نوٹ بندی سےچمڑے کی صنعت بند ہونے کے دہانے پر

0

نوٹبندی کی وجہ سے بھارت کے چمڑے کی صنعت پر سخت مار پڑ رہی ہے۔ ملک میں چمڑے سے بننے والی چیزوں کی پیداوار میں 60 فیصد کمی آنے کی وجہ سے تقریبا 75 فیصد ملازمین اور مزدور بے روزگار ہو گئے ہیں۔

 صنعتی ادارہ 'ایسوچیم' کی ایک تازہ تحقیق کے مطابق نوٹ بندی کے بعد نقد لین دین میں پریشانی کی وجہ سے جانوروں کی کھالیں نہیں مل پا رہی ہیں۔ ملک کے بڑے چمڑے کے كلسٹروں آگرہ، کانپور اور کولکتہ میں نوٹ بندی کی وجہ کھالوں کی دستیابی میں 75 فیصد تک کمی آ گئی ہے۔ وہیں چنئی کے چمڑے کی فیکٹریوں میں یہ کمی تقریبا 60 فیصد ہے۔

تصویر بشکریہ پرنٹ ویک 
تصویر بشکریہ پرنٹ ویک 
مطالعہ کے مطابق نقد ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے قصاب چمڑے کی صنعتوں کو جانوروں کی کھالیں نہیں دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ چمڑے کی صنعتی یونٹس مال لے جانے والی گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو نقد رقم نہیں دے پانے کی وجہ سے کھالوں کی فروکت کا پورا کام ٹھپ پڑا ہوا ہے۔

ساتھ ہی نوٹ بندی کی وجہ سے چمڑے فیکٹریوں کو بوايلر چلانے میں استعمال ہونے والے کوئلے کی فراہمی میں آئی کمی نے بھی اس صنعت کے لیے مشکلیں بڑھا دی ہیں۔ ایسوچیم کے اس مطالعہ گزشتہ تقریبا 15 دنوں کے دوران آگرہ، چنئی، کانپور اور کولکتہ کے اہم چمڑے سكلو (كلسٹرو) میں تقریبا 100 چمڑے فیکٹریوں کے نمائندوں سے بات چیت پر مبنی ہے۔

نوٹ بندی سے ہو رہے اس نقصان پر قابو پانے میں اس صنعت کو نو سے 12 ماہ لگ سکتے ہیں۔ 

مطالعہ میں یہ پایا گیا ہے کہ ان اہم مراکز میں چمڑے کی صنعت کو پیداوار کے محاذ پر بھی سخت چیلنجوں اور مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ 85 فیصد لوگوں کا ماننا ہے کہ نوٹ بندی کی وجہ سے ان کی چمڑے فیکٹریوں میں پیداوار 60 فیصد تک گر چکی ہے، اور اجرت نہ مل پانے کی وجہ سے تقریبا 75 فیصد ملازمین بے مزدور ہو گئے ہیں۔

آگرہ، کانپور، چنئی اور کولکتہ کے چمڑے کی صنعت كلسٹروں کے کئی نمائندوں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورت حال کے پیش نظر وہ نئے آرڈر بھی نہیں لے پا رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مال کی فراہمی وقت پر نہیں ہو سکے گی۔