دو نوجوانوں کی کاوشیں...کمائی کے ساتھ ساتھ بنکروں کی مدد بھی

0

انٹرنیٹ نے کئی طرح کی تبدیلیوں کو ہو دی ہے۔ لوگ جہاں ایک دوسرے کے قریب آ گئے ہیں وہیں اس نے روزگار کے نئے دروازے بھی کھولے ہیں۔ انٹرنیٹ ہی کی وجہ سے بہت سے نوجوان اب خود ہی کوئی وینچر شروع کرنے کے بارے میں سوچنے لگے ہیں۔ تاکہ وہ اپنا بہتر مستقبل بنا سکیں۔ اتنا ہی نہیں آف لائن کاروبار کو درکنار کر لوگ آن لائن کاروبار کو توجہ دے رہے ہیں۔ ایسی ہی ایک مثال ہے Maku Textiles۔ جو ہاتھ سے بنے ہوئے کپڑوں کو فروغ دینے کا کام کرتا ہے۔

شانتنو داس اور چراغ گاندھی
شانتنو داس اور چراغ گاندھی

ہتکرگھا ایسا فن ہے جو آہستہ آہستہ دم توڑ رہا ہے۔ حکومت اس کو فروغ دینے کے لئے کئی طرح کے پروجیکٹ بھی چلا رہی ہے، لیکن اس کا زیادہ اثر سامنے نہیں آ رہا ہے۔ شانتنو داس جو این آئی ڈی، احمد آباد سے ڈیزائنگ کا کورس کر چکے ہیں وہ ڈزائنگ کے بارے میں اچھی معلومات رکھتے ہیں، اس لیے وہ اس شعبے میں کچھ کرنا چاہتے تھے۔ تاکہ بنکروں کی براہ راست مدد کی جا سکے۔ دوسری طرف چراغ گاندھی نے نرما یونیورسٹی سے انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد شانتنو کے ساتھ Maku Textiles میں تعاون کرنا شروع کیا۔

Maku Textiles کے تحت یہ دو نوجوان کسی چیز کی ڈیزائن کرنے کے بعد اس سے بنائی کے لئے بنکر کو دیتے ہیں۔ یہ لوگ بنیادی طور سے مغربی بنگال اور کچھ، گجرات کے بنکروں سے اپنا کام کرواتے ہیں۔ دراصل ٹیکسٹائل کی صنعت میں کافی پیسہ لگا ہوا ہے اور اس میں کافی لوگ کام کرتے ہیں لیکن ان پر کنٹرول چند لوگوں کا ہے۔ اس صنعت سے اگر کوئی سب سے زیادہ فائدہ اٹھا رہا ہے تو وہ دلال ہیں، جو کپڑا کمپنیوں اور بنکروں کے درمیان کردار ادا کرتے ہیں اور یہ کمپنیاں بنکروں کی مصنوعات کو نمائش میں یا دکان کو بیچتی ہیں۔ جو اسے اونچے داموں میں بیچتی ہیں۔ جن میں سے بنکروں کو صرف 5 فیصد حصہ ہی مل پاتا ہے۔

Maku Textiles کوشش بہتر ايكوسسٹم کو تیار کرنے کی ہے تاکہ بنکروں کو زیادہ سے زیادہ کام مارکیٹ تک پہنچے۔ ساتھ ہی بنکر، بچولئے اور کسٹمر تینوں کے پاس برابر کے موقع ہوں۔ شانتنو اور چراغ نے اس کام کی جب شروعات کی تھی تو وہ مانتے تھے کہ یہ فیشن کے مطابق نہیں ہے اور ایسے کپڑوں کو فیشن شو میں دکھانا مشکل ہے اور وہ اس کام کو بنکروں کے مفاد میں دکھانا چاہتے تھے، اس لئے اب یہ ماڈل کو تبدیل کررہے ہیں۔ ان لوگوں نے اپنی بچت کے ساتھ خاندان سے مالی مدد لے کر اپنا کام شروع کیا جس کا نتیجہ ہے کہ یہ ہر مہینے 1 لاکھ روپے تک کی آمدنی حاصل کر رہے ہیں۔ ان برانڈ کے لباس کی زیادہ فروخت ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والی نمائش، مختلف اسٹور اور فیس بک کے ذریعے سے ہوتی ہے.

ان لوگوں کا کام دنوں دن تیزی سے بڑھ رہا ہے یہی وجہ ہے کہ اب تک احمد آباد سے شروع ہوا ان کا کاروبار کولکتہ تک پہنچ چکا ہے۔ ساتھ ہی کاروبار میں اور تیزی لائی جائے اس لئے وہ ایسے لوگوں کو تلاش کر رہے ہیں، جو ہے اس کاورابار سے وابستہ ہوں اور ان کی مدد کر سکیں۔ سرمایہ کاری کے لئے بینک سے قرض لے کر اپنے کاروبار کو بڑھانے کا منصوبہ بھی انہوں نے بنایا ہے.

Related Stories