اتر پردیش کے چھوٹے سے ضلع اُناؤ سے آسٹریلیا کا سفر کرکے سرمایہ کاری کی ماہر بنیں 'ہنسی مہروترا'

،" مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کے بایوڈاٹا میں کیا لکھا ہے۔ آخر کار ان کے لئے ، میرا انہیں خط لکھنے کی ہمت کرنا، کافی کےلئے پوچھنا اور اپنی خواہشات اور امنگوں کو لئے ایک عزم کے ساتھ ان کے ملنا اور انہیں متاثر کرنا ، یہ ایسی باتیں رہیں جنہوں نے فرق پیدا کیا۔"

0

شعبہ معاشیات کے ماہر کے ساتھ میری ایک گھنٹے کی ملاقات کے سیشن کا اختتام تھا۔ ان کی خواہش ہمیشہ سے ہی شیئر بروکنگ کے شعبہ کا حصہ بننے کی تھی۔ لہٰذا اس شام ابر پردیش کے شہر اُناؤ کی رہنے والی ایک لڑکی، ہنسی مہروترا، آسٹریلیا سے اپنی پی۔جی ڈپلوما کی کلاس کے دوران اسپیکر کی جانب بڑھیں اور ان سے کہا کہ وہ اسٹاک بروکنگ کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتی ہیں۔

آج کے دن ہنسی مہروترا اس شعبے کی ایک معروف اور جانی پہچانی ، صفِ اول کی معاشی مشاور ہیں۔ان کے اس سفر کو ان کے محکم یقین، عزم مستقل اور جہدِ مسلسل سے منسوب کیا جاسکتا ہے۔ ان کے اس سفر کا آغاز تب ہوا تھا جب کینسر کی بیماری سے جنگ لڑنے والے ان کے والد نے انہیں ہندوستان سے باہر جاکر خود کو ثابت کرنے کا مشورہ دیا۔

سفر کا آغاز :

پرانی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے ہنسی کہتی ہیں،" آسٹریلیا کے اپنے 20 سالہ طویل سفر کے دوران میں نے آج تک کبھی کسی نائٹ کلب کواندر سے نہیں دیکھا۔ میں مکمل طور پر ایک چھوٹے شہر کی لڑکی ہوں جو سڈنی میں آکر بس گئی ہے۔" ایک بائنڈنگ اور لیمی نیشن کمپنی میں کام کرنے سے لے کر ویک اینڈ پر بس سے اُناؤ کانپور کا سفر کرتے ہوئے اور پھر اس کے بعد اپنی بی۔ اے کی تعلیم پوری کرنے کے لئے دہلی کی ٹرین پکڑنے والی 'ہنسی' نے اپنے خوابوں کو وقت کے ساتھ دھیرے دھیرے عملی جامہ پہنایا ہے۔

حالانکہ وہ دہلی آگئی تھیں لیکن چونکہ اسی اثناء میں انہیں اپنے والد کے کینسر میں مبتلاء ہونے کا علم ہوا تھا ، لہٰذا ان کے لئے تعلیم کو کُل وقتی کام سمجھنے کا سوال نہیں تھا۔ ہنسی نے محض 18 برس کی عمر میں ایک سیلز گرل کی حیثیت سے اپنے کریئر کا آغاز کیا۔ وہ روزانہ اپنے کام پر جاتیں اور اس کے ساتھ ہی فاصلاتی طرز پر اپنی تعلیم بھی جاری رکھی۔

اُناؤ سے آسٹریلیا کا سفر:

چونکہ وہ اپنے خاندان میں کام کرنے والی پہلی لڑکی تھیں اور ان کے والد کے انتقال کے بعد ان کے چاچا ان کی شادی کردینے کی ضد پر اَڑ گئے تھے، ایسے وقت میں ہنسی کے پاس ملک چھوڑ دینے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔ ان کے والدین میں پہلے ہی علیٰحدگی ہوچکی تھی اور ان کی والدہ آسٹریلیا میں رہتی تھیں۔ ہنسی نے اس موقع کا فائدہ اٹھایا اور آسٹریلیا جانے کا فیصلہ کرلیا۔ آسٹریلیا جاکر ہنسی نے معاشیات اور سرمایہ کاری میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ کورس میں داخلہ لے لیا۔

تلفظ کی غلطیوں کی اصلاح:

ان کے ایک آرمینین دوست نے انہیں ، ان کے تلفظ کی غلطیوں سے واقف کروایا اور انہیں دور کرنے میں ان کی مدد کی۔ وہ بغیر کسی فیس کے منعقد ہونے والے کسی بھی پروگرام میں حصہ لینے سے کبھی نہیں چوکتی تھیں۔ ہنسی مزید کہتی ہیں،" چاہے وہ کسی بھی وقت ہوتا، میں وہاں موجود ہوتی۔ حالانکہ یہ سب جزوی طور پر مفت ملنے والے ناشتے اور لنچ سے متعلق تھا لیکن یہ سیکھنے سے متعلق بھی تھا کیونکہ میں زبان، لہجے، مواد، رابطے اور مزید سب کچھ، زیادہ سے زیادہ سیکھنا چاہتی تھی۔"

ایک مرتبہ ڈپلومہ ہاتھ آجانے کے بعد وہ آسانی سے ملازمت کے لئے درخواست دے سکتی تھیں۔ انہیں اس بات کا علم تھا کہ اسٹاک بروکرنگ میں انہیں زیادہ دلچسپی نہیں ہے اور معاشی مشاور کی حیثیت سے خدمات فراہم کرنے کا راستہ ان کے سامنے کھُلا تھا۔

کافی اور معلومات کا حصول:

23 برس کی عمر میں ہنسی نے صفِ اول کی 10 کمپنیوں کے سی۔ ای۔ او کو ایک خط لکھا اور ان سے پوچھا کہ کیا وہ ان کے لئے ایک کافی خرید سکتی ہیں جس کے بدلے انہیں ان سے کچھ معلومات حاصل ہوسکیں۔۔

ان 10 میں سے صرف ایک نے ان کے خط کا جواب دیا۔ وہ اس سے ملیں اور وہ ان کے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔ اس نے انہیں بتایا کہ وہ کمپنی چھوڑ رہا ہے لیکن ساتھ ہی اس نے انہیں سی ۔ ای ۔ او کی کرسی سنبھالنے والے اپنے معاون بانی سے ملوانے کا وعدہ بھی کیا۔

ہنسی کہتی ہیں،" مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کے بایوڈاٹا میں کیا لکھا ہے۔ آخر کار ان کے لئے ، میرا انہیں خط لکھنے کی ہمت کرنا، کافی کےلئے پوچھنا اور اپنی خواہشات اور امنگوں کو لئے ایک عزم کے ساتھ ان کے ملنا اور انہیں متاثر کرنا ، یہ ایسی باتیں رہیں جنہوں نے فرق پیدا کیا۔"

ابتدائی ناکامیاں اور ان کے پسِ پردہ کامیابی:

ابتداء میں انہیں ایک کمپنی کے ریئل اسٹیٹ پروجیکٹ کے لئے جونئر تجزیہ نگار کی حیثیت سے تین مہینے کے معاہدے پر کام کرنے کا موقعہ حاصل ہوا۔ انہوں نے اس کمپنی کے ساتھ 10 برسوں تک کام کیا اور اس دوران وہ اپنی لگن اور محنت کے بل پر محقق اور تجزیہ نگار کی اہم نشستوں تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔

2000 میں آئے ڈاٹ کام بوم کے دوران ان کی کمپنی نے سرمایہ کاری تعلیم کے شعبے میں کام کرنے والی ایک معاون کمپنی قائم کی۔ ہنسی کو یہ خیال اتنا پسند آیا کہ انہوں نے اس پروجیکٹ میں اپنی ساری جمع پونجی لگاتے ہوئے کمپنی کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کرلیا۔ لیکن جلد ہی ڈاٹ کام میں کریش آیا اور یہ معاون کمپنی بند ہوگئی۔

اس وقت اس کمپنی کو خریدنے میں دلچسپی رکھنے والے مرسر کی نظر باہر جاتی ہنسی پر پڑی اور انہوں نے انہیں اپنے ساتھ وابستہ کرلیا۔ اس کے بعد انہیں بھارتی بازار کے انتظام کی ذمہ داری سونپی گئی۔

بھارتی کہانی کی تصویر کشی:

