نیا انداز مسیحائی کا...نقصان برداشت کرغریبوں کو ادویات فراہم کرتی ہے 'ہیلپ فارمیسی'

0

میں کہاں رکتا ہوں عرش و فرش کی آواز سے

مجھے جانا ہے بہت بلند حدِ پرواز سے

وشنو کمار سوریكا کچھ ایسا ہی خیال رکھتے ہیں۔ 65 سالہ سوریكا دہلی میں ہیلپ لائن فارمیسی کے بانی ہیں۔ سوریكا کا واحد مقصد ہے کہ کوئی بھی مریض مہنگی ادویات کے بدلے میں اپنی جان نہ گنوائے۔ وہ ہیلپ فارمیسی کے ذریعے غریب اور ضرورت مندوں کو مارکیٹ سے سستی دوائیں دیتے ہیں۔ 2003 میں انہوں نے ہیلپ لائن فارمیسی کی شروعات کی۔ آغاز چھوٹے پیمانے پر ہوا، لیکن خدمتِ خلق کے لئے یہ جزبہ ایک اہم قدم تھا۔ آج ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے، جو منافع خوری کی بجائے خدمتِ خلق میں مصروف ہیں۔ سوریكا ہیلپ لائن فارمیسی کو چلانے کے لئے اپنی دوسری صنعت سے ہونے والی آمدنی کا سہارا لیتے ہیں۔ ان كا مقصد صاف ہے، حتی الامکان غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کریں۔ ہیلپ فارمیسی ان لوگوں کی مدد کرتا ہے جو سماج کے کمزور طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور مہنگی، ادویات، جراحی اشیاء اور میڈیکل مواد خریدنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ ہیلپ فارمیسی ایسی چیزیں بہت زیادہ سبسڈائزڈ ریٹ میں مہیا کرتی ہے۔ دہلی کے گرین پارک میٹرو اسٹیشن کے قریب یوسف ہوٹل میں ہیلپ لائن فارمیسی کی دکان ہے۔ اس کی دکان تین ہزار مربع فٹ پر بنی ہے اور اسے سوریكا نے کرایہ پر لیا ہے۔ یہ دکان دو مشہور ہسپتال ایمز اور صفدر جنگ ہسپتال کے انتہائی قریب ہے۔ اس وجہ سے یہاں ضرورت مندوں کی ذیادہ بھیڑ ہوتی ہے۔ بقول وشنو کمار سوریكا-

'زندگی میں ہر انسان نام اور پیسہ کمانے کے لئے یا تو نوکری کرتا ہے یا پھر بزنس۔ کام اور کاروبار سے رقم اور نام تو کمایا جا سکتا ہے، لیکن زندگی کا مشن مکمل نہیں ہوتا۔ زندگی کا مشن ہے متاثرین کی مدد کرنا۔ زندگی گزارنے کے لئے پیسے تو چاہئے، کیونکہ اس سے ضروریات پوری ہوتی ہیں، لیکن مشن پورا نہیں ہوتا۔ مشن کا مطلب ایسا کچھ کرنا، جس سے زندگی کا مقصد حاصل ہو سکے اور اس کے لئے انسانیت کا کچھ بھلا ہو۔ '

مہینے میں دو کروڑ کی ادویات فروخت

ہیلپ فارمیسی سے ضرورت مند لوگ ڈاکٹر کی پرچی دکھا کر سبسڈائزڈ ریٹ میں ادویات خرید سکتے ہیں۔ سوریكا کا کہنا ہے کہ یہاں سے صرف غریبوں کو ہی دوا فروخت جاتی ہے ایسا نہیں ہے، کئی بار اچھے خاندان کے لوگ بھی سبسڈائزڈ ریٹ پر ادویات خریدتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں اگر ادویات فروخت کر ایک روپے کا بھی منافع كمانا ان کے لئے انسانیت کی خدمت کا موقع کھو دینے کے برابر ہے۔

سوریكا، موريا اودیوگ لمیٹڈ کے چیئرمین ہیں اور اس کے علاوہ ان کا کاروبار ٹیری ٹاولس مینیوفیكچرنگ اور رئیل اسٹیٹ میں بھی ہے۔ ان کی ایک کمپنی ایل پی جی سلنڈرکی پیداوار کرتی ہے۔ ہیلپ فارمیسی کے آپریشن کا سارا خرچ وہ خود دیگر صنعتوں سے ہونے والے منافع سے کرتے ہیں۔ ہر ماہ وہ ہیلپ فارمیسی کے ذریعے دو کروڑ روپے کی ادویات اور میڈیکل مواد فروخت کرتے ہیں۔ فارمیسی اخرجات چھ سے سات لاکھ روپے ہیں۔ یہ اخرجات وہ اپنی جیب سے ادا کر رہے ہیں۔ صرف دوا ہی نہیں خیراتی ادارے غریب اور ضرورت مندوں کو مالی امداد بھی کرتے ہیں۔ ان کا ادارہ برانڈیڈ کمپنیوں سے دوائی بلک میں خریدتا ہے اور اس زیادہ سے زیادہ رعایت کے ساتھ ضرورت مند مریضوں کو مہیا کراتا ہے۔

