ماضی کی شہر افاق ٹینس کھلاڑی شکھا اوبیرائے ٹی وی شو کے زریعہ جیت رہی ہیں دنیا کا دل

0

 زندگی میں اگر حالات اپنی توقعات کے مطابق نہ بھی ہوں تو ہمت نہ ہاریں کامیابی کے لیے کئی متبادل راستے موجود ہیں بس تھوڈے حوصلہ کی ضرورت ہے۔

کبھی ہندوستاں کی نمبر ایک اور دنیا میں 122 ویں نمبر پر رہی مشہور ٹینس کھلاڑی شکھا اوبیرائے نے اپنی زندگی کی 32 بہاریں دیکھنے کے بعد اپنی ٹینس ریاکٹ کو چھوڈ دیا اور ٹی وی پروڈکشن کے ذریعے زرایع ابلاغ کے میدان میں اپنی قسمت آزما رہی ہیں۔ انہوں نے پرنسٹن میں جنوبی ایشیائی مطالعہ کے ساتھ ہیومن سائنس (اینتھروپولاجی) میں پروگرامنگ کے لئے ڈیجیٹل آلات پر مقالہ میں A + حاصل کیا جو ان کے کیریئر کی دوسری اننگز کی شروعات کے لئے بنیاد کا پتھر ثابت ہوا۔

ان کا بچپن ہندوستان اور امریکہ میں گزرا اس دوران ٹینس ان کی زندگی کا ایک لازمی حصہ بن گیا۔ ان کے لیے یہ بات راز نہیں تھی کہ گھرکے لوگ لڑکے کی پیدائش کی توقع پالے بیٹھے تھے جبکہ ان کے علاوہ گھر میں چاراور بہنیں تھی۔

شکھا کہتی ہیں،'' آج میرے والد ہمسے کہتے ہیں کہ پانچ بیٹیوں نے انکا سر فخر سے بلند کیا ہے جتنا 50 لڑکے مل کر بھی نہیں کر سکتے تھے۔۔۔۔ آج میں جو کچھ بھی ہوں اور جس مقام پر ہوں وہاں صرف اس لئے ہوں کیونکہ میرے والد نے ایک لڑکے سے کہیں زیادہ بہتر طریقے سے ہماری پرورش کی گیی۔ ''

بہت سے کاموں میں مہارت حاصل کرنے کی عادت انہیں اپنی دادی سے وراثت میں ملی جنہیں وہ پیار سے 'دادو' کہتی ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ سے ہی اس بات پر زور دیا کہ ہر لڑکی کو چاہیےکم از کم ایک کھیل یا فن کو اپنے لئے منتخب کرے اور اس میں مکمل مہارت حاصل کرے۔ ایسا لگتا ہے کہ شکھا اور ان کی بہن نیہا ٹینس کے لئے ہی بنی تھی۔ان کا خاندان ان دونوں کی اس صلاحیت کو پرکھنے میں پیچھے نہیں رہا۔ چاہے انہیں پرنسٹن جیسے سرد علاقے کو چھوڑ کرتربیت کے لئے زیادہ سازگار گرم علاقہ فلوریڈا جانے کا فیصلہ ہی کیوں نہ ہو۔ وہ کہتی ہیں،'' میں اپنی بہن اور اپنے والد کے ساتھ فلوریڈا آ گئی اور وہاں آنے کے بعد میرے والد باورچی خانے میں ہمارے لئے کھانا پکاتے اور اس بات کا یقینی بناتے کہ کھانے میں پروٹین کے ساتھ دال وغیرہ کی مقدار کا تعین کرتے۔ وہ ہمیں ڈاکٹر کے پاس لے جانے تک کے کام کرتے۔انہوں نے ہمیشہ ہی ہمیں لڑکوں کے خلاف کھیلنے، ان کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے میچوں کے دوران ان کو شکست دینے کے لئے حوصلہ افزائی کی۔''

اگرچہ اس کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جو اصل میں بہت تاریک بھی تھا، انہیں صرف 12 سال کی عمر کے بعد سے ہی اپنی ماں سے الگ رہنا پڑاتھا، وہ کہتی ہیں،'' کچھ ایسی قربانیاں ہیں جسے ہر کسی کو دینا پڑتا ہے۔ شکھا کے مطابق ان پر ہر طرف سے بہتر اور خود کو ثابت کرنے کے لیے بہت زیادہ دباؤ تھا۔ 12 سالہ لڑکی کے لیے یہ بہت زیادہ تھا۔''ماں کے سائے سے دور رہنے کا دوسرا مطلب یہ تھا کہ ان کے چاروں طرف ایسا کوئی نہیں تھا جس سے وہ اپنے قلبی جذبات اظہارکر سکے اور اان حالات میں انہیں اپنے جذبات کو دل میں ہی دبا کر رکھنا پڑا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ مضبوط ہوتی گئیں جو لچکدار رویہ اختیار کرنے کے لئے بہت بڑا ہتھیار ہے بن سکا۔

صرف 10 سال کی عمر میں شکھا امریکہ میں جونیر درجہ بندی میں سب سے ٹاپ رینک پر قابض ہونے میں کامیاب رہی۔ انہوں نےسخت محنت کے سلسلہ کو جاری رکھا اور جلد ہی ڈبلیوٹی اے ٹور میں امریکہ کی نمائندگی کرنے کے لئے ان کا انتخاب ہو گیا۔

اس کے بعد انہوں نے اپنا پورا وقت ٹینس کے کھیل میں لگایا۔ جس کے نتیجہ میں انہیں سال 2000 میں محض 17 سال کی عمر میں اسکول کو الوداع کہنا پڑا۔ ان کے لئے یہ غلط فیصلہ بھی نہیں تھا کیونکہ اس وقت وہ بہترین فارم میں تھیں اور انہیں ہرانا تقریبا ناممکن تھا، جس کی بدولت وہ کامیابی کی منزل پر اپنے قدم بڑھاتی جا رہی تھی۔ تاہم شکھا اپنے پہلے ہی سال میں کئی ختابات جیتنے میں کامیابی رہی۔ وہ ہمیشہ اپنے وطن کی نمائندگی کرنے کے لئے بے چین رہتی۔

ان کا یہ خواب اگلے ہی سال پورا ہوا جب وہ کسی بھی گرانڈ سلام کے دوسرے راؤنڈ میں پہنچنے والی دوسری ہندوستانی ہندوستانی کھلاڑی بننے میں کامیاب رہی اور وہ ٹورنامنٹ تھا فلشنگ ميڈوس۔ ہندوستانی میڈیا نے ان کی اس کامیابی کا جشن منانے اور انہیں سر آنکھوں پر بٹھانے میں کوئی کثرباقی نہیں رکھی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اس کے بعد ہندوستان کی نمائندگی کریں گی تو انہوں نے ایک بار بھی نہیں سوچا اور فوری طور پر اس موقع سے فائدہ اٹھایا!

اپنے پانچ سال کے کیریئر کے دوران وہ تین آئی ٹی ایف خطاب جیتنے میں کامیاب رہی اور اپنی بہن نیہا کے ساتھ ڈبلز کے دو ڈبلیوٹی اے کے فائنل میں رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ لیکن حادثات کے سلسلہ نے انہیں زندگی کے مقصد کے بارے میں غور کرنے پر مجبور کر دیا اور وہ اس سوچ میں پڑ گئی کہ کیا یہی وہ سب کچھ ہے جو وہ کرنا چاهتی ہیں اور کیا یہی ان کی شناخت بنے گی؟ شروع میں حکومت کی پالیسیوں میں تبدیلیاں نے انہیں ہندوستان کی نمائندگی کرنے کی اجازت نہیں دی کیونکہ قانونی طور پر وہ ایک دوسرے ملک کی شہریت رکھتی تھی۔ کانپتی ہوی آواز میں کہتی ہیں، ''یہاں پر مدعہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ میرا دل اور جزبات کہاں جڑے ہیں لیکن ہندوستانی حکومت اپنے کھلاڑیوں کے ساتھ ایسا ہی برتاؤ کرتی ہے۔

انہیں اس صدمے اور مایوسی کے دور سے باہر آنے میں دو سال کا وقت لگا۔ اس دور نے انہیں آنکھیں بند کر کے اپنے کیریئر پر منحصر نہ رہنے کا حوصلہ دیا اور ساتھ ہی انہیں کچھ دیگر خامیوں کا تجزیہ کرنے کا بھی موقع ملا۔

ہیومن سائنس اور پولیٹیکل سائنس کی شوقیں اس لڑکی کو کسی بھی ٹور کے دوران اپنی سوچ والے ساتھی نہیں ملتے، وہ کہتی ہیں،'' میں ٹینس سے الگ کسی بھی موضوع پر بات چیت کرنے کے لئے ترستی اور یہ حالات میری اس خواہش کی تکمیل کرنے کے قابل نہیں تھے۔''

ایسے میں انہوں نے خود کو اس دور میں واپس لے جانے کا فیصلہ کیا جہاں انہوں نے اپنی تعلیم چھوڑی تھی تاکہ وہ اپنی زندگی کو ایک نیا موڈ دے سکے جس کے لیے انہیں پرنسٹن کی شکھا آنٹی ہی کیوں نہ کہلوانا پڑے۔

وہ بتاتی ہیں کہ صرف 21 سالہ نوجوانوں کے درمیان ایک بار دوبارہ کالج جانے، ان کے لئے بڑی بہن کا کردار اداکرنا، کالج کے مختلف تجربات اور اس کورس کے مختلف موضوعات نے زندگی کے متعلق ان کا نظریہبالکل بدل دیا۔ وہ کہتی ہیں کہ اس وقت میں یہ سوچنے لگی،''میں ایک کھلاڑی بن سکتی ہوں اور ایک ماہرانسانیت بھی بن سکتی ہوں۔ میں ایک طالب علم بننے کے ساتھ ایک کاروباری بھی بن سکتی ہوں۔ ''

وہیں پر انہوں نے سماجی زمہ داریوں کے متعلق کلاسس میں شرکت کرنا شروع کیا اور فوائد کے لئے سماجی سرمایہ کاری کے تصور کا بھی مطالعہ کیا۔

'' یہ میں ہوں. میں ایسی ہی ہوں اور میں یہی کرنا چاہتی ہوں۔ ''

پروگرام کے اختتام کے بعد وہ ہندوستان لوٹ آئیں اور اس بار ان کا ارادہ میڈیا کے اثر کا استعمال سماجی تبدیلی کے میدان میں کرنا تھا ۔وہ کہتی ہیں،'' میں نے لہجوں،اقدار اور اصولوں کے ساتھ توازن پیدا کیا۔ میں نے روٹی کے ٹکڑوں کو اپنے ہاتھوں سے توڑنا شروع کیا اور چاپ اسٹكس امریکہ میں ہونے والے ظہرانوں کے لئے چھوڑ دیے۔ میرا سامنا کبھی بھی اس قسم کی شناخت کے بحران سے نہیں ہوا جس سے زیادہ تر ہند-امریکی افراد سامنا کرتے ہیں کیونکہ میں ہمیشہ ثقافت کے ان تمام پہلوؤں کے ساتھ رابطے میں رہی جن سے میں اپنے بچپن کے دوران روشناس ہوئی تھی۔''

شکھا نے انڈ ڈاٹ كام کے انڈین ورژن کا قیام عمل میں لایا جس سے انہوں نے 'بامقصد پروگرامنگ' کے تصور پر کام کرنا شروع کیا۔ انہوں نے 'کون بنے گا ہیرو' کے عنوان پر ایپيسوڈس کا ایک سلسلہ شروع کیا جو گمنام ہہیرو کی کہانی کو لوگوں کے سامنے پیش کرتی ہے۔

''ان کا کہنا ہے کہ بامقصد پروگرامنگ لوگوں کو کچھ کرنے کے لئے حوصلہ فراہم کرتے ہیں۔ میری کمپنی کہانی کے ذریعے بیداری لانے اور تفریح فراہم کرنے ​​کا کام کرتی ہے۔ لوگوں نے مجھے ایک ایسی لڑکی کے طور پر دیکھا جس نے تمام عمر صرف ٹینس کھیلا اور اچانک قومی ٹی وی پر چھانے کے کوشش کرنے لگی، انہوں نے میرے اندر کے جذبات نہیں دیکھے۔ ''

ان کا تیار کردہ پروگرام این ڈی ٹی وی پرائم ان کی توجہ اور مصمم عزائم کا نتیجہ تھا اور صرف یہ دیکھنے والے ہی سمجھ سکتے ہیں کہ شکھا نے اسے تیار کرنے کے لئے کتنی محنت اور مکمل تحقیق کی ہے اور پھر وہ اس دنیا کے سامنے لانے میں کامیاب رہی۔ وہ کہتی ہے،'' مجھے ایسا لگا کہ تمام بکھرے ہوئے پل میرے ساتھ آ گئے ہیں، میرا خاندان کبھی بھی میرے اوپر کسی قسم کا دباؤ ڈالنے والا نہیں تھا۔ میرے سرمایہ کاروں نے اس بات کا یقین کر لیا کہ دولت آتی رہے اور میری ٹیم نے ہمیشہ میرے خواب کو پورا کرنے میں میرا ساتھ دیا اور جلد ہی این ڈی ٹی وی نے ہمارا ساتھ دینے کی پیشکش کی۔اور میں نے ایک قسم کا موقع دیا اور انہوں نے بھی اس بات میں کوئی کسر نہیں چھوڑی کہ اسے وہ سرخیاں ملے جن کے وہ حقدار ہیں۔ ''

تحریر: بنجل شاہ

ترجمہ:محمد عبدالرحمٰن خان