60 ہزار افراد کو زبان، آداب اور کمیونکیشن کی تربیت دینے والے سید حسان الدين انس

0


حیدرآباد شہر سے تقریباً 100 کلومیٹر کی دوری پر واقع چھوٹے سے شہر میں ایک لڑکے کو انگریزی میں بات چیت کرنے کا بڑا شوق ہوا۔ اپنے اس شوق سے وہ اپنے ساتھی طالب علموں   کو بھی خوش  کرتا اور اساتذہ کو بھی  طلباء  کے مطالبات اورمختلف ٹورنمنٹس میں حصہ لینے کی خواہشات کو اپنی کمیونکیشن سکل کے زریعہ پرنسپل سے منوا لیتا۔ یہی شوق اس لڑکے کا مستقبل بن گیا اور آج کمینکیشن اور فنیشنگ ٹرینر کے طور پر اس لڑکے نے حیدرآباد ہی نہیں بلکہ دہلی اور دوسرے شہروں تک اپنی پہنچ بنائی ہے۔ بات سید حسان الدین انس کی ہے۔ اپنے 13 سالہ کیرئر میں انہوں نے اب تک 60 ہزار سے زیادہ افراد کو ٹریننگ دی ہے۔

انس کے کیرئر کی ابتداء بینگلور کی ایک ملٹی نیشنل کمپنی سے شروع ہوئی۔ وہ بتاتے ہیں،

- 2003 میں میں نے اپنا کیریئر كنورجنس بینگلور  کمپنی سے ایک ایجنٹ کے طور پر شروع کیا۔ یہاں میں  7 ماہ میں انٹرنل جاب پوسٹنگ (IJP)میں کوالٹی اینالسٹ بنایا گیا اور پھر 7 ماہ بعد دوسرے ائی جے پی میں مجھے مواصلاتی کوچ بننے کا موقع ملا۔ انگریزی حکام کے تحت تربیت حاصل کرنے کا موقع ملا۔ وہ ان کا پائلٹ ٹریننگ پروگرام تھا، لیکن وہ دور عجیب تھا، ٹرینراپنا اصلی نام نہیں بتاتےتھے۔ بدلے ہوئے ناموں سے تربیت دیتے تھے۔ آج وہ دور نہیں رہا. آج اپنا نام بتانے میں ہچکچاہٹ نہیں رہی۔ میں ويكنڈس میں ان کے ساتھ گھومتا۔ ان کے ساتھ فلمیں دیکھی، ریستراں میں ڈنر کیا، اس لئے ان کے کافی قریب آ گیا تھا۔ میں نے ٹریننگ کے طور طریقے سیکھنے میں اپنا پورا وقت لگایا۔

انس سائنس کے طالب علم رہے، لیکن انہوں نے زبان اور کمیونکشن کے شعبے میں اپنی جگہ بنائی۔ دراصل شوق کو مثبت انداز میں پروان چڑھایا جائے تو وہ روزگار بھی بن سکتا ہے۔ انس کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ گریجویشن کے بالکل بعد میں انہیں ملازمت مل گئی تو وہ آگے کی تعلیم بھی جاری نہیں رکھ سکے۔

انس نے بینگلور میں دو سال کام کیا۔ پھر ان کی زندگی نے انہیں نئے سفر کی جانب روانا کیا۔ گھر کے حالات نے انہیں اجازت نہیں دی کہ وہ زیادہ دن بینگلور میں رہیں۔ وہ واپس چلے آئے- انہیں شروع سے ہی یہ خواہش تھی کہ ان کی اپنی ایک ٹریننگ کپمنی ہو۔

کچھ دن تک فری لانس ٹریننگ کا کام کرنے کے بعد انہوں نے حیدرآباد میں پارٹرشپ میں کمیونکیشن کوچنگ کمپنی 'ریلك کنسلٹنٹس' کے نام سے شروع کی۔ اس تجربے کے بارے میں انس کہتے ہیں، - دو سال تک اس کمپنی نےکافیاچھا کام کیا، لیکن بعد میں کچھ وجوہات کی وجہ سے ہم یہ کمپنی آگے نہیں چلا سکے۔ میں پھر سے فری لانسر بن گیا۔ یہاں مسئلہ یہ تھا کہ دوسرے وینڈر درمیان میں ہوتے اور میں انہیں اپنی خدمات فراہم کرتا۔ اس دوران انفوٹیک جیسی مشہور کمپنی کے لئے کام کیا، وہاں اے جی ایم اور جی ایم سطح کے افسران کو تربیت دینے کے موقع ملا۔

انس کو شروع ہی سے اس طرح کے کام کافی پسند تھے کہ لوگوں سے بے ہچک بات چیت کی جائے۔ اپنے ابتدائی دنوں کے بارے میں انس بتاتے ہیں،

 -میرے والد سرکاری ملازم تھے۔ شروع سے ہی انگریزی میں میری دلچسپی زیادہ رہی۔ اس کا مجھے فائدہ بھی ہوا۔ اسکول کے پرنسپل بہترین انگریزی بات کرنے والے بچوں کو پسند کرتے تھے۔ ان سے کسی کام کے لیے انگریزی میں بات کرکے منانا آسان تھا۔ ٹورنمینٹ وغیرہ کے لئے جب اجازت لینے کی بات آتی تو بچے مجھے ہی آگے کرتے اور پرنسپل صاحب میری انگریزی سے خوش ہوکر اجازت دے بھی دیتے۔ اسی انگریزی کی وجه سے نہ صرف میں آپ محلے میں، بلکہ شہر بھر میں پہچانا جاتا تھا۔ انگریزی کی وجہ سے میں نے میری عمر اور میری وسعت سے باہر کے بھی کئی کام کئے۔ کہیں کسی کے لئے بڑے عہدیدار سے بات کرنی ہو تو میں ان تک پہنچ جاتا۔ ایک بار کا واقعہ ہے کہ بليرڈس کارنر پر  کھیل کے دوران ایک دن مقامی پولس انسپکٹر بال لے کر چلے گئے۔ بہت سارے لوگوں نے ان سے بال واپس کرنے کے لئے کہا، لیکن بات نہیں بن پائی۔ کچھ لوگوں نے مشورہ دیا کہ اگر ایس پی سے بات کریں تو بات بن جائے گی۔ میں صبح ان کے پاس پہنچ گیا اور ان سے اس موضوع پر بات کی۔ وہ میری بات چیت سے اتنے زیادہ متاسر ہوئے کہ اپنے پی اے سے انسپکٹر کو فون کروا کے وہ بال منگوا لیا۔ ساتھ ہی انہوں نے اچھا پڑھنے اور آگے بڑھنے کی نصیحت بھی کی۔ اس وقت میں ڈگری کے آخری سال میں پڑھ رہا تھا۔

انس کی ٹریننگ صرف زبان تک محدود نہیں ہوتی، اس میں بات چیت کرنے کے انداز، ثقافت و تہذیب کا تاثرجیسے کئی موضوع اس میں شامل ہوتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ امریکی اور ہندوستانی تہذیب مختلف ہے۔ اس کوسمجھنا ضروری ہے۔ اکثر مینیجر اس تہذیبی فرق کو نہیں سمجھنے کی وجه سے بڑی کامیابیوں تک نہیں پہنچ پاتے۔وہ کہتے ہیں کہ انجینئرنگ کے طالب علموں کے ساتھ زبان کا مسئلہ ہے۔ وہ كميونكیشن اسکل نہ ہونے کی وجہ سے روزگار کے میدان میں کامیاب نہیں ہو پاتے۔ ان کے مطابق ای میل، ٹیلیفون، بزنس اور کئی طرح کے کام کے دوران آداب و اطوار کو ملحوض رکھنا پڑتا ہے۔

انس کو اپنے کیرئر میں ادارہ سیاست کا ساتھ بھی ملا۔ انہوں نے اس ادارے کے ساتھ ملکر کئی ضرورتمندوں کو ٹریننگ دی۔ یہاں ظہيرالدين علی خان نے ان کی کافی حوصلہ افزائی کی۔

اب تک وہ ہندوستان بھر میں 60 ہزار افراد کو تربیت فراہم کر چکے ہیں۔ دہلی میں نوبل ایجوکیشنل سوسائٹی میں ان کے کام کو کافی سراہا گیا۔وہ کہتے ہیں،- صنعتکار سراج قریشی نے کئی بار مجھے دہلی بلایا اور وہاں جب بھی جاتا تو تین چار سیشن ہوتے۔ وہاں کے پروگرام کافی کامیاب رہے۔ دہلی کی اس وقت کی وزیر اعلی شیلا دكشت نے خود اس پروگرام کے بعد ذاتی طور پر مل کر مبارکباد دی۔

انفوٹیك، پروكرما، انٹیلی اب این ٹي ٹي میں ٹرینگ دی، ایلائںس گلوبل، مولانا آزاد نیشنل یوورسٹی کے سول سروس ٹریننگ سینٹر میں، سیاست، سیف آباد سائنس کالج جیسے کئی مقامات پر انہوںے ٹریننگ دی۔ ايتھینس کالج، سدرلینڈ یونیورسٹی سے انہیں ایوارڈ بھی ملا۔

تلنگانہ حکومت کی جانب سےاوورسيز ایجوکیشن اسکیم چل رہی ہے۔ امریکہ اور دوسرے ممالک میں اعلی تعلیم حاصل کرنے جانے والوں کہ 10 لاکھ روپے گرینٹ دی جا رہی ہے۔ لیکن وہاں جانے کے لئے ايل ٹی ایس اور جےآرای کے امتحان کامیاب ہونا ضروری ہیں۔ اس سال 120 بچوں کے لئے اپروول ملا اور اس میں سے 80 بچے کامیاب رہے۔ انہیں ٹریننگ دینے میں بھی انس کا رول کافی اہم رہا۔

انس کے مطابق فری لانسگ  کام کرنے میں وہ آرام دہ محسوس کرتے ہیں۔ اپنی کمپنی وہ اپنے لیپ ٹاپ کے ساتھ لیے گھومتے ہیں۔ اس پوری زندگی میں انہوں نے کئی افراد کی زندگی بدلنے میں اہم رول ادا کیا، لیکن انہیں کچھ غیر اطمنانی یہ ہے کہ وہ اپنی پرسنل برینڈنگ نہیں بنا سکے۔

اب انہوں نے ایلیٹ فنشنگ اسکول شروع کیا ہے۔ وہ سرکاری اسکیموں سے نوجوانوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے تربیتی پروگرام چلانا چاتہے ہیں۔ حالانکہ وہ یہ کام پہلے سے کر رہے ہیں، لیکن اس میں تیزی سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔

ان کی زندگی کا ای اور پہلو ہے۔ وہ اضطراب نلگونڈوی کے نام سے شاعری بھی کرتے تھے، لیکن اپنے چچا کے مشورے پر انہوں نے شاعری کرنے سے توبہ کر لی، لیکن ادبی ذوق جنون کی حد تک رکھتے ہیں۔ بتا تے ہیں کہ انہوں نے اقبال کا شکوہ جواب شکوہ زبانی یاد کیا۔ 

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

FACE BOOK

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

ایک چائے والا پھیلا رہا ہے 70 غریب بچوں کی زندگی میں تعلیم کی روشنی

جمعہ کے خطبہ کو سوشل چینج کا زریعہ بنانے کی وکالت کرتے ایک خطیب

بیٹے کی موت کے بعد سڑک تحفظ مہم



كہانياں مجھے وراثت میں ملی ہیں. ماں، باپ، چچا، چاچی،خالہ، پھوپھی، نانی دادی، سب کی مختلف کہانیاں تھیں. اسی وراثت کو پاس پڑوس، دوست رشتہ دار، نکڑ، گلی، محلہ، شہر، ملک اور بیرون ملک کے چہروں میں چھپی کہانیوں کے ساتھ ملا کر پیش کر رہا ہوں۔ پسند آئے تو مسکرانا ضرور۔

Related Stories