ایک پیسے کے انعام سے مولانا آزاد چیئر تک کا سفر

اردو پروفیسرنسیم الدین فريس کی کہانی

0

پروفیسر نسیم الدین فريس مولانا آزاد نیشنل اردو يونیورسٹی میں اردو کے پروفیسر ہیں۔ ڈین کا عہدہ بھی سنبھال رہے ہیں اور حال ہی میں انہیں یونیورسٹی نے مولانا آزاد چیئر کا سربراہ بنایا ہے۔ یہ یونیورسٹی کا کافی معزز عہدہ ہے۔ محبوب نگر ضلع کے كوڈنگل شہر میں پیدا ہوئے نسیم الدین فریس پانچ کتابوں کے مصنف ہیں۔ ابتدائی تعلیم کوڑنگل کے ایک سرکاری اسکول میں حاصل کرنے کے بعد وہ حیدرآباد چلےآئے تھے۔

 انٹر میڈیٹ اردو میڈیم اور گریجویشن کی تعلیم انگریزی میں مکمل کرنے کے بعدانہوں نے عثمانیہ یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کیا۔ یہاں امتیازی کامیابی کے لئے انہیں رائے جانکی پرشاد گولڈ مڈل اور اترپردیش اردو اکیڈمی گولڈ مڈل سے نوازا گیا۔ حیدرآباد میں سرکاری پرائمری اسکول کے استاد سے لے کر حیدرآباد یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر اور مانو کے اردو پروفیسر تک کئی ذمہ داریاں سنھالیں۔ ایک چھوٹے سے سرکاری اسکول سے لےکر مولانا آزاد چیئر تک کا ان کا سفر آسان نہیں رہا ہے۔ وہ کئی مشکل گھڑیوں سے گزرے، لیکن دل میں بس ایک خواہش اور پکا ارادہ کہ ...مجھے اردو کا پروفیسر بننا ہے۔ اور پھر انہوں نے اپنی منزل کو ایک دن حاصل کر ہی لیا۔

پروفیسر نسیم الدین فریس سے یور اسٹوری کی بات چیت کے چند اقتباسات یہاں پیش ہیں۔

مولانا آزاد چیئر کے بارے میں کچھ بتائیے؟

مولانا آزاد چیئر کا کام 2011 میں باقاعدہ طور پر شروع ہوا تھا۔ پروفیسر سلیمان صدیقی اس کے پہلے انچارج تھے۔ انہوں نے سال 2012 تک کام کیا۔ اس کے بعد کچھ دن تک اس کا کام رکا رہا۔ پھر آمنہ كشور نے اسے سنبھالا تھا۔ ان دونوں نے کافی اچھے کام کئے۔ یونیورسٹی کی فاصلاتی تعلیم کے لئے تاریخ کی کتابیں اردو میں دستیاب نہیں تھیں۔ سلیمان صدیقی  نے اس کام کو ترجیح دی۔ انہوں نے اس کام کو جنگی سطح پر کیا تھا۔ انگریزی، اردو اور دوسری زبانوں کے تاریخ دانوں کو مدعو کیا۔ ورکشاپ منعقد کئے۔ کافی معیاری ترجمہ ہوا۔ اس کے بعد معاشیات کی کتابوں کا بھی ترجمہ  ہوا۔

کیا آپ کو لگتا ہے اب تک تو جو کام ہوا ہے وہ اطمینان بخش ہے؟

در اصل چیئر کے مقاصد کے مطابق مولانا آزاد کی زندگی اور شخصیت پر کام ہونا چاہئے۔ ان کی حیات اور کارنامے ان کا فلسفہ، ہندوستانی سیاست اور آزادی کی جنگ میں ان کا حصہ جیسے موضوعات پر کام ہونا چاہئے۔ لیکن میرے پہلے ذمہ دار افراد نے یونیورسٹی کی فوری ضرورت پر توجہ دی اور طلباء کے لئے درسی کتب کی تیاری کروائی۔ ایک اہم سیمینار مولانا کی زندگی پر منعقد کیا گیا تھا، جس میں پورے ہندوستان سے آزادیات کے ماہرین آئے تھے اور مولانا کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو انہوں نے سامنے رکھا۔ یونیورسٹی کے لئے 5 سالہ انٹگریٹیڈ کورس بھی انہوں نے تیار کیا تھا۔ حالانکہ اس کورس پر ابھی عمل نہیں ہو پایا۔ پروفیسر آمنہ کشور نے جب مولانا آزاد چیئر کی ذمہ داری سنبھالی تو انہوں نے بھی کئی سیمنار، سمپوزیم اورکشاپس منعقد کئے۔ انہوں نے ایک آزاد فری تھاٹس کلب بنایا۔ جس میں یونیورسٹی کے طلباء کی تخلیقی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ حیدرآباد میں اسکولی طلباء کے لئے بھی انہوں نے کچھ سرگرمیاں چلائی تھیں۔

