سینئر وکیل ضیاء مودی کی کامیابی کا راز

0

ہندوستان میں جیا مودی کارپوریٹ لاء میں بلا مقابلہ رہنماء کے طور پر شہرت رکھتی ہیں ۔ ان کی فرم AZM@ Paratnersکوانضمام اور ناجائز قبضہ جات کے مقدمات کی پیروی کرنے کے معاملے میں سر فہرست لاء فرموں کے درمیان پہلا مقام حاصل ہے ۔ ہندوستان کے مشہور ماہر قانون اور ملک کے سابق اٹارنی جنرل' سولی سورابجی کی بیٹی ضیاء کہتی ہیں کہ ان کے مکان میں ہمیشہ سے ہی کھانے کی میز پر بحث کا موضوع صرف لاء ہوا کرتا تھا ۔ اسی ماحول میں ان کی پرورش ہوئی ۔ وہ جانتی تھیں کہ انہیں اپنا کیریئر لاء میں ہی بنانا ہے ۔ قدرتی طور پر ان کے والد ہی ان کے لئے حوصلہ افزائی کا سر چشمہ اور سرپرست ہیں ۔

ضیاء کے رفیق کار ان کے عزم' حکمت عملی اور قانونی ذہانت کی شہادت دیتے ہیں ۔ ضیاء مودی اپنے کیس کی تیاری پر کئی کئی گھنٹے صرف کرتی ہیں اور اس پر نہایت گہرائی سے تحقیق کرتی ہیں ۔ ضیاء کا یہ پیشہ ورانہ سفر آسان نہیں تھا ۔ ان کی عرق ریز محنت اور نہات ٹھوس عزائم کا ہی یہ نتیجہ تھا کہ دو دہائیوں کے بعد' ان کا نام ہندوستان کے سب سے زیادہ طاقتور وکلاء کی فہرست میں شامل ہو گیا ۔

قانون کے تعین شغف

ضیاء نے ہائی اسکول کی تعلیم ختم کرتے ہی لاء کرنے کا ارداہ کر لیا تھا ضیاء کہتی ہیں:

"میں اپنے والد سے بے حد متاثر ہوئی ۔ وہ مسلسل کام کرتے تھے ۔ ہماری کھانے کی میز پر تمام قانونی معاملات اور قانون کے دوسرے پہلوؤں کے بارے میں گہرائی اور گیرائی سے بات چیت ہوتی تھی ۔ قانون کے تئیں محبت بچپن سے ہی پیدا ہو رہی تھی ۔

1975 میں ضیاء نے قانون کی تعلیم یونیورسٹی آف کیمبرج اور ماسٹر ڈگری ہارورڈ لاء اسکول سے حاصل کی ۔ اس دور کے بارے میں بات کرتے ہوئے ضیاء کہتی ہیں:

"یہ فیصلہ لینا اس وقت بھی بہت مشکل نہیں تھا ۔ میں اپنے خاندان میں سب سے بڑی تھی- میری والدہ چاہتی تھیں کہ میں بیرون ملک جا کر تعلیم حاصل کروں ۔ میری ماں اپنے وقت کی ایک بہت مضبوط اور ترقی پسند خاتوں تھیں "-

ہارورڈ لاء اسکول کے بعد' ضیاء شادی کرنے کے لئے ہندوستان واپس آ گئیں ۔ تاہم' بعد میں وہ پھر امریکہ لوٹ گئیں اور وہاں جاکر دنیا کی سب سے بڑی قانون فرموں میں سے ایک بیکر اور مکنجی میں شامل ہو گئیں ۔ وہ امریکہ کے اپنے تجربہ پر ان الفاظ میں روشنی ڈالتی ہیں:

"میں نے نیویارک میں پانچ سال بیکر اور مکنجی کے لئے کام کیا ۔ 'نارمن ملر' وہاں میرے رہنما ء بنے اور مجھے تربیت فراہم کی۔''

ضیاء نے بعد میں ہندوستان واپس ہونے کا فیصلہ کیا ۔ "جب میں واپس آئی' ہندوستان میں کوئی قانونی فرم نہیں تھی ۔ میں نے بمبئی ہائی کورٹ میں عوبید چنائے کے جونیئر وکیل کے طور پر اپنا کیریئر شروع کیا ۔ وہ دن مشکل تھے ۔ عدالت میں شاید ہی کوئی خاتون ہوتی تھی ۔ موکل اپنے معاملات کے لئے خاتون وکیل نہیں چاہتے تھے ۔ یہ شروع میں تناؤ بھرا تجربہ تھا "۔ ان کی مسلسل کوشش کے نتیجہ میں انہیں آج اس مقام پر پہنچایا ہے ۔ ضیاء کہتی ہیں:

"میں جانتی تھی کہ میرے سینئر اور موکل' میرے مرد ساتھیوں کے مقابلے میں مجھ سے غیر مطمعین نہیں تھے ۔ جب آپ مسلسل محنت کرتے رہتے ہیں تو مشکل دروازے اور مواقع آپ کے لئے کھل جاتے ہیں ۔ اگر آپ کسی کام کے تئیں پرعزم ہیں تو' آپ تمام چیلنجوں کو دور کر سکتے ہیں ' یہی کامیابی کا راز ہے ۔ کرتے رہو' کرتے رہو' کرتے رہو' کرتے رہو اور کبھی ہمت مت ہارو۔"

