’بھوک مٹاؤ‘ مہم سے فائدہ اٹھا رہے ہیں ہزاروں غریب بچّے

’درشن‘ چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگ ان کی اس مہم سے منسلک ہوں تاکہ ہفتے کے ساتوں دن ایسے ضرورتمند بچّوں کو کھانا کھلایا جا سکے، کیونکہ ہمارے ملک میں ایسے بہت سے بچّے ہیں جنہیں ٹھیک سے کھانا نہیں مل پاتا ہے

0

میَں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر

لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

ہم اور آپ باہر گھومنے جاتے ہیں، کھاتے ہیں، پیتے ہیں اور تفریح کرتے ہیں ۔ کیا ہماری نظر کبھی ایسے بچّوں پر پڑی ہے جو ’سلم ایریا‘ میں رہتے ہیں اور جن کی ساری زندگی اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے میں ہی نکل جاتی ہے؟ زندگی کی اس جدو جہد میں ان لوگوں کو دو وقت کا کھانا بھی ٹھیک سے میسّر نہیں ہوتا ہے ۔ غریبوں کی انہی پریشانیوں کو قریب سے دیکھا ہے گجرات کے شہر’ بڑودہ‘ کے ایک انسان دوست اور درد مند دل رکھنے والے شخص’درشن چندن‘ نے۔

درشن چندن ’کچّھ‘ کے رہنے والے ہیں اور وہ ایک کاروباری خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، انہوں نے بڑودہ سے گریجویشن کیا ہے۔ شِپنگ کمپنی میں سیلز پروفیشنل کے طور پر کام کرنے والے ’درشن‘ نے يوراسٹوري کو بتایا،

’’ایک دن میں اپنے خاندان کے ساتھ’ بڑودہ ‘کے ایک بڑے ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے کے لئے گیا۔ جب میَں نے وہاں کھانا کھایا تو وہ کھانا مجھے ٹھیک نہیں لگا، جس کی شکایت میں نے ’ای میل‘ کے ذریعے ریسٹورنٹ کے منتظمین سے کی ۔ ریسٹورنٹ والوں نے غلطی تسلیم کرتے ہوئے مجھے اپنے یہاں مُفت میں دوبارہ کھانا کھانے کی پیشکش کی، جس پر میَں نے اُن سے کہا کہ مجھے کھانا نہیں کھانا ہے، اور اب وہ کھانا غریب بچّوں کو کھلا دیں ۔‘‘

ریسٹورنٹ والوں نے بھی ایسا ہی کیا۔ انہوں نے کچھ غریب بچّوں کو جمع کرکے انہیں مُفت میں کھانا کھلایا اور اس کی تصاویر’درشن‘ کو بھیج دیں۔

’درشن‘ کہتے ہیں کہ

’’ میَں نے جب وہ تصاویردیکھیں تو ان بچّوں کے چہرے پر جو مسکراہٹ تھی اُسے دیکھ کر میَں بتا نہیں سکتا کہ مجھے کتنی خوشی ہوئی۔اُسی وقت میں نے فیصلہ کر لیا کہ مجھے اِن بچّوں کے لئے کچھ کرنا ہے ۔‘‘

اِس کے بعد’درشن‘ نے اپنے پانچ سات ساتھیوں کے ساتھ مِل کر جون، 2015 میں ’بھوک مٹاو‘ مہم شروع کر دی۔ پہلے دن انہوں نے تقریباً 40 بچّوں کو کھانا کھلایا ۔’لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا‘ کے مصداق ،رفتہ رفتہ اُن کی اِس مہم میں لوگ شامل ہوتے گئے اور آج ’بڑودہ‘ میں 500 سے بھی زیادہ لوگ اِس مہم کا حصّہ ہیں ۔’درشن‘ اور اُن کے دوست ’بڑودہ‘شہر کے 10 سلم ایریا میں ہر اتوار کو اِن بچّوں کو کھانا کھلاتے ہیں، ان کے ساتھ کھیلتے ہیں اور ان کو زندگی میں آگے بڑھنے کی تحریک و ترغیب دیتے ہیں ۔ یہ لوگ صبح 11 بجے سے دن کے 2 بجے تک اِن علاقوں میں رہتے ہیں ۔’بڑودہ‘میں ملی کامیابی کے بعد اب انہوں نے اپنی اِس مہم کے دائرۂ عمل کو وسعت دی ہے ۔ یہ مہم آج گجرات کے’آدی پور، گاندھی دھام، کوسمبا، ناڈیاڈ اور مہاراشٹر کے شہر ممبئی تک سرگرمِ عمل ہے ۔

’درشن‘ چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگ ان کی اس مہم سے منسلک ہوں تاکہ ہفتے کے ساتوں دن ایسے ضرورتمند بچّوں کو کھانا کھلایا جا سکے، کیونکہ ہمارے ملک میں ایسے بہت سے بچّے ہیں جنہیں ٹھیک سے کھانا نہیں مل پاتا ہے۔ ’درشن‘ نے’ یور اسٹوری‘ کو بتایا کہ

’’ہم بچّوں کو متوازن غذا دینے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ان کی جسمانی اور ذہنی نشو و نما بہتر ہو سکے ۔ بچّوں کے کھانے میں ہم روٹی، سبزی، چاول، کیلے اور بسکٹ دیتے ہیں ۔ یہ کھانا ہمارے تمام ساتھی اپنے گھروں پر ہی بناتے ہیں ۔ اس مقصد سے کچھ لوگ مل کر روٹی بناتے ہیں تو کچھ لوگ سبزیاں ۔‘‘ خاص بات یہ ہے کہ ’درشن‘ اپنی اس مہم کیلئے کسی سے نقد رقم یا چیک نہیں لیتے ہیں ۔ اس کےبجائے یہ لوگوں سے عطیات کی شکل میں صرف کھانے کا کچّا سامان ہی لیتے ہیں ۔ آج ’درشن‘ اور ان کے ساتھیوں کی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ ’بھوک مٹاؤ‘ مہم سے 1800 بچّے فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔

’درشن‘ کہتے ہیں کہ اس مہم کو شروع کرنے کا ہمارا ایک مقصد لوگوں کو سماج کے تئیں بیدار کرنا ہے تاکہ ملک سے غربت کو مٹایا جا سکے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارا مقصد بچّوں کو صرف کھانا کھلانا ہی نہیں ہے، ہم چاہتے ہیں کہ وہ پڑھ لکھ کر خود کفیل بنیں اور اپنے ہنر سے کوئی کام کرکے اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں ۔’درشن‘ اور ان کی ٹیم بچّوں کو صرف کھانا ہی نہیں کھلاتی بلکہ ٹیم کے اراکین ان بچّوں کو صاف صفائی، اٹھنے بیٹھنے کے آداب اور لوگوں سے بات کرنے کا طور طریقہ بھی سکھاتے ہیں ۔

’درشن‘ اور ان کے ساتھیوں نے ’بڑودہ‘ کی ایک رضاکار تنظیم ’مہاویر انٹرنیشنل ‘سےمعاہدہ کیا ہے جو تعلیم کے میدان میں کام کرتی ہے ۔ اتوار کو ’بڑودہ‘ کے جن 10 مقامات پر یہ لوگ کھانا کھلاتے ہیں وہاں یہ ادارہ پیرسے سنیچر تک ان بچّوں کو پڑھانے کا کام کرتا ہے ۔

مستقبل کے منصوبوں کےمتعلق ’درشن‘کا کہنا ہے کہ ہمارا مقصد اس سال تقریباً 150 بچّوں کا سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوں میں داخلہ کرانا ہے ۔ اِن بچّوں کا انتخاب ہم انہی بچّوں میں سے کرتے ہیں جنہیں ہم کھانا کھلاتے ہیں ۔ اِن بچّوں کو اسپانسر کرنے والے لوگوں کے پیسے سے بچّوں کی پڑھائی کے اخراجات پورے کئےجائیں گے ۔

اِس کے علاوہ ’بھوک مٹاؤ‘ مہم کو وہ دیگر ریاستوں میں بھی لے جانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ساتھ ہی وہ لوگوں سے اپیل بھی کرتے ہیں کہ وہ جس کسی ریاست یا شہر میں ہوں ،وہ سلم ایریامیں رہنے والے غریب بچّوں کی بھوک مٹانے میں مدد کریں ۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ہمیں اپنے ملک کو’ 'ہنگرفری‘ بنانا ہے تو سب سے پہلے یہاں کے نوجوانوں کو آگے آنا ہوگا ۔ کیونکہ’ینگ پاور‘ کے معاملے میں ہم دنیا میں نمبر ایک پوزیشن پر ہیں اور اگر یہاں کے نوجوان ٹھان لیں تو وہ ایک دن ہندوستان کو بھوک سے آزاد کرا دیں گے۔

قلمکار : ہریش بِشٹ

مترجم : انور مِرزا

Writer : Harish Bisht

Translation by : Anwar Mirza