلے یہ نوٹ آر بی آئی کی جانب سے اور آر بی آئی تاریخ میں واحد نوٹ جو کہ Rs.2,00,000/- (دو لاکھ روپئے) کی قیمت کے حساب سے چھپ چکی اور باہر بازار میں بھی آچکی تھی۔

ڈاکٹر علیم نے بتایا کہ 10؍دسمبر 1690ء میں برطانیہ میں پہلی بار کرنسی نوٹوں کی سیریز چھاپی گئی تھی یعنی 325 سال پہلے تب سے لے کر آج تک کی تاریخ میں کرنسی نوٹوں پر اس قدر فاش غلطی کا یہ منفرد واقعہ ہے۔ دنیا میں جب سے نوٹوں کی چھپائی کی گئی ہے آج تک جتنے بھی نوٹ چھپ چکے ان سب کی قیمت کوہ نور ہیرے سے زیادہ ہے۔ اس لئے یہ نوٹ کوہ نور ہیرے کی قیمت سے زیادہ ہوگئی۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ لگ بھگ ایک سو برس پہلے حادثہ کا شکار ہوکر شمالی بحر اٹلانٹک میں غرق آب ہونے والے ٹائٹانک جہاز میں پایا گیا مینو (MENU) جو محض ایک کاغذ کے بوسیدے ٹکڑے پر ہے‘ نیویارک آکشن ہاؤز میں 88ہزار ڈالر میں فروخت کیا گیا۔

قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر علیم قادری کو نایاب چیزیں خصوصاً پرانے نوٹ جمع کرنے کا بہت شوق ہے اور ان کے پاس اس کا ایک بڑا زخیرہ ہے۔

(بشکریہ گواہ )