کبھی سائیکل گینگ کے ساتھ مفت فلمیں دیکھتے تھے آج کےکامیاب سیریل رائٹر ڈاکٹر بودھی ستوا

اتر پردیش کے دو مشہور شہر وارانسی سے 61 کلومیٹر اور الہ آباد سے 90 کلومیٹر کے فاصلے پر بھدوہی کے قریب ایک چھوٹے سے گاؤں بھيكھاری پور میں ایک لڑکا، اپنے ساتھیوں کے ساتھ سارے علاقے میں اپنی شرارتی سرگرمیوں میں فعال رہتا ہے۔ گھر سے کالج کے درمیان 15 کلومیٹر کے دائرے میں دوستوں کے ساتھ سائیکلوں پر گھومنا، مفت میں فلمیں دیکھنا، پارکنگ کا پیسہ نہ دینا اور بغیر پیسے کے سموسے اور جلیبی کی وصولی کرنا، اس شغل کے درمیان دو تین سال میں وہ 265 فلمیں دیکھتا ہے اور گھر پہنچ کر ان فلموں کی اسکرپٹ، نغمے، مکالمے اور فلموں سے منسلک ٹیم کی مکمل معلومات اپنی کاپی کے صفحات پر اتارتا ہے۔ اس 18 سے 20 سال عمر کے نوجوان اکھلیش کمار مشرا کو یہ بالکل نہیں معلوم تھا کہ وہ ایک دن ٹی وی سیریلز کا کامیاب مصنف بنے گا۔ یہ کہانی ڈاکٹر بودھی ستوا کی ہے۔ بودھی ستوا کے لکھے بہت سے ٹی وی سیرئل کافی مقبول ہو چکے ہیں۔ اس کے باوجود ایک فری لانس مصنف کے چیلنجوں کو وہ ہر دن جیتے ہیں۔

0


ڈاکٹر بودھی ستوا نے اپنے بچپن میں یہ تو ضرور سوچا تھا کہ انہیں مقبول ہونا ہے، لیکن ٹیلی ویژن اور فلموں سے شہرت ملے گی یہ انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا۔ انہوں نے آمرپالی، 1857 کرانتی، شكنتلا، ریت، جے ہنومان، کہانی ہمارے مہابھارت کی، دیوں کے دیو مہادیو جیسے کئی ٹی وی ڈرامے لکھے اور شکھر جیسی فلم بھی لکھی۔ اکھلیش کمار مشرا عرف بودھی ستوا بچپن میں کافی گھمكڑ اور شرارتی قسم کے لڑکے تھے۔ حالانکہ ان کے گھر میں تعلیم پہلے سے تھی، لیکن ان کا دل اسکول کی کتابیں پڑھنے میں کم اور ادھر ادھر بھٹکنے میں زیادہ لگتا۔ ایسا نہیں کہ ان کو پڑھنے کا شوق نہیں تھا، لیکن وہ ان کتابوں کی طرف زیادہ متوجہ ہوتے، جو شیلف میں رکھی ہیں جو بڑے لوگ پڑھتے ہیں۔ انہی کتابوں اور رسائل پڑھتے ہوئے ہی ان کے ذہن میں رسائل اور کتابوں میں شائع ہونے کی خواہش جاگی۔ وہ کہتے ہیں،

''   میری سب سے بڑی خواہش تھی کہ میرا نام چھپا ہوا دیکھوں۔ چاہے وہ میت میں حصہ لینے والے لوگوں کی فہرست میں ہی کیوں نہ ہو۔ لوگ مجھے جانیں۔ ادب میں سمجھا جاتا ہے کہ شہرت کی خواہش دل میں ہونا چاہئے۔ یہی خوہش راستہ دکھاتی ہے مزید آگے بڑھنے کے لئے۔ چوتھی پانچویں میں میں نے پریم چند کا ناول نرملا پڑھ لیا تھا، پھر 'رام چرت مانس، رامائن، بھاگوت، جیسی کئی کتابیں گھر میں دستیاب تھیں۔ ہم بچے اس میں سے فرضی چوپائياں 'چار سطور کی نظم' بنا کر دوسرے بچوں کو انتاكشری میں ہرایا کرتے تھے۔ ہم جیت رہے تھے، لیکن کس طرح جیت رہے تھے، وہ ہمیں ہی معلوم تھا۔''

بودھی ستوا اپنے اسکول کی ایک استاد سے ملی تحریک کے بارے میں بتاتے ہیں، - اسکول میں لکشمی پرساد اپادھیائے انگریزی کے ٹیچر تھے، لیکن وہ انگریزی پڑھانے کے علاوہ سب کچھ پڑھاتے تھے۔ وہ بے اولاد تھے۔ ہمارے پاس بے اولاد کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ انہیں صرف بیٹیاں ہیں، بیٹے نہیں ہیں۔ ہر ہفتہ کو ایک ثقافتی پروگرام کراتے تھے، جس میں ہر بچہ ایک نظم سناتا تھا۔ میں نے بھی ایک کویتا سنائی تو انہوں نے اس کی تعریف کی۔ `آج 'اور` اوج' جیسے ہندی رسالوں میں ان کی کچھ نظمیں چھپتی رہتی تھیں۔ میرے تایا کے لڑکے بھی طرحی شاعری کرتے تھے۔ مدتوں میں نے سنیما کے گانوں کی بنیاد پر ہزارہا گانے لکھے۔ گاؤں میں اردو کا اچھا ماحول تھا۔ 'قسم' اور 'طلاق' لفظ کافی مقبول تھے۔ ہم برہمن لڑکے طلاق سے دوستی توڑتے تھے اور بات بات پر اللہ کے نام کی قسم کھاتے تھے۔

کتابیں پڑھنے اور نظمیں لکھنے کے باوجود، اسکول کی کتابوں میں بودھی ستوا کی دلچسپی کم ہونے کی وجہ سے انٹر اور ڈگری کے امتحان میں انہوں نے مشکل سے کامیابی حاصل کی۔ ڈگری کے دوران کی گئی شرارتوں کا ذکر کرتے ہوئے بودھی ستوا بتاتے ہیں،

''  بات 1984 کے آس پاس کی ہے۔ پڑھنے کا کوئی ماحول تو تھا نہیں۔ بارہ پندرہ بچے سائیکل چلا کر 10 پندرہ کلومیٹر تک پڑھنے جاتے تھے۔ چار پانچ کلومیٹر کے دائرے میں چار پانچ سنیما ہال تھے۔ کالج جانا حاضری لگانا اور پھر سنیما ہالوں کی طرف نکل جانا، سنیما میں بغیر ٹکٹ کا سنیما دیکھنا، بغیر پیسے سے سائیکل اسٹینڈ پر سائیکل رکھنا، باہر نکلتے ہوئے دکانوں سے ایک ایک سموسہ اور دو دو جیلبيوں کی وصولی کرنا، ہمارا روزانہ کا معمول بن گیا تھا۔ دو سال کے وقفے میں میں نے 265 فلمیں دیکھی۔ جب نئی فلم نہیں لگتی تو پرانی ہی دیکھ لیا کرتے تھے۔ ندیا کے پار میں نے پانچ بار دیکھی تھی۔ میں فلم دیکھتا ہی نہیں تھا، بلکہ اس کی مکمل معلومات بھی رکھتا تھا۔ کاپی کے صفحات کے ایک طرف فلم کے پرڈیوسر، ڈائریکٹر، اداکار، نغمہ نگار، مصنف، نغمے کہانیاں وغیرہ تمام قسم کی معلومات لکھ دیا کرتا تھا۔ دسویں تک تو صورتحال کسی طرح ٹھیک تھی، لیکن بارہویں میں تھرڈ ڈویژن میں پاس ہوا۔ اور یہ تھرڈ ڈویژن زندگی بھر پھانس بن کر گلے میں اٹکی رہی۔ ڈ گری میں بھی یہی حال تھا۔ كیمپس نہیں جانا، ٹیچر سے جھگڑا کرنا، نہیں پڑھوں گا کہہ کر نکل جانا اور الٰہ آباد میں گھومتے رہنا، چلتا رہتا۔ ایسا نہیں تھا کہ پڑھنے میں دلچسپني نہیں تھی، کلاس میں اگر اس دن بہاری، یا تلسی کو پڑھایا جانا ہے تو میں نہیں بیٹھتا تھا، کیوں کہ ان کو تو میں پہلے ہی پڑھ چکا تھا۔ پہلے ایک طالب علم کلاس سے باہر نکلتا تھا، پھر پانچ چھ اس کے پیچھے نکل جاتے تھے۔ اس طرح میں کبھی بھی اکیلا نہیں رہا، ہمیشہ کچھ دوست ضرور بنائے رکھے۔ بھدوہی چھوٹا تو الہ آباد میں بھی یہی سب کچھ ہوا کرتا تھا، جاڑوں میں رات بھر سائکلنگ کرنا، دھوپ میں لو میں رومال منھ پر باندھ کر نکل جانا۔۔۔۔ کوئی روکنے والا نہیں تھا۔''

ایسا نہیں کہ بودھی ستوا صرف شرارتو میں ہی مصروف رہے۔ جب پڑھنے پر آئے تو ایم اے میں ٹاپ کیا اور جےارایف کی اسکالر شپ حاصل کر پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی۔ انہی دنوں ان کی ملاقات اپنے دور کے معروف شاعر اوپیندر ناتھ اشک سے ہوئی۔ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں،

'' اخبار میں اوپیندر ناتھ اشک کا ایک انٹرویو چھپا تھا۔ اس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ نئی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی کریںگے۔ اخبار میں انا ہزارے ٹائپ کی ایک تصویر چھپی تھی۔ میں نے سوچا کہ یہ فرشتہ مجھے دنیا دکھائے گا۔ میں نے ان کی طرح کی ایک ٹوپی اور کرتہ پاجاما خریدا اور وہی پہن کر ان کے ایڈریس پر خسرو باغ پہنچ گیا۔ میں نے وہاں جاکر ان کا پتہ پوچھا تو ایک شخص نے جو کچھ کہا، میرے لئے تعجب خیز تھا، اس نے کہا، 'وہ پگلوا' اسكا گھر تو دیوار کے اس طرف ہے۔ مئی جون کی دھوپ تھی۔ انہوں نے مجھے دیکھا تو کہا ۔۔۔ غصہ چھوڑ دو تو اشک جی ملیں گے۔ ۔۔۔ غصہ کرنا پاپ ہے ۔۔۔۔ یہ کہتے ہوئے خود ہی صراحی کا پانی پلایا۔ میری آٹھ دس نظمیں سنیں۔ ایک کویتا چنی اور کہا اس پر کام کرو۔ میں نے ایک کویتا سنائی۔ انہوں نے كہا اس میں سے کچھ ٹكڑے اچھے ہیں۔ اس پر کچھ کام کرو۔ میں نے کام کا مطلب یہی سمجھا کہ اسے اچھے سے لکھنا ہے اور اسے پھر سے خوشخط میں لکھ دیا، انہوں نے پھر کہا کہ اس پر کام کرو۔ پھر انہوں نے خود ہی اس نظم کو بہتر بنایا، سنوارا۔ میرے لئے فخر کی بات ہے کہ انہوں نے میری ان سطروں کو عنوان دیا۔ وہ صفحات میرے پاس آج بھی ہیں۔ ۔۔۔ اپنے آپ بول اٹھتا ہوں جیسے، بول اٹھتا ہے ہوا میں اڈتا خشک پتہ ۔۔ میں تین سال تک ان کے رابطے میں رہا۔''

''  پھر اشک جی نے چار اساتذہ کے نام دیے۔ ان کے بعد میں دودھناتھ سنگھ کے رابطے میں رہا۔ دودھناتھ سنگھ نے دس نظمیں چنيں اور اس جیسی میں نے 70 -80 نظمیں لکھیں۔ انہوں نے کہا جس موضوع کو ایک بار لکھا ہے، اسکو دوبارہ مت لکھیں۔ ان نظموں میں سے انہوں نے مختلف رسالوں کو بھیجا۔ تین ماہ میں 45 نظمیں شائع ہوئیں۔ یہ میرے لئے بڑی بات تھی۔''

اکھلیش مشرا سے ڈاکٹر بودھی ستوا بننا بھی بڑا دلچسپ رہا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک مصنف تدبھو نامی میگزین نکالتے تھے۔ ان کا نام بھی اکھلیش تھا۔ ان کے کہنے پر ہی اکھلیش کمار مشرا نے اپنے لئے نئے نام کی تلاش شروع کی اور پھر شلپرتن، شالی هوتری، سدھارتھ، گوتم بدھ اور وجرپان سمیت دس نام فائنل کئے۔ آخر کار گوتم بدھ نام طے ہوا، لیکن اسی نام کی معلومات حاصل کرتے ہوئے انہیں بودھی ستوا نام ملا اور یہی عرفیت ان کی شناخت بن کر رہ گیا۔

انہی دنوں بودھی ستوا نے مشہور ہندی اخبار امر اجالا کے لئے بھی کام کیا۔ ان دنوں کے بارے میں وہ بتاتے ہیں کہ وہ بڑا مشکل بھرا دور تھا۔ فیلو شپ کے روپے بس نہیں ہوتے تھے۔ لہذا ایک ایسی نوکری کی ضرورت تھی، جہاں 3000 ہزار روپے مل سکیں۔ امر اجالا میں وہ مل گئے۔ بین الاقوامی ہندی یونیورسٹی میں بھی انہوں نے کام کیا۔ ایک دن اچانک ممبئی کی فلم اور ٹیلی ویژن کی دنیا نے انہیں بلا لیا۔ جی ٹی وی میں گوتم بدھ پر ایک شو بنانے کے لئے چار ماہ کی چھٹی لے کر ممبئی گئے تو وہ پھر ممبئی ہی کے ہو کر رہ گئے۔ وہ کہتے ہیں،

''میری زندگی میں بے روزگاری دوست کی طرح رہی۔ کبھی تو دو لاکھ روپے کمپنی نے دیے، لیکن کام کچھ نہیں تھا۔ اتفاق تھا کہ انہی دنوں ساہتیہ اکیڈمی میں کوی سمیلن کے لئے بلایا گیا تھا۔ پرسوں پروگرام تھا اور آج خط ملاتھا، جائیں کس طرح ۔۔۔ بھائی نے کہا پلین سے چلے جاؤ۔ ملنے والے تھے 3600 روپے، لیکن آنے جانے کے 24 ہزار روپے، ویسے چلا گیا۔ ہوائی جہاز میں اگلے والی سیٹ پر سنجے خان بیٹھے تھے، انہی دنوں ان کا ایک شو شروع ہوا تھا، میں نے آو دیکھا نہ تاو ان پر برس پڑا۔''

''۔۔۔ آپ کے شو میں اتنا جھوٹ کیوں چلتا رہتا ہے ۔۔۔ آپ 1849 میں کانپور میں ٹرین اڑا رہے ہیں ۔۔۔ بوری بندر سے ٹھانے کے درمیان 1851 کو پہلی ٹرین چلی تھی اور شمالی ہندوستان میں ٹرین تو 1883 کے آس پاس آئی تھی ۔ ۔۔۔۔۔ وہ سنتے رہے اور پھر اپنا کارڈ دے کر ممبئی میں ملنے کے لئے کہا۔

اس طرح ہر موڈ پر بودھی ستوا کو کئی لوگ ملے۔ سنجے خان کے ساتھ انہوں نے تین سال تک کام کیا اور پھر بے روزگار ہوئے تو پھر نئی ڈگر پر چل پڑے۔ فلم اور ٹیلی ویژن کے لئے لکھنا سیکھنے کے لئے انہوں نے خوب محنت کی۔ گنگا جمنا، شعلے، دیوداس، دو بیگھا ذمين جیسی کئی فلمیں دیکھ کر ان کی پوری سکرپٹ اپنی كاپيو پر اتاری۔ اپنی اس زندگی کے بارے میں وہ کہتے ہیں،

''  میں نے خود کو كماياب تو نہیں مانتا، لیکن میں ناکام بھی نہیں مانتا۔ کامیابی کی تعریفیں الگ الگ ہیں۔ ابھی دو فلموں کی سکرپٹ لکھی ہیں، پروڈیوسر ڈائریکٹر کا انتظار ہے۔ پیسہ کمانا اگر کامیابی ہے تو میں کامیاب ہوں۔ میں نے کچھ کھویا نہیں ہے۔''

ٹیلی ویژن اور فلم لکھنے میں وہ کافی فرق مانتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ٹیلی ویژن بک بک کی طرح ہے، وہ لامحدود ہے۔ کوئی موضوع کتنا بھی لمبا نکالا جا سکتا ہے، لیکن فلم اس نظم کی مانند ہے جو محدود ہے۔ ٹی وی میں ہر اگلے قسط میں کہانی بدلی جا سکتی ہے، لیکن فلم میں ایسا نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ سنیما میں لکھنا مشکل ہے۔ وہاں پچاس ساٹھ صفحات میں کہی جانے والی بات کو 15 سے 20 سیکنڈ میں کہہ دینا ہوتا ہے۔ در اصل فلم ادب کو امیر بنا دیتا ہے۔ وہ ادب میں رکاوٹ نہیں ہوتا۔

سنیما اور ٹیلی ویژن میں ایک مصنف کے لئے آج بھی کامیابی کے بعد کب ناکامی ملے اور کتنی دیر کامیابی کا انتظار کرنا پڑے پتہ نہیں رہتا۔ بودھی ستوا ان چیلنجوں کا ذکر کرتے ہوئے اپنے پرانے دن یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں،

'' میرے لئے مشکلات کبھی آئیں تو وہ اقتصادی طور پر ہی آئیں، لیکن دوستوں کی مدد سے حل ہوتی گئیں۔ ویسے مجھے کسی سے ادھار مانگنا سب سے مشکل کام لگتا ہے اور ادھار مانگنے والے سے نہ کہنا اتنا ہی مشکل لگتا ہے۔ مجھے ہر حال میں خوش رہنے کی عادت ہے۔ حالانکہ کپڑے اور کتابیں میرا شوق رہی ہیں، لیکن بچپن میں میں نے بھائیوں کی اترنیں پہنی ہیں، گریجویشن تک میرے پاس ایک دو جوڑے کپڑے ہی نئے ہوا کرتے تھے۔ بھائیوں کے کپڑے اترتے رہتے، کمر ٹائیٹ کرکے پہنا کرتا تھا۔ جب سنجے خان کے پاس تین سال تک کام کرنے کے بعد اچانک پتہ چلا کہ ان کا پروڈکشن بند ہو رہا ہے تو کمرے میں ایک کونے میں بیٹھ کر دیر تک رویا تھا، لیکن پھر زندگی شروع ہوئی اور بہت سے لوگوں کے پاس گھومتا رہا، پھر کام ملتا رہا۔''

ڈاکٹر بودھی ستوا کا خیال ہے کہ کوئی بھی وقت ایسا نہیں ہوتا جب آپ ہار کے بیٹھ جائیں، بلکہ ناامیدی ایک بڑا دھوکہ ہوتی ہے۔ برے وقت میں ہی انسان کا کامل امتحان ہوتا ہے۔ اچھے وقت میں کوئی امتحان نہیں ہوتا۔ اس لیے آدمی کو اپنے برے وقتوں میں پریشان ہونے کے بجائے اس سے سیکھنا چاہئے۔

كہانياں مجھے وراثت میں ملی ہیں. ماں، باپ، چچا، چاچی،خالہ، پھوپھی، نانی دادی، سب کی مختلف کہانیاں تھیں. اسی وراثت کو پاس پڑوس، دوست رشتہ دار، نکڑ، گلی، محلہ، شہر، ملک اور بیرون ملک کے چہروں میں چھپی کہانیوں کے ساتھ ملا کر پیش کر رہا ہوں۔ پسند آئے تو مسکرانا ضرور۔

Related Stories

Stories by F M SALEEM