ادارہ سستی ادویات کے علاوہ مفت رین بسیرے اور دیگر سہولتیں بھی مہیا کراتا ہے۔ ایمز اور صفدر جنگ ہسپتال کے پاس ہی 200 کمرے کا آرام گھر ہے، جس کا استعمال غریب مریض اور ان کے مددگار کر سکتے ہیں۔ اس شیلٹر میں ایک مفت کینٹین بھی چلتی ہے، جہاں مفت / سبسڈائزڈ ریٹ میں روزانہ پانچ سو لوگوں کو دوپہر اور رات کے کھانے کا انتظام ہے۔ ادارہ تین سو این جی او اور سرکاری ہسپتالوں کی بھی امداد کرتا ہے۔ این جی او کو میڈیکل مواد مفت یا پھر سبسڈائزڈ ریٹ میں دیتا ہے، جس سے معاشرے کے کمزور طبقے کے لوگوں تک صحیح طریقے سے امداد پہنچ سکے۔ سوریكا کہتے ہیں، 'ہیلپ فارمیسی کو چلانے کا سارا خرچ ہم ذاتی طور پر اٹھاتے ہیں اور جو بھی خدمت کے کام میں لگتا ہے وہ اپنے کاروبار سے لگاتے ہیں۔ ہم کسی ادارے، غیر ملکی شہری یا پھر حکومت کی اقتصادی مدد نہیں لیتے۔ '

دہلی کے رام کالج آف کامرس سے گریجویشن کرنے کے بعد سوریكا نے فیملی بزنس کو منتخب کیا۔ چونکہ سوریكا صنعتی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے ان کے خاندان کے تمام اراکین بزنس ہی سے تعلق رکھتے ہیں۔ خاندان کا کوئی بھی رکن گھر پر نہیں بیٹھتا، وہ سوریكا کے بزنس میں ہاتھ بٹاتا ہے اور ساتھ ہی ٹرسٹ کے کاموں کو بھی دیکھتا ہے۔

ایک سوریکا ایک دن اپنے والد کی دوا خریدنے دکان پر گئے۔ وہاں انہوں نے دیکھا کہ ہر کمپنی کی دوا کی قیمت مختلف ہے اور لائف سیوینگ ڈرگس پر خوردہ فروشوں کا منافع کافی زیادہ ہے۔ انہوں نے سوچا کہ اگر بغیر منافع کےادویات فروخت کئے جائیں تو کئ لوگوں کی امداد کی جا سکے گی۔ اسی مقصد کے ساتھ انہوں نے ہیلپ لائن فارمیسی کی بنیاد رکھی۔ سوریكا پبلک ٹرسٹ 1965 سے غریبوں کے درمیان کام کر رہا ہے، لیکن بڑے پیمانے پر کام 2003 سے شروع ہوا۔ آج ہیلپ لائن فارمیسی روزانہ اوسطا 14 لاکھ روپے کی ادویات سات لاکھ روپے میں بیچتی ہے۔ اس طرح لوگوں کواوسطاً سات لاکھ روپے کی مالی امداد باالراست کی جاتی ہے۔

ہر شہر میں ہو سبسڈائزڈ دوا کی دکان

سوریكا بتاتے ہیں کہ وہ خدمت خلق کا شوق رکھتے ہیں اور اس کے لئے وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ وہ ایمس کے اندر ہیلپ فارمیسی شروع کرنے کا بھی منصوبہ بنا رہے ہیں، تاکہ ملک کے کونے کونے سے علاج کرانے آ رہے غریب مریضوں کو کم سے کم قیمت میں ادویات دستیاب ہو سکیں۔ سوریكا کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ صرف دہلی ہی نہیں ملک کے ہر شہر میں سبسڈائزڈ ریٹ میں دوا کی دکان ہو اور اس کا سیدھا فائدہ غریبوں اور ضرورت مندوں کو ملے۔ دہلی کے بعد سوریكا نے متھرا اور بنارس میں بھی ایسی ہی دو دکانیں کھولی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ متھرا اور بنارس کے ہزاروں ضرورت مند سستی ادویات پاکر صحیح وقت پر اپنا علاج کرا نے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem