ترقی سے کوسوں دور ایک گاؤں کی ان پڑھ خواتین نے بڑھائی شہروں کی مٹھاس

0


پہاڑیوں سے گھرا كالاكنڈ گاؤں خواتین کی محنت سے ہوا مشہور

غریب خواتین کا مٹھائی برانڈ 'قلاقند'

زندگی میں کچھ کر گزرنے کی چاہت ضروری ہے۔ اگرکچھ کر گزرنے کا خیال دل میں ہے اور قوۃ ارادی ہے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی۔ ایسے میں برسوں سے بندھی زنجیروں کو توڑنے میں بھی دیر نہیں لگتی۔ یہی ہوا اندور کے پاس پہاڑیوں سے گھرے كالاكنڈ گاؤں میں۔ جس گاؤں کے مردوں نے ذرائع کی عدم موجودگی میں ہتھیار ڈال دیے تھے، اسی گاؤں کی خواتین ایک مثال قائم کر دی۔ مجبوری میں شروع کیا روزگارکچھ ایسا دکھایا کہ اس کی خوشبوشہروں تک پہنچ گئی۔ وہ ایک برانڈ بن گیا۔ آج اندور کے پاس كالاكنڈ گاؤں اپنی خوبصورتی سے زیادہ وہاں کے 'قلاقند' کی وجہ سے مشہور ہو چکا ہے۔ جس کو بنانے سے لے کر فروخت تک کی ساری کمان خواتین کے ہاتھ میں ہے۔

صرف 175 لوگوں کی آبادی والا گاؤں كالاكنڈ، جہاں پہنچنے کے لئے ایک ہی ذریعہ ہے، میٹر گیج ٹرین۔ اندور سے 53 کلومیٹر دور اس گاؤں تک پہنچنے کے لئے ٹرین کا سفر آنکھوں اور دماغ کو بہت ہی سکون دینے والا ہے۔ دھواں چھوڑتا ڈیزل انجن، انگریزوں کی بنائی ہوئی سرنگوں میں سے گزرتے چھك-چھك کرتی ٹرین۔ مختصر سفر میں برسات کے دنوں میں ٹرین کے ایک جانب پہاڑ سے گرتے 40 سے زیادہ جھرنے تو دوسری جانب کل-کل بہتی چورل دریا۔ ٹرین سے كالاكنڈ پہنچتے ہی یہاں کی قدرتی خوبصورتی میں آپ کھو جاتے ہیں۔ اسٹیشن پر گاڑی رکتے ہی پلیٹ فارم پر دو تین ہاتھ ٹھیلے میں پلاس کے پتوں کے اوپر سفید رنگ کی کھانیں کی چیز فروخت کرتے کچھ لوگ دکھ جاتے ہیں۔ یہی ہیں یہاں کے گنے چنے روزگار میں سے ایک کا مشہور 'قلاقند'۔

كالاكنڈ میں ذریعہ معاش کے نام پر اگر کچھ ہے تو لکڑی کاٹ کر فروخت کرنا اور کچھ دودھ والےجانور۔ دودھ باہر بھیجنے کے لیے ٹرین پر ہی منحصر رہنا پڑتا تھا۔ ان حالات میں گاؤں کے چروہے خاندانوں نے دودھ کا 'قلاقند' بنا کر اسٹیشن پر فروخت شروع کیا۔ کئی نسلوں سے 'قلاقند' بنا کر اسٹیشن پر فروختکرنا جاری ہے۔ یہاں سے کچث چنندہ ریلگاڑیاں ہی گزرتی ہیں، جس کی وجہ سے یہ روزگار بھی صرف پیٹ بھرنے تک ہی محدود رہا۔

انہیں 'قلاقند' کی جو قیمت ملتی تھی وہ محض اجرت سے زیادہ کچھ نہیں تھی۔ مگر گزشتہ دو سال میں جو ہوا وہ چونكانے والا تھا۔ گلے تک پردہ کرکے جھاڑو جھٹکا کرنے والی اور گھر کا چولہا چوکا کرنے والی گاؤں کی کچھ خواتین نے اپنے مردوں کے آبائی کاروبار کی کمان کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ 10 خواتین کا گروپ بنایا گیا اور اسے منظم کاروبار کی شکل دے دی گئی۔ گاؤں کی خواتین نے كالاكنڈ کے 'قلاقند' کو ایک برانڈ بنایا۔ اچھی پیکیجنگ کی، پلاس کے پتوں کی جگہ خوبصورت باکس نے لے لی۔ لیڈی گروپ نے اب یہ باکس بند 'قلاقند' اندور کھنڈوا روڈ کے کچھ خاص ڈھابو اور ہوٹلوں پر فروخت کے لئے رکھا۔ لیڈی گروپ جتنا بھی 'قلاقند' بناتا تمام ہاتھوں ہاتھ فروخت ہو جاتا۔

خواتین کو یہ راہ دکھائی علاقے میں پانی کے ذخیرے کام کر رہے ایک ادارے ناگرتھ چیريٹبل ٹرسٹ نے۔ ٹرسٹ کے پروجیکٹ انچارج سریش ایم جی نے جب 'قلاقند' کا ذائقہ چکھا تو خواتین کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے اس ہنر کو بڑے کاروبار میں تبدیل کریں۔ ٹرسٹ کی مدد کے بعد جب عورتوں کا کاروبار چلنے لگا اور ڈیمانڈ بڈھنے لگی تو اندور ضلع انتظامیہ خواتین کی مدد کے لئے اس کاروبار کو آگے بڑھانے کی حکمت عملی تیار کی۔ گروپ کو فوری طور پر ڈیڑھ لاکھ روپے کا لون دیا گیا۔ لون کی رقم ہاتھ آتے ہی گویا گروپ کی اڈان کو پنکھ لگ گئے۔ 'قلاقند' بنانے کیلئے بڑے برتن، باورچی خانے گیس آگئی۔ پیکیجنگ مواد بھی بہتر ہونے لگا۔ تشہیر کے لیے بڑےبڑے سائن بورڈ لگائے گئے۔ اب خواتین آس پاس کے علاقے سے بھی بہترین معیار کا دودھ خريدنے لگیں۔ ضلع انتظامیہ نے خواتین کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے گائے، بھینسیں دے دئے۔ جس سے وہ خود دودھ کی پیداوار کرنے لگیں۔ اب پہاڑوں کے درمیان چھوٹے سے اسٹیشن پر فروخت ہونے والا 'قلاقند' شاہراہ پر آ چکا تھا۔ خواتین کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کو دیکھتے هوئے ضلع انتظامیہ نے شاہراہ پر دو سال میں ایک کے بعد ایک تین اسٹور کھول دیے۔ جہاں مسافر بس ركواكر 'قلاقند' خریدتے ہیں۔ ان اسٹورز کو پہلے تو خوتین خود چلاتی تھیں۔ مگر کاروبار بڑھنے پر گروپ نے یہاں ملازم مقرر کر دیے۔ حال ہی میں اندور کے دو مشہور پرانے مندروں كھجرانا گنیش اور رنجیت ہنومان کے پاس 'قلاقند' اسٹورز کھولے جا چکے ہیں۔

گروپ کی چیئرپرسن پروینا دوبے اور سیکرٹری ليلابائی نے بتایا،

"ہمیں تو ایک وقت یقین کرنا ہی مشکل ہو رہا تھا کہ گاؤں کا 'قلاقند' چورل کے اہم راستہ کی دکان پر فروخت ہو رہا ہے۔ مگر آج جب اندور جاکر ہمارے اسٹور پر لوگوں کو 'قلاقند' خریدتے دیکھتے ہیں تو خوشی کی انتہا نہیں رہتی۔"

ناگرتھ چیريٹیبل ٹرسٹ کے پروجیکٹ انچارج سریش ایم جی کا کہنا ہے،

"خواتین کی محنت کے بعد ان کے پروڈکٹ کا ذائقہ دیکھ کر حیرت ہوئی مگر دکھ اس بات کا تھا کہ اسٹیشن پر ان کے ذائقہ کی مناسب قیمت نہیں مل پا رہا تھی۔ تب ہم نے اپنے پروجیکٹ سے وقت نکال کر خواتین کو مصنوعات کی تعمیر، پیکیجنگ اور مارکیٹنگ کے لئے ترغیب دینا شروع کیا۔ ضلع انتظامیہ بھی دلچسپی لے کر خواتین کے لیے کام کرتا رہا، اب رزلٹ سب کے سامنے ہے۔ "

گروپ کی ذائقہ دار لذیذ مٹھائی کی مانگ بڑھتی جا رہی ہے۔ ابھی اور پیداوار بڑھانے کی تیاری چل رہی ہے۔ ایک کوئنٹل مٹھائی ہر دن بن کر یہاں سے الگ الگ اسٹورز پر فروخت کی جا رہی ہے۔ گروپ نے منصوبہ بنایا ہے کہ کچھ اور خواتین کے ساتھ گاؤں کے بے روزگار مردوں کو اس کاروبار سے جوڑا جائے۔ اندور کلکٹر پی نرهری نے بتایا کہ خواتین کی لگن کو دیکھ کر ہم نے انہیں آگے بڑھانے کا بيڑا اٹھایا ہے۔ اگر اس وقت کچھ نہیں کیا جاتا تو ان کے خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوتے۔ آج علاقے کی شناخت دور دور تک ہونے لگی ہے۔ ہم مسلسل ان کے اسٹورز بڑھاتے جا رہے ہیں۔ یہ ایک کامیاب ماڈل بنا ہے، جس کی اب مثال دی جانیں لگی ہے۔

(یہ کہانی سچن ورما نے لکھی ہے، جس کا ترجمہ ایف ایم سلیم نے کیا ہے۔ )


 جد و جہد کے سفر سے کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے FACEBOOK پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

 سیلس مین سے شروع ہوا تھا شاعروادیب رفیق جعفر کا قلمی سفر

  چنچلگوڑا جیل کے 30 قیدی بنے مصور، سید شیخ کی کامیاب کوشش