ایک سائٹ انجینئر سے ایل اینڈ ٹی میٹرو ریل حیدرآباد کے چیف تک  دلچسپ سفر... وی بی گاڈگل

0


کہانی شروع ہوتی ہے شرڈی کے قریب ایک چھوٹے سے قصبے سگمنیر کے ایک مراٹھی سرکاری اسکول سے۔ گاؤں کے ایک ڈاکٹر کے گھر پیدا ہوا لڑکا، جس کے دماغ میں ہے کہ ڈاکٹر تو نہیں بننا ہے، لیکن کچھ تخلیقی کام ضرور کرنا ہے، دنیا گھومنی ہے، دنیا کو کچھ دینا ہے اور وہ اورنگ آباد کے ایک کالج سے اجينيير بن کر جب باہر نکلتا ہے تو تعمیرات کے شعبے میں کچھ ایسی دنیا بساتا ہے کہ دنیا اسے یاد کرتی رہ جائے۔ بات ہے، ایل اینڈ ٹی میٹرو ریل حیدرآباد کے بانی سی ای او اور ایم ڈی وي بی گاڈگل کی۔

گاڈگل 67 سال کی عمر میں بھی بالکل نوجوان کی طرح ہیں۔ حیدرآباد میں دنیا کا سب سے بڑا پی پی پی میٹرو ریل پروجیکٹ قائم کرنے کا 80 فیصد سے زیادہ کام انہوں نے کیا ہے۔ مئی 2016 میں وہ اپنے عہدے سے رٹائر ہونے جا رہے ہیں، لیکن جو کچھ تجربہ انہوں نے ایک سائٹ انجینئر سے شروع کر ایل اینڈ ٹی کےاعلیٰ عہدے تک پہنچ کر حاصل کیاہے ، وہ حیرت انگیز ہے۔

گاڈگل کے بچپن میں مہاراشٹر کے گاؤں سگمنیر میں دسویں تک کی ہی تعلیم کا انتظام تھا۔ اورنگ آباد سے انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد کنسٹرکشن انڈسٹری میں ملازمت حاصل کرنے والے گاڈگل نے یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ ایک بڑی کمپنی میں اتنے بڑے عہدے تک پہنچیں گے۔ وہ بتاتے ہیں،

- میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ منزل کیا ہوگی۔ اتنا ضرور تھا کہ میں سول انجینئر بننا چاہتا تھا۔ جس وقت میں نے ای سی سی میں ویب سائٹ انجینئر کی نوکری حاصل کی تھی یہ کمپنی ایل اینڈ ٹی کا حصہ نہیں تھی۔ ایل اینڈ ٹی اس وقت توانائی کے شعبے میں کام کرتی تھی۔ کنسٹرکشن میں اس کا رول نہیں تھا۔ 1984 میں ای سی سی کو ایل اینڈ ٹی میں ضم کیا گیا۔ اس کے بعد ہی ہم ایل اینڈ ٹی ایمبلم استعمال کرنے لگے۔ پھر محنت اور کارکردگی کے بل بوتے پر سیڑھیاں اوپر چڑھتی گئیں۔ ابوظہبی، ایران، نیپال، خلیجی ممالک سمیت مختلف مقامات پر کام کرنے کا موقع ملا۔ پھر ایک دن کمپنی نے 63 سال کی عمر میں مجھے ایل اینڈ ٹی میٹرو ریل حیدرآباد کا سی ای او اورمنیجنگ ڈائریکٹر بنا دیا۔

گاڈگل کے لئے یہاں تک پہنچنا آسان نہیں رہا۔ تھی تو انجینرنگ کی نوکری، لیکن ایل اینڈ ٹی جیسی کمپنی میں کچھ کام آتا ہے تو صرف محنت اور سخت محنت۔ گاڈگل اس کے لئے کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔ کمپنی جہاں، جس کام پر بھیجتی رہی وہ جاتے۔ اس کے لئے انہیں کئی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا۔ وہ سوچتے کہ شوق پورا ہو رہا ہے اور کچھ کرنے کا موقع بھی مل رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں،

- مجھے کچھ تعمیر کرنے اور دنیا دیکھنے کا شوق تھا۔ اب اس راستے میں جو کچھ ملا قبول کیا۔ سب سے بڑا چیلنج تو خاندان اور کام کے درمیان ربط قائم رکرنا تھا۔ کام کی جگہ بدلتی رہتی۔ بیوی کا سمجھدار ہونا ضروری تھا، قسمت اچھی تو سو وہ سمجھ گئی اور انہوں نے سب سے بڑی قربانی یہ دی کہ اپنا کیریئر قربان کر دیا۔ میں کہیں بھی رہوں، انہیں یقین تھا کہ ایل اینڈ ٹی کمپنی ایک فون کال پر حاضرہو جاتی ہے۔ جب کوئی اپنے ملازم کا پورا خیال رکھتا ہے تو وہ چیلنجز قبول کرنے کے لئے تیار رہتا ہے۔

گاڈگل کی زندگی میں یوں تو بہت ساری تعمیر اور توانائی سے منسلک کمپنیوں کا قیام کی مشکل کام رہا، لیکن سب سے زیادہ کٹھن کام نیپال میں پاور پلانٹ قائم کرنا تھا۔ جہاں انہیں کام کرنا تھا، دور دور تک کوئی سڑک نہیں تھی۔ بلکہ بڑے شہر گاوں جانے کے لئے کئی دن تک پیدل چلنا پڑتا۔ گاڈگل ان یادوں کو تازہ کرتے ہوئے کہتے ہیں،

- مجھ سے پہلے کچھ لوگوں نے وہاں جانے سے انکار کر دیا تھا۔ پاور پلانٹ کے معائنہ کیلئے جب بھی جانا ہوتا، سات دن تک پیدل چلتے جانا پڑتا۔ کوئی سڑک نہیں تھی۔ 4000 ٹن مواد ایسے ہی لوگوں نے پیٹھ پر اور گھوڑوں  اور خچر پر منتقل کیا۔ جب کام مکمل ہوا تو مقامی لوگوں کی آنکھوں میں جو چمک میں نے دیکھی اس سے بڑھ کر کوئی خوشی نہیں ہو سکتی۔ اس چھوٹے سے شہر کے بہت سے لوگوں نے پہلی بار بجلی کی روشنی دیکھی تھی۔ جب پروجکٹ مکمل ہوا اور وہاں کے لوگ 40 کلومیٹر تک پیدل مجھے چھوڑنے کے لئے آئے۔

وہاں کی غربت کو یاد کر کے اب بھی گاڈگل کی آنکھوں میں پانی آ جاتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ بہت سے لوگ مع اہل و عیال مزدوری کرتے، بلکہ گھر کے سارے لوگ جن میں نواسی پوتی سے لےگر دادا دادی اور نانا نانی تک جتنا وزن اٹھا سکتے ہیں، اٹھا کر سات دن کا پیدل سفر طے کرتے۔ ایمانداری اتنی کی اگر کچھ ہو بھی جائے تو سامان مقررہ مقام تک پہنچانے کی فکر زیادہ ہوتی۔

وہ بتاتے ہیں، گاؤں میں آدمی بہت معصوم رہتا ہے جب وہ شہر آتا ہے تو یہاں کی ہوا اس سے اس کی معصومیت چھین لیتی ہے۔

وی بی۔ گاڈگل جدید حیدرآباد کے تاریخ میں اپنا اہم نام درج کر چکے ہیں۔ حالانکہ وہ میٹرو ریل پروجکٹ کے مکمل ہونے سے پہلے ہی اس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کا عہدہ چھوڑ رہے ہیں، لیکن ایل اینڈ ٹی نے انہیں حیدرآباد میٹرو ریل پروجیکٹ کا بھیشم پتامہ مانا ہے۔ گاڈگل حیدرآباد سے کافی لگاؤ رکھتے ہیں۔ وہ پہلی بار سائبرآباد کو بسانے حیدرآباد آئے تھے اور دوسری بار میٹرو ریل کی تاریخ رقم کرنے کے لئے۔ اس بہانے انہوں نے زندگی کا اہم حصہ یہاں گزارا ہے۔ گاڑگل نے اپنی زندگی کے 44 سال اس کمپنی کو دیئے ہیں۔ سائٹ انجینئر کے طور پر انہوں نے اپنا جيون شروع کیا تھا اور کمپنی کے نائب صدر جیسے اعلی عہدے تک پہنچے۔

گاڈگل کا نام جب حیدرآباد میٹرو ریل منصوبے کے لئے منتخب کیا گیا تو وہ کسی اور پروجکٹ کے سربراہ تھے۔ اپنی عمر کے 63 سال پورے کر چکے تھے، لیکن ایل اینڈ ٹی کے لئے انہیں بہت بڑا کام کرنا تھا۔ جب وہ اس کے لئے حیدرآباد آئے تو لوگوں کا جوش دیکھ کر ان میں نیا اعتماد پیدا ہوا۔ گاڈگل بتاتے ہیں،

- مجھے معلوم تھا کہ میٹرو ریل حیدرآباد پروجکٹ کو لے کر لوگوں میں یہ شبہ تھا کہ یہ پوری ہوگی بھی یا نہیں۔ جب میں پہلی بار اجنبی بن کر لوگوں سے ملنے گیا اور کچھ فٹ پاتھوں پر اور بازاروں میں ادھر ادھر لوگوں سے بات کی تو ان میں جوش و خروش تھا۔ ایک شخص نے بڑے اعتماد سے کہا کہ ۔۔۔ صاب ایل اینڈ ٹی نے لیا ہے تو کام ہو جائے گا۔ حیدرآباديوں میں اس منصوبے کو لے کر کافی جوش و خروش رہا۔ چاہے وہ کھودا گیا پہلا گڈھا ہو یا پھر پہلا کالم یا پھر کالم کے اوپر بچھایا جانے والا پہلا اسپین اور وائڈكٹ لوگ آ آ کر دیکھتے اور بے چینی کا اظہار کرتے۔ ہم نے لوگوں کو تکلیف نہ ہو اس لیے زیادہ تر کام راتوں میں کیا۔ لوگوں نے یہاں بھی اپنی دلچسپی کا آظہار کیا، پوچھتے کہ رات میں چھپكے چھپاكے کیوں کام ہو رہا ہے۔ کہیں یہ کام غلط تو نہیں ہو رہا ہے۔ ایک شخص نے تو یہاں تک پوچھ لیا كہ كيا اس پر صرف ایک ہی ٹرین جائے گی۔ اس کو سمجھانا پڑا کہ جو برج نیچے سے چھوٹا دکھائی دے رہا ہے، بالائی پر یہ کافی بڑا ہے اور دو ٹرینیں آ جا سکیں گی۔

گاڈگل بتاتے ہیں کہ اس منصوبے کے بہانے پہلی بار ان مسائل کے ساتھ گزرنا پڑا جو نئے قسم کی تھیں۔ چوں كہ مکمل پروجیکٹ کا کام سڑکوں کے درمیان چلنا تھا۔ اس لئے ٹریفک مسئلہ سنگین ہو سکتا تھا۔ کام شروع کرنے سے قبل مکمل حیدرآباد کے راستوں کے 24 گھنٹے ٹریفک سروے اور ویڈیو کی شوٹنگ کی گئی۔ کوئی بھی وقت ایسا نہیں ہے کہ جب ٹرافک رکا ہو۔ سوال پیدا ہوا کہ کام کب کریں۔ پھر پری كاسٹگ یونٹ کی منصوبہ بندی بنائی گئی اور اس کے لئے قسمت اچھی تھی کہ شہر کے اپل اور مياں پور میں مجموعی طور پر 140 ایکڑ زمین مل گئی۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ شہر میں اتنی زمین دستیاب ہوگی۔ اگر یہ زمین نہ ملتی تو شہر سے دور جانا پڑتا اور کام اور مشکل ہوتا۔ سب سے دلچسپ کام پنجاگٹا فلائی اوور کے اوپر کام کرنا تھا۔ بغیر ٹریفک روکے یہ کام ہوا اور پھر جو کام ہوا اتنا خوبصورت کہ ماہرین نے دوسری جگہوں پر بھی اس خوبصورت کام کی ریپلكا کا مشورہ دیا۔

