پونے کی IT پروفیشنل دیپتی نے 'پارک آور' کی انتہائی مشکل ٹریننگ مکمل کر بنائی نئی شناخت

0


اگر آپ سے کوئی یہ پوچھے کہ کیا آپ نے 'پارک آور' کے بارے میں سنا ہے؟ تو آپ کا جواب شاید ہاں اور شاید نہیں بھی ہو سکتا ہے، لیکن آپ سے اگر یہ پوچھا جائے کہ کیا آپ ایسی کسی خاتون یا لڑکی کو جانتے ہیں جو'پارک آور' میں مہارت رکھتی ہے، تو آپ کا جواب نہ میں ہوگا۔

کیا ہے یہ پاركاور:

چلئے سب سے پہلے یہ بتاتے چلیں کہ یہ پارک آور ہوتا کیا ہے ۔ جسمانی ٹریننگ کی ایک ڈسپلين ہے، فری رننگ، جمپنگ، کلمبنگ، لگےّ کے سہارے چھلانگ، سوئمنگ کے ساتھ ساتھ بہت سے طریقے سے فری مومینٹ کئے جاتے ہیں۔ اس کی پریکٹس کرنے والوں کے کارنامے دیکھ کر آپ حیران رہ جائیں گے۔ سمجھا جاتا ہے کہ اس کی تحرکی مليٹری ٹریننگ میں استعمال ہونے والے آبسٹكل ٹریننگ سے لی گئی ہے۔

پارك آور کن کن ممالک میں رائج ہے:

دنیا کے بہت سے ترقی یافتہ ممالک جیسے امریکہ، کینیڈا، یورپ کے ممالک اور چین میں پارک آور کافی مشہور ہے اور اس کے لئے ان ممالک میں پارک آور جم کا انتظام بھی ہے۔ بہت پارک آور پریكٹشنرس دنیا بھر میں کارنامے دکھاتے ہیں اور اپنے کارناموں سے لوگوں کو حیران کر دیتے ہیں۔ پارک آور کی تاریخ میں جائیں تو یہ فرانس میں ریمنڈ بیلے نامی شخص کی جانب سے شروع کیا گیا اور آگے چل کر 80 اور 90 کی دہائی میں ان کے بیٹے ڈیوڈ بیلے نے اپنے گروپ کے ذریعے اسے دنیا بھر میں مشہور کیا۔

ہندوستان میں پارک آور کی حالت:

ہندوستان میں ایسی سہولت سے لیس کوئی پارک یا کوئی اہم مقام نہیں ہے جہاں پارک آور کے پریکٹس یا ٹریننگ سیشن منعقد کی جائے۔ دراصل پارک آور یا اس کی ٹریننگ اب ہندوستان میں نئی ہے اور اسے پریکٹس کرنے والے لوگ گنے چنے ہی ہیں۔

پاركاور اور پونے کی ديپتي کی ہمت:

عام طور پرپارک آور کو مردوں کی ٹریننگ کا درجہ دیا جاتا ہے، لیکن پونے کی ديپتي سنہا سے مل کر آپ اپنا یہ خیال تبدیل کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ دیپتی IT پروفیشنل ہیں اور پونے کی ایک سافٹ ویئر کمپنی میں کام کرتی ہیں۔ ديپتي ویک اینڈ پر اپنے گروپ کے ساتھ پارک آور پریکٹس کرتی ہیں۔

پارک آور کے لئے اپنے گھر والوں کو منانے کے بارے میں دیپتی بتاتی ہیں، '' سب سے پہلے تو گھر والوں کوپارک آور کیا ہوتا ہے، اس کی اطلاع نہیں تھی، لیکن جب میں نے گھر والوں سے بات کی تو وہ مان گئے اورپارک آور ٹریننگ کی اجازت مل گئی۔ دراصل گھر والوں کے ذہن میں یہ خوف تو ضرور تھا کہ بڑے ارمانوں سے جس بیٹی کو پالا تھا کہیں کچھ ہو نہ جائے ۔۔۔۔ کیونکہ پارک آور کی پریکٹس میں چوک ہونے پر شدید چوٹ لگنے یا ہڈی کے ٹوٹ جانے تک کا خطرہ ہمیشہ رہتا ہے۔ جب اجازت مل گئی تو اسے پورا کرنے کا چیلنج تھا۔ یور اسٹوری کے سوال پر کہ پریکٹس کے دوران کبھی ایسا نہیں لگا کہ یہ مشکل ہے یا پھر ۔ مجھ سے نہیں ہو گا، ديپتي نے کہا "میں نے ٹھان لیا تھا کہ مجھے یہ کرنا ہی ہے سو چھوڑ کر واپس لوٹنے کا سوال ہی نہیں تھا "۔

