خود کی حوصلہ افزائی بھی کافی اہم: سُمِت سنگھ

0

سُمِت سنگھ تلنگانہ ریاست کی ٹورزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے

ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں

وہ کارپوریشن کے انچارج ایم ڈی کے طور پر عہدہ بھی سنبھال چکے ہیں

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹورزم اینڈ ہاسپٹالٹی (نتھم) کے ڈائریکٹر بھی رہے ہیں۔

with turism corporation MD Dr Christina Z chongthu
with turism corporation MD Dr Christina Z chongthu

وہ چارٹیڈ اكاونٹنٹ بننا چاہتے تھے۔ اس کے لئے انہیں داخلہ مل بھی گیا تھا، لیکن گھر کے لوگوں نے انہیں سیاحت کی تعلیم پر زور دیا اور آج وہ ریاست کے ایک سیاحتی ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا اہم عہدہ سنبھال رہے ہیں۔ بات سمت سنگھ کی ہے۔ تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد انہوں نے نئے سیاحتی کارپوریشن کے قیام میں کافی اہم کردار ادا کیا۔ 1961 کو ٹكمگڑھ میں پیدا ہوئے سمت سنگھ کی زندگی میں ساحت کا شعبہ اتفاق رہا ہو، لیکن انہوں نے اس کو اپنی زندگی دے دی۔ سیاحت اور مہمان نوازی کی صنعت سے منسلک بہت سے دلچسپ واقعات ان کی زندگی کا حصہ ہیں۔

کس طرح سے ہوا اس پیشے میں آنا

دہلی کے ماڈل اسکول میں اسکول کی تعلیم (12 ویں تک) مکمل کرنے کے بعد میں نے دہلی کے شری رام انسٹی ٹیوٹ میں داخلہ لے لیا تھا۔ در اصل میں اسکول میں ٹینس کھیلا کرتا تھا۔ اسی کی وجہ سے شری رام انسٹی ٹیوٹ میں مجھے داخلہ مل گیا تھا، ورنہ وہاں تو۱۰۰ فیصد نشانت ملنے والوں کو ہی داخلہ ملتا تھا، کھیلوں کے کوٹے میں مجھے وہاں داخلہ مل گیا۔ داخلہ ملنے کے بعد ایک نئی بحث شروع ہوئی۔ گھر کے لوگوں نے وضاحت سمجھانا شروع کیا کہ میں سی اے جیسی کافی مشکل پڑھائی نہیں کر پاوں گا۔ پتہ نہیں وہ باتیں صحیح تھیں یا نہیں۔ کبھی اس کےصحیح یا غلط ہونے کے بارے میں سوچتا ہوں تو بھی درست نتیجے پر نہیں پہنچ پاتا۔ ویسے اب اس معاملے پر سوچنے کا وقت نکل چکا ہے۔ ویسے! میں نے سی اے کی تعلیم کا دروازہ بند کر کے هوٹل مینجمنٹ کی ڈگری میں داخلہ لے لیا۔ وہ تین سال میں یہی سوچتا رہا کہ کالج سے بھاگ جاؤں، لیکن ایسا نہیں کر سکا اور ڈگری مکمل ہو گئی او تاج گروپ میں ٹرینی کیپٹن کے طور پر نوکری مل گئی۔

1982 کا زمانہ تھا، جب دہلی میں ایشین گیمز ہو رہے تھے۔ بہت نئی نئی هوٹلے کھلی تھیں۔ اس وقت تک اب سیاحت کی صنعت کا اس طرح سے بول بالا نہیں تھا۔ لوگ ہوٹل مینجمنٹ کو احترام کی نظر سے نہیں دیکھتے تھے۔ تاج گروپ میں کام کرنے کے دوران ہی ہائڈ ریجنسی نامی نئی ہوٹل کھلی تھی۔ اس کےمنیجر ٹرینی کے عہدے پر میرا انتخاب ہوا اور پھر تربیت کے کئی دور گزرے۔ بچری کا کام سنبھالا، مرغی اور مچھلی کاٹی، سبزیاں کاٹی، ایک ماہ تک آنکھ سے آنسو بہاتے ہوئے پیاز کاٹی۔ سوچا نہیں تھا کہ ایک پبلک سكول کے طالب علم کو یہ سب کرنا پڑے گا۔

چالنج سے بھری رہی ابتداء

چیلنج تو اس وقت آتا ہے جب ذمہ داریاں سنبھالنی پڑتی ہیں۔ ابتدائی تربیت کے بعد ہوٹل کے مالک ایس كے سیٹھيا صاحب نے مجھے اسسٹنٹ منیجر پرچیس بنا دیا۔ وہ بہت سلجھے ہوئے شخص تھے۔ ان کے پاس ایمانداری کی قیمت بہت زیادہ تھی۔ میں 24 سال کا تھا۔ 2 لاکھ کی سبزیاں خریدنی پڑتی تھی، اس کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پوری خریداری کا کیا حال ہوگا۔ پوری ذمہ داری مجھ پرتھی۔ پورے اختیارات بھی دیے گئے تھے۔ ہوٹل کے بڑے افسر جرمن اور انگریز تھے۔ انڈیا گینگ سگریٹ کافی مشہور تھی۔ وہ کھلے بازار میں نہیں ملتی تھی۔ بلیک میں خریدنا پڑتا تھا۔ اس وقت اس کی ایک ڈبّی 40 روپے میں ہوا کرتی تھی اور بلیک میں وہ 50 روپے میں ملتی۔ چونکہ سارا مالیاتی کنٹرول میرے ہاتھ میں تھا، تو جب حساب کتاب ہوا تو سگریٹ کی ڈبٰی 50 روپے میں خریدے جانے پر اعتراض ہوا، لیکن سیٹھيا صاحب میرے حق میں کھڑے رہے۔ اس کے بعد انہوں نے پہلے فڈ اینڈبیوریجس اور پھر بعد میں ریستوران کا منیجر بنا دیا۔

حیدرآباد کا رخ

آئی بی کے سربراہ کے طور پر ریٹائر ہوئے اے کے دیو ميسور میں اپنا بڑا ہوٹل کھول رہے تھے۔ انہوں نے اس ہوٹل کے لئے میرا انتخاب کیا۔ میری شادی کو ایک سال ہو رہا تھا۔ اپنی الگ زندگی نئے طریقے سے شروع کرنے کی سوچی اور چار ٹرنک اور ایک سکوٹر لے کر دہلی سے ميسور چلا آیا اور یہیں سے حیدرآباد آنے کی راہ بنی۔ ایک دن اے پی ٹی ڈی سی کا اشتہار چھپا تھا۔ مجھے منیجر اكامڈیشن اینڈ کیٹرنگ کے عہدے پر منتخب کر لیا گیا اور اس طرح 1989 میں سرکاری نوکری کے ساتھ حیدرآباد آنے کا موقع ملا۔

آسان نہیں تھی سرکاری نوکری

مجھے یاد ہے جب میں نے مہمان نوازی کی صنعت میں قدم رکھا تھا، کسی نے کہا تھا، 'اپنے ہاتھوں میں جو آگ ہے، اسے بند نہیں رکھا جا سکتا، کسی نہ کسی دن اسے باہر آنا پڑے گا۔' حیدرآباد آنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ یہاں بہت کام کرنا باقی ہے۔ سب سے پہلے تو مجھے اپنے عہدے کا نام تبدیل کرنا تھا۔ وہ نام بہت کم کسی کی سمجھ میں آتا تھا۔ اس کا نام بدل کر اسسٹینٹ منیجر ہوٹلس رکھا گیا۔ سرکاری املاک کے نام پر صرف گیسٹ ہاؤس تھے، جنہیں ہوٹل میں تبدیل کر دیا گیا۔ کام کرنے والے لوگ زیادہ تر محکمہ آب پاشی کے تھے اور وہاں پرانے طور طریقوں سے کام چل رہا تھا۔ اسے بھی آہستہ آہستہ تبدیل کرنا پڑا۔ پھر جب کارپوریشن کے چیئرمین کے طور پر آنجنے ریڈی آئے تو پھر نیا دور شروع ہوا۔ آج مجھے لگتا ہے، ریاست میں سیاحت کی خصوصیات میں ان کا بڑا حصہ ہے۔ 15 سال سے حکام کا فروغ نہیں ہوا تھا، انہوں نے آتے ہی ملازمین اور افسران کی حوصلہ افزائی کی اور کام چل نکلا۔ نئی بسیں خریدی، کام کرنے والوں میں اعتماد بڑھا۔ پہلی بار مطالعہ کے لئے غیر ملکی سیر ہوئیں۔ دیکھتے دیکھتے 2 کروڑ روپے کے کاروبار والا کارپوریشن 100 کروڑ تک پہنچ گیا۔

اس وقت کی کچھ خاص کامیابیاں

سب سے بڑی ا کامیابی تو حسین ساگر میں کشتی چلانا ہے۔ اس کے لئے ہم نے گوا کو نمونے کے طور پر اپنایا۔ پہلے بھاگیرتی اور پھر بھاگمتی اس طرح بہت بڑی کشتیاں ساگر میں چلائی گئیں۔ حکومت کے کسی رسارٹ میں سوئمنگ پل نہیں تھا۔ سومنگ پل بنائے گئے۔ وولوو بسیں خریدی گئیں۔ٹورزم کارپوریشن کے بعد ہی ریاست کے آر ٹی سی نے بھی وولوو خریدی تھیں۔ اس دوران حیدرآباد میں لوگوں سے جو پیار ملا وہ الگ۔

ریاست کی تقسیم کے بعد کا چالنج

جائنٹ مینجینگ ڈائریکٹر کے طور پر ترقی کے بعد مجھے تلنگانہ ریاست سیاحتی کارپوریشن کے نیوی گیشن کی ذمہ داری دی گئی۔ مشکل یہ تھی کہ جن افسروں نے مری حوصلہ افزائی کی تھی، میری تعریف کی تھی، اب وہ ہی آندھرا پردیش کے حکام کے طور پر میرے سامنے تھے، ان کی طرف سے کافی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، لیکن تلنگانہ کے حق کے لئے جو کچھ ہو سکتا تھا، میں نے کیا۔ نتھم (قومی سیاحت انسٹی ٹیوٹ) کو حاصل کرنا، سب سے مشکل کام تھا، جس کے ڈائریکٹر کے عہدے پر میں نے 9 ماہ تک کام کیا۔سب کچھ آسان نہیں تھا۔ کافی ہنگامہ بھی ہوئے۔ یہ میری زندگی کے سب سے اہم کام تھے، جسے حکومت کی جانب سے بھی سراہا گیا۔

تلنگانہ سیاحت کارپوریشن کے مقصد

سب سے بڑا مقصد تو یہاں کی سیاحتی اثاثوں کی بین الاقوامی معیار کے مطابق ترقی کرنا ہے۔ ورنگل، نظاماباد، بھدراچلم اور حیدرآباد میں کافی بڑے اثاثے ہیں۔ خاص طور کارپوریشن کی ہوٹلوں کی کارکردگی بہتر کرنا ہے۔ کاروبار کی نظر سے بھی ترقی لازمی ہے۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem