روایتی ٹرک کمپنی کو کولڈ چین لاجسٹكس میں بدلنے والے گورو جین

0

گورو جین ایک ضدی کاروباری ہیں۔ انہوں نے سال 1999 میں سواستک روڈلاینس کے ذریعے کاروبار کی دنیا میں قدم رکھا۔ ٹرکنگ کے شعبہ میں کام کر رہی اس کمپنی کو ان کے والد نے اپنے دو دیگر ساتھیوں کے تعاون سے قائم کیا تھا۔ تقریبا تین دہے قبل شروع ہوئی سواستک کانام اس شعبہ کی مستحکم کمپنیوں میں کیا جاتاہے۔

ان کا پورا کاروبار بنیادی طور ایک بڑے صارف، جےکے ٹائر پر منحصر تھا۔ ایسے میں جب ان کے اس صارف نے اپنے ہاتھ واپس کھینچ لئے تو کمپنی اچانک اس جھٹکے کا سامنا کرنے کے قابل نہیں رہی اور اس صورت میں اپنے قدم آگے بڑھاتے ہوئے نوجوان گورو نے کام کاج کو اپنے ہاتھوں میں لیا۔ انہوں نے کولڈ چین لاجسٹكس کے میدان میں ایک بڑے موقع کو بھانپ لیااور اس سمت میں ایک بڑا داؤ کھیلا۔ کیڈبری ان کا پہلی صارف تھا اور اس نے انہیں حالات کو تبدیل کرنے میں بہت مدد کی۔ گزشتہ سالوں کے دوران گورو نے کمپنی کو صرف لاجسٹكس سے کولڈ چین کے کاروبار کی معروف کمپنی بنانے میں کامیابی حاصل کی۔ سال 2007 کے بعد سے سواستک روڈلاینس نے كولڈیكس (ColdEX) برانڈ کے تحت کام کرنا شروع کیا۔

فی الحال كولڈیكس ملک کے معروف کولڈ چین لاجسٹكس کمپنی ہے جو اپنے صارفین کو شروع سے آخر مکمل حل فراہم کروا رہی ہے۔ كولڈیكس كيوایس آر ش زمرہ کے علاوہ کنفکشنس، فوڈ پروسیسنگ اکائیوں، دواؤں، انڈے، گوشت، پھل اور سبزیوں کے کروبار میں مصروف صنعتوں کے بڑے اور معروف ناموں کے ساتھ کاروبار کر رہی ہے۔ فی الحال كولڈیكس کے 6 گودام ہیں، اور آنے والے 18 ماہ میں یہ اپنی کولڈ اسٹوریج صلاحیت کو 6 ہزار پایلیٹس سے بڑھا 30 ہزار کرنے کا منصوبہ ہے۔

گورو کہتے ہیں،'' ہمارے پاس 825 ٹرک اور 1500 گاڑی ڈرائیوروں کا ایک بہت بڑا بیڑا ہے۔ تقسیم سے لے کر آخری سرے پر بیٹھے صارفین تک مصنوعات کامیابی کے ساتھ پہنچانے کی سمت میں بھی ہم قدم بڑھا رہے ہیں اور جلد ہی ہم اپنے بیڑے میں موجود اسکوٹروں کی تعداد 10 سے بڑھا کر 400 کرنے جا رہے ہیں۔ ''

سال 2007 کے بعد سے كولڈیكس نے اس تجارت کے شعبہ میں سرگرم کچھ سب سے بڑے صارفین کو اپنے گاہک بانے میں کامیابی پائی ہے۔ انہوں نے سب وے، ڈامينوذ پزا، اسٹاربکس اور كےےپھسي جیسے ہندوستان میں آپریشن کرنے والے جانے مانے اور بڑے بین الاقوامی برانڈز کو لاجسٹك مدد فراہم کرنے کے علاوہ ڈسٹریبیوشن کی خدمات بھی فراہم کروائی ہیں۔ گورو کہتے ہیں،''گزشتہ سال 'یم! برانڈز 'کے ذریعے سے كيوےسار کے میدان میں مربوط خدمات کے لئے اپنے لیے پہلے صارف کو حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ یہی وہ برانڈ ہے جو ہندوستان میں KFC، پزا ہٹ اور ٹاكو بیل کام کرتا ہے۔'' كولڈیكس، KFC کے لئے روزانہ 80 دکانداروں سے مصنوعات اٹھاتا ہے اور پھر اس منجمد مال کو صفر سے 18 ڈگری نیچے کے درجہ حرارت پر یم! برانڈز 6 تقسیم کے مراکز تک پہنچاتا ہیں۔ ساتھ ہی كيوایس آر کے علاوہ كولڈیكس نیسلے انڈیا، هرشے انڈیا، امول، كوالی والس اور گلیکسو اسمتھ کلائن جیسے صارفین کے دواؤں، پھل اورکنفیکشنریز کے میدان میں بھی اپنی موجودگی درج کروا رہی ہے۔

گورو بتاتے ہیں،''آج ہمارے پاس تقریبا 200 کروڑ روپےکا سرمایہ ہے اور ہم بيتے پانچ سالوں سے 35 فیصد سالانہ کی شرح سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ''

ہندوستان میں درجہ حرارت کنٹرول لاجسٹک کی صنعت کاانداذہ قریب 12 ہزار سے 15 ہزار کروڑ روپے کے درمیان لگایا گیا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ یہ آئندہ 3 سے 5 سالوں کے دوران کم از کم 20 فیصد سالانہ کی شرح سے ترقی کرے گا۔ اس کا ایک سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ کچھ وقت میں حساس اور بہت جلد خراب ہونے والے اشیاء کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت ہند نے بھی کولڈ چین کی صنعت کو فروغ دینے کی ضرورت کو تسلیم کیا ہے اور اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے اس شعبہ کو فروغ دینے والی منصوبے تیار کر رہی ہے۔ سال 12-2011 کے بجٹ میں کولڈ چین کے شعبہ کو بنیادی ڈھانچے کا درجہ دیا گیا۔ بجٹ میں کنویر بیلٹ جیسی کولڈ چین کے بنیادی ڈھانچے میں استعمال ہونے والی ایئر کنڈیشنگ آلات اور ریفریجیشن پینل میں مصنوعات کی فیس میں چھوٹ فراہم کی گئی۔ حکومت کی اس پہل کے بعد اس شعبہ میں کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہی ہے۔

لیکن جیسا کہ ہر کاروبار میں ہوتا ہے اس میں بھی سامنے آنے والی چالنجز کچھ کم نہیں ہیں۔ کولڈ چین لاجسٹكس کے شعبہ ایک سرمایہ مشغول کرنے کا شعبہ ہے جہان سامان، گاڑی، درجہ حرارت کنٹرول اسٹوریج وغیرہ کے لئے اچھے خاصے سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ گورو کہتے ہیں، '' اس سب کے علاوہ اس علاقے میں درجہ حرارت پر عمل کرنا سب سے سخت ضرورت ہے جس کے لئے ہم مکمل طور پر توانائی پر انحصار کرتےے ہیں۔ کولڈ چین کے کاروبار کو بھیہندوستتان میں بھی دنیا کے کسی بھی دوسرے علاقے کی ہی طرح ہی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ''

كولڈیكس ہندوستان میں اس میدان میں تجربہ سے لبریز ایک معروف کمپنی ہے۔ گورو کہتے ہیں، '' ہم نے آنے والے 5 سال کے لئے ترقی کے یے منصوبہ تیار کر رکھا ہے اور اس دوران ہم بڑی آسانی سے 700 کروڑ روپے کی تجارت کے اعداد و شمار کو حاصل کرنے میں کامیاب رہیں گے۔ '' فی الحال كولڈیكس پہلے ہی 6 اہم بین الاقوامی كيوےسار کمپنیوں کو خدمات فراہم کر رہا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کم از کم 40 بین الاقوامی کھلاڑی بڑی سنجیدگی سے ہندوستان کی مارکٹ پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔''

فی الحال جب ان کی آمدنی تجارت سے تجارت B2B کے طریقہ پر مبنی ہے كولڈیكس کا ارادہ مربوط خدمات کے ذریعے سے آخری سرے کے میں صارفین کی تک اپنی پہنچ بنانے کا ہے جو برگر اور فرائی نوش کرتے یں۔ كولڈیكس کو ایک ایسی صورت حال میں ہونا چاہیے جہاں وہ شہر کی اندرونی سڑکوں اور تنگ گلیوں کے جال سے نکلتے ہوئے اس کے آخر میں صارفین یا پرچون کی دکان تک پہنچ سکے۔ گورو کہتے ہیں،' اگر ہم فراہمی کے اس آخری سرے تک اپنی پہنچ بنانے میں کامیاب رہے تو ہمارا اگلا نشانہ ای كامرس کمپنیاں ہوں گی۔ ہم فاسٹ فوڈچینوں کے لئے ایک مختلف سروس پیش کرنے کے موقف میں بھی ہوں گے۔''

كولڈیكس اس بات کا زندہ مثال ہے کہ کس طرح ایک روایتی ہندوستانی کمپنی ٹیکنالوجی کو اپناناتے ہنے اور وقت کے ساتھ خود کو تبدیل کرتے ہے مارکٹ میں روزانہ آ رہے اسٹارٹاپس کے سامنے چیلنج پیش کر سکتا ہے۔