آگے دیپتی بتاتی ہیں کہ پارک آور کے لئے آپ کو آپ کے جسم اور دماغ دونوں کو تیار کرنا پڑتا ہے اور دونوں کے درمیان تال میل بہت ہی ضروری ہے۔ کیونکہ پارک آور اچھل کود والے مووس سے بھرا ہوا ہے، تو جسم تیار ہو اور دل تیار نہ ہو تو اس کی پریکٹس ممکن ہی نہیں ہے۔ دیپتی مشورہ دیتی ہیں کہ آپ جب بھی اس کی کوشش کریں تو پہلے اپنے دل کو مکمل طور پر تیار کریں تاکہ آپ کے اسٹیپس صحیح رہے اور کسی قسم کا کوئی خطرہ بھی نہ ہو۔

لڑکیوں کے لئےپارک آور کتنا چیلینج بھرا ہے:

دیپتی کہتی ہیں کہ لڑکی ہونے کی وجہ سے کئی بار لوگوں نے میری پارک آور پریکٹس سیشن کو بہت ہی تجسس سے دیکھا، لیکن اب وہ لوگ سمجھ گئے ہیں کہ میں کیا کر رہی ہوں۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ ہندوستان کی پہلی لڑکی ہیں جوپارک آور پریکٹس کرتی ہیں ان کا کہنا ہے کہ مجھے نہیں پتہ، شاید کوئی کر بھی رہی ہے یا نہیں، لیکن اب یہاں پارک آور نیا ہے۔ خاص طور پر لڑکیوں کے لئے۔ لڑکیوں کے لئے یہ تب تک ہی مشکل ہے جب تک اسے کرنے کی نہیں ٹھان لی ہے۔

کتنا وقت چاہئے ٹریننگ کے لئے:

محض 27 سال کی IT پروفیشنل دیپتی اختتام ہفتہ پر ٹریننگ میں اپنے گروپ 'MYOW' (MAKE YOUR OWN WAY) کے ساتھ حصہ لیتی ہیں اور 4-5 گھنٹے تک ٹریننگ کرتی ہیں۔ دیپک مالی اس گروپ کے چیف ٹرینر ہیں جو انہیں تمام اسٹپس کی معلومات دیتے ہیں۔

اوسطاً کتنے وقت تک ٹریننگ حاصل کرنا اچھا ہے؟ سوال کے جواب میں دیپتی کہتی ہیں، 'جتنا زیادہ سے زیادہ ٹریننگ کریں گے اتنا ہی آپ میں نکھار آئے گا۔ وہ بتاتی ہیں، "میرے لئے کام کے ساتھ ساتھ ٹریننگ ممکن نہیں ہو پاتی کیونکہ یہ ایک تھکا دینے والا عمل ہے اس لئے میں ویک اینڈ پر ہی ٹریننگ کے لئے جا پاتی ہوں۔"

آگے کیا ہے دیپتی کا مقصد:

سب سے پہلا مقصد تو فٹ رہنا اور صحت مند رہنا اورپارک آور کی ٹریننگ سے دیپتی خود کو انتہائی فٹ مانتی ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ ایک سال کی ٹریننگ نے جیسے انہیں فٹنیس کا ہنر دے دیا ہو۔ اس کے علاوہ اسپارک آور فٹنیس ٹریننگ کی وجہ سے دیپتی کی شہرت میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نےپارک آور کو اور تندہی سے آگے لے جانے کا عہد کیا ہے۔ دیپتی اس بات سے بہت خوش ہیں کہ پارک آور کی ٹریننگ کی وجہ سے انہیں انٹرنیشنل اسپورٹس برانڈ اماسڈر کے ایک اشتہار 'ڈاکٹر ڈاکٹر ڈنگ' کے ایک سین کے لئے اپروچ کیا اور وہ اس کا حصہ بنیں۔

نیرج سنگھ