کارپوریٹ قانونی فرم کا آغاز

ضیاء نے AZM@ Partners کا آغاز 1995 میں کیا اور کارپوریٹ وکیل بننے کا فیصلہ کیا ۔ آنٹرپرینر شپ کے بارے میں بات کرتے ہوئے ضیاء کہتی ہیں: "جب آپ وکیل ہیں' آپ کسی کے جونیئر ہیں ' تو اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ تاہم میں اپنا کچھ نیا کرنا چاہتی تھی ۔ 1990 کا وقت بالکل درست تھا' اس وقت اصلاحات کی وجہ سے ہندوستان میں تبدیلی آ رہی تھی ۔ بہت سی غیر ملکی کمپنیاں ہندوستان میں قائم ہو رہی تھیں ۔ اس وقت ہندوستان کی کارپوریٹ دنیا تیزی سے ابھر رہی تھی ۔ ضیاء کے ابتدائی موکل امریکی تھے ' وہ اپنے امریکی دوستوں اور اپنے پرانے ساتھیوں کے ذریعہ ان سے ملاقات ہوئی تھی ۔ ان کے لئے امریکہ میں انہوں نے کام کیا تھا ۔

وہ کہتی ہیں:

"Mulla & Mulla ''جیسی قابل اعتماد فرم کے بدلے' کوئی کیوں ضیاء مودی کے پاس آئے گا؟ لیکن میں نے اس وقت اپنی نئی فرم کا آغاز کیا جس وقت ہندوستان میں بہت سے قانونی تبدیلیاں ہو رہی تھیں ۔ ہم اپنے آپ کو مسلسل بہتر سے بہتر بنارہے تھے ۔ ہم چھوٹے تھے پھر بھی ' ہم گاہکوں کو یقین دلانے میں کامیاب رہے ۔ ہم وقت اور عزم کی نظر سے پر اعتماد تھے ۔ ہم نے خود کو محنت اور ذمہ داری کے لحاظ دوسروں سے مختلف کرنے کی کوشش کی ۔ ہماری ساکھ بڑھنے لگی ہے اور ہمیں زیادہ سے زیادہ کام ملنے لگا ''۔

کامیابی کے لئے بنیادی سہارا

ضیاء مودی اپنے شوہر اور خاندان کو اپنی اس عظیم الشان کامیابی کا کریڈٹ دیتی ہیں ۔ وہ کہتی ہیں:

''میرا خیال ہے کہ اس وقت کسی خاتون کے لئے یہ کام بہت مشکل تھا ۔ تاہم اب حالات بدل رہے ہیں اور خواتین کے لئے اس شعبہ میں حالات سازگار ہو رہے ہیں ۔ البتہ کسی خاتون وکیل کا کامیاب ہونا کئی باتوں پر منحصر ہے۔ آپ کو خاندان اور اپنے رفقاء کار کی مدد حاصل ہو رہی ہے' گاہک آپ کو بھرپور آزادی دیتے ہیں اور اپنے شوہر کیساتھ آپ کا مکمل تال میل ہے توآپ کو کوئی دشواری پیش نہیں آئے گی اور آپ کو کامیابی حاصل کرنے سے کوئی روک نہیں سکتا ۔ خواتین کو میرا مشورہ ہے کہ حالات کو سمجھیں ۔ اپنے کام کے تئیں دیانت دار رہیں ۔ بعض وقت دشواریاں ضرور پیش ہیں ۔ مجھے لگتا ہے' آرگنائزیشن کو تھوڑا اور لچکدار ہونے کی ضرورت ہے ' جوکہ خواتین اور ساتھ ہی ساتھ مردوں کے لئے بھی اہم ہے ۔ خواتین کو دوسرے درجے کے شہری نہیں بنا یا جا سکتا وہ بھی صرف اس وجہ سے کی ان کی اور بھی زمہ داریاں ہیں ۔ آج بھی خواتین قانونی شعبہ میں بہت کم ہیں' لیکن آنے والے وقت میں ان کی تعداد میں ضرور اضافہ ہوگا'' ۔

پیشہ وارانہ اتار چڑھاو

ضیاء مودی کہتی ہیں:'' کچھ حد تک میں قانونی شعبہ میں جا کر' دقیانوسی سوچ کو تبدیل کرنے میں کامیاب رہی ہوں''۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ 12 لوگوں کی ٹیم سے 250 لوگوں کی ٹیم تک پہنچ جا سکتا ہے ۔ ان کا یقین ہے کہ اگر آپ کا ساتھی آپ کے ساتھ ہے' اگر آپ کے پاس سنجیدہ ٹیم ہے اور اگر آپ گاہکوں کے لئے ہر وقت معیار کی خدمت کو یقینی بناتے ہیں توحیرت انگیزطور پر حالات خود بخود بدل جاتے ہیں ۔

اتنی کامیابی اور شناخت کے بعد، ضیاء کے اور کیا عزائم ہیں؟

ضیاء کہتی ہیں:

"جو چیز مجھے آج بھی کام کرنے کی ترغیب دیتی اور تحریک پیدا کرتی ہے یہ وہی ہے جس نے مجھے 30 سال پہلے حوصلہ بخشا تھا ۔ وہ ہے اپنے مقصد کا جنون ' کام کا شغف اور سخت محنت سے ہی لطف اندوز ہونا۔

قلمکار: بھگونت سنگھ چلاول

مترجم:شفیع قادری