اس وقت تک مرسر کی بھارت میں کسی بھی طرح سے موجودگی نہیں تھی۔ چار برس کے عرصے تک انہوں نے سرمائے کے نظام تیار کیا۔ جلد ہی بھارتی بازار بڑھنھے لگا تو ہنسی نے بھارت آنے کا فیصلہ کرلیا اور بھارت کے علاوہ سنگاپور میں بھی دفتر کھولے۔ جلد ہی ہنسی نے بھارت پر اپنی توجہ مرکوز کرنے اور معاشی صنعت میں کام کرنے کا فیصلہ کیا اور مرسر الوداع کہہ کر بھارت آگئیں۔

بھارت آنے کے بعد ایک اور کمپنی نے ان سے رابطہ قائم کیا ور کہا کہ وہ بھارت میں اپنا دفتر شروع کر رہے ہیں۔ انہوں نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ ان کے لئے کام کرنا پسند کریں گی؟ ہنسی ان کے لئے کام کرنے کی خواہش نہ ہوتے ہوئے بھی کام کرنا چاہتی تھیں۔ ہنسی کہتی ہیں،" میں نے اس سلسلے میں ڈھائی سال قبل ایک مشترکہ کاروبار کی شروعات کی۔ آخر کار ایک سال قبل ہم نے الگ ہونے کا فیصلہ کیا اور انہوں نے پلیٹ فارم رکھا اور کمپنی میرے حصے میں آگئی۔

حالانکہ پلیٹ فارم کے کام کاج کے بارے میں کوئی جانکاری نہ ہونے کے باوجود اب ہنسی نے معاشی تعلیم سے متعلق بی 2 بی اور بی 2 سی پلیٹ فارم کے توسط سے سرمایہ کاروں کو معاشی مشاور سے صحیح سوال کرنے میں مدد دی جاتی ہے۔

ہنسی کہتی ہیں،

" میں اس شعبے کو ٹھیک کرنا چاہتی ہوں کیونکہ زیادہ تر سرمایہ منتظم شارٹ کٹ لینا چاہتے ہیں اور بغیر کسی مناسب اور صحیح تربیت کے آپ ایک معتبر مشاور نہیں بن سکتے۔ میرا طریقہ سرمایہ کاروں تک پہنچنا اور انہیں صحیح سوال پوچھنے کے لئے ضروری معلومات دینا ہے۔"

وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے ابھی سے بازار میں بدلاؤ لانے کے لئے کام کرنا شروع کردیا ہے اور ساتھ ہی وہ اس صنعت کے لوگوں کو آگاہ کر رہی ہیں کہ اگر وہ زیادہ ہوشیار اور بیدار نہیں ہوئے تو وہ صارفین کو یہ بتانا شروع کردیں گی کہ انہیں کیا سوال پوچھنے ہیں۔ ہنسی مزید کہتی ہیں،" آہندہ 12 مہینے کافی مستحکم ہونے کے امکانات ہیں لیکن یہ اس شعبے کے لئے کافی اچھا ہے۔"

اپنے بی 2 سی پلیٹ فارم "دمنی ہنس" کے توسط سے ہنسی کا سارا زور خواتین کی پرانی اور فرسودہ سوچوں کو بدلتے ہوئے انہیں یہ سمجھانے پر ہوتا ہے کہ ہندسے بیزارکن اور سمجھنے میں مشکل نہیں ہیں ۔ نمبر کرنچنگ خواتین کا کام نہیں ہے۔ ان کا ارادہ اس میں اور آگے بڑھنا ہے۔

کئی خواتین میں یہ فرسودہ سوچ اور غلط گمان ہوتا ہے کہ یہ ہندسوں کا کھیل ہے اور بیزارکُن ہونے کے ساتھ ساتھ سمجھنے میں مشکل ہوتا ہے۔ عام طور پر خواتین خود اعتمادی کی کمی کی وجہ سے خود کو معاشی معاملات کی اہل نہیں سمجھتیں اس لئے وہ بے میل شادیوں، خراب ملازمتوں اور غلط حالات میں رہنے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔میں یہاں اس سوچ کو بدلنے کے لئےآئی ہوں۔"



تحریر: نشانت گوئل

مترجم: خان حسنین عاقبؔ