کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ ایک آٹوڈرائیور کے فیس بک پر 10 ہزار فالوورز ہوں گے، اتنا ہی نہیں، اس کی آٹوركشا کو دیکھ کر لگتا ہے، جیسے کسی آئی ٹی ایکسپرٹ کا دفتر ہو جہاں 2 ٹےڈیكس، ٹیاب اور لیپ ٹاپ بھی موجود ہیں۔ یہ ہیں انّادورائے۔

انّادورائے عرف آٹو انّا درائی 2012 سے 12 ویں کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر آٹو چلا رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی آٹوركشا سے سب کو چونکا دیا ہے۔ ان کی ٹوركشا میں کئی طرح کی اخبارو رسائل ہیں، کتابیں ہیں، چھوٹا ٹی وی ہے، وائی فائی کنکشن ہے۔ جب بھی کوئی چینئی کا باشندہ یا باہر کا شخص ان کی آٹوركشا میں بیٹھتا ہے تو چونکے بغیر نہیں رہ سکتا، بلکہ چینئی میں سب سے زیادہ چاہے جانے والے آٹو ڈرائیور کے طور پر ان کو دیکھا جا سکتا ہے۔

اخبار و میگزین میں شائع ہونے کے بعد انّادورائے کی خصوصیات کے سبھی لوگ قائل ہو گئے ہیں۔ انہیں اب تک 40 سے زائد کارپوریٹ دفاتر میں تقریر کے لئے بلایا جا چکا ہے۔ 31 سالہ انّا درائی ہونڈئی، ووڈا فون، رائل انفيلڈ، ڈینفو اور گیمیسا جیسی کمپنیوں کے ملازمین سے خطاب کر چکے ہیں۔ نہ صرف چینئی بلکہ بینگلور، حیدرآباد، ممبئی، پونے، گڑگاو جیسے دوسرے شہروں میں بھی انہیں بلایا گیا ہے۔

انا نے اپنے آٹوركشا میں ٹیڈیکس، ٹیب اور لیپ ٹاپ رکھ چھوڑے ہیں، تاکہ مسافر ان کے آٹو میں بیٹھ کر ان چیزوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اتنا ہی نہیں، انہوں نے اپنے ساتھ سوپنگ مشین بھی رکھی ہے، تاکہ مسافروں کو چلّر کا مسئلہ نہ ہو۔ اس کے پیچھے کا بڑی دلچسپ وجہ ہے۔ جب مسافروں کے پاس چلر پیسے نہیں ہوتے تو وہ مسافروں سے کہتے کہ اگلی بار دیں، لیکن مسافر اس پر ندامت محسوس کرتے۔ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے انہوں نے سوپنگ مشین کا آغاز کیا اور پھر آج لوگ کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ سے پیسے ادا کر سکتے ہیں۔ وہ فاصلے کے مطابق، مسافروں کو 10، 15، 20 اور 25 روپے چارج کرتے ہیں۔

انّادورائے خاص دنوں میں اپنے مسافروں کو ڈسكاونٹ بھی دیتے ہیں۔ بالخصوص اساتذہ کو وہ خاص سروس فراہم کرتے ہیں۔ ویلنٹائن ڈے کے دن پریمی جوڑے بھی ان کی خاص خدمت سے خوش ہوتے ہیں۔ مدرس ڈے کے دن وہ اپنے بچوں کے ساتھ سفر کرنے والی ماں کو بھی مفت سواری کی سہولت دے چکے ہیں۔

انا چاہتے ہیں کہ ہر مسافر ان آٹوركشا سوار کر خوش ہو۔ وہ ماہنہ 45 ہزار روپے کماتے ہیں اور 9000 سے زیادہ روپے مختلف خدمات پر خرچ کرتے ہیں۔ وہ ایک اپلی کیشن تیار کرنے کی تیاری میں ہے، جس سے صارفین کو پتہ چل سکے کہ ان کا آٹوركشا کہاں ہے اور وہ خالی ہے یا نہیں ہے۔

كہانياں مجھے وراثت میں ملی ہیں. ماں، باپ، چچا، چاچی،خالہ، پھوپھی، نانی دادی، سب کی مختلف کہانیاں تھیں. اسی وراثت کو پاس پڑوس، دوست رشتہ دار، نکڑ، گلی، محلہ، شہر، ملک اور بیرون ملک کے چہروں میں چھپی کہانیوں کے ساتھ ملا کر پیش کر رہا ہوں۔ پسند آئے تو مسکرانا ضرور۔

Related Stories