حیدرآباد سے شروع ہوا تھا جانی لیور کی کامیڈی کا اصلی سفر

فلموں میں ممکری آرٹسٹ سے کامیڈین بننے میں لگے تھے 10 سال

0

ہندی فلموں کے مقبول ترین مزاحیہ فنکار جنہوں نے مزاح کو بڑی سنجیدگی سے لیا اور فلموں کے ساتھ ساتھ اسٹیج پر بھی بہت طویل فنکارانہ اثرات چھوڑے ہیں ، وہ اپنی عمر کے انسٹھ سال پورے کرنے جا رہے ہیں۔ ان کا پہلا اسٹیج شو حیدرآباد کے رویندر بھارتی تھئٹر میں ہوا تھا۔ فنکار رام كمار نے اپنے شاگرد جانی کو یہاں اپنی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے بھیجا اور انہوں نے یہاں پہلے ہی شو میں دھوم مچا دی تھی۔یہ جانی کے ابتدائی دنوں کا واقعہ ہے۔

حیدرآباد میں کھچھ دن قبل ایک شام ایک محفل میں جانی اتنا کھلے کہ کھلتے چلے گئے اوراپنی زندگی کے بہت سے دلچسپ واقعات سنائے۔پرانی یادیں تازہ کیں ۔  جانی لیور نے بات چیت کا آغاز حیدرآباد ہی سے کیا۔ جس شہر میں انہوں نے اپنا پہلا شو پیش کیا تھا، اسی شہر میں جب دو سال  پہلے وہ اپنا شو لانا چاہتے تھے توناگزیر حالات کی وجہ سے انہیں وہ شو منسوخ کرنا پڑا۔

حیدرآباد کے فنکار حامد کمال اور سبحانی سے ان کے اچھے تعلقات رہے  ہیں۔ انہیں کے ساتھ ایک محفل میں کئی باتیں ہوئیں۔ ان کی اپنی زندگی، آرٹ اور فنکاروں کے حالات اور مزاحیہ کے موجودہ ماحول۔ اور بہت کچھ ۔۔۔

 جانی آج بھی وہ دن نہیں بھولتے جب وہ جان راؤ سے جانی لیور بن گئے تھے۔ وہ جس ہندوستان لیور میں کام کرتے تھے، اسی کے پروگرام میں جب انہوں نے اپنے تمام اعلی افسران کی بغیر نام بتائے ممکری کی اور ملازمین میں سے کسی نے زور سے اعلان کیا کہ "تم جانی لیور ہو۔ '

جب جانی نوجوان تھے تو ان کے والد صاحب کو ڈر تھا کہ وہ کہیں اس ہنسی مذاق کے چکر میں نوکری نہ چھوڑ دیں۔ اس وقت انہیں نوکری سے 600 روپے تنخواہ ملتی تھی۔ اسٹیج شو میں حصہ لینے پر 50 روپے ملتے تھے۔ والد جب ریٹائر ہوئے تھے تو انہیں 25000 روپے ملے تھے، جسے انہوں نے بیٹی کی شادی کے لئے جمع کیا تھا۔ اسی دوران ۔۔۔

جانی کو کچھوا چھاپ اگربتی کا ایک اشتہار ملا جس کے لئےایڈورٹائزر نے انہیں خوش ہوکر 26000 روپے دیے۔ والد کی حیرت کا ٹھکانا نہیں تھا۔ جو باپ کبھی ڈنڈا لے کر اسٹیج تک پیٹنے آئے تھے، لیکن اسٹیج کے سامنے تین ہزار لوگوں کی بھیڑ دیکھ کر واپس لوٹ گئے تھے، انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ہنسی مذاق کے کوئی اتنے پیسے بھی دے سکتا ہے۔

پھر انہیں ان قلم والے سندھی چچا کی یاد آئی، جنہوں نے انہیں اپنی پھٹ پاتھی دکان کے سامنے قلم فروخت کے لیے کہا تھا۔ جانی جب مختلف فلمی اداکاروں کی ممکری کرکے قلم فروخت لگے تو چچا کے سارے گراہك ان کے حصے میں آ گئے۔ چچا نے یہ دیکھ کر کہا، '' جانی میں نے تمہیں قلم فروخت کرنا سکھایا اور میرے سارے گاہک تم نے لے لیے۔ اب تم مجھے ممکری سکھاؤ تاکہ میں تمہارے گاہک لے سکوں۔ ''

ممبئی کی دھاراوی جیسے دنیا کے سب سے زیادہ ب़ڈے جھگی علاقے میں پیدا ہوئے جانی کے ابتدائی جيونے پہلے چال اور بعد میں ایک جھوپڈينما مکان میں گزرا۔ وہیں سے انہوں نے لوگوں کی زبان انداز کا جائزہ کرنا شروع کیا اور وہی ان کی فنکارانہ اور تاجر زندگی کا حصہ بن گیا۔ اس ماحول کے بارے میں جانی بتاتے ہیں،

 'وہ ایک منی ہندوستان تھا، جہاں ملک کی ہر زبان بولنے والے موجود تھے۔ وہ ہندی بھی بولتے تھے تو اپنی ہی انداز میں۔ ان ہندی کو سمجھنا بھی کافی مشکل ہوتا تھا۔ وہاں تو سری لنکا کے لوگ بھی تھے۔ '

باتوں باتوں میں جانی حیدرآباد کے بارے میں اپنی رائے رکھنا نہیں بھولتے۔ کہتے ہیں، 'یہاں کی زبان یکسر مختلف ہے، بلکہ حیدرآبادی کے کچھ جملے، مزاح کا ایک خاص ذائقہ اس میں چھپا ہوتا ہے۔ پنجابیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کہیں بھی جائیں اپنا لہجہ نہیں بولتے، لیکن وہ بھی حیدرآباد میں آتے ہیں، تو اپنا لہجہ بھول کر حیدرآبادی بولنے لگتے ہیں۔ '

جانی لیور نے ایک اور واقعہ بیان کیا۔ اپنی پہلی فلم کا۔ ایک جنوبی ہند کے فلم ساز نے انہیں 1980 میں اپنی فلم 'یہ رشتہ نہ ٹوٹے' کے لئے سائن کیا تھا۔جانی کہتے ہیں،

'' میں کیمرے کا سامنا کرنے سے ڈر رہا تھا۔ شوٹنگ چنئی میں تھی۔ ممبئی سے چنئی تو آ گیا تھا، لیکن سوچتا تھا بھاگ جاؤں۔ فرار ہونے کی کوشش بھی کی، لیکن فلم والے پكڑكر شوٹنگ کے مقام تک لے گئے۔ وہاں جب سب لوگوں کو اپنا اپنا کام کرتے دیکھا تو جان میں جان آ گئی اور سمجھ گیا کہ اپنا کام کرنے کے لئےڈرنا کیا ہے۔ ''

بات جب بیٹی جیمی لیور اور بیٹے جسی لیور کی چلی تو اپنا مثالی صاف جتلا دیا کہ وہ دونوں کی بھی سفارش نہیں کرتے، بلکہ انہوں نے لندن میں اعلی تعلیم حاصل کرنے کے باوجود انہوں نے سٹےڈپ كمڈي کو منتخب کیا اور ٹی وی سیریل میں منتخب کر لیے جانے کے بعد والد کا نام بتایا۔

جمی لیور-تصویریں مختلف زرایع سے حاھل کی گئی ہیں
جمی لیور-تصویریں مختلف زرایع سے حاھل کی گئی ہیں

بیٹی کے بارے میں جانی کہنے لگے، '' میں نے سوچا تھا کہ وہ اعلی تعلیم حاصل کر کوئی کام کرے گی۔ اسی لئے تو اسے پڑھنے کے لئے لندن بھیجا، لیکن ایک دن اس نے اپنی ماں سے کہا کہ وہ سٹینڈپ كمڈي کرنا چاہتی ہے۔ سوتے میں وہ هڑبڑاكر اٹھتی ہے اور نیند میں بھی وہی بڑب़ڈاتي ہے۔ تاہم اسے بہت سمجھایا گیا کہ یہ آسان نہیں ہے، اس کے باوجود وہ نہیں مانی اور پھر لندن کے اپنے شو میں جب اسے دس منٹ دیے گئے، تو اس نے اتنے ہی وقت میں وہ کمال کر دکھایا کہ ناظرین نے کھڑے ہو کر اس کی تعریف کی اور کہا ، 'جانی آپ کی مسابقتی آ گئی۔' اپنے بیٹے میں بھی میں یہی كٹا دیکھ رہا ہوں۔ ''

انہیں فلموں میں گووندا کے ساتھ ایک کامیاب کامیڈین کی جوڈی کے طور پر دیکھا گیا، لیکن ایک بات ان کے دماغ میں ضرور رہی کہ انہیں ممکری آرٹسٹ سے مزاحیہ اداکار کے طور پر اپنی جگہ بنانے کے لئے دس سال لگ گئے تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ انہیں فلم ساز سنجیدگی سے نہیں لیتے تھے۔

'' میں نے بھی دو چيزوں میں بٹا ہوا تھا۔ فلم اور اسٹیج شو۔ زیادہ تر فلمون میں ڈائریکٹر ممکری کے کام کے لئے یاد کرتے تھے، لیکن جب فلم بازیگر میں میرے کام کو دیکھا گیا تو لوگوں نے مزاحیہ اداکار کے طور پر قبول کرنا شروع کیا۔''

موجودہ ماحول پر بھی وہ کھل کر بولے، ''ہر دور میں تبدیلی آئی ہے، آنا بھی چاہیے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ دو بند کمروں میں ہونے والی باتوں کو خاندان کے سامنے پیش کیا جائے۔ یہ غلط ہے۔ ''

...........................................

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

FACE BOOK

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

حیدرآباد کی مثبت تصویر کو ابھارنے میں مصروف محمد صفی اللہ

رُک جانا نہیں تو کہیں ہار کے.... عبدالحکیم کی کامیابی کا راز!

حیدرآباد اورلکھنؤ کی بو باس میں بسی ہے غزل:پيناز مسانی

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem