سوم سنگھ ایک کامیاب خاتون صنعتکار

0

ایک شخص کی کامیابی اس کے اپنے لئے تو اہمیت رکھتی ہی ہے، لیکن دوسروں کے لئےبھی وہ مشعل رہ بن جاتی ہے۔ لوگوں کی زندگی میں مثبت تبدیلی لانے کے اسے ایک مثال کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔ کامیاب شخص لوگوں کو ترغیب دینے کی وجہ بنتا ہے اور ملک کی ترقی میں بھی وہ اپنا اہم رول ادا کرتا ہے۔ لوگ اس سے تحریک حاصل کرتے۔ کولکتہ کی سوم سنگھ بھی ایک ایسی ہی کامیاب خاتون صنعتکارہیں، جنہوں نےاپنی زندگی کو اقبال کے اس شعر کی مانند ڈھال لیا ہے۔

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے

سوم نے تنہا جدوجہد کی اور اپنے لئے وہ مقام حاصل کیا، جس سے دوسرے تحریک حاصل کر سکیں۔ کولکتہ کے ایک بنگالی خاندان میں پیدا حوئیں سوم شروع سے ہی دوسروں سے بالکل مختلف تھیں۔ 90 کی دہائی میں بنگال میں بچے اسی پیشے میں جایا کرتے تھے جہاں ان کا خاندان ہوتا تھا، لیکن سوم نے اپنے لئے کچھ مختلف ہی سوچا۔ وہ اپنے خواب پورا کرنا چاہتی تھیں اور خاندانی پیشے سے مختلف کام کرنا چاہتی تھیں، لیکن یہ بات سوم کے والدین کو پسند نہیں تھی اور انہوں نے سوم کی مخالفت کی۔ سوم نے اپنے خاندان کو سمجھانے کی کوشش کی، لیکن وہ نہیں مانے۔ اس کے بعد سوم 1500 روپے لے کر اپنے خواب کو پورا کرنے کے لئے بنگلور آ گئی۔ ان کی محنت، لگن اور جذبے کا ہی نتیجہ تھا کہ آج وہ ایک کامیاب صنعتکار، ایک استاد اور ایک انجل انویسٹر ہیں۔ کئی لوگوں کی زندگی کو بہتر بنا رہی ہیں اور اپنے خواب پورا کرنے کے لئے لوگوں کی مدد کرتی ہیں۔

جب سوم کولکتہ میں تھیں تو انہوں نے دیکھا کہ کس طرح ان کے والدین سخت محنت کر کے پیسہ کمانے تھے، لیکن سوم کو ان کا کام پسند نہیں تھا وہ دماغی کام کرنا چاہتی تھیں۔ سوم کے لئے ان کی دادی مشعل راہ تھیں جو ایک وکیل تھیں ان کی شادی صرف 13 سال کی عمر میں ہو گئی تھی، لیکن انہوں نے تعلیم جاری رکھی۔ ساتھ ہی اپنے خاندان کا بھی خیال رکھا اور اپنے بچوں کو آگے بڑھایا۔

سوم بتاتی ہیں کہ سیلز میں کافی انہں کافی دلچسپی تھی، لیکن 90 کی دہائی میں کولکتہ میں مارکیٹنگ کے بارے میں زیادہ لوگوں کومعلومات نہیں تھی اور وہ سیلز کا مطلب گھر گھر جا کر سامان فروقت کرنا سمجھتے تھے۔ کولکتہ میں اس وقت ماركیٹگ کے کورس بھی نہیں تھے۔ خاندان میں بھی کافی مخالفت تھی۔ سوم نے سوچ لیا تھا کہ وہ بینگلور جاکر تعلیم حاصل کیں گی اور سن 1997 میں وہ کولکتہ چھوڑ بینگلور چلیں آئیں۔

اجنبی شہر اور جیب میں صرف 1500 روپے سوم جانتی تھیں کہ ان کا سفر آسان نہیں ہے، لیکن وہ ہر مصیبت کا سامنا کرنے کے لئے پہلے سے ہی تیار تھیں۔ انہیں خود پر پورا بھروسا تھا۔ وہ جئے نگر میں ایک پی جی ہوسٹل میں رہنے لگیں اور وہاں کی ایک لڑکی سے انہوں نے چاکلیٹ بنانا سیکھا وہ چاکلیٹ اپنے کالج میں فروقت کرتیں اور اس سے وہ تقریبا 6000 ماہانہ کما لیتی تھی۔ وہ ایک بوٹک چلانے والی خاتون کو بھی بزنس چلانے کےلئے ضروری مشا ورت کرنے لگیں۔ ساتھ ہی وہ ڈیٹا شیٹ لکھ بھی پیسہ کمانے لگیں۔ لکھنے کا کام سوم کے لئے نیا نہیں تھا وہ 17 سال کی عمر سے لکھ رہیں تھی اور وہ اس کام سے 500 روپے کما لیا کرتیں تھیں، جو اس وقت بہت زیادہ رقم ہوا کرتی تھی۔

سوم کی تعلیم بھی اچھی چل رہی تھی ان شمار کالج کے سب سے ذہین طالب علموں میں ہونے لگا اور ان کے درمیان وہ کافی مقبول ہو گئیں۔

اسی دوران ایک دن انہوں نے اپنے والد کو فون کیا اور روتےہوئے ان کا شکریہ ادا کیا کہ ان کی وجہ سے ہی وہ آج خود اپنے پیروں پر کھڑی ہوئی ہیں۔ گریجویشن کے بعد انہوں نے اكامی، ہوریزون اور ریڈ ہیٹ جیسی بڑی کمپنیوں میں کام کیا۔ کئی کمپنیوں میں کام کرنے کے بعد سوم چاہتیں تھیں کہ وہ اب اپنے کام پر توجہ دیں۔ بہت غور کے بعد انہوں نے انسپن نامی کمپنی کی بنیاد رکھی۔ کمپنی کا مقصد لوگوں کو مارکیٹنگ کے بارے میں اور اس کے نئے طورطریقوں کے بارے میں بتانا تھا۔ نئے اسٹارٹپس کی مارکیٹنگ میں آنے والی پریشانیوں کو دور کرنا اور انہیں ہر چھوٹی بڑی اور ضروری معلومات فراہم کرنا تھا۔ انہوں نے کلائنٹس کے لئے اے سی ٹی نام سے ایک پلیٹ فارم بھی بنایا۔ کئی لوگوں کو مارکیٹنگ کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہوتی کہ وہ کس ذریعے کا استعمال کرتے ہوئےاپنی مصنوعات کوبازارمیں اتاریں۔ اس کام میں انسپن نے لوگوں کو مکمل مدد فراہم کرتی ہے۔ ان کے سامنے مختلف ڈیٹا مہیا کرایا جاتا ہے۔

انسپن کے علاوہ بھی سوم نے ایک تجارتی مشیر کا کردار ادا کیا۔ انہوں نے کئی پروگراموں میں حصہ لیا اوراسٹارٹپس چلانے کے لئے چارج بی، موبسٹیك، ٹوكی ٹاكی، ایكسپلارا جیسی کمپنیوں کی رہنمائی کی اور ان کی مالی مدد بھی دکی۔

سوم نے مینجمنٹ میں ایم بی اے اور پی ایچ ڈی کی ہے۔ وہ آئی ايف آئی ايم، آئی آئی ٹي بی ، بینگلور میں طالب علموں کو پڑھاتی بھی ہیں۔

پالیسی میکرس اورصنعتکاروں کے درمیان فصلے کو کم کرنے کی سمت بھی سوم نے اہم اقدامات اٹھاۓ ہیں۔ انہوں نے سینٹر فار انٹرپرنيويل ایکسیلینس (سي ای ای) کا آغازکیا. جس کا مقصد صنعتکاروں کی مدد کرنا ہے ان کے لئے وركشاپس منعقد کرنا اور سرکاری پالیسیوں اور کام کے بارے میں معلومات فراہم کرناہے۔ وہ تاجروں کے تجاویز بھی پالیسی میکرس کے سامنے رکھتی ہیں۔

جب سوم چھوٹی تھیں تو وہ اپنی دادی کے ساتھ وقت گزارا کرتیں تھی آج سوم کے والدین ان کی بیٹی کے ساتھ وقت گزارتی ہیں۔ اور انہیں اپنی بیٹی پر فخر ہے۔

FACE BOOK


کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں...

فنکارانہ ماحول کو پروان چڑھا رہا ہے سپریا لاہوٹی کا گیلری کیفے

معاشرے کے طعنوں نے بدل دی زندگی، آج مخصوص اہلیت کے حامل دوسو بچّوں کی’ماں‘ ہیں سویتا

سامان کے تبادلے کا پلیٹ فارم... ’ پلینیٹ فارگروتھ‘


پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem