ڈیجیٹل انڈیا ...اختراعی "ای۔ٹیچنگ" کے بانی محمد شکیل انجینئر  

0

تعلیم کے شعبے میں اپنی نوعیت کی اولین کاوش

آزادانہ طور پر سماج کے لئے کچھ کرگزرنے کا فیصلہ

اردو بیاضوں اور اسٹکرس کی اشاعت کا جرات مندانہ اقدام:

اعظم کیمپس پونے میں کیا ای۔ٹیچنگ میلے کا انعقاد

"ہماری اسی چلتی پھرتی دنیا میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں، جو اپنے دل میں کچھ نیا کرنے کا جذبہ رکھتے ہوئے ہر سانس کو جیتے ہیں۔ انجینئر محمد شکیل ایسے ہی ایک شخص ہیں جنہوں نے کچھ نیا کردکھانے کے جذبے سے مغلوب ہوکر سرکاری ملازمت کے مقابلے میں آزادانہ طور پر سماج کے لئے کچھ کرگزرنے کا فیصلہ کیا اور کافی محنت ، جدوجہد اور عزمِ مسلسل کے ساتھ آج وہ ملک بھر میں "ای۔ ٹیچنگ " کے لئے ایک متبادل نام بن چکے ہیں۔ 'یور اسٹوری' نے ان سے ملاقات کرکے ان کے اس سفر کے بارے میں جو تفصیل حاصل کی، ہم اسے آپ کے لئے پیش کر رہے ہیں۔"

مجروح سلطانپوری کا ایک شعر ہے۔

دیکھ زنداں سے پرے رنگِ چمن ، جوشِ بہار

رقص کرنا ہے تو پھر پاؤں کی زنجیر نہ دیکھ

محمد شکیل پیشے سے انجینئر ہیں۔ ابتداء میں عام نوجوانوں کی طرح انہوں نے بھی ملازمت حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن عین اس وقت جب ملازمت ملنے کے امکانات بہت روشن تھے، انہوں نے اپنا فیصلہ تبدیل کر لیا اور آزادی کو غلامی پر ترجیح دی۔

چونکہ وہ کچھ عرصے کے لئے تدریس کے فرائض انجام دے چکے تھے، اس لئے انہوں نے دیکھا کہ تدریس کے شعبہ میں سب کچھ پُرانے دھڑے پر چل رہا ہے۔ زمانہ جس رفتار سے ترقی کر رہا ہے اور ٹکنالوجی جتنی تیزی سے زندگی کے ہر شعبے میں اپنے قدم جماچکی ہے ، تدریس کے شعبے میں اس کا ترقی کا کہیں نام و نشان نہیں تھا۔ لہٰذا انہوں نے اپنے لئے یہی میدانِ کار منتخب کیا اور تدریس کو نئی سمتوں اور نئی ٹکنالوجی سے روشناس کرنے کی ترکیب تلاش کرنے میں جُٹ گئے۔

ای ۔ ٹیچنگ کا نیا تصور:

آخر کار انہوں نے تدریس کے شعبے میں کچھ نیا کر دکھانے کے لئے ایک نئی جہت کا تعین کرلیا۔ یہ ایک نیا تصور تھا جس کا عنوان تھا " ایَ ۔ ٹیچنگ" ۔

جی ہاں، محمد شکیل نے ای۔ گورننس، ای۔ میل، ای۔ لرننگ ، ای۔ کامرس، ای۔ بزنس وغیرہ کی طرز پر ایک نئے تصور کی ابتداء کی یعنی 'ای۔ ٹیچنگ'۔ ای۔ ٹیچنگ کا مطلب یہ تھا کہ اب تک جو ٹکنالوجی زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں داخل ہوچکی تھی، تدریس کا پیشہ اس سے ابھی تک متعارف نہیں ہوا تھا اور یہ کام کِیا محمد شکیل انجینئر نے ۔ انہوں نے دیکھا کہ ملک میں دیگر بہت سی زبانوں کے مقابلے میں اردو اسکولوں کے معلمین میں نئی ٹکنالوجی کے متعلق بیداری بہت کم تھی۔ جب کہ یہ لوگ اپنی نجی زندگی میں اسی ٹکنالوجی کا استعمال دھڑلے سے کرتے تھے۔ محمد شکیل کا تخلیقی ذہن اس سلسلے میں بھی اپنا کام کر رہا تھا۔ وہ کہتے ہیں،

"مجھے یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوتاتھا کہ اردو مدارس کے معلمین نئی ٹکنالوجی کے تئیں بہت زیادہ بیدار نہیں تھے۔ میں نے سوچا ، ایسا کب تک چلے گا؟ کسی نہ کسی کو تو پہل کرنی ہی ہوگی۔ تو پھر وہ پہل کسی اور سے کیوں ہو؟ میں ہی یہ پہل کرتا ہوں۔ لہٰذا میں نے کچھ اختراعی باتوں پر غور و فکر شروع کردیا اور اللہ نے میرے ذہن میں کچھ باتیں روشن کردیں۔"

ای۔ ٹیچنگ میلے کا انعقاد :

محمد شکیل نے ایک نئے خیال کو سمت دینے کے لئے پیش قدمی شروع کردی۔ انہیں ای۔ٹیچنگ میلے کا انعقاد کرنے کا سوچا۔ ایسے میں انہیں ساتھ ملا مہاراشٹرا کے مشہور تعلیمی ادارے اعظم کیمپس، پونے، کے منتظمین پی۔اے۔انعامدار اور منور پیر بھائی کا۔ انہوں نے اعظم کیمپس پونے میں محمد شکیل کو ای۔ٹیچنگ میلے کے انعقاد کے لئے ہر طرح سے امداد دی اور لیجئے، شروع ہوگیا "ای۔ٹیچنگ میلہ" ، بمقام اعظم کیمپش ، پونے۔

جب ای۔ ٹیچنگ میلے کی شروعات ہوئی تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ ایک ایسا تصور دیا جارہا ہے جو نہایت عام فہم ہے اور جو اساتذہ کی تھوڑی سی توجہ چاہتا ہے۔ محمد شکیل انجینئر ، جیسا کہ ان کے نام کے آخری حصے سے ظاہر ہے کہ انہوں نے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی تھی لیکن ان کے اندر کے انجینئر نے اب ایک محقق اور تعلیمی میدان میں کام کرنے والے ایک روشن خیال اور کچھ نیا کردکھانے کا جذبہ رکھنے والے فعال و متحرک شخص کا روپ دھارن کر لیا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ انجینئر تو وہ قسمت سے بن گئے تھے لیکن ان کی منزل تو تعلیم و تعلم کے پیشے کو کچھ نیا دینے کی ہے۔

انہوں نے اب تک ساری ریاست میں سینکڑوں جگہوں پر اساتذہ کے عظیم اجتماعات کو ای۔ٹیچنگ کی تربیت دے کر انہیں اس کام کے لئے تیار کیا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ انہوں نے اب تک ہزاروں اساتذہ کو ای۔ ٹیچنگ کے لئے ایسے تیار کردیا ہے جیسے یہ اساتذہ پہلے ہی سے اس کام کے لئے ذہنی طور پر تیار رہے ہوں جب کہ حقیقت میں یہ محمد شکیل کی صالح فکر اور ان کے قومی جذبے کی اثر انگیزی ہے۔ ان سے تربیت پانے والے ان اساتذہ میں مر د و خواتین ، دونوں یکساں طور پر شریک ہیں۔ اب بھی وہ جہاں جہاں ای ۔ ٹیچنگ کی تربیت دیتے ہیں، اس جگہ اساتذہ کی تدریس میں واضح طور پر تبدیلی دیکھی جاسکتی ہے۔

'ٹیچنگ اور ای۔ ٹیچنگ' نامی کتاب کی تصنیف:

محمد شکیل انجینئر نے ای ۔ ٹیچنگ کے موضوع پر ایک کتاب بھی لکھی ہے، جس کا عنوان ہے 'ٹیچنگ اور ای۔ ٹیچنگ' اس کتاب میں انہوں نے نہایت سلیس اور سادہ زبان اور مکالماتی انداز میں طلباءاور اساتذہ سے یکساں گفتگو کی ہے۔ کتاب شکل کے لحاظ سے کتاب ہے لیکن مواد کے لحاظ سے مکالمات ہیں محمد شکیل اور اساتذہ و طلباء کے درمیان۔ اس کتاب میں انہوں نے کوئی عالمانہ انداز اختیار نہیں کیا ہے بلکہ ایک نہایت سادہ اور بے تکلفانہ طرزِتکلم ہے جو براہِ راست پڑھنے والے کے دل پر اثرا نداز ہوجاتا ہے۔

تدریسی مشاعرے کی اختراع:

محمدشکیل نے ای۔ ٹیچنگ میلے کے دوران مزید ایک اختراعی سرگرمی انجام دی۔ انہوں نے ریاست بھر کے شعراء کو جن کی اکثریت تدریس کے پیشے سے ہی وابستہ ہے، دعوت دی کہ وہ صرف تدریسی مواد پر ہی اپنی شاعرانہ صلاحیت کا استعمال کرتے ہوئے اس شعبہ میں کچھ خدمات پیش کریں۔ اس کام کے لئے انہوں نے ایک کُل ریاستی 'تدریسی مشاعرے' کا انعقاز 4 اور 5 مئی 2014 کو اعظم کیمپس میں منعقدہ 'ای۔ ٹیچنگ میلے' کے دوران کیا۔ تدریسی مشاعرے میں شریک شعراء کو کسی بھی جماعت کی اور کسی بھی مضمون کی درسی کتاب کی کسی اکائی پر ایک نظم تخلیق کرکے پیش کرنی تھی۔ اس میں تین انعامات رکھے گئے تھے، پہلا انعام ایک ٹیبلیٹ فون، دوسرا اور تیسرا انعام سیمسنگ موبائل فونس تھے۔ اس ای ۔ ٹیچنگ میلے اور تدریسی مشاعرے میں مشہور ماہرِ تعلیم جناب مبارک کاپڑی، جناب پی۔ اے ۔ انعامدار، محتمہ عابدہ انعامدار، محترم منور پیر بھائی، محترمہ ممتاز پیر بھائی، مہاراشٹر اسٹیٹ اردو اکاڈمی کے سکریٹری جناب قادری صاحب اور دیگر بہت سے معززین موجود تھے۔ اس تدریسی مشاعرے میں اردو اور انگریزی کے مشہور و معروف شاعر جناب خان حسنین عاقبؔ کو ان کی نظم " پارٹس آف اسپیچ" کو متفقہ طور پر تمام ججس کی جانب سے اول انعام کا حقدار قرار دیا گیا۔ یہ تدریسی مشاعرہ اصل میں اساتذہ کے بے فیض شعری تخلیقات کے پھیر سے نکال کر انہیں ان کے پیشے کے تئیں ذمہ دار بنانے اور اپنی شاعرانہ صلاحیت کو تدریس کے لئے استعمال کرنے کے لئے راغب کرنے کے مقصد سے منعقد کیا جاتا ہے۔ اسی ای ۔ ٹیچنگ میلے میں اساتذہ کے لئے عاجلانہ جواب مقابلہ بھی رکھا جاتا ہے جس میں اساتذہ سے کچھ سوالات کئے جاتے ہیں جن کے جوابات اساتذہ کو اپنے موبائل فونس یا اسمارٹ فونس یا ٹیبلیٹ یا کسی بھی آن لائن ذریعے کے حوالے سے دینے ہوتے ہیں۔ جو شریک فوری جواب دیتا ہے ، اسے اول انعام کا حقدار قرار دیا جاتا ہے۔ اس مقابلے کی وجہ سے اساتذہ میں نئی ٹکنالوجی کو اپنی تدریس کے دوران استعال کرنے کی ترغیب اور رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔ اس ای۔ ٹیچنگ میلے کے نتائج بہت مثبت پائے جا رہے ہیں۔

اردو بیاضوں اور اسٹکرس کی اشاعت کا جرات مندانہ اقدام:

محمد شکیل کے متحرک دماغ کی اُپج ایک اور اختراع اور جرات مندانہ کام ہے ۔ اور وہ کام ہے اردو میں نوٹ بکس اور اردو تعلیمی اسٹکرس کی اشاعت اور فروخت۔ انہوں نے دیکھا تھا کہ پوری ریاست میں اردومیں طلباء کی کتابوں پر چسپاں کرنے کے لئے اسٹکرس نہیں ہوتے اور نہ ہی اردو مضامین لکھنے کے لئے دائیں جانب سے شروع ہونے والے نوٹ بکس دستیاب ہوتے ہیں۔ اس صورتِ حال کے مدِنظر انہوں نے اردو نوٹ بکس اور اردو اسٹکرس بڑے پیمانے پر شائع کئے ۔ ان نوٹ بکس کے سرورق اور ان اسٹکرس کی خاص بات یہ تھی کہ ان پر مخصوص پیغامات، صالح فکر کے حامل اقوال اور اشعار اور ہمارے فراموش کردہ بزرگوں، سائنسدانوں ، تاریخ دانوں اور بادشاہوں کی تصاویر اور ان کی مختصر سوانح سے مزین ہوتے ہیں۔ اس طرح بیاضوں اور اسٹکرس کی بہت مانگ بڑھ چکی ہے جس کا سہرا محمد شکیل کے سر بندھتا ہے۔

محمد شکیل کے اس 'ای۔ ٹیچنگ 'مشن کو دور درشن اور ای۔ٹی وی و سہارا ٹی۔ وی جیسے مشہور چینلس پر بھی دکھایا جاتا ہے۔ کئی قومی اور بین الاقوامی اردو اور ہندی اخبارات میں محمد شکیل انجینئر کے تحریر کردہ تعلیمی مضامین بھی شائع ہوتےہیں اور خود محمد شکیل انجینئر پر کی خدمات پھر بھی کئی اخبارات میں مضامین شائع ہوچکےہیں۔

آج محمد شکیل کی شہرت اور ان کے کام کی مقبولیت ریاستِ مہاراشٹرا سے باہر نکل رہی ہے۔ آج کل وہ آندھرا پردیش اور کرناٹک میں بھی مدعو کئے جارہے ہیں۔ یہ ان کے کام کی قدردانی ہے ۔ قوم ان کے توقع کرتی ہے کہ وہ اپنے اس مشن کو 'ڈیجیٹل انڈیا' سے وابستہ کرکے پیش کریں جو پہلے ہی سے ایک ڈیجیٹل بنیاد پر چلایا جارہا مشن ہے،

غالباً اس وقت سے جب ہمارے ملک میں 'ڈیجیٹل انڈیا' کا تعرہ بلند بھی نہیں کیا گیا تھا۔

اسی لئے علامہ اقبالؔ کہتے ہیں،

سبق پھر پڑھ شجاعت کا ، صداقت کا ، عدالت کا

لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

تحریر : خان حسنین عاقبؔ

Author: Khan Hasnain Aaqib