ڈاکٹر کلثوم مرزا نے حیدرآباد میں کھولاخواتین کا پہلا ڈینٹل ہاسپٹل

0

دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ آج یہاں ایسا بہت کچھ ہے جو آج سے پہلے نہیں تھا اور کئی باتیں پہلی پہلی بار ہو رہی ہے۔ ایسا کرنے والوں میں جوشبھیہے۔ یقیناً ہوگا بھی۔ ڈاکٹر کلثوم مرزا نے حیدرآباد میں پہلا ایسا ڈینٹل ہاسپٹل کھولا ہے، جو صرف خواتین اور بچوں کے لئے وقف ہے۔ ان کا دعوی ہے کہ یہ صرف حیدرآباد کا نہیں، بلکہ پورے ہندوستان کا اپنی نوعیت کا پہلا ہسپتال ہے۔

خاص طور پر بین الاقوامی یوم خواتین کے موقع پر 'ڈینٹا شائن' ہسپتال کا افتتاح عمل میں آیا ہے۔ تلنگانہ کے وزیر سحت لكشما ریڈی نے ان کے اس ہسپتال کا افتتاح کیا ہے۔

ڈاکٹر كلثوم دو بچوں کی ماں ہیں اور دو سال تک سعودی عرب میں رہ کر حیدرآباد واپس آئی ہیں۔ حالانکہ ان کے شوہر بھی ڈاکٹر ہیں اور وہ جدہ میں رہتے ہیں، لیکن کلثوم کے حیدرآباد میں اپنے ملک میں رہ کر کام کرنے کا جذبہ ہے اور وہ یہاں رہ کر خواتین کی سحت کے لئے کام کرنا چاہتی ہیں۔

وہ پنے بارے میں تباتی ہیں کہ انہوں نے انٹرنشپ کے بعد ان کی شادی ہو گئی اور پھر انٹرنیشل ڈینٹل کیئر سینٹر میں کچھ دن کی پریکٹس کے بعد بیرون ملک چلی گئی۔ سعودی عرب میں بھی انہوں نے دو سال تک کام کیا۔ وہاں سے واپس انے کے بارے میں وہ بتاتی ہیں،

''حال ہی میں جب میں واپس آئی تو احساس ہوا کہ واپس جانے کے بجائے یہیں پر رہ کر مجھے اپنے ملک اور اپنے شہر میں رہنے والوں کے لئے کچھ کرنا چاہئے۔ یہی سوچ کر میں نے اپنا ہاسپٹل کھولنے کا ارادہ کیا۔''

حیدرآباد میں روزری كونونٹ سے اسکول اور سینٹ اینس سے انٹر کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے ڈینٹل کالج میں داخلا لیا۔ ان کی خواہش کے مطابق والدین نے انہیں ڈاکٹر بنانے کا فیصلہ کیا۔ وہ بتاتی ہیں،

''میرا ڈاکٹر بننا تو طے تھا، لیکن میں پہلے روایتی میڈیکو بننے کی سوچتی تھی، لیکن بعد میں میری دلچسپی ڈینٹل کی طرف بڑھتی گئی۔ اس وجه سے بھی کہ انٹرميڈيٹ کے دوران میری نانی اور دادی دونوں کو جب دانتوں میں درد ہوتا تو میں انہیں ہسپتال لے جاتی۔ اس وقت خیال آیا کہ مجھے بھی دانتوں کی ڈاکٹر بننا چاہئے۔ ایک بار تو یہ ہوا کہ امتحان کے دن ہی میرے دانت سے فلنگ نکل گئی تھی اور اسی رات مجھے ڈینٹسٹ کے پاس جانا پڑا اور پھر دوسرے دن دانت میں درد کے ساتھ ہی میں نے امتحان لکھا۔''

ڈاکٹر کلثوم کا ماننا ہے کہ آج جتنا دانتوں کی دیکھ بھال کے لئے شعور بیدار ہوا ہے، اس سے پہلے اتنا نہیں تھا اور علاج کے کئی نئے طریقوں پر تجربے ہو رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی کا استعمال بھی بڑھا ہے۔ پہلے لوگ دانتوں کے ڈاکٹر کے پاس جاتے ہی نہیں تھے، بلکہ جنرل فزیشن کے پاس سے کچھ دوائی لے کر مطمئن ہو جاتے تھے، لیکن آج حالات کچھ بدل گئے ہیں۔ وہ کہتی ہیں،

''میری پریکٹس میں خصوصاً خواتین کے لئے وقف کرنا چاہتی ہوں۔ میں دیکھتی تھی کہ عورتیں اپنی تمام باتیں کھل کر مرد ڈاکٹر کو نہیں بتا پاتی ہیں، بہت سی چیزیں ایسی ہوتی ہیں کہ جو عام عورتیں مرد ڈاکٹر کو بتانے کے ہچكچاتی ہیں۔ ہم ایک ایسے معاشرے میں ہیں، جہاں اب بھی عورتیں آسانی سے اپنی باتیں، مرد ڈاکٹر کو نہیں بتا پاتیں۔ خصوصاً پریگنینسی کے دوران کئی مسايل ہوتے ہیں، وہ گينكلوجسٹ کے پاس تو جاتی ہیں، لیکن اسے دانتوں کے ڈاکٹر کے پاس بھی جانا چاہئے ۔ پریگنینسی کے بعد بھی اسے دانتوں کے مسائل ہوتے ہیں، لیکن وہ اسے سمجھ نہیں پاتی آ جا کر کچھ دواسازی کے ساتھ معاملہ وہیں رک جاتا ہے، لیکن اگر پریگنینسی اور اس کے بعد صحیح نگہ داشت اور ڈاکٹر کی صلاح و مشورے سے کام لیا جائے تو بعد کی زندگی میں دانتوں کے مسائل کم آتے ہیں۔''

اب حالات بدل رہے ہیں، پہلے اگر ایم بی بی ایس میں داخلا نہیں ملتا تو ڈینٹسٹ کو ترجیح دی جاتی تھی، لیکن اب ایسا نہیں ہے، لوگ شوق سے اس طرف آنے لگے ہیں۔ خاص کر لڑكيو کی تعداد اس شعبے میں بڑھنے لگی ہے۔ ڈاکٹر کلثوم بتاتی ہیں،

''اب یہ صرف دانتوں کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ اس سے کئی ساری  دوسری چیزیں بھی جڑی ہیں۔ بلچگ، سمائیل ڈزائنگ، ٹيتھ زیورات جیسے ٹکنالوجی سے متعلق کئی موضوع لوگوں کو اس جانب متوجہ ہونے پر مجبور کر رہے ہیں۔ اس پیشے میں كاسمٹک کی کئی ساری چیزیں آ گئی ہیں۔''

جددہ میں ایک دیہی علاقے میں انہوں ڈینٹل ڈاکٹر کے طور پر کام کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ انڈسٹريل ایریا تھا۔ ذیادہ تر لوگ اگر دانت میں درد ہو تو ہی آتے تھے، کوئی روٹ کینال وغیرہ کے لئے نہیں آتاتھا۔

اپنے نئَےہسپتال کے بارے میں ڈاکٹڑ کلثوم بتاتی ہیں، ''میں ہسپتال میں ہاِئجن اور صحیح علاج پر توجہ دے رہی ہوں۔ میرے ساتھ 7 اور لوگ کام کر رہے ہیں۔ مستقبل میں اس میں گینكلوجی اور خواتین کے لئے جنرل فزیشن کا انتظام کر خدمات کو توسیع دینے کا ارادہ ہے۔''

-------------------------

جد و جہد کے سفر سے کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے FACEBOOK پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

یہ کہانیاں بھی آپ کو پسند آئیں گی۔۔۔۔

کروڑہا لوگوں کو متاثر کرنے والی ایرانی خاتون،جس نے ایک چھوٹے ٹاؤن سے لے کر خلا تک سفر کیا

میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے... صوفی موسیقی کی ہمسفر سمی   تابیلّور

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem