ٹائم پاس کے لئے شروع کیا گیا کاروبارپہنچا کروڑوں تک

0

قریب 31 سال پہلے کالج میں پڑھنے والی ایک لڑکی نے ٹائم پاس کرنے کے لئے بیگ بنا کر فروخت کرنا شروع کیا اور وہ کام اس لڑکی کا برانڈ اسٹائل بن گیا۔ اس کو لوگ آج نینا لیکھی کے نام سے جانتے ہیں اور ان برانڈ 'بیگِٹ'ملک اور دنیا میں مشہور ہے۔

ممبئی کے ایک خوشحال خاندان میں پیدا ہونے والی نینا بچپن سے ہی بنداس اور آزاد خیال تھی، لیکن ہمیشہ تعلیم میں بھی اول رہیں۔ وہ کمرشل آرٹ میں اپنا مستقبل بنانا چاہتی تھیں اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ممبئی کے مشہور صوفیہ پاليٹیكنك میں دو کورس میں داخلہ لیا۔ دونوں كلاسو بعد انہوں نے 'شیام آہوجا' کے ڈیزائنر شوروم میں ملازمت بھی کرنی شروع کی اور اسی دوران اتفاق سے انہوں نے بیگ بنا کر فروخت کرنے کا فیصلہ کیا۔

'' میں نے صرف 'کچھ کماؤ اور کچھ سیکھو' کے ارادے کے ساتھ کام شروع کیا تھا۔ اسی دوران میں نے سوچا کہ جیسے ہماری ٹی شرٹ پر کچھ لکھا ہوتا ہے کیوں نہ ویسے ہی کچھ لکھے ہوئے ایٹيٹيوڈ والے بیگ تیار کئے جائیں۔ میں مائیکل جیکسن کی بہت بڑی فین تھی اور ان کے بیٹ اٹ سے متاثر ہو کر میں نے نام سوچا 'بیگِٹ' اور اس طرح میرے کاروباری زندگی کی بنیاد پڑی۔ ''

نینا نے ایک لفٹمین اور جِپ ٹھیک کرنے والے ایک شخص کی مدد سے سادہ کینوس سے بیگ بنانے شروع کئے اور اپنے اسٹور کے مالک کو فروخت کے لئے رکھنے کی اجازت لے لی۔ اسی دوران ان کی ملاقات اپنی سہیلی کے بھائی منوج سے ہوئی جو کپڑوں کی نمائش اور سیل لگایا کرتے تھے۔ انہیں نینا کے بنائے بیگ بہت پسند آئے اور اور وہ اپنے سامان کے ساتھ ان کے بیگ بھی رکھنے اور فروخت لگے۔ نینا بتاتی ہیں کہ اس وقت ایک بیگ کو بنانے میں تقریبا 25 روپے کی لاگت آتی تھی اور وہ اس 60 روپے میں بیچتی تھیں۔

اب نینا کے بنائے بیگ لوگوں کو پسند آنے لگے تھے اور ماہانہ ان کی فروخت بڑھتی جا رہی تھی۔ اسی دوران انہں ٹیكسٹال ڈیزائن کا ایوارڈ بھی ملا جس نے ان کے جوش دوگنا کر دیا۔ '' مجھے اس میں مزا آ رہا تھا اور کام بھی ٹھیک ہی چل رہا تھا۔ نوجوانوں اور فیشن کےشائقین کو میرے بیگ بہت پسند آ رہے تھے۔ تین سال کے اندر اندر ہی میرے بیگوں کی فروخت دس گنا بڑھ گئی تھی اور میں ماہانہ 300 سے زائد بیگ فروخت رہی تھی۔ ''

اب نینا نے اپنے کام کے ساتھ نئے نئے تجربے کرنے شروع کر دیے۔ انہوں نے چمڑے کے بیگ بھی بنانے کی کوشش کی، لیکن بدبو کی وجہ سے انہوں نے مردہ جانور کی کھال کا استعمال نہ کرنے کا فیصلہ لیا۔ اس کے بعد انہوں نے مصنوعی چمڑے کا استعمال کرنا شروع کیا اور جلد ہی انہیں اس میں اصلی چمڑے جیسا بنانے میں کامیابی مل گئی۔ نینا کا کہنا ہے کہ مصنوعی چمڑے کا فائدہ یہ ہے کہ اس سے تیار سامان کو عام کلائنٹ کے لئے سستے داموں میں بنایا اور فروخت کیا جا سکتا ہے۔

1989 تک 'بیگِٹ' مکمل طور پر ایک کاروبار کی شکل اختیار کر چکا تھا اور اسی دوران نینا اور منوج نے دونوں خاندانوں کی رضامندی سے شادی کر لی۔ شادی کے بعد نینا نے اپنے کاروبار پر زیادہ توجہ دینا شروع کیا اور جلد ہی اپنے بھائی کے ساتھ مل کر كیپ کارنر میں ایک دکان خرید اپنا پہلا خوردہ اسٹور 'آئی ان آیکس ایس' کھولا، کافی کم وقت میں شہرت مل گئی۔

'' اس سٹور میں ہم نے ضروری سامانوں کی مکمل رینج رکھی۔ ہمارے بیگ سستے اور کوالٹی میں اچھے ہونے کے ساتھ ساتھ صارفین کو پسند بھی آنے لگے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہمارے تیال کئے گئے بیگ شاپر اسٹاپ اور پنٹالون، لائف اسٹائل میں بھی فروخت کے لئے رکھے جانے لگے، جس سے ہمارا حوصلہ بڑھا۔ 2006-07 کے دوران ہمارا کاروبار 7 کروڑ روپے کا تھا۔ ''

اس کے علاوہ نینا نے دیکھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ ملک میں موبائل مارکیٹ میں انقلاب آ رہا ہے اور زیادہ تر لوگ موبائل کا استعمال کر رہے ہیں۔ تب ان کے دماغ میں ڈیزائنر موبائل پاؤچ بنانے کا خیال آیا۔ اس کے علاوہ وقت کے ساتھ نینا نے بیلٹ، والیٹ بھی بنانے شروع کیے، جن کی فروخت آج بھی ان کےکاروبار میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ نینا نے 'بیگِٹ' کے کاروبار کو آگے بڑھایا اور آج ملک بھر میں تقریبا ہر بڑے شہر میں ان کا فرنچائزز ہے۔ اس کے علاوہ فی الحال 'بیگِٹ' کے پاس تقریبا 200 ملازمین اور 550 کاریگر ہیں۔ 'بیگِٹ' سالانہ 5 لاکھ سے زیادہ پیس تیار کرتا ہے اور اور اس کا سالانہ کاروبار تقریبا 40 کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔

نینا کا کہنا ہے کہ انہوں نے کالج کے دنوں میں صرف تفریحاً بیگ بنا کر فروخت کرنا شروع کیا تھا اور آج بھی وہ اپنے اس کام کو مکمل طور پر خوشدلی سے کرتی ہیں۔ '' اگرچہ اس کام میں زیادہ منافع تو نہیں ہے لیکن اسے کرکے مجھے خوشی ملتی ہے۔ ''

قلمکار : نشانت گوئل

مترجم: ذلیخا نظیر

Related Stories