'اور تھوڑا سا بکھرجاؤں ، یہی ٹھانی ہے ، زندگی! میں نے ابھی ہار کہاں مانی ہے؟'

0

22 کلو وزن اور سُننے کی صلاحیت کھوکر بھی نندیتا نے ہار نہ مانتے ہوئے زندگی میں دھنک رنگ بکھیر دئے



26 سالہ نندیتا وینکٹیشن کی زندگی ان کے 24 ویں یومِ پیدائش کے محض دو دن بعد ہی، نومبر 2013 میں اس وقت تقریباً رُک سی گئی تھی جب 'اینٹی بایئوٹک ' دواؤں کے بُرے اثرات کی وجہ سے اپنی 70 فی صد قوتِ سامعہ سے ہاتھ دھو بیٹھی تھیں۔

تپِ دق یعنی ٹی۔ بی سے ان کا پرانا رشتہ تھا۔ اگست 2007 میں، گریجویشن کی تعلیم شروع کرنے کے محض ایک مہینے بعد ہی انہیں پتا چلا کہ وہ آنتوں کی ٹی۔ بی میں مبتلاء ہیں۔ اس وقت جب ان کے دیگر ساتھ فلمیں دیکھنے جارہے تھے، کالج میں بہترین وقت گزار رہے تھے اور یادوں کو سجاکر رکھ رہے تھے، نندیتا کا سارا وقت ٹی۔ بی سے جدوجہد کرنے میں گزر رہا تھا۔ حالانکہ وہ اس کے پہلے حملے سے مقابلہ کرنے میں کامیاب رہیں لیکن 2013 میں ان پر دوبارہ اس کا سامنا کرنا پڑگیا۔

اس جان لیوا بیماری سے نبرد آزما ہونا اور قوتِ سامعہ کی زیادہ تر صلاحیت سے ہاتھ دھو بیٹھنے کے بعد ہم میں سے اکثر لوگوں کے لئے زندگی ناممکن سی ہوجاتی ہے لیکن نندیتا اس لگاتار درد سے گزرتی رہیں اور کئی مرتبہ ہمیت ہارنے کے باوجود وہ اس سے لڑنے کے لئے میدان میں ڈٹی رہیں۔ انہی حالات میں انہوں نے اپنی پہلی پسند کا رُخ کیا یعنی رقص۔ حالانکہ وہ موسیقی یا اس کی ترنگوں کو سننے میں ناکام تھیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے اسٹیج پر اپنے فن کا مظاہرہ کرنا جاری رکھا۔

نندیتا کہ کہانی نہ صرف تحریک اور حوصلے سے بھرپور ہے بلکہ یہ اس بات کا ایک جیتا جاگتا ثبوت ہے کہ اگر ہم اپنے اندرون میں کچھ کر دکھانے کا عزم کرلیں تو کچھ بھی ناممکن نہیں ہے۔

ممبئی میں پرورش:

ممبئی میں پیدا ہونے والی نندیتا نے 2010 میں رام نارائن روئیا کالج سے گریجویشن مکمل کیا۔ 2011 میں ہندوستانی ادارہ ابلاغیات یعنی آئی آئی ایم سی سے پوسٹ گریجویشن کرنے کے بعد نندیتا نے اسی سال دہلی میں د اکنامک ٹائمز کے ساتھ کام کرنا شروع کردیا۔ معاشیات کے ایک صحافی کے طور پر اپنی شناخت بنانے کی خواہش دل میں لئے انہوں نے اقتصادیات کے نصاب کے مطالعہ کے لئے ممبئی کا رُخ کیا اور نومبر 2012 میں دہلی کی ملازمت کو الوداع کہہ کر آگے پڑھنے اور کام کرنے کے لئے واپس ممبئی لوٹ آئیں۔

رفتار میں شاعری:

اپنے کریئر میں آگے بڑھتے ہوئے نندیتا نے بڑی خوشی کے ساتھ ایک مرتبہ پھر رقص کے شعبے میں قدم رکھا۔ وہ ساتھ برس کی عمر سے ممبئی کے 'نتن پریہ ڈانس انسٹی ٹیوٹ' سے بھارت ناٹیم کی تربیت لیتی آئی تھیں۔ وہ کہتی ہیں،" مجھے رقص میں شامل حرکات، رفتار اور خوبصورتی سے بہت محبت ہے۔ رقص کو درست طور پر 'رفتار میں شاعری' کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ میرے لئے یہ ایک شوق سے زیادہ میری پہلی پسند اور اظہارِ ذات کا ذریعہ بن گیا ہے۔"لیکن رقص سے حاصل ہونے والا لطف زیادہ پائیدار ثابت نہیں ہوا۔

تپِ دِق یعنی ٹی۔ بی کی دوبارہ دستک:

مئی 2013 میں چھ برس قبل کی بیماری نے ایک مرتبہ پھر نندیتا کو اپنی آغوش میں لے لیا۔ آنتوں کی ٹی۔ بی میں مبتلاء ہونے کے بعد اب انہیں ایک بے حد طویل معالجاتی سفر کا سامنا کرنا تھا۔

ٹی۔ بی کے ساتھ اس لڑائی میں انہیں 14 مہینے تک چلے اس طویل معالجے سے دوچار ہونا پڑا تھا۔

نندیتا کہتی ہیں،

"کوئی بھی شخص جس نے ٹی۔ بی کی بیماری کا سامنا کیا ہے، بتا سکتا ہے کہ اس سے نبرد آزما ہونا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ اس بیماری کے مریض کو روزانہ 10 تا 15 گولیاں کھانی پڑتی ہیں جن کے خراب اثرات کی وجہ سے متلی، اُلٹی ، یہاں تک کہ پیچش تک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ٹی۔ بی کے مرض سے برا اگر کچھ ہے تو وہ ہے اس بیماری کی واپسی۔"

بیماری کے دوسرے دور میں دوا لینا بالکل غیر موثر ثابت ہورہاتھا۔ بے حد دردناک پیٹ درد، بھوک نہ لگنے اور تیزی سے کم ہوتے وزن کی وجہ سے ان کی حالت بد سے بدتر ہوتی چلی گئی۔ آخر کار ڈاکٹرس نے سرجری کرکے ان کی آنت کے متاثرہ حصے کو نکالنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے نندیتا کو تیقن دیا کہ سرجری کے بعد وہ ایک عام زندگی گزارنے اور دوبارہ اپنی تعلیم جاری رکھنے کی اہل ہوجائیں گی۔

نندیتا اس دور کو یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں،"اپنے والدین اور بھائی کو ساتھ لے کر میں پہلی مرتبہ کسی اسپتال میں داخل ہوئی۔ میں نے اپنے آپ کو سمجھایا کہ یہ باتیں زیادہ سنگین نہیں ہوسکتیں اور میں بہت جلد یہاں سے نکلنے میں کامیاب رہوں گی۔ اس کے علاوہ میں نے خود کو تسلی دی کہ کچھ دن اسپتال میں گزارنا میرے لئے ایک بالکل نیا تجربہ ہوگا اور میں آپریشن تھیٹر کی سمت چل دی۔"

حالانکہ ڈاکٹرس نے ان کی سرجری کو کامیاب بتایا اور نندیتا کو 10 دن بعد اسپتال سے چھٹی دے دی گئی لیکن حالات تیزی سے بگڑنے لگے۔

آسمان پر چھائے کالے بادل:

محض ایک ہفتے بعد ہی ان کی حالت ایکدم خراب ہوکر بگڑنے لگی۔ انہیں ایک مشہور ملٹی اسپیشلٹی اسپتال میں داخل کیا گیا جہاں ڈاکٹرس نے ان کے والدین کو ان کی حالت سنگین ہونے کی اطلاع دی۔

نندیتا کہتی ہیں،

"ڈاکٹرس نے بتایا کہ مجھے مزید جراحت یعنی سرجری کی ضرورت ہے کیونکہ بیماری نے میرے نظام انہضام تک پہنچ بنانی شروع کردی ہے۔ ان کا ارادہ اب کسی بھی قیمت پر میری زندگی بچانا تھا۔ دن مہینوں میں تبدیل ہوتے چلے گئے اور سرجری کی تعداد ایک سے بڑھ کر چار ہوگئی۔ میں بستر سے بندھ کر رہ گئی تھی اور میری آزادی کو چھین لیا گیا تھا۔ میرے بال بھی گرنے لگے تھے۔ مجھے وہ لمحہ اچھی طرح یاد ہے جب میں اسپتال میں ہی تھوڑا سا ٹہلنے نکلی تھی اور میں نے خود کو آئینے میں دیکھا۔ میرا سر کئی جگہوں سے گنجا ہوگیا تھا اور میں خود کو پہچان ہی نہیں پائی۔ سچ کہوں تو اس وقت مجھے اس بات کا علم ہی نہیں تھا کہ میں بچ پاؤں گی یا نہیں لیکن میں صرف یہ جانتی تھی کہ مجھے کسی بھی حالت میں ہار نہیں ماننی ہے۔"

اس موقع پر ایک شعر یاد آتا ہے۔

'اور تھوڑا سا بکھر جاؤں، یہی ٹھانی ہے

زندگی ! میں نے ابھی ہار کہاں مانی ہے' (حسنین عاقبؔ)

اسی خیال کے ساتھ انہوں نے اپنے پاس موجود وقت کو بہترین طریقے سے استعمال کرنے کی ٹھانی اور اپنے علم کو بہتر کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کی کوششیں جلد ہی رنگ لانے لگیں اور جوں جوں ان میں خود اعتمادی پیدا ہونے لگی، انہوں نے ڈاکٹرس سے صحیح سوالات پوچھنے شروع کردئے۔

اسی کے ساتھ نندیتا کو موسیقی اور مثبت طرزِ فکر میں طاقت کا احساس ہوا۔ اسپتال میں دو مہینے گزارنے کے بعد انہیں اس ہدایت کے ساتھ چھٹی دی گئی کہ وہ آٹھ مہینے بعد دوبارہ فائنل سرجری کروانے کے لئے واپس آئینگی۔

وہ کہتی ہیں،

"میرا رنگ بالکل پیلا پڑچکا تھا اور 22 کلو وزن کھودینے کےبعد میں بہت ہی بیمار دکھائی دے رہی تھی۔ ان دواؤں نے یقینی طور پر مجھے پر بُرا اثر ڈالا تھا۔ بہر حال، میں گھر واپس لوٹنے پر بہت خوش تھی۔"

خاموشی کا صدمہ:

اسپتال سے نجات پانے کے بعد صرف ایک مہینے بعد نومبر کے مہینے میں ایک دن نندیتا جب سوکر اٹھیں تو انہیں اپنے چاروں طرف گہرا سناٹا محسوس ہوا۔ وہ اپنی تقریباً 70 فی صد سننے کی قوت گنواچکی تھیں۔

ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے نندیتا بتاتی ہیں،" میں نے اپنی ماں کو خود سے کچھ کہتے ہوئے سنا۔ لیکن میں کچھ بھی سمجھنے میں ناکام رہی۔ وہ سب ایک سراب جیسا تھا۔ میں یکے بعد دیگرے ہونے والے چار آپریشنز کی وجہ سے مابعد جراحت درد سے گزر رہی تھی۔ اسی وجہ سے پہلے پہل کچھ دنوں تک مجھے اپنی قوتِ سماعت کھونے کا احساس نہیں ہوسکا۔ میں اتنے شدید درد سے گزر رہی تھی کہ قوتِ سماعت کی گم شدگی میرے لئے کوئی اہم بات نہیں تھی۔ اگلے کچھ دنوں میں ، میں صورتِ حال کی سنگینی کا اندازہ لگانے میں کامیاب رہی کہ یہ ایک طویل مدتی پریشانی ہے۔ میں ناامید ہونے کے ساتھ ساتھ چڑ چڑی بھی ہوتی جا رہی تھی۔ میں اپنے گھر والوں کے ساتھ بات چیت بھی نہیں کرپا رہی تھی۔ اور یہ میرے لئے سب سے خراب صورتِ حال تھی۔ میں موسیقی، راست گفتگو، ٹی۔ وی، فلمیں وغیرہ جیسی چیزوں سے دور ہوتی جارہی تھی جنہیں میں اپنا سمجھتی تھی۔ میں خود اپنی ہمدردی کے چکر میں پھنس کر اپنے خول میں سمٹ کر رہ گئی تھی۔ میں اپنی پوری زندگی میں ایک تتلی جیسی گھومتی پھرتی تھی لیکن مجھے اس سچائی کو تسلیم کرنے میں کچھ وقت لگا۔"

جزوی طور پر غیر متبدلہ بہرے پن میں مبتلاء نندیتا نے خود پر ترس نہ کھانے کا فیصلہ کیا۔ ان کے لئے اس صورتِ حال کو تسلیم کرنا بے حد مشکل تھا لیکن انہوں نے اس سے دو دو ہاتھ کرنے کا فیصلہ کیا۔

ان کو یقین ہے کہ

"ہوسکتا ہے کہ وقت کے ساتھ سب کچھ ٹھیک ہوبھی جائے یا نہ بھی ہو، لیکن حالات کو تسلیم کرلینے سے درد کافی کم ہوجاتا ہے۔ "

جذبے کی بازیافتگی:


وقت کے اس موڑ پر رقص نندیتا کے لئے آبِ حیات ثابت ہوا۔ انہوں نے اکتوبر کے مہینے میں "نٹن پریہ" کے ذریعے منعقدہ ایک رقص کے پروگرام میں مظاہرہ کرنے میں دلچسپی دکھائی۔ وہ کہتی ہیں،" میں اس صورتِ حال سے باہر نکلنا چاہتی تھی اور رقص اس کا سب سے اچھا ذریعہ ثابت ہوسکتا تھا۔"

لیکن ان کی جد وجہد ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ کسی بھی طرح کی آواز کو سننے سے قاصر نندیتا کو اپنی ساتھ رقاصاؤں کے ساتھ قدم سے قدم ملانے تھے۔ اس کے علاوہ چھ سرجریوں کا سامنا کرنے اور ایک سال سے بھی زیادہ وقت تک پلنگ پر رہنے کی وجہ سے کمزوری سے اُبھرنا بھی ایک چیلینج سے کم نہیں تھا۔

وہ کہتی ہیں،" پہلے پہل میں اس سچائی کو جان کر بہت گھبرائی کہ ابھی کچھ وقت پہلے ہی میں نے کامیابی کے ساتھ اسٹیج پر مظاہرہ کیا تھا اور آج بغیر کسی سہارے کے میں ٹھیک سے چل بھی نہیں پارہی ہوں۔ میں نے اس کے با وجود ڈٹے رہنے کا فیصلہ کیا۔ جلد ہی حالات تبدیل ہونے لگے۔"

انہوں نے اپنے معمول کو یاد کرنا شروع کیا۔ اکیلے اضافی مشقوں میں حصہ لینے لگیں۔ نندیتا مزید کہتی ہیں،" میں نے سننے سے قاصر دیگر رقاصوں کے بارے میں مطالعہ کیا اور اس کے مطابق خود کو تیار کرنا شروع کیا۔ مثال کے لئے لندن کی سماعت سے محروم ایک بیلے رقاصہ۔ اس نے مجھ میں خود اعتمادی بھردی اور مجھے بالکل موزوں نفسیاتی کیفیت کے حصول میں مدد کی۔"

اپنے رقص کے مظاہرے والے دن وہ موسیقی کو سمجھ نہیں پارہی تھیں لیکن وہ سماعت کے آلے کی مدد سے آواز کی ترنگوں کو سمجھنے میں کامیاب ہورہی تھیں۔ نندیتا کہتی ہیں،" سماعت کی معذوری پر فتح پانے کی سمت رقص میرا پہلا قدم تھا۔"

آخر کار دھنک کھِل اُٹھی:

نندیتا نے کامیابی کے ساتھ اپنا پہلا مظاہرہ پیش کیا۔

جیسے ہی میں نے اسٹیج پر اپنا پہلا قدم رکھا، میں نے جذبات کے سمندر کو اپنے اندر موجزن پایا۔ حقیقت میں موسیقی کی کمی سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ مجھے پتا تھا کہ مجھے رقص کرنا ہے اور میں اس کے ساتھ ہی آگے بڑھی۔ وہ مظاہرہ ناقابلِ یقین تھا۔ رقص نے مجھے زندگی کے اس نئے مرحلے کو خود اعتمادی اور خوبصورتی کے ساتھ اپنانے میں مدد کی۔

حالانکہ سماعت کی معذوری کی وجہ سے نندیتا کو اپنی روزمرہ معمولات میں کئی طرح کی مشکلات پیش آتی ہیں۔

آج کے اس دور میں جب کہ سمعی اور بصری میڈیا ہمارے زیادہ تر مواصلات پر اثر انداز ہے، وہ دنیا کے زیادہ تر معاملات سے خود کو کٹا ہوا پاتی ہیں۔

ان کے والدین اور سوشل میڈیا باہری دنیا کو دیکھنے اور جاننے کے لئے ان کا ذریعہ ہیں۔

ایک بہتر مستقبل کی جد و جہد :

نندیتا کو صحت یابی حاصل کرنے کے لئے ایک سال تک دھیرے دھیرے آگے بڑھنے کا مشورہ دیا گیا تھا لیکن ان کا ارادہ اگلے برس تک کل وقتی طور پرکام شروع کرنے کا ہے۔ فی الحال وہ ایک فری لانسر کے بطور اقتصادیات اور ہندوستانی معاشی نظام پر مضامین لکھتی ہیں۔ ایک بہتر اور سنہرے مستقبل کی امید ایسی چیز ہے جو انہیں ہر روز آگے بڑھنے کی تحریک دیتی ہے۔

"مجھے لگتا ہے کہ کسی کو بھی خواب دیکھنا بند نہیں کرنا چاہئے۔ اپنے خوابوں کو موجودہ حقائق کی بنیاد پر بُنو لیکن اپنی خواہشات کی تکمیل کے بارے میں خواب دیکھنا بند مت کرو۔ یہاں تک کہ آپ کے چھوٹے سے چھوٹے خواب تحریک اور جد و جہد ایک ایک بڑا ذریعہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ اسپتال میں میری خواہش صرف ٹھیک ہونے اور کھانا اور چلتا پھرنا شروع کرنے جیسی معمولی باتوں تک ہی محدود تھی۔ اس برس میں نے بہتر طریقے سے صحت مند ہونے، رقص کرنے اور کام شروع کرنے کی سمت چھوٹے چھوٹے قدم بڑھانے کی خواہش کی ہے۔"

2016 میں رقص کی نئی جہتوں کو اپنانے کا ارادہ رکھنے والی نندیتا کہتی ہیں،

"مجھے لگتا ہے کہ میں اپنے سب سے بُرے دور سے گزر چکی ہوں اور اس نے مجھے اتنی خود اعتمادی بخشی ہے کہ اب میں اپنی راہ میں آنے والی کسی بھی رکاوٹ کا سامنا کرسکتی ہوں۔ آج میرے لئے ہر لمحہ بے حد اہم ہے اور میں اس لمحے کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا چاہتی ہوں۔ میں اپنے ہر تجربے سے کچھ سبق سیکھنے کی کوشش کرتی ہوں۔ اس سبق کو ایک موقع کے طور پر استعمال کرتی ہوں اور اسے اپنی طاقت بناتی ہوں۔"



تحریر: تنوی دوبے
مترجم: خان حسنین عاقبؔ