ریسٹورینٹ اور کیفے میں کامیاب تجربے کا نام ہے شیزان

طیبہ اور گولکونڈہ بیکری اور کیفے سے بنایا نیا ماحول

0


تجارت کبھی ایک تجربے سے کامیاب نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لئے ہر دن کامیابی کا نئے تجربہ سے گزرنا پڑتا ہے۔ بازار اور بازار والوں پر نظر رکھنی پڑتی ہے۔ آج کئ لوگ کامیابی کے ساتھ فوڈ اینڈسٹری میں کام کر رہے ہیں، لیکن مقابلہ اتنا ہے کہ ہر دن اپنے کو قائم رکھںے کے لئے ایک نئے امتحان سے گزنا پڑتا۔ انہی حالات میں کچھ لوگ ایسے تجارتی ادارے ہیں، جنہوں نے نہ صرف پرانے گاہکوں کو جوڑے رکھا ہے، بلکہ اپنے کاروبار کو نئی وسعتیں دی ہیں، حیدرآباد کےنمائش میدان کے اجنتا گیٹ کے خریب واقع شیزان ریستراں بھی ایسے ہی اداروں میں سے ایک ہے۔

شیزان کر شروعات 1970 میں ہوئی تھی، آج اس نے اپنی الگ شناخت بنائی ہے۔ اس کی بریانی کے لئے لوگ دور دور سے آتے ہیں دوسری خاص بات یہ ہے کہ چائے اور بسکٹ کے ساتھ دوسرے لوازمات کے لئے شیزان نے تین نئَ بیکری اور ٹی پائنٹ قائم کئے ہیں، جو کافی کامیاب رہے ہیں۔ یقیناً اس کی کامابی کے پیچھے جہاں اس کے بانی محمد علی عرف علی بھائی کی محنتیں رہی ہیں، وہیں نئی نسل کے نئے کاروباری ان کے لڑکے خالد علی، حسن علی اور نومان علی کی کاوشیں بھی قابل ذکر ہیں۔

خالد علی کو آج بازار ریستراں کے کاروبار میں ایک کامیاب تاجر کے طور پر جانتا ہے۔ آج وہ نںے تجربے کر رہے ہیں، لیکن ایک زمانہ وہ بھی جب انہوں نے صفر سے شروعات کی تھی۔ ان دنوں کی یادیں تازہ کرتے ہوئے خالد بتاتے ہیں۔

'' کاروبار میں 25 سال گزر گئے ہیں، جب آئے تھے تو کاربار ہم پر غالب تھا، آج ہم کاروبار پر غالب ہیں۔ جب آئے تھے تو کوئی معلومات نہیں تھی، جو کچھ کہا جاتا تھا، سن لیتے تھے، چھوٹے سے کام کرنے والے سے لے کرمینیجر تک سب کے سب جو کچھ بتاتے اسی کو صحیح ماننا پڑتا، ایک طرح سے سب لوگ حکومت کرتے تھے، لیکن آہستہ آہستہ کاروبار کو سمجھنے لگے۔ ایک دو دن نہیں بلکہ پانچ سال کا عرسہ تو ایسا رہا کہ رات یہں گزر جاتی۔ بس گھستے رہے۔ کاروبار ہم سے ہماری زندگی مانگتا رہا۔ دیتے رہے، تب احساس ہوا کہ یہ اتنا آسان نہیں ہے۔ جب ہم خود بازار سے سامان لانے لگے تو معلوم ہوا کہ جو سامان ہم بیٹھ کر دوسروں سے منگواتے تھ اور جو ہم چاہتے ہیں اس کی کوالٹی میں کافی فرق ہے۔ اس طرح کاربار کی سمجھ کے لئے خود اس میں جینا پڑا۔ جب کاروبار کو اپنا کچھ دوگے تب ہی وہ آپ کو کامیاب بنائے گا۔''

لازمی بات ہے۔ کسی بھی پیشے یا کاروبار کے لئے جب تک کہ آدمی اپنے آپ کو وقف نہیں کرتا، اس میں اس کو کامیابی نہیں ملتی۔ کامیابی کے اس راستے میں جہاں، خالد علی نے نہ صرف اپنے بھائیوں کے لئے راہ بنائی بلکہ حیدرآباد کے چائے بسکٹ بازار میں بھی کچھ نئ مثالیں قائم کیں۔ آج شانتی ناگر میں ان کی جانب سے شروع کیی گئ طیبہ بیکری اینڈ کیفے اور لکڑی کا پل پر شروع کی گئی گولکونڈہ کیفے کا کاروبار اچھا چل رہا ہے۔بلکہ رمضان کے آتے ہی حلیم بھی شیزان کے چاہنے والوں کا اپنی جانب کھینچ لاتی ہے۔ اس نئی شرعات کے پیچھے صرف کاروبار مقصد نہیں تھا، بلکہ حیدرآباد کے پرانے ڈھانچے میں پرانی وراثت میں ملے ماحول میں آئی کچھ نئی برائیوں کو کم کرنا بھی مقصد تھا۔ خالد بتاتے ہیں،

''حیدرآباد میں پرانی ہوٹلوں خاص کر چائےخانوں میں لوگ چائے پینے کے لئے کم وقت گزاری کے لئے ذیادہ آتے تھے۔ پرانے زمانے میں اس کے کیا آثرات تھے پتہ نہیں، لیکن نئے دور میں اس کا سماج پر برا اثر پڑا۔ لوگ گپ بازی کرتے،باتوں باتوں میں لڑتے اور دیکھتے دیکھتنے دیکھتے چائے خانہ تماشاہ گاہ جاتی۔ اس چیز سے بچنے کے لئے ہم نے سب سے پہلے ماحول کچھ ایسا بنایا کہ چائے بسکٹ اور ناشتے کی ضرورت پوری ہو گئی تو لوگ خود ہی اپنے کام پر آگے نکل جائیں۔ تجربہ کامیاب رہا۔ اب لوگ یہاں بیٹھنے یا وقت گزارنے کےلئےنہیں آتے، بلکہ چائے پینے آتے ہیں۔ اس تجربے کو طیبہ بیکری اور کیفے کے طور پر آزمایا گیا، تو وہ بھی کامیاب رہا۔ ''

خالد بتاتے ہیں کہ کاروبار چاہے جو ہو محنت کے ساتھ ساتھ ایمانداری ضروری ہے۔ وہ کہتے ہیں،

''جب ہم اسکول اور کالج میں تھے تو والدصاحب ادھر کا رخ کرنے سے روکتے تھے ان کا ماننا تھا کہ کاروبار تو ہے، لیکن بہتر تعلیم بھی ضروری ہے اور جب ہم کاروبار میں آئے تو والد صاحب نے جو سبق پڑھایا وہاں ایمانداری ضروری تھی، وہ کہتے، ایمانداری اور کوالٹی کے ساتھ کبھی سمجھوتا نہیں۔ اور پھر پانچ وقت کی نماز کی ہدایت وہ کبھی نہیں بھولتے۔''

خالد بتاتے ہیں کہ ہوٹلنگ میں بڑا چالینٹ ٹیسٹ کو بنائے رکھنے کا ہوتا ہے۔ اس میں مسئلہ اس وقت ہوتا ہے جب کام کرنے والے کوتاہی برتنے لگتے ہیں۔ اس لئے کوالٹی پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ یہ چیز کسی بھی کاروبارکو آگے لے جا سکتی ہے۔

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

FACE BOOK

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں..

 کاربائكس اور سائیکلوں کے سیلف ڈرائیو کا مرکز ڈریون حیدرآباد سے شروع

"غریب مریضوں کے لئے امید کی کِرن... امید ہاسپٹل "

ملٹی نیشنل نوکری چھوڑ کر شروع کیا مبارک ڈيلس ای کامرس اسٹارٹپ



پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories