آسام کی وراثت سے دنیاکو روشناس کرانے میں مصروف بیناپانی

0

گوہاٹی میں ایک تعلیم یافتہ خاندان میں پیداہونے والی بیناپانی تعلقدارنے اپنی محنت اور دوراندیشی سے آرٹ اینڈ کرافٹ کے عام کام کو دنیابھر میں پھیلایااور اس کو نئ جہت دی۔ انھوں نے ایک این جی او کی تشکیل کے ذریعے دوردراز علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو ان کے قدیم فن کے ساتھ رشتہ استوار کرنے کے لئے حوصلہ افزائی کی اور اس کام کے بہانے ان کی مالی مدد بھی کی۔

بچپن سے ہی بیناپانی کی دلچسپی آرٹ اور کرافٹ میں تھی۔ دسمبر میں تعلیم کے دوران انھیں سکمارتعلقدار سے پیارہوااور انھوں نے شادی کرلی۔ ایک بیٹے کے جنم کے بعد ان کے کنبے میں آئی کچھ معاشی تنگی کے سبب بیناپانی نے ڈائریکٹوریٹ آف انڈسٹری اینڈ کامرس (ڈی آئی سی) کے تعاون سے ایک چھوٹے سے کاروبار کی بنیاد رکھی۔ نام رکھا’مس پینسی‘۔

خشک پھولوں سے گھر وغیرہ کو سجانا اور سنوارنا آسام کی ایک قدیم تہذیب ہے،جس میں دوردراز کے علاقوں میں پھولوں کو جمع کرکے سورج کی روشنی میں خشککرکے قدرتی کیمیاؤں سے محفوظ کیاجاتاہے۔ اس طرح محفوظ رکھے گئے پھول دیکھنے میں تازہ ہی لگتے ہیں اور بہت دنوں تک ٹھیک رہتے ہیں ۔ چوں کہ یہ ساراکام ہاتھوں سے ہی کیاجاتاہے اس لئے اسے بڑی سطح پرکرنا ایک بڑاچیلنج تھااور بیناپانی نے ا س کام کو کامیابی سے کرنے کا تہیہ کیا۔

بیناپانی نے ’مس پینسی‘ کو بہت چھوٹی سطح پر شروع کیااور خود ہی بانس اور خشک پھولوں سے آرائشی اشیاء بناکر انھیں اپنے یہاں فروخت کرنا شروع کیا۔ اس کام کو شروع کرنے کے کچھ دنوں بعد انھوں نے کچھ مقامی خواتین کو ساتھ لے کر آسام ویمن ویلفیئر سوسائٹی کے نام سے ایک رضاکارتنظیم کی تشکیل کی۔ ان کی سوچ تھی کہ وہ دیہی خواتین کو خام مال فراہم کرائیں گی اور ان سے مال تیارکراکر ’مس پینسی‘ گوہاٹی میں آنے والے سیاحوں کے درمیان متعارف کرائیں گی۔ چناچہ جلد ہی ان کی تیارکردہ اشیاء مشہورہوگئیں اور آسام کا یہ قدیم فن دنیا کی نظروں میں آگیا۔ اس کے بعد انھوں نے ان فن پاروں کو دنیابھر میں پھیلانے کا ارادہ کیا۔ اس کے لئے برآمد پر غورکرنے لگیں ۔

’’میں نے غورکیاکہ کیوں نہ ان سوکھے ہوئے پھولوں کو غیرممالک میں بھیجا جائے لیکن جلد ہی میری سمجھ میں آگیاکہ انھیں ایکسپورٹ کرنا ٹیڑھی کھیر ہے۔ اس کے بعد میں نے اپنے ڈیزائننگ کی مہارت کا استعمال کیااور آسام کی مشہور ایری سلک کے ہینڈ بیگ اور اسٹول تیارکئے۔ ‘‘

ایک نمائش میں بیناپانی کے تیارکردہ انفن پاروں کو نیشنل اسمال انڈسٹری کارپوریشن کے ڈائریکٹر نے بہت پسند کیااور انھیں برازیل میں منعقد بی 2بی نمائش میں ان چیزوں کو دکھانے کا موقع دیا۔ بیناپانی کے بنائے ان ہینڈ بیگ اور اسٹول کو نمائش میں آئے غیرملکی خریداروں نے بہت پسند کیااور ایک افریقی کمپنی نے انھیں 10ہزار پیس کا آرڈر دیا۔

’’یہ میری زندگی کا پہلا آرڈر تھا جسے پوراکرنے کے لئے بہت سرمائے کی ضرورت تھی۔ میں نے کمپنی کے پرچیز آرڈر کی بنیاد پر بینک سے لون لیاجس کے لئے اپنی خاندانی جائیداد کو بھی رہن رکھنا پڑا۔ چوں کہ سارامال ہاتھ سے تیارہوناتھااس لئے اسے پورا ہونے میں ایک سال کا وقت لگا۔ چوں کہ مجھے ایکسپورٹ کا تجربہ نہیں تھا اس لئے اس کام میں مجھے برائے نام ہی منافع ہوا۔ لیکن اس تجربے سے میں نے کافی کچھ سیکھا۔ ‘‘

اس آرڈر کو پوراکرنے کے بعد بیناپانی کی خود اعتمادی میں اضافہ ہوااور انھوں نے کئی ممالک میں ہونے والی نمائشوں میں حصہ لینا شروع کیا اور انھوں نے ’مس پینسی‘ کا نام بدل کر ’پینسی ایکسپورٹ‘ کو دنیابھر سے برآمد کے آرڈر ملنے لگے۔

’’میں ہمیشہ نئ چیز بنانے اور کام کے ساتھ تجربے کرنے میں لگی رہتی ہوں ۔ آج کے وقت میں میرے پاس پرتگال ، اسپین،روس ،جرمنی سمیت کئی ممالک سے کام کے آرڈر ہیں ۔ چوں کہ آج پوری دنیامیں چینی اشیاء کی بھرمار ہے اور ہماراساراسامان ہاتھ سے تیارکردہ ہے اس لئے یہ خریداروں کی پہلی پسند ہے۔ اس کے علاوہ میں نے کبھی زیادہ منافع کمانے کے لئے کوالٹی کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کیا۔ ‘‘

موجودہ وقت میں بیناپانی کا گوہاٹی میں ایک شوروم ہے جسے ان کی عدم موجودگی میں ان کے شوہر سنبھالتے ہیں ۔ اس کے علاوہ وہ اپنا سامان اب بھی گاؤں میں ہی مقامی لوگوں سے تیارکراتی ہیں ۔ ان کا خیال ہے کہ ان لوگوں سے کام کراکر وہ ان لوگوں کو روزگاردینے کے ساتھ ساتھ انھیں اپنی جڑوں سے جڑے رہنے کا موقع دے رہی ہیں ۔

مستقبل میں بیناپانی یورپ میں اپنا ایک شوروم کھولنا چاہتی ہیں اور انھیں امید ہے کہ جلد ان کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔

قلمکار : نشانت گوئل

مترجم : محمد وصی اللہ حسینی

Writer : Nishant Goel

Translation By : Mohd.Wasiullah Husaini