جب کھانے کے لالے تھے اور جیب میں صرف 50 روپے تھے

0

'


جب بھی میں اپنی آنکھیں بند کر کے ماضی کو یاد کرتا ہوں تو پرانے وقت کی یادوں کے جھروکوں سے ایک شبیہ میرے سامنے ابھرتی ہے۔ میں جكارپور میں اپنے فلیٹ کے کمرے میں بیٹھا ہوں اور میری جیب میں اتنے پیسے بھی نہیں ہیں کہ رات کا کھانا کھا سکوں۔ میری جیب میں صرف 50 روپے کا نوٹ ہے۔ میں اس وقت مکمل طور پر مایوسی میں گھرا تھا، کیونکہ میں بقایا بل ادا نہیں کئے تھے۔ان کی ادائیگی نہ کرنے کے علاوہ گزشتہ ایک ہفتے سے اپنے مکان مالک کو کرایہ ادا کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی بہانہ بنا رہا تھا۔ بل نہ جمع ہونے کی وجہ سے میرے موبائل کی آؤٹ گوئنگ بھی بند ہو چکی تھی اور میری ٹیم مجھے پہلے ہی اکیلا چھوڑ کر جا چکی تھی۔ ایسے میں زیادہ تر لوگ مجھے ایک بیوقوف سمجھتے تھے۔

مجھے لگتا ہے کہ وہ لوگ صحیح تھے اور واقعی میں ہی دیوانہ ہوں۔ جب مجھے ایک اچھی تنخواہ والی ٹھیک نوکری مل سکتی ہے تو کیوں سنعتکاری کے میدان میں ہاتھ پیر مار رہا ہوں؟ میں آسانی سے ایک آرام دہ زندگی جی سکتا ہوں اور میں ہوں کہ بھوکا اور مایوس ایک کمرے میں بیٹھا ہوں اور میری جیب میں اتنے پیسے بھی نہیں ہیں کہ میں ایک وقت کا کھانا خرید سکوں۔ میں اپنی جیب میں رکھا 50 روپے کا وہ قیمتی نوٹ کھانے پر بھی خرچ نہیں کر سکتا کیونکہ مجھے اگلی صبح راجپورا میں ایک اسکول کے کوآرڈینیٹر سے ملنے جانا ہے اور وہ نوٹ کرایہ کے کام آئے گا۔ میں نے وہاں پر ایک تعارفی ورکشاپ کا انعقاد کیا تھا اور مجھے یہ بھی اچھی طرح معلوم تھا کہ وہ لوگ عموماً رجسٹریشن کے ایک ہفتے کے بعد ہی ادا کرتے ہیں۔ میں خود میں اس کوآرڈینیٹر کو جلدی ادا کرنے کے بہانوں کے بارے میں سوچ رہا تھا۔

میں نے اپنی گھڑی میں صبح 6 بجے کا الارم لگایا اور سونے کی کوشش کرنے لگا۔ اگلی صبح میں اس احساس کے ساتھ اٹھا کہ سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے، میں نے خدا سے بھگوان مدد اورطاقت حاصل کرنے کے لئے ہنومان چاليسا کا ورد کیا اور تیار ہو کر گھر سے تقریباً دو کلومیٹر دور واقع بس سٹاپ کی طرف پیدل ہی چل دیا۔ جی ہاں، کچھ پیسے بچانے کے لئے پیدل ہی چل دیا۔ میرے قوت جوب دی چکی تھی، لیکن میرے دل میں امید تھی کہ جلد ہی حالات بدلیں گے۔سب کچھ بہتر ہو گا۔ مجھے لگا کہ مجھے اپنی ملاقات پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔

میں بس میں بیٹھا گیا. راجپورا کے لئے 35 روپے کا ٹکٹ لینے کے بعد میری جیب میں صرف 15 روپے ہی بچے۔ یہ اسکول شہر کے مضافات میں واقع ہے اور مجھے امید ہے کہ بس مجھے اسکول کے گیٹ پر ہی چھوڑے گی۔

اچانک میں نے بس کو راستہ تبدیل کرتے دیکھ کر اور بھی فکر مند ہو اٹھا۔ جب میں نے کنڈکٹر سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے بس روک مجھے وہیں اتر جانے کا مشورہ دیا۔ میں بس سے اتر گیا۔ میں یہاں اسکول سے تقریبا تین کلومیٹر دور ایک ویران ہائی وے پر تنہا کھڑا یہ سوچ رہا تھا کہ مجھے اب آگے کیا کرنا ہے۔ کچھ سوچتے ہوئے چلنا ہی شروع ہی کیا تھا کہ تبھی میری ایک دوست کا فون آیا، جو میری اقتصادی صورت حال سے واقف تھی۔ جب میں نے اسے صورتحال سے آگاہ کروایا تو اس نے انتہائی غمزدہ انداز میں مجھ سے پوچھا کہ میں آگے کے حالات کو کس طرح سبھالوگا۔

میں نے اسے بتایا کہ اگر اسکول کا کوآرڈینیٹر جلد ادائیگی کی میری التجا کو قبول کر لیتا ہے تب تو ٹھیک ہے ورنہ مجھے واپس پیدل چل کر چندی گڑھ جائیں گے اور دوبارہ اپنے مستقبل کے منصوبوں پر غور کرنا ہوگا۔

یہ سن کر اس نے فون پر ہی رونا شروع کر دیا اور مجھے اس کی فکر نہیں کرنے کے لئے سمجھانا پڑا۔

تقریباً ایک کلومیٹر پیدل چلنے کے بعد مجھے ایک ہمدرد اسکوٹر سوار ملا، جس نے مجھے بخوشی لفٹ دے دی اور اس نے مجھے بالکل اسکول کے گیٹ پر اتارا۔ بھگوان سے سب کچھ ٹھیک کرنے کی دعا کرتے ہوئے میں اندر داخل ہو گیا۔

اسکول کے اندر داخل ہوئے میں مستقبل کی حکمت عملی بنا رہا تھا کہ اگر اسکول کا کوآرڈینیٹر نے مجھے اگلے ہفتے روپے لینے کے لئے کہتا تو میں اس سے کہتا کہ میں اپنا پرس گھر پر بھول آیا ہوں اور اس سے 500 روپے قرض دینے کے لئے درخواست کرونگا یا میں اس سے یہ کہتا کہ چونکہ اسکول کے ارد گرد کوئی اے ٹی ایم نہیں ہے اس لئے میں پیسے نہیں نکال پایا اور وہ کم از کم مجھے اتنے پیسے تو دے دے کہ میں گھر تک پہنچ جاؤں۔ کوآرڈینیٹرکے کیبن میں بیٹھ کر ان کا انتظار کرتے وقت میرے دل دماغ میں یہی تمام خیالات اتھل پتھل کر رہے تھے جب وہ اندر داخل ہوئے۔ اور ان کے پہلے لفظ نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔

انہوں نے آتے ہی کہا، '' اکشتج آپ یہاں آئے، مجھے بہت اچھا لگا۔ ہماری طرف سے اب تک جمع کیے گئے 25 ہزار روپے آپ لےجا سکتے ہیں۔ '' اس بات کا یقین مانيے یہ سنتے ہی میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

(مہمان قلمکار اکشتج مہرا تعلیم کے میدان میں کام کر رہے ایک نوجوان کاروباری ہونے کے علاوہ 'يواشالا' کے بانی بھی ہیں جس کے ذریعے وہ طالب علموں کے لئے کیریئر مشورہ ورکشاپس منعقد کرتے ہیں. ان کے مضمون کا ترجمہ زیلیخہ نظیر نے کیا ہے۔)