ایک خاتون ٹیچر, جنہوں نے نکاح کے دن بھی نہیں لی اسکول سے چھٹی

سارے ضلع میں قائم کی عمدہ مثال

0

کہتے ہیں " ایسا کام کرو کہ کام ہی شناخت بن جائے، ہر قدم ایسے چلو کہ نشان بن جائے۔ '

بہار کے چھپرا کی ایک بیٹی تطہير فاطمہ نےاس کہاوت کو اپنی عملی زندگی میں سچ کر دکھایا ہے۔ تطہير ایک اسکول میں ٹیچر ہیں۔ تطہير نے ہفتے بھر سے جاری اپنے نکاح کی رسومات کے درمیان ایک دن بھی اسکول جانا نہیں چھوڑا، یہاں تک کہ نکاح و وداعی کے دن بھی اسکول پہنچی اور بچوں کو پڑھایا۔

سید محمد امام اور شما آرا کی بیٹی تطہير فاطمہ سارن ضلع کے لهلادپر ڈویژن کے پرائمری اسکول لشكريپر اردو میں ٹیچر ہیں۔ ان کا نکاح عالم گنج پٹنہ سٹی کے ساکن سید موسی علی رضوی کے بیٹے ظفر علی رضوی سے طے ہوا۔ اپریل ماہ کی نو تاریخ کو۔ خاندان میں جشن کا ماحول تھا۔ تمام رشتہ دار اس خوشی میں شرکت کے لئے دور دور سے آئےتھے۔ لواحقین نکاح کی تیاریوں میں لگے تھے۔ تمام کو شام کے وقت شہنائی کے ساتھ نکاح کے قبول نامے کا انتظار تھا۔ لیکن، جشن کے اس موقع پر بھی تطہير نے اسکول سے چھٹی نہیں لی۔

بقول تطہير ،

"نکاح کے لئے طویل چھٹی پر جانا مجھے ناپسند نہیں۔ میرا پہلا فرض بچوں کو تعلیم دینا ہے۔ میں کچھ الگ نہیں کر رہی ہوں۔ حکومت نے مجھے اسی کام کے لئے مقرر کیا ہے، جسے میں بخوبی نبھانا چاہتی ہوں۔"

بطور ٹیچر اپنی ذمہ داریوں کے تئیں پوری لگن کی وجہ سے بھلے ہی تطہير کو لگتا ہے کہ انہوں نے کچھ بڑا کام نہیں کیا ہے، لیکن آج کے ماحول میں وہ مثال بن گئی ہیں۔ نکاح کے پانچ دن قبل سے آغاز ہلدی رتجگا، مہندی وغیرہ کی رسومات کے درمیان نکاح کے دن بھی بچوں کو پڑھانے کی بات پورے علاقہ میں ہو رہی ہے۔ نکاح ہی نہیں، تطہير نے نکاح کے اگلے دن بھی اسکول میں باقاعدہ بچوں کو پڑھایا ساتھ ہی اپنی شادی کی خوشی بھی انہی بچوں کو چاکلیٹ کھلا کر منائی۔

نکاح کے بعد اپنے شوہر کے ساتھ سسرال جانے کے دن بھی تطہير روز کی مانند اسکول پہنچیں اور کلاس لی۔ اس کے بعد گھر پہنچی تو وداعی تقریب کی رسم پوری ہوئی۔

اسکول کے بچے تطہير سے جذباتی لگاؤ محسوس کرتے ہیں۔ طالب علم پنٹو کمار، كنال کمار، کاجل کماری، خوشبو تارا وغیرہ نے بتایا کہ میڈم جب تک واپس نہیں آ جاتیں، سب کو ان کی کمی محسوس ہوگی۔

بطور ایک ٹیچر تطہير فاطمہ کے مثالی اور قابل ستائش کام کی جانکاری ملنے کے بعد ڈویژن تعلیمی شعبے کے عہدیدار قمروالدين انصاری نے بھی تطہير کی تعریف کرتے ہوئے ان کےاعزاز دینے کا اعلان کیا ہے۔ ضلع تعلیم عہدیدار چندركشور پرساد نے کہا کہ تطہير کا کام قابل ستائش اور دیگر اساتذہ کے لئے مثالی ہے۔

قلمکار :کلدیب بھاردواج

مترجم: زلیخا نظیر\

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

FACE BOOK

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

كٹھات برادری کی تاریخ میں پہلی بار کسی لڑکی نے کی ملازمت

آپ کی اسٹارٹپ اسٹوری کی سرخی کون بناتا ہے ؟

میری توجہ امیر بیوی بننے پر مرکوز ہے... گرافک ڈیزائن کمپنی کی بانی سائفا شبیر کی کہانی