بھٹے کے ویسٹ سے پانی کی صفائی - للیتا پرسیدا نے تیار کیا سستا اور بہترین واٹر پيوريفائر

0

آج پینے کا صاف شفاف پانی جس تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آنے والے وقت میں پینے کا پانی کتنا بڑا مسئلہ بن کر سامنے آسکتا ہے۔ ہمارے ملک میں پانی کی آلودگی کا اس تیزی سے بڑھنا کافی تشویشناک ہے۔

اگرچہ اس سمت میں حکومت کی جانب سے بھی کوششیں کی جا رہی ہیں، لیکن وہ بھی اس مسئلہ کے حل کے لئے ناکافی ہیں۔ ایسے میں اڑیسہ کی ایک چودہ سالہ لڑکی للیتا پرسيدا نے ایک ایسی کوشش کی جس کی وجہ سے انہیں 'کمیونٹی ایپیكٹ ایوارڈ' سے كیلیفونيا میں نوازا گیا۔ اور یہ صرف للیتا کے لئے فخر کا موقع نہیں تھا بلکہ پورے ہندوستان کے لئے یہ فخر کا لمحہ تھا۔ للیتا نے بھٹے کے ویسٹ سے پانی صاف کرنے کا ایک ماڈل تیار کیا۔ دہلی پبلک اسکول دمانجوڑی میں نویں جماعت میں پڑھنے والی للیتا نے ایک ایسا انوکھا کام کیا، جس کے بارے میں آج سے پہلے کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔

پانی کو صاف کرنے کے پہلے بھی کافی تجربے ہوتے رہے ہیں جو کافی کامیاب بھی رہے ہیں، لیکن ان سب کے درمیان للیتا کاماڈل نیا، سستا اور آسان ہے۔ وہ بھٹے کے ویسٹ مٹيريل سے گندے پانی کو صاف کر رہی ہیں۔ للیتا بتاتی ہیں کہ بھٹے کی پیداوارکے لئے ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا ملک ہے۔ ملک کے ہر کونے میں بھٹا پسند کیا جاتا ہے اورکھایا جاتا ہے۔ اس سے کئی طرح کی چیزیں بھی بنائی جاتی ہیں، لیکن بھٹے کے دانوں کو کھانے کے بعد جو ہے کچرا بچ جاتا ہے، جس سے دانے چپکے ہوتے ہیں وہ بڑا حصہ دانے نکلنے کے بعد مکمل طور بیکار ہو جاتا ہے اور کچرے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ للیتا نے بھٹے کے اسی ویسٹ حصہ سے اپنی گائڑ پلوی موهاپاترا کی رہنمائی میں ایک واٹرپيورفائر ایجاد کیا۔ یہ بہت سستا طریقہ بنا جس سے پانی کافی حد تک صاف ہوا۔

للیتا کے والد کے تبادلے نوکری کے سلسلے میں کئی ریاستوں میں ہوتے رہتے تھے، جس کی وجہ سے اس نے ملک کے مختلف علاقوں کو قریب سے دیکھا اور جانا۔ انہوں نے ایک ہی چیز جو ہر جگہ دیکھی وہ تھی صاف پانی کی کمی۔ اور اسی لیے انہوں نے اس موضوع پر ماڈل تیار کرنے کی ارادہ کیا۔ پانی صاف کرنے کے اس ماڈل میں پانچ پرتیں ہوتی ہیں۔ جس میں چار بھٹے سے تیار کی گئی ہیں۔ پہلی پرت میں بھٹے کی کھالیں ہے۔ جسے کاٹ کاٹ کر رکھا گیا ہے۔ جبکہ دوسری پرت میں اسے بہت باریک ٹکڑے ٹکڑے رکھے ہیں۔ تیسری پرت میں بھٹے کے بہت ہی مہین ٹکڑے جو کہ دليے جتنے سائز کے ہیں، ان کے رکھ دیا گیا ہے۔ چوتھی پرت میں بھٹے کے انہی ٹکڑوں کو چارکول بنا دیا گیا ہے۔ پانچویں پرت ریت ہے۔ ان پانچ پرتوں سے جب پانی گزر جاتا ہے تو وہ کافی صاف ہو جاتا ہے۔ اس عمل کے بعد بھی یہ گندا پانی پینے کے قابل تو نہیں ہو پاتا، لیکن اپنی پہلی حالت سے کافی بہتر ہو چکا ہوتا ہے اور اس پانی کو ابال کر پینے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔

للیتا کا كیلیفونيا کا یہ پہلا غیر ملکی دورہ تھا۔ جس میں وہ اپنے خاندان اور اپنی گائڑ کے ساتھ گئی تھیں۔ للیتا کو اس پروجیکٹ سے کافی حوصلہ افزائی ملی۔ وہاں اس نے 16 ججوں کے سامنے چار مختلف مراحل میں اپنی پریزنٹیشن دئے۔ اس کے بعد 20 منصوبوں کو فائنل کے لئے منتخب کیا گیا۔ للیتا ان فائنلسٹ میں اکیلی ہندوستانی رہی۔ اس کے بعد آٹھ افراد کو ججوں نے مختلف قسم کے لئے منتخب کیا اور انہیں کمیونٹی ایپیكٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ للیتا بتاتی ہیں کہ وہ نتیجہ آنے سے پہلے کافی پریشان تھیں لیکن جیسے ہی للیتا کے نام کا اعلان ہوا وہ خوشی سے پھولی نہ سمائی۔ وہ بہت فخر محسوس کر رہی تھی۔

للتا مستقبل میں تحقیق کرنا چاہتی ہیں۔ وہ مختلف كميونٹيز کی مدد کرنا چاہتی ہیں اور زمینی سطح پر کام کرکے ملک کی مدد کرنا چاہتی ہیں۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem