یتیم خانے میں پلے بڑھے ہیں محمد علی صاحب آئی اے ایس

0

پچھلی بار آئی اے ایس کا امتحان کامیاب کرنے والوں میں کیرالہ کے ملا پورم ضلع میں واقع ایک دور دراز گاؤں میں رہنے والے محمد علی صاحب بھی شامل تھے۔ محمد علی نے بچپن میں غربت کا کافی مشکل دور دیکھا ہے، اپنے والد کے ساتھ زندگی کی جدوجہد میں بامبو کے باسکٹ بھی فروخت کئے ہیں۔

والد کے انتقال کے بعد انہوں نے اپنا طویل وقت ایک یتیم خانے میں گزارا۔ ماں بہت غربی تھیں، انہی حالات میں محمد علی پانچویں جماعت میں ناکام ہو گئے، لیکن یتیم خانے میں انہیں اچھی رہنمائی ملی اور پھر انہوں نے مڑ کر نہیں دیکھا، صرف اپنی تعلیم پر ہی توجہ دی۔

محمد علی نے دی ہندو کو دیئے ایک کا انٹرویو میں کہا تھا،''میں بیڑشیٹ کے اندر ٹیبل لیمپ کو استعمال كر پڑھا کرتا تھا، تاکہ ہاسٹل کے کمرے میں سونے والے دوسرے ساتھیوں کو تکلیف نہ ہو۔ حالانکہ اس طرح سے مجھ سے یتیم خانے کے قوانين ٹوٹ جاتے تھے، لیکن ایسا کرنا میری مجبوری تھی۔''

اسی یتیم خانے میں رہتے ہوئے محمد علی نے ڈسٹنس ایجوکیشن سے تاریخ میں گریجویشن کی تعلیم مکمل کی۔

انڈین ایکسپریس کو دیئے اپنے ایک انٹرویو میں محمد علی نے بتایا کہ اب تک 21 مختلف سرکاری امتحانات انہوں نے کامیاب کئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ''میں نے فاریسٹر کا امتحان لکھا۔ جیل وارڈن، ریلوے ٹکٹ ایكزامنر، لیکن سول سروس ہی میرے دماغ میں تھی۔ آخر کار 25 سال کی عمر میں میں نے اس میں كاميبی حاصل کی۔ جب میں نے یتیم خانے کے لوگوں سے سول سروس کے امتحان میں اپنی دلچسپی کا اظہار کیا تو انہوں نے میری حمایت کی اور ہر طرح سے میری مدد کی۔''

طویل جدوجہد کے بعد آخر کار محمد علی صاحب نے یو پی ایس سی امتحان میں 226 رینک حاصل کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ میری اپنی زندگی سے مجھے اپنی طرح کے لوگوں اور زمینی سچائیوں سے واقفيت ملی ہے اور یہ میرے کام آئے گی۔''