اکیس سالہ نوجوان کا موٹر بائیک پر عزم سفر چھیالیس ملکوں کا کرے گا احاطہ ۔

0

روہت سبرامنیم کے لئے پیر کی صبح اس لئے بھی کہیں زیادہ دلچسپ اور دلفریب ہوتی ہے کہ صبح کی ان ساعتوں کا وہ پہاڑی کی چوٹی پر گرم گرم چائے کی چسکیوں کا لطف لیتے ہوئے مزہ لیتے ہیں ۔صبح کا سہانا موسم دور افق سے لالی دکھاتا سورج،  سورج سے پھوٹتی نرم گرم خوشگوار کرنیں اور پھر ان خنک آمیز کرنوں کے بیچ ٹھنڈی ہواوں کے ہلکے ہلکے جھونکے اور پھر صبح کے اس حسین موسم کے دوران پہاڑ کی بلندی پر موسم کا مزہ لینا ... یقیناً ان کے لئے یہ دن کا سب سے بہترین وقت ہوتا ہے ۔ کیونکہ اس کے بعد زندگی کا شور ٹریفک کا جام اور پھر جانوروں کے گلے بیلوں گفایوں بھینسوں کے یکے بعد دیگرے گذرتے  جھنڈ اور ان جھنڈوں سے نکلتا ایک بے ہنگم شور مگر اس شور کے دوران اگر ان کے لئے کوئی دلچسپی کی بات ہوتی ہے تو وہ ہے ان جانوروں کے گلے میں ایک ساتھ بجتی گھنٹیوں کی ایک موسیقی ریز آواز جو شور نہیں پیدا کرتی بلکہ ساز و آواز کے ایک حسین امتزاج کا باعث بنتی ہے ایسا امتزاج جو کانوں کو بھلا معلوم ہوتا ہو ۔یہ حسن یہ امتزاج یہ آواز اور پھر یہ ماحول یقینا شہروں کی مصروف زندگی میں یہ کسی نعمت سے کم نہیں ۔

تاہم روہت کے لئے یہ ماحول نیا نہیں ہے۔ ہر گذرتے دن کے ساتھ ہر گذرتے میل کے پتھر کے ساتھ روہت کے لئے ایک دنیا بکھری پڑی ہے خوبصورت دلفریب رنگین ۔ایک رائیل انفیلڈ پر دنیا کے سفر کا عز م رکھنے والے اس اکیس سالہ نوجوان کے لئے یقینا یہ ایڈونچر بھی ہے اور ایک حسین تجربہ بھی ۔وہ اگلے ایک برس میں دنیا کے چھیالیس ممالک کے سفر کا منصوبہ رکھتے ہیں اور اس کے لئے انہیں ایک لاکھ کلو میٹر کے سفر کی تکمیل کرنی ہے ۔اس کم عمر نوجوان کے حساب سے یقینا یہ ایک بڑا ٹارگٹ ہے ۔ تاہم جب آپ روہت کو دیکھینگے تو وہ عمر سے کہیں بڑا لگے گا لمبی سی داڑھی سے سجا اس کا چہرہ اور تقریبا ایک مہینے سے سفر کررہے اس نوجوان کے چہرے کو دیکھنے سے اس کے عزم کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔

ایک مہینہ پہلے  اپنے آبائی شہر چنئی سے اس سفر کا   آغاز کرنے والے روہت براہ ہمپی ابھی بنگلور پہنچے ہیں ۔ان کے اس سفر کی اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنا بیشتر سفر سڑک سے ہٹ کر جنگلوں پگڈنڈیوں اور کچی سڑکوں سے طئے کرنا چاہتے ہیں ۔اس انتخاب میں جہاں رسک ہے وہیں ایڈونچر بھی ہے اور پھر سب سے اہم شارٹ کٹ بھی ۔ سفر کے اس تجربے کے حوالے سے روہت کہتے ہیں کہ اس سفر نے انہیں جہاں بہت سارے تجربات سے ہمکنار کیا ہے وہیں لوگوں کو صبر و تحمل سے سننے کا سبق بھی سکھایا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ اس سفر نے انہیں حساس بنایا ہے ذمہ داری کا احساس دیا ہے اور منٹ منٹ کی تفصیلات نوٹ کرنے پر توجہ مرکوز کرنے کا درس بھی دیا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ اس سفر کے لئے آپ چاہے کتنی بھی منصوبہ سازی کرلیں آپ کے سارے منصبے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ ہم نے موسم کا پورا اہتمام تو کیا مگر کہیں بائیک ہی خراب ہوجائے تو پھر آپ کیا کرسکتے ہیں ۔موسموں کا تو شمار کیا جاسکتا ہے مگر یہ کہاں کہا جاسکتا ہے کہ موٹر بائیک کب کہاں اور کیسے آپ کے سارے منصوبوں پر پانی پھیردیگی ۔

خوابوں کے ساتھ فنڈنگ بھی ناگزیر ہے ۔

روہت کہتے ہیں،  ''دنیا کا سفر یقینا ایک خواب سے کم نہیں لیکن اس کے لئے فنڈ بھی تو درکار ہوتے ہیں ۔ایک لاکھ کلو میٹر کا سفر کرنے کے لئے فنڈ بھی تو چاہیے .''

 جیسے ہی فنڈ کی بات آتی وہ مایوس ہوجاتے تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ اس وقت ممکن ہوا جب انہوںنے فنڈ اکھٹا کرنے کے لئے اسٹارٹپ شروع کیا FundMyDream کے نام سے انہوںنے یہ اسٹارٹپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ شروع کیا تھا اور اس سے انہیں پوری امید تھی کہ ان کے سفر کے لئے زاد راہ کا انتظام ہوجائے گا ۔ روہت نے اس کمپنی کے سی ای او کا عہدہ اب چھوڑ دیا ہے مگر وہ اس اسٹارٹپ کے شراکت دار ہیں ۔روہت کا کہنا ہے کہ انہوںنے اب تک چھ لاکھ روپئے کا فنڈ اکھٹا کرلیا ہے تاہم اس روپئے کو وہ اپنے بین الاقوامی ٹور کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

ہندوستان کی حد تک اپنے سفر کے لئے روہت ایک اسمارٹ آپشن رکھتے ہیں ۔انہوںنے اپنے اس سفر کو اسپانسر کرنے کی پیشکش کے ساتھ مختلف برانڈز اور کمپنیوں سے رجوع کیا اور پھر Wrangler نے ان کے کپڑوں کو اسپانسر کیا جبکہ WickedRide لکزری بائک رینٹل کمپنی نے ان کی گراونڈ پارٹنر ہوگی جو انکی بائیک کی ضروریات میں ان کی مدد کریگی اور واپسی میں روہت بائیک رائیڈنگ کے شائیقین کے لئے اپنے اس سفر کی تفصیلات بیان کرینگے ۔

جبکہ Zeus ان کے کول رائیڈنگ گیرس کو اسپانسر کررہی ہے اور آپ یقین نہیں کرینگے کہ ان کی داڑھی پر بھی انہیں اسپانسر شپ حاصل ہوئی ہے ۔

''یہ بات بڑی دلچسپ ہے کہ کیسے مجھے اپنی داڑھی کے لئے اسپانسر شپ ملی ۔گذشتہ برس جب میں مجھ میں دلچسپی رکھنے والے کچھ اہم اسپانسروں سے ملاقات کررہا تھا تو مجھے اس بات کا شدت سے احساس ہورہا تھا کہ مجھ میں کوئی بھی ویسی دلچسپی نہیں لے رہی ہے جیسی کہ مجھے توقع تھی ۔وہ سب سمجھتے تھے کہ میں ایک کمپیوٹر ہیکر ہوں ''

روہت کا کہنا تھا کہ جب اس نے دیکھا کہ لوگ اس کی شخصیت سے متاثر نہیں ہیں تو اس نے اپنی داڑھی بنانے کا فیصلہ کیا تاکہ لوگ کچھ تو سنجیدگی دکھائیں کم سے کم اس کی جانب متوجہ تو ہوں اس کی بات سنیں تو سہی اور پھر روہت کی یہ چال کام کرگئی ۔ حتی کہمجھے اسپانسر ملنے لگے ۔ایک دن میں نے استرہ نامی کمپنی سے رابطہ کیا جو دلہوں کی سجاوٹ کا سامان بیچتی تھی اس کمپنی کے ذمہ داروں نے میری داڑھی کی طرف دیکھا اور پھر میری داڑھی کو اسپانسر کرنے میں دلچسپی دکھائی یہ ایک انوکھی پیشکش تھی جس نے مجھے حیرت میں ڈال دیا تھا اور پھر میںنے اپنی داڑھی کو اسپانسر کرنے سے اتفاق کرلیا ۔اور بھی کمپنیاں تھیں جو اتحاد کے لئے مجھے اسپانسر کرنا چاہتی تھیں یقینا اتحاد اور امن کا یہ پیغام یونیورسل تھا اور اس میں مجھے کچھ تامل بھی نہیں ہوا ۔“

موٹر سائیکل ڈائیری ۔

اس بات کو ضبط تحریر میں لانے تک روہت نے جنوبی ہند کے تمام علاقوں کو کور کرلیا ہے اور فروری کی انیس تاریخ کو انہوںنے گوا میں منعقدہ انڈیا بائیک ویک میں بھی شرکت کرلی ہے ۔”انہوںنے مجھ سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا ۔”میں نے گوکرنا سے گوا تک ایک دلچسپ اور مزیدار رائیڈ کی تکمیل کرلی ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ میری تمام ہی رائیڈز یادگار رہی ہیں ۔مگر اس میں دلچسپ بات یہ ہے کہ میں نے اس سفر کو ایک سیلف ڈسکوری کے طور پر یاد گار بنادیا ہے ۔“(ان سے بات کرتے ہوئے جب میں نے تصور کے گھوڑے دوڑائے تو مجھے احساس ہوا کہ وہ کہنا چاہتے ہیں کہ گوا میں ساحل کے کنارے اور پھر باقی سفر کے دوران وہ سرد ترین ریت میں ایک فٹ اندر تک دھنسے ہوئے ہیں ۔“

روہت جو اپنے اس مہم جو سفر کے دوران اپنی اشیائے ضروریہ اور کپڑوں پر مشتمل ایک چھوٹا سا بیگ لیپ ٹاپ اور چارجس ساتھ رکھتے ہیں ۔کہتے ہیں کہ سفر کے دوران ضرورت کی چیزیں جتنی کم ہوں اور بیگ جتنا ہلکا پھلکا ہو کہیں بہتر ہے ۔“انہوںنے اپنے ہیلمٹ پر Gopro لگا رکھا ہے جو ان کے سفر کے ہر سیکنڈ کی ریکارڈنگ کرتا ہے ۔“ اپنے سفر کے حوالے ان کا کہنا تھا کہ تھا کہ یہ بہت معلوماتی اور دلچسپ رہا ہے اس ایک مہینے کے دوران میں نے مختلف زبان مختلف کلچر مختلف غذا اور مختلف مزاج کے لوگوں سے ملاقات کی ہے اور ان کی تہذیبوں کو بھی بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے ۔یہ ایک نایاب تجربہ ہے ۔“

ان کا کہنا تھا کہ ان کی اس مہم جوئی نے اجنبیوں کو بھی بہت متاثر کیا تھا اور کئی لوگوں نے جو اجنبی تھے انہیں اپنے گھر بلایا اور انہیں گھر میں قیام و طعام کی پیش کش بھی کی ۔ان کا کہنا تھا کہ جہاں انہیں رات بسر کرنے کے لئے ہوٹل یا پھر کسی کی جاب سے پیش کش نہیں کی گئی وہاں انہوںنے فٹ پاتھ پر سونے بس اسٹاپ پر سونے یا پھر کسی سنسنان جگہ پر پیڑ کے نیچے رات گذارنے میں ذراسی بھی شرم محسوس نہیں کی ۔ان کا کہناتھا کہ کئی بار انہوںنے پولیس اسٹیشن کے احاطے میں بھی رات بسر کی ہے ۔”ان کے مطابق اگر خدا نخواسطہ ان کا گاڑی چوری ہوجاتی ہے تو انہیں یہاں ٓانا پڑتا ۔ اسی سوچ کے ساتھ انہوںنے کہا کہ چلو ایسے نا سہی ویسے ہی سہی ۔“اور اسی سوچ نے انہیں پولیس اسٹیشن میں رات گذارنے کا حوصلہ بخشا ۔

روہت کا کہنا تھا کہ ۔حقیقی ہندوستان کا احساس کرنا انہیں اچھا لگتا ہے اور اس سفر کے دوران چائے والے کو اس کے اسٹال تک پہنچانے یا پھر کسانوں کو ان کے کھیتوں تک لفٹ دینے میں جو خوشی ہوئی اس کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا ۔“روہت کا کہنا ہے کہ بچپن ہی سے انہیں اس بات کا شوق تھا کہ وہ بس ڈرائیور کا سامان اٹھائیں یا پھر شو پالس والے کے سامان کو سر پہ اٹھائے اسے منزل تک پہنچائیں اور اس سفر کے دوران انہیں اپنے اس شوق کو پورا کرنے میں کافی مدد ملی ہے ۔“

خواب کو حقیقت میں بدلنے کا قدم۔

سن 2014 میں روہت نے اپنے دوست کے ساتھ مل کر FundMyDream اسٹارٹپ شروع کیا تھا ۔ روہت نے ایم بی اے کی تکمیل کے بعد اپنی انٹرن شپ کے حصول کے بعد جب کالج کی عمارت سے باہر نکل رہے تھے تو ان کی اپنے ایک دوست سے ملاقات ہوئی جو بہت غم زدہ تھا ۔اس نے کہا کہ وہ فلم بنانا چاہتا ہے مگر نہ تو اس کے پاس فنڈ ہے اور اسے نا ہی کوئی اسپانسر مل رہا ہے ۔ میں نے اسی وقت اس کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا اور اسی فیصلے کے تحت ہم نے اپنے نیٹ ورک کی مدد سے کوششیں شروع کردیں ۔ان ہی کوششوں کے دوران روہت کو ایک چالیس سالہ انگریز کے ایک آرٹیکل کو پڑھنے کا اتفاق ہوا جس میں اس نے لکھا تھا کہ اسے ہمیشہ اس بات کا افسوس رہے گا کہ بیس سال کی عمر میں دنیا گھومنے کا اس کا خواب پورا نہیں ہوسکا ۔روہت نے کہا کہ اس آرٹیکل نے انہیں سوچنے پر مجبور کیا ان کا کہنا تھا کہ مجھے بچپن ہی سے موٹر سائیکل پر دنیا گھومنے کا شوق تھا اس آرٹیکل نے مجھے تحریک دی تھی اور پھر میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے اپنے اس خواب کو عملی جامہ پہنانا ہے ۔روہت کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ان کے لئے بہت مشکل تھا مگر انہوںنے فیصلہ کر ہی لیا ۔

اس سفر کے بارے میں روہت کا کہنا ہے کہ یہ سفر انہیں دنیا گھومنے کا موقع فراہم تو کریگا ہی اس کے ساتھ ساتھ انہیں بہت کچھ سیکھنے کا بھی بھر پور موقع عطا کریگا ۔روہت کا کہنا تھا کہ موٹر سائیکل کا یہ سفر ان کے لئے کسی مراقبے سے کم نہیں ہے ۔انہوںنے کہا کسی شخص کو اپنے دل کی بات سنتے ہوئے دنیا کے سفر کا حوصلہ وہ بھی اپنے خود کے ہاتھوں سے موٹر سائیکل چلاتے ہوئے اس خواب کی تکمیل کرنا یقینا حیرت انگیز بھی ہے دلچسپ بھی اور یادگار بھی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مصنفہ ۔دپتی نائیر ۔

مترجم۔سجادالحسنین سید۔

اس طرح کی کچھ اور دلچسپ کہانیاں پڑھنے کے لئَےہمارےفیس بک پیج پر جائیں اور FACEBIOOK پر کلک کریں۔ لائک کریں۔