بچوں کے لئے ڈرامے کی نئی دنیا بسانے والے شیلی ستھیو اور اتُل تیواری

0

ڈرامہ سامان یا ٹیکنالوجی سے نہیں آرٹسٹ کی اداکاری سے ہوتا ہے ۔۔۔ اتُل تیواری

بچوں کو بےوقوف سمجھنے والے خود ہوتے ہیں بےوقوف ۔۔۔۔ شیلی ستھو

بچوں کے تھیئٹر کے لئے کام کر رہا ممبئی کا گِلّو تھیئٹر تین دن کے لئے حیدرآباد میں تھا۔ حیدرآباد چلڈرنس تھیئٹر فیسٹول کے دوران اس تھیئٹر کی دو اہم شخصیات شیلی ستھیو اور اتُل تیواری بھی موجود تھے۔ اس دوران ڈرامہ اور بچوں پر ان سے کھل کر بات چیت ہوئی۔

بات جب بچوں کی ہونے لگی تو اتُل تیواری کہنے لگے، `بچے تتلا کر بات کرتے ہیں، کیونکہ ان کی زبان کی ترقی کا عمل جاری رہتا ہے، لیکن بڑے بھی ان کی نقل کرتے رہتے ہیں، یہ غلط ہے۔ بچوں کا تتلاكر بات کرنا غلط نہیں ہے، نہ ہی انہیں اس کے لئے ڈاٹنا ڈپٹنا چاہئے، لیکن ہمیں ان کے جواب میں اچھی بات چیت کرنی چاہئے تاکہ ان کے سیکھنے کا عمل تیز ہو سکے۔ '

ڈرامہ نگار سوچتے ہیں کہ بچے بہت زیادہ باتیں کرتے رہتے ہیں۔ بہت ساری باتیں کرتے رہتے ہیں، انہی چیزوں میں سے ان کے لئے ڈرامہ کے بہت موضوع نکلتے ہیں۔ انہیں دنیا کے مفاد سے کوئی مطلب نہیں ہوتا۔

تیواری کہتے ہیں، 'بچوں کے لئے ڈرامہ بنانا کافی مشکل کام ہے۔ کیوں کہ جب بچے کوئی ڈرامہ دیکھ رہے ہوتے ہیں تو وہ اسی وقت اس کی تعریف کرتے ہیں، جب انہیں وہ اچھا لگے۔ ورنہ ان کے لئے کئی طرح کے کام هوتے ہیں۔ ڈرامہ سمجھ میں نہیں آتا تو وہ آپس میں باتیں کرنے لگےگے۔ انہیں زبردستی تالیاں نہیں بجوئی جا سکتی ہیں۔ انہیں اس بات سے بھی کوئی مطلب نہیں ہوتا ہے کہ ڈرامہ کا ٹکٹ کتنے روپے دے کر خریدا گیا ہے یا پھر کسی کا دل رکھنے کے لئے ہی سہی تالیاں بجانی پڑیں گی۔ یہی وجہ ہے کہ بچوں کا ڈرامہ دوسری عمر کے لوگوں کے لئے ڈرامہ بنانے سے ذرا مشکل ہے۔

ماڈرن زمانے کے ساتھ ساتھ تھیئٹر میں بھی کئی چیزیں تبدیل ہونے لگی ہیں۔ ڈرامہ میں بھی کئی طرح کے نئے تجربے کر رہا ہے، لیکن تیواری صاحب مانتے ہیں، ڈرامہ شیکسپیئر سے لے کر اب تک وہی ہے، جی ہاں مواد کچھ بدل گئی ہے، جو نئے زمانے کے لئے حصاب سے ضرور ہے، لیکن ڈرامہ اب بھی سامان یا ٹیکنالوجی نہیں ہے، وہ آج بھی آرٹسٹ کا کام ہی ہے۔

اتُل تیواری نے کئی فلموں میں کام کیا ہے، لیکن ان کی روح میں ہدایتکاری، تخلیقی ادب اور تھیئٹر بسا ہوا ہے۔ شیام بینیگل کے ڈسکوری آف انڈیا سے لے کر کمل ہاسن کے وشوروپ تک کئی شاہکار ان کی تحریروں میں شامل رہے ہیں۔ اتر پردیش کے دارالحکومت اور نوابوں کے شہر لکھنؤ میں اپنی ابتدائی زندگی جینے والے اتُل تیواری نے اپنے شوق کی دنیا بسانے کے لئے ممبئی کا رخ کیا، لیکن ملک کے چھوٹے چھوٹے شہروں اور گاؤں میں انہوں نے خوب ڈرامے کئے ہیں۔ کرناٹک کے گاؤں میں جہاں وہ كےوی سُبنّا سے کافی متاثر رہے ہیں، جنہوں نے گاؤں میں ڈرامہ زندہ رکھا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ سُبنّا نے تھیئٹر کو زندہ رکھنے میں اپنی ساری زندگی وقف کر دی۔ انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ ڈرامہ کس طرح نئی زندگی سے جڑ سکتا ہے۔

