ہے کہاں تمنّا کا دوسرا قدم یا رب ... 22 سالہ لڑکی کااپنا فوٹواسٹوڈیو

0

محض 22 سال کی عمر میں ’حِرا رسول‘ نے WE DONT SAY CHEESE نامی فوٹوا سٹوڈیو کی بنیاد رکھی ...

ملک بھر میں ہیں خاتون فرٹوگرافر ’حِرا رسول‘ کے کلائنٹس ...

دہلی کے لاجپت نگر میں چلا رہی ہیں اپنا اسٹوڈیو، ٹیم میں ہیں 10 پروفیشنلس ...

نوجوان نسل ہر ملک کی ریڑھ ہوتی ہے، جس ملک کی نوجوان نسل بیدار ہوگی،اُس ملک کا مستقبل یقیناً تابناک ہوگا اور اُس ملک کو ترقی کرنےسے کوئی نہیں روک سکتا۔ گزشتہ چند سالوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ ہمارے ملک کے نوجوان نہ صرف ہندوستان میں بلکہ دنیا بھر میں اپنی قابلیت کا ڈنکا بجا رہے ہیں ۔ اِس تبدیلی کو کوئی بھی انسان باآسانی محسوس کر سکتا ہے ۔ چند سال قبل تک ہندوستان کے بیشترنوجوان صرف وہی کام کرتے تھے جو پشت در پشت، روایتی طرز پر چلا آ رہا تھا، لیکن اب حالات کافی بدل چکے ہیں ۔

آج کے بچّےنئی نئی چیزوں کو تلاش کر رہے ہیں، وہ اُس دیرینہ، روایتی ذہنیت اور نظریات سے انحراف کر رہے ہیں جس میں ان کے سامنے کیریئر کے کچھ گنے چنے متبادل ہی ہوتے تھے اور انہیں ان ہی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تھا ۔اس میں بھی خواتین کے لئے کچھ مخصوص قسم کے پروفیشن ہوتے تھے جسے عموما ً لڑکے نہیں منتخب کرتے تھے ۔ اسی طرح کچھ پروفیشن صرف لڑکوں کے لئے ہوتے تھے اور وہاں لڑکیاں نہیں جایا کرتی تھیں ۔ لیکن گزشتہ کچھ عرصہ سے نوجوان نسل نے پورا ماحول اور منظر ہی بدل دیا ہے ۔ ایسی ہی ایک نوجوان کاروباری خاتون ہیں ’حِرا رسول‘ ، جو صرف 22 سال کی ہیں اور دہلی کے لاجپت نگر میں اپنا ایک فوٹوا سٹوڈیو چلا رہی ہیں ۔ آج ان کے کلائنٹس دہلی، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، اتر پردیش، راجستھان، چنڈی گڑھ اور ہماچل پردیش میں ہیں ۔

’حِرا‘ نے اپنی ابتدائی تعلیم لکھنؤ اور بریلی میں مکمل کی ۔ اس کے بعد وہ دہلی آ گئیں اور ’ماس كميونِکیشن‘ کی تعلیم حاصل کی ۔ پھر انہوں نے ’فری لانس‘ بنیاد پر ’اینکرنگ‘ شروع کی ۔ لیکن اُن کا رجحان ہمیشہ سے ہی فوٹو گرافی کی طرف تھا ۔

’ماس كميونِکیشن‘ کی تعلیم کے دوران فوٹو گرافی بھی ایک موضوع تھا جو انہیں کافی متاثر کرتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ فوٹو گرافی میں ان کی دلچسپی بڑھتی گئی۔ انہوں نے اپنے دوستوں اور گھر والوں کو اِس سلسلے میں بتایا ، لیکن کسی نے بھی اس بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔

بڑھتے ہوئے شوق کی وجہ سے انہوں نے فوٹو گرافی کے مختلف ’ ورک شاپس‘میں جانا شروع کیا، وہ کئی سیمیناروں میں بھی گئیں اور فوٹو گرافی کی باریکیوں کو سمجھا۔

اِسی دوران ایک بار’حِرا‘ کو اپنی ایک سہیلی کی شادی کے لئے جے پور جانا پڑا ،جہاں وہ اپنا کیمرہ بھی لے گئیں ۔ شادی میں انہوں نے کئی فوٹو کھینچے اور پھر اپنی سہیلی کو وہ فوٹو گراف تحفتاً پیش کئے۔ وہ فوٹو گرافس اتنے بہترین تھے کہ اُن کی سہیلی نے اُن فوٹو گرافس کو اپنی شادی کے البم میں سب سے آگے لگا دیا۔ ہر کسی نے ’حِرا‘ کی اتاری ہوئی تصاویرکی کافی تعریف کی ۔

اِس واقعےنے ’حِرا‘ کو سوچنے پر مجبور کر دیا کہ کیوں نہ وہ فوٹو گرافی کو فُل ٹائم کیریئر کے طور پر منتخب کریں ۔ یہ فیصلہ کرنا اتنا آسان نہیں تھا کیونکہ وہ جس انڈسٹری میں قدم رکھنے کی سوچ رہی تھیں اُس انڈسٹری پر مردوں کی اجارہ داری تھی ۔ اس کے علاوہ انہوں نے فوٹو گرافی کی کوئی باقاعدہ تربیت بھی نہیں لی تھی ۔ لیکن ’حِرا‘ نے اپنے دل کی بات سنی اور نومبر 2014 سے پروفیشنل فوٹوگرافي شروع کردی۔

آج محض ایک سال بعد ہی ’حِرا‘ کے پاس 10 لوگوں کی ایک قابل ٹیم ہے اور دہلی کے لاجپت نگر میں اُن کا اپنا ایک فوٹواسٹوڈیو ہے ۔ یہ لوگ ہر طرح کے’ا يونٹس‘ کی فوٹوگرافی کرتے ہیں ۔’حِرا‘ بتاتی ہیں کہ اُن کی ٹیم کے ہر رکن کو کسی نہ کسی شعبےمیں خاصی مہارت ہے، وہ خود ’کینڈِڈ‘(Candid) فوٹو گرافی کرتی ہیں ۔ اُن کے پاس فوٹو ایڈیٹر ہیں، کیمرہ مین ہیں، سنیماٹوگرافر ہیں۔ یہ لوگ ’اِسٹل فوٹوگرافی، ویڈیوگرافی، ہر طرح کا کام کرتے ہیں ۔ ان کی پوری ٹیم نوجوانوں پر مشتمل ہے جو انتہائی تخلیقی ذہن رکھتے ہیں۔ ’حِرا‘ ہر کام کو نئے طریقے سے کرنا چاہتی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ کئی بار ہم پرانے فارمیٹ کی بندشوں کے سبب نئی اور اچھی چیزوں کو قبول نہیں کرتے جو کہ بالکل غلط ہے۔ ’حِرا‘ شادی اور شادی سے قبل رسموں کی شوٹنگ کے علاوہ مختلف تقاریب اور مصنوعات کی فوٹوگرافی بھی کرتی ہیں۔

آج ’حِرا‘ کے کلائنٹس کی تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے ۔ ’حِرا‘ فی الحال سوشل ویب سائٹس کے ذریعے ہی اپنے پروفیشن کی مارکیٹنگ کر رہی ہیں۔ وہ تسلیم کرتی ہیں کہ اگر وہ اپنے کام کا معیاربہتر بنائے رکھیں گی تو ان کی مارکیٹنگ خودبخود ہو جائے گی۔ اس لئے فی الحال وہ مارکیٹنگ پر زیادہ توجہ نہیں دے رہی ہیں۔

’حِرا‘ اپنے فوٹو شوٹ سے قبل مکمل ریسرچ کرتی ہیں۔ وہ لوکیشن پر جاتی ہیں، لوگوں سے بات کرتی ہیں تاکہ پورے ماحول سے وہ واقف ہو جائیں اور اس کے بعد وہ اپنا کام شروع کرتی ہیں ۔’حِرا‘ بتاتی ہیں کہ کسی بھی فوٹو گرافر کے لئے ضروری ہے کہ وہ ریسرچ کرے ،اسے اپنے کلائنٹس کے رسم و رواج کےمتعلق علم ہونا چاہئے، تبھی وہ اپنی فوٹو گرافی کے ساتھ انصاف کر پائے گا۔ اسی طرح اگر وہ ’ایونٹ‘ والی جگہ کو شوٹنگ سے پہلے دیکھ لے گا تو اس کے دماغ میں سارے زاویے (Angles) واضح ہوں گے اور اس سے وہ زیادہ بہتر تصویریں لے سکے گا۔

آج ملک کی مختلف ریاستوں میں اُن کے کلائنٹس ہیں ۔ ’حِرا‘ بتاتی ہیں کہ جو شخص ایک بار اُن سے فوٹوگرافی کرواتا ہے، پھر وہ کسی اور کے پاس نہیں جاتا ، بلکہ وہ خود دوسروں کو اُن کے بارے میں بتاتا ہے۔ ’حِرا‘ اپنی ٹیم میں واحد خاتون ہیں ۔ وہ کہتی ہیں کہ اس فیلڈ میں لڑکیاں عموماً کم ہی آتی ہیں جو کہ بالکل غلط ہے ۔ اُن کا نظریہ ہے کہ آج خواتین ہر وہ کام کر سکتی ہیں جو مرد کر سکتا ہے۔ لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ ہمیں قدامت پرستی کے دائرے سےباہر نکلنا ہو گا۔

قلمکار : آشوتوش کھنتوال

مترجم : انور مِرزا

Writer : Ashutosh khantwal

Translation by : Anwar Mirza