اب آپ کے سامنے کیا چیلنج ہے؟

گزشتہ انچارج کے سامنے جو کام تھے، انہوں نے کئے لیکن اب میرے سامنے سب سے اہم چیلنج چیئر کی مدت کو توسیع کروانا ہے۔ آزاد چیئر کی مقررہ معیاد پانچ سال کے لئے تھی، جو اگست 2016 میں ختم ہونے جا رہی ہے۔ اس کو توسیع کرنے کے لئے یونیورسٹی گرانٹ کمیشن کو منوانا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اس کے لئے پانچ سال کے دوران کی سرگرمیوں کو مناسب طریقے سے سامنے رکھنا اور آئںدہ کے لئے ایک مضبوط منصوبہ اور حکمت عملی بنانا ہمارا مقصد ہے۔ چیئر جس ہستی کے نام پر معنون ہے، ان کے لئے جس طرح کے کام ہونے چاہئے تھے، نہیں ہوپائے۔ میری کوشش رہے گی کہ مولانا کی زندگی پر کام ہو۔ ہماری نصابی کتب میں بالخصوص سیاسیات اور صحافت کی کتابوں میں جتنا مقام مولانا کو ملنا چاہئے تھا، نہیں ملا۔ ان کی خدمات کی جس انداز میں ستائش کی جانی چاہیے تھی، نہیں کی گئی۔ نئی نسلوں تک اس بات کو پہنچانا ضروری ہے۔ 

 مولانا کے کچھ خاص خطبوں کو تیلگو میں ترجمہ کرنے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔بعد میں دوسری زبانوں میں بھی یہ کام کیا جائے گا۔ آزادی، قوم پرستی، قومی اتحاد، حب الوطنی، ہندو مسلم اتحاد جیسے مسائل پر مولانا کے خیالات کو دوسری زبانوں میں منتقل کرنا  بالخصوص یہ کہ انہوں نے کس طرح کے ہندوستان کا تصور کیا تھا، یہ بات نئی نسلوں تک پہنچانا ضروری ہے۔
پروفیسر نسیم الدین فریس اسلم فرشوری ، صلاح الدین نیر اور دیگر کے ساتھ 
پروفیسر نسیم الدین فریس اسلم فرشوری ، صلاح الدین نیر اور دیگر کے ساتھ 

آج کے ماحول میں مولانا آزاد کےخیالات اور فکر کی کتنی اہمیت ہے؟

آج مولانا کے خیالات  زیادہ  اہمیت رکھتے ہیں۔ مولانا کا خیال تھا کہ مذہب الوطنی کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتا، بلکہ وہ تو حب الوطنی کو پروان چڑھاتا ہے۔ مولانا نے کہا تھا، اگر آسمان سے کوئی فرشتہ دہلی کی جامع مسجد کی مینار پر اترے اور یہ کہہ دے کہ ۔۔۔۔ کل صبح تک تمہیںآزادی مل جائے گی، لیکن تم کو یہ ماننا پڑے گا کہ ہندو اور مسلم دو الگ الگ قومیں ہیں۔ ۔۔۔ ایسے وقت میں میں آزادی کے مطالبے سے دست بردار ہو جاؤنگا ، لیکن ہندو اور مسلمانوں کو مختلف قوم ہونے کی بات کو قبول نہیں کروں گا۔ ۔۔۔۔ قومی اتحاد پر اٹوٹ ایقان رکھنے والی اس ہستی کو لوگ بھول گئے۔ ان کی فکراور فلسفہ کو بھلا دیا گیا۔ ہندوستان کی ساری زبانوں میں ان کے خیالات کو منتقل کیا جانا چاہئے۔

اپنے بچپن اور ابتدائی زندگی کے بارے میں کچھ بتائیے؟

میرا تعلق محبوب نگر ضلع کے كوڑنگل شہر سے ہے۔ كوڈنگل ایک تاریخی مقام ہےقطب شاہی حکومت کی ایک اہم کڑی یہاں سے جڑی ہے۔ اس کا بانی سلطان قلی بہمنی دور اقتدار میں كوڈنگل کا صوبیدار (گورنر) تھا۔ اس کے لگائے ہوئے کتبے آج بھی وہاں ہیں۔ وہ وہاں جس مکان میں رہتا تھا، اس کو گڑی کہا جاتا ہے۔ یہ چھوٹا سا قلعہ آج بھی ہے، جہاں دیشمکھوں کا خاندان رہتا ہے۔ اس نے دو گاؤں بسائے تھے، حسناباد اور آلیرکے نام سے، وہ آج بھی ہیں۔ تاریخ کے کچھ کھنڈرات یہاں دیکھے جا سکتے ہیں۔ آزادی سے پہلے یہاں شعر و شاعری کا اچھا ماحول تھا۔ پنڈت دامودر ذکی پنت یہاں کے کافی مشہور شاعر ہیں۔ وہ حبیب اللہ وفا کے شاگرد تھے۔

ماحول کچھ ایسا تھا کہ جب طالب علم فوقانیہ اسکول میں پہنچ جاتا تھا تو اسے شعر و شاعری کا چسکا لگ جاتا تھا۔ وہاں ہر محلے میں تین چار شاعر آسانی سے مل جاتے تھے۔ اس ماحول میں میں نے اپنی تعلیم مکمل کی۔ تمام افسران کے بچے بھی ہمارے ساتھ سرکاری اسکول میں پڑھتے تھے۔

كوڑنگل میں اسکولی تعلیم کے دوران کچھ خاص واقعات؟

میں پہلی جماعت میں تھا۔ اس وقت کہانی کا بھی ایک گھنٹہ ہوتا تھا۔ اس کے ایک استاد تھے۔ وہ ہر روز ایک کہانی سناتے اور دوسرے دن سب بچوں سے اس کہانی کے بارے میں پوچھتے۔ ایک دن جب انہوںے پوچھا تو پوری کلاس میں کسی نے کہانی نہیں سنائی۔ جب میرا نمبر آیا تو میں گھبراتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھتے اٹھتے ہی کہانی سنانی شروع کی اور ایک ہی سانس میں پوری کہانی سنا دی۔ پانچ سال کی عمر رہی ہوگی میری۔ استاد بہت خوش ہوئے اور انہوں نے کلاس میں اعلان کر دیا کہ وہ مجھے ایک پیسہ انعام دیں گے۔ اس وقت ایک پیسہ بھی کافی بڑی رقم ہوا کرتی تھی۔ وہ واقعہ یاد کرتا ہوں تو میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایک پیسہ دینے کے لئے انہوں نے اپنی شیروانی کی جیب میں ہاتھ ڈالا۔ وہاں انہیں پیسے نہیں ملے۔ شیروانی کی ساری جیبیں ٹٹولنے کے بعد بھی جب پیسے نہیں ملے تو پھیر کلاس کے مانٹر کو گھر بھیج کر ایک روپیہ منگوایا اور مجھے انعام دیا۔ اس طرح سے اس وقت کافی حوصلہ افزائی ملی۔ اگر وہ سب میرے حصے نہ ہوتا تو میں یہاں تک نہ پہنچتا۔

 استاد بننے کی خواہش پہلے سے تھی یا پھر وقت کے مطابق آپ آگے بڑھتے گئے؟

مجھے پڑھنے پڑھانے کا شوق شروع سے تھا۔ آغاز پرائیویٹ ٹیوشن سے کیا۔ سعيدآباد کے ایک مدرسے میں پارٹ ٹائم پڑھاتا تھا۔ ٹیچر ٹریننگ کی۔ بعد میں بی ایڈ بھی کیا۔ میں نے یہاں کوشش کی کہ میرے استادوں کی طرح اپنے شاگردوں کی بھی حوصلہ افزائی کرتا رہوں۔ بچوں کی حوصلہ افزائی کرنے کی بات آئی تو مجھے ایک واقعہ یاد آتا ہے۔

 اسکول میں جب سالانہ امتحانات کے نتائج کا وقت آتا تو ہیڈ ماسٹر خود ہی کلاس میں آکر سب کے نتائج کا اعلان کرتے۔ ہمارے اسکول کے ہیڈ ماسٹر كے۔ بسپّا اردوداں تھے۔ ان کا طریقہ تھا کہ وہ آتے ہی کلاس کے تمام بچوں کو پھول کے ہار پہنا دیتے اور بعد میں جب کلاس میں اول آنے والے طالب علم کو سارے طلباء آپنے ہار پہنا دیتے۔ مجھے پانچ چھ سال تک سب کے ہار پہننے کا شرف حاصل رہا۔