در اصل تیواری صاحب کے خاندان میں زیادہ تر ڈاکٹر ہیں اور انہیں بھی وہ ڈاکٹر ہی بنانا چاہتے تھے، لیکن وہ ڈائریکٹر بننا چاہتے تھے اور ایسے دور میں جب ڈرامہ کے ڈائریکٹر سے یہ پوچھا جاتا تھا ۔۔۔ وہ تو ٹھیک پر آپ کام کیا کرتے ہیں؟۔ اس کے لئے انہوں نے ہندوستان میں جہاں نیشنل اسکول آف ڈرامہ میں تربیت حاصل کی وہیں جرمن نیشنل تھیئٹر کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ بھی انہیں رہا۔ وہ بتاتا ہے، `میں نے جب ڈرامہ کرنا شروع کیا تو شیکسپیئر کے کئی ترجمہ پہلے سے موجود تھے، لیکن مجھے لگا کہ ان میں سے زیادہ تر پھیکے ہیں۔ اس لیے میں نے دوبارہ ان کے بہت سے ڈرامے کا ہندی میں ترجمہ کیا۔ '

اتُل تیواری کافی دنوں سے گِلّو کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ وہ گِلّو کی ڈائریکٹر شیلی ستھیو کے بارے میں بولنے لگتے ہیں، ''شیلی ستھیو نے بچوں کے ڈرامے پر بہت کام کیا ہے۔ وہ پوری طرح اس کے لئے سرگرم ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ بچوں کے کھلونوں کی دکان پر کئی قسم کے کھلونے ان کی عمر کے حساب سے ہوتے ہیں۔ جیسے جیسے بچے بڑے ہوتے ہیں، ان کے کھلونے کا سائز بھی مختلف ہوتا ہے۔ شیلی ستھو کے ڈرامے کو اسی پس منظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کے اسی کام کو دیکھ کر سنگیت ناٹک اکیڈمی نے انہِں نوجوان ڈرامہ نگار کے طور پر بسم اللہ خان ایوارڈ سے نوازنے کا اعلان کیا ہے۔ شیلی نے بچوں کے تھیئٹر کو ایک نئی شکل دی ہے۔ کبھی شیکسپیئر کے پاس ایک سال میں 50 ڈرامے ہوا کرتے تھے، اسی طرز پر شیلی نے بچوں کے لئے 8 ڈرامے تیار کئے ہیں۔ یہ ایک بڑا کام ہے۔ ''

شیلی ستھیو گِلّو کی بانی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ بچوں کو سننا بہت ضروری ہے۔ ان کی باتیں سنتے رہنا چاہئے۔ تب ہی سمجھ میں آئے گا کہ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں۔ وہ بتاتی ہیں،''میں ٹیچر رہی ہوں۔ اساتذہ کی تربیت کا کام بھی کرتی ہوں۔ بچوں کو جاننے سمجھنے کے بہت مواقع ملے ہیں۔ بچے بہت نڈر ہوتے ہیں۔ اگر انہیں کوئی بےوقوف سمجھتا ہے تو وہ خود بےوقوف ہوتا ہے۔ ''

شیلی ستھیو شروع میں آركٹیكٹ بننا چاہتی تھی، اس لئے انہوں نے کالج میں داخلہ بھی لے لیا تھا، لیکن بعد مو پھر انہیں اپنے خاندان کی وراثت نے واپس بلا لیا۔ جہاں ڈرامہ اور فلم دو بڑے کام تھے، شیلی نے بچوں کے لئے ڈرامہ لکھنے کی شروعات کی اور آج وہ ڈرامہ کی کئی کتابوں کی مصنف کے طورپر اپنی نئی شناخت بنا چکی ہیں۔ خاص طور ہندی میں ڈرامہ لکھنے کی روایت کو انہوں نے نیا موڈ دیا ہے۔ ان کے ڈراموں میں ہندی اردو کی خاص چاشنی ہوتی ہے۔ یہ فن انہیں اپنے ولد ایم ایس ستھیو سے وراثت میں ملا ہے۔

شیلی کا خیال ہے کہ بچوں کے لئے ڈرامہ لکھنا اور اس کو پیش کرنا ایک بڑا چیلنج ضرور ہے، لیکن یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ بڑوں اور بچوں کی دنیا بہت زیادہ مختلف نہیں ہے۔ بس ان تک ڈرامہ پہنچانے کے لئے ایسی زبان استعمال ہو جو ان کی سمجھ میں آئے۔ انہوں نے بچوں کی زبان کو سمجھنے کے لئے گھنٹوں ان کے ساتھ گزارے، دیر دیر تک پارک میں بیٹھی رہتی۔ بازار میں، دکانوں میں گھروں میں ان کی بات چیت کے انداز اور اتار چڑھاؤ کو پڑھتی رہتی۔ آج ان کے پاس بچوں کے لئے بہت سارے موضوعات ہیں۔ وہ مانتی ہیں کہ آج بچوں کے پاس نئی ٹیکنالوجی کے برے اثرات کے طور پر ان کی سماجی تعلقات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن ان کی دوسری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ساتھ ہی وہ یہ بھی مانتی ہیں' ''ڈرامہ ڈرامہ ہو، اسے کوئی پیغام دینے کے مقصد سے نہیں کھیلا جانا چاہئے۔ ڈرامہ ایک سوچ اور کہانی ہے، جسے ان تک پہنچایا جانا ضروریا ہے۔''

(وضاحت: ہم نے یہ تصاویر مختلف ذرائع سے حاصل کی ہیں۔ اگر کسی کو اعتراض ہو انیں ہٹایا جائےگا۔)

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories