عوام کو کفایتی شرح پر سامان کے نقل و حمل کی سہولت...اور ٹرانسپورٹ کو بہتر بنانے میں مصروف ہے ’آٹولوڈ ‘ ...

0

'نوین گپتا نے رکھی ’آٹولوڈ‘ کی بنیاد ...
’آٹولوڈ ‘کر رہا ہے ٹرانسپورٹ انڈسٹری کو منظم ومتحد...
ٹرانسپورٹ اور ٹرک مالکان کے درمیان رابطے کا کام کرتا ہے ’آٹولوڈ‘ ...
’آٹولوڈ‘ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے خالی واپس آنے یا جانے والے ٹرکوں سے سامان بھجوانے کا کام کرتا ہے ...
اِس طریقۂ کار سے نقل و حمل اور مصنوعات کے اخراجات گھٹ جاتے ہیں ... عام آدمی کو بھی ہوتا ہے فائدہ ...


کسی بھی ملک کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ تمام سیکٹر منظم اور متحد ہوکر کام کریں ۔ ترقی یافتہ ممالک میں ان چیزوں پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے اور ٹیکنالوجی کےذریعے سب کو منظم کیا جاتا ہے ۔ ایک منظم و متحد سیکٹر دیگرکئی سیکٹرس کو براہ ِراست فائدہ پہنچاتا ہے جو ملک کی ترقی کے لئے کافی اہمیت رکھتا ہے ۔ ایسا ہی ایک سیکٹر ہے ’ ٹرانسپورٹ سیکٹر‘۔

یہ ایک بہت بڑا سیکٹر ہے جس کے تحت بہت سی چیزیں آتی ہیں اور ملک کی عوام سے اِس کا براہ راست تعلق ہے۔

گزشتہ کچھ برسوں میں ہم نے کئی کمپنیوں کو اُبھرتے ہوئے دیکھا ہے جنہوں نے اِس سیکٹر کو ٹیکنالوجی سے جوڑ کر اِسے کافی آسان اور منظم بنا دیا جس کا فائدہ عوام اور اِس شعبے میں کام کرنے والے تمام لوگوں کو ہوا ۔

آج اگر آپ کو کہیں بھی جانا ہے تو آپ صرف ایک کال کرکے یا موبائل’ ایپ‘ کے ذریعے آسانی سے جا سکتے ہیں ۔ لیکن یہ تکنیکی نظام فی الحال مال بردار ٹرك یا ٹیپمو کی حصولیابی کے سلسلے میں موجود نہیں ہے ۔ کہنے کا مطلب ہے اگر کسی ٹرانسپورٹر کو ہندوستان کی کسی دوسری ریاست تک سامان پہنچانا ہے تو اُس کے پاس فی الوقت کوئی ٹیکنالوجی نہیں ہے جو اِس کام میں اُس کی مدد کرے ۔ لہٰذاایسے ٹرانسپورٹرس کوپُرانے طریقوں پر ہی انحصار کرنا پڑتا ہے ۔ اِس سیکٹر کو منظم و متحد کرنے کے لئے ’نوین گپتا ‘ نے حال ہی میں’آ ٹولوڈ ‘ کی بنیاد رکھی۔

’نوین‘ ہمیشہ سے ہی اِس سیکٹر میں کام کرنا چاہتے تھے، وہ اِس سے پہلے’ بینکنگ‘ کے شعبے میں کام کرتے تھے۔

’نوین‘نے ’ يوراسٹوري‘کو بتایا،

’’میَں نے کافی عرصہ قبل ہی اِس سیکٹر میں ریسرچ شروع کر دی تھی ۔ در اصل میَں ایک ایسا ماڈل تیار کرنا چاہتا تھا جس سے ہر کسی کو فائدہ ہو، ایک ایسا ماڈل جوشفاف (Transparent) ہو اور ایک ایسا ماڈل جو ٹیکنالوجی کے ذریعے سب کچھ آسان کر دے۔‘‘

’آٹولوڈ ‘کا طریقۂ کار

’آٹولوڈ ‘ ٹرانسپورٹرس اور ٹرک مالکان کے درمیان رابطے کا کام کرتا ہے ۔ عام طور پر اگر کسی کمپنی کو اپنے ’لوڈ‘ (سامان) کو ہندوستان کی کسی دوسرے ریاست میں پہنچانا ہو تو وہ کسی ٹرانسپورٹر سے رابطہ کرتی ہے ۔ اس کے بعد وہ ٹرانسپورٹر مختلف ٹرک مالکان سے بات کرتا ہے اورسامان وہاں پر پہنچاتا ہے ۔ اِس کام میں بڑی مشکلات ہیں ۔ مثلاً سامان پہنچا کر ٹرک کو عموماً خالی لوٹنا پڑتا ہے، جس سے نقل و حمل کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ اِس اضافے کا براہِ راست اثر مصنوعات پر پڑتا ہے اور نتیجے میں متعلقہ مصنوعات کی قیمت بڑھ جاتی ہے ۔ اِس کے علاوہ یہ طریقۂ کار شفاف نہیں ہے ۔ لیکن ’آ ٹولوڈ‘ ایک آسان سے ’کانسیپٹ‘ (Concept)پر کام کرتا ہے ۔ یہ لوگ ہندوستان کے مختلف ٹرانسپورٹرس اور ٹرک مالکان سے رابطے میں رہتے ہیں ۔ اگر ٹرانسپورٹر کو کوئی سامان دہلی سے کولکاتہ پہنچانا ہے تو وہ اِن سے رابطہ کرتا ہے، اُس کے بعد یہ لوگ اُس’ روٹ‘ پر چلنے والے ٹرک مالکان سے رابطہ کرتے ہیں اور مکمل تفتیش کے بعد ٹرکوں کو ٹرانسپورٹر کے پاس بھیجتے ہیں، ساتھ ہی یہ کولکاتہ اورآس پاس کے ٹرانسپورٹرس سے بھی رابطہ کرتے ہیں اور اُن سے پوچھتے ہیں کہ اگر کوئی ’لوڈ‘ (سامان) انہیں دہلی پہنچانا ہے تو وہ دہلی سے آنے والے ٹرک میں بھجوا سکتے ہیں ۔ اِس کام سے سب کو فائدہ ہوتا ہے اور یہ فائدہ ایک عام آدمی تک پہنچتا ہے۔ اِس کے علاوہ فضائی آلودگی بھی کم ہوتی ہے کیونکہ اِس سِسٹم کی وجہ سے ٹرکوں کے غیر ضروری خالی پھیرے نہیں لگتے۔

’آٹولوڈ‘ سامان کی’ لوڈنگ‘ سے لے کر ٹرک کے منزل پر پہنچنے تک، ایک ایک منٹ کی معلومات فراہم کرتا ہے اور ’ڈلیوری‘ کی رسید ٹرانسپورٹر تک پہنچاتا ہے ۔ یہ ایک انتہائی صاف و شفاف طریقۂ کار ہے اور اِس سےسب کا فائدہ ہوتا ہے ۔ ٹرانسپورٹر موبائل ’ ایپ‘ یا پھر فون کے ذریعے’آٹولوڈ‘ سے رابطہ کر سکتا ہے ۔

’نوین‘ بتاتے ہیں کہ اپریل 2015 سے انہوں نے اِس پروجیکٹ پر کام شروع کر دیا تھا۔ اِس دوران وہ مختلف ٹرک آپریٹرس سے ملے، مختلف ٹرانسپورٹرس کو اپنے ساتھ شامل کیا اور رجسٹریشن کی رسمی کارروائی مکمل کی اور پھر ستمبر 2015 میں کمپنی شروع کی ۔ قلیل مدّت میں ہی ملک بھر کے 20 ہزار سے زیادہ ’ٹریلرس‘ اور 30 ​​سے ​​زائد ٹرانسپورٹ کمپنیاں ’آٹولوڈ‘ سے منسلک ہو چکی ہیں۔

کمپنی کی توسیع کافی تیزی سے ہو رہی ہے اور انہیں کافی اچھا ’رِسپانس‘ مل رہا ہے ۔ ’نوین‘ بتاتے ہیں کہ آنے والے برسوں میں وہ کمپنی کی مزید توسیع کرنا چاہتے ہیں اور ان کا یہی مقصد ہے کہ لاعلمی کے سبب کوئی بھی ٹرک سامان کی ’ڈلیوری‘ کرکے خالی واپس نہ آئے۔ ’نوین‘ کے لئے یہ صرف ایک بزنس نہیں ہے، وہ اپنے کام کے ذریعے اِس انڈسٹری کو مزید بہتر بنانا چاہتے ہیں اور ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے اِس کام سے ملک کی عوام کو بھی فائدہ ہو رہا ہے اور یہی ہمارا مقصد ہے۔

قلمکار : آشوتوش کھنتوال

مترجم : انور مِرزا

Writer : Ashutosh Khantwal

Translation by : Anwar Mirza