گاڈگل بتاتے ہیں کہ وہ سب سے پہلے ایک انجینئرنگ طالب علم کے طور پر ناگارجن ساگر کا دورہ کرنے کے لئے 1968 میں حیدرآباد آئے تھے۔ اپنے دوستوں کے ساتھ كاچي گوڈہ اسٹیشن کے قریب سرائے میں ٹھہرے تھے اور اس وقت ڈھائی روپے اس سرائے کا کرایہ تھا۔ نہرو ذولوجكل پارک انہی دنوں نئی جگہ منتقل ہوا تھا۔ جب سائبر ٹاور بننے کے دوران میں پروجکٹ کے سربراہ کے طور پر 1997 میں آئے تو حیدرآباد بالکل بدل چکا تھا۔

گاڈگل کو ذاتی زندگی میں پڑھنے اور موسیقی سننے کا شوق ہے،وہ کہتے ہیں،

- کہانیاں اور ناول پڑھتا ہوں۔ موسیقی سننے کا شوق ہے۔ تان سین تو نہیں ہوں لیکن كانسین ضرور ہوں۔ کبھی ڈرامے میں اداکاری کرتا تھا اب بھی ڈرامہ دیکھنا پسند کرتا ہوں۔

ریٹائرمنٹ کے بعد گاڈگل تعمری مہارت کے میدان میں کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ کنسٹرکشن ان کا جذبہ رہا ہے، لیکن وہ دیکھ رہے ہیں کہ گزشتہ 25 برسوں میں اس شعبے میں مہارت کی کمی بڑھتی جا رہی ہے۔ پہلے باپ کے بعد بیٹا مستری، كارپینٹر اور دیگر پیشہ اپناتا تھا۔ اب ایسا نہیں رہا۔ گاڈگل کہتے ہیں،

- موثر مستری یا كارپینٹر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔ بلکہ ایک دن جو شخص مستری بن کر آتا ہے، دوسرے دن وہی كارپینٹر بن کر بھی آتا ہے۔ جو پڑھیں لکھے ہیں وہ سب ٹائی باندھ کر منیجر بننا چاہتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ موثر کاریگر اس صنعت کو ملیں۔ اس لئے ایل اینڈ ٹی نے بھی کچھ اسکول شروع کئے ہیں، لیکن کام اور بہت ہونا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اپنے تجربہ اس صنعت کو واپس لوٹاؤں۔

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

FACE BOOK

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ہندوستانی خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتان متالی راج کی زندگی کا دلچسپ سفر

ایک مکالمے نے بنا دی زندگی... حیدرآبادی اداکار اکبر بن تبر کی دلچسپ کہانی

ایم بی بی ایس کی تعلیم درمیان میں چھوڑ ماحولیات کے ڈاکٹر بنے جہدکار پرشوتم ریڈی


كہانياں مجھے وراثت میں ملی ہیں. ماں، باپ، چچا، چاچی،خالہ، پھوپھی، نانی دادی، سب کی مختلف کہانیاں تھیں. اسی وراثت کو پاس پڑوس، دوست رشتہ دار، نکڑ، گلی، محلہ، شہر، ملک اور بیرون ملک کے چہروں میں چھپی کہانیوں کے ساتھ ملا کر پیش کر رہا ہوں۔ پسند آئے تو مسکرانا ضرور۔

Related Stories