 ذیادہ تر استاد غیر مسلم تھے، لیکن اردو پڑھاتے تھے۔ بگپّا ماسٹر اردو کے تلفظ پر کافی زور دیتے تھے۔ حیدرآباد یونیورسٹی میں رسرچ کے لئے آیا تو یہاں بھی پروفیسر گیان چند جین میرے گائڈ تھے۔

سروس کے دوران کے کچھ تجربہ؟

رسالا عبداللہ پرائمری اسکول میں میری پہلی پوسٹنگ ہوئی۔ کافی طویل وقت تک وہاں کام کیا۔ جب مولانا آزاد یونیورسٹی کے قیام ہوا تو یہاں ایک مترجم کا عہدہ خالی تھا۔ وہاں میرا تقرر ہوا اور بہت سے نصابی کتابوں کے ترجمہ کا کام کرنے کا موقع ملا۔ 2000 میں حیدرآباد یونیورسٹی میں پروفیسر کے عہدے پر تقرری ہوئی اور وہاں 2007 تک کام کیا۔ اسسٹنٹ پروفیسر بن گیا تھا۔ مانو میں پھر ریڈر کی جائداد نکلی تو یہاں انٹرویو دیا اور تقرر ہو گیا۔

ضلع سے آکرشہر میں رہنا کافی مشکل رہاہوگا؟

وہ طلباء جو اضلاع سے آئے ہوں، ان کے لئے شہر میں رہ كر پڑھنے کے لئے کافی جدوجہد کرنا پڑتا ہے۔ مجھے بھی کرنا پڑا۔ حالانکہ میرے دونوں بڑےبھائی میری مدد کرتے تھے، لیکن وہ شہر میں نہیں رہتے تھے۔ اس لیے کمرہ لے کر رہنا پڑتا تھا۔ایک واقعہ یاد آ رہا ہے۔ سعيدآباد میں بخاری شاہ صاحب کی مسجد میں کمرہ ہونے کی اطلاع ملی، لیکن جب پہنچا تو وہاں کوئی دوسرے طالب علم آ چکے تھے۔ میری پریشانی دیکھکرمؤذن صاحب نے کہا کہ ایک کمرہ ہے، لیکن اس میں ڈولا (جنازہ لے جانے کا جھولا) رکھا جاتا ہے اور زیادہ تر طالب علم اس میں رہنے کو ترجیح نہیں دیتے۔ اگر آپ ڈرتے نہیں تو رہ سکتے ہیں۔

میرے سامنے تو حیدرآباد میں رہ کر پڑھنا، تعلیم حاصل کرنا اور آگے بڑھنے کا مقصد تھا۔ میں رہ گیا۔ کرایہ بھی کم تھا اور کمرہ بھی بڑا تھا۔ ایسا کئی بار ہوا کہ میں کھانے کے لئے بیٹھتا توتازہ کفن اور ابیر کی بو آتی، کیونکہ ڈولا کسی جنازے کو لے جانے کے کام کے بعد وہاں لاکر رکھا گیا ہوتا۔ میں یہ سمجھتا کہ یہ بھی زندگی کا یہ مقام ہے۔ اس سے بھی گزرنا گے۔

اعلی تعلیم کے میدان میں سرکاری نوکری حاصل کرنا کتنا آسان تھا؟

شروع میں جب میں نے بہت سی يونیورسٹيوں اور کالجوں میں انٹرویو دئے تو بات نہیں بن سکی۔ مسلسل 8 سال تک ناکامیوں کا دور رہا، لیکن میرے دل میں ایک بات تھی کہ مجھے ایک نہ ایک دن اردو کا پروفیسر بننا ہے اور پھر میرا وہ یقین حقیقت میں بدل گیا۔

آپ نے دکنی پر بھی کام کیا ہے؟

دکنی سے میرا تعلق رہا ہے۔ دکنی سے میری خاص دلچسپی رہی۔ ہاشمی کا شعر یاد آتا ہے۔

تجھے چاکری کیا تو اپنيچ کی بول
تیرا شعر دکنی ہے، دكنيچ کی بول

در اصل ایم اے کے دوران پروفیسر محمد علی اثر ہمیں دکنی پڑھاتے تھے۔ ان کے پڑھانے کا انداز کافی دلچسپ ہوتا تھا۔ دیہاتی ماحول سے ہونے کی وجہ سے مجھے دکنی میں کوئی زیادہ مسئلہ نہیں تھا۔ دکنی میں اپنا الگ مقام بنانے کی امکانات زیادہ تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

FACE BOOK

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں۔۔۔

طب کی کتابیں لکھنے والا مزاح نگار

بچّوں کے رسالے ’ گُل بوٹے‘ اور اس کے مدیر فاروق سیّد کی کہانی

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories