کسانوں کے لئے بنائی گاجر دھونے کی مشین .... سنتوش نے لکھی کامیابی کی نئی کہانی

0

دل میں کچھ کرنے کا سچہ جزبہ اور لگن ہو تو راستے میں آنے والی تمام مشکلات کو ہرا کر اپنی منزل کو چھونے میں دیر نہیں لگتی۔ کرناٹک کے بیلگام کے سال دوم کے طالب علم سنتوش کاویری نے گزشتہ کچھ عرسے میں پرانی روایتوں کو توڑا ہے اور کامیابی کے بارے میں لوگوں کی رائے بھی بدل دی ہے۔

جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بغیر اقتصادی مدد کے اپنی زندگی میں کچھ بڑا کام نہیں کر سکتے یا بغیر پیسے کے کامیابی کوحاصل کرنا ناممکن ہے، ان کے لئے سنتوش ایک عمدہ مثال ہیں۔ بیلگام کے کالج آف بزنس ایڈمنسٹریشن کے طالب علم سنتوش نے دنیا کو دکھایا ہے کہ بغیر کسی مالی مدد کے کامیابی کی سيڑھیاں کس طرح طے کی جا سکتی ہیں۔

رکاوٹوں کو مواقع میں کس طرح تبدیل کیا جا سکتا ہے، یہ جاننے کے لئے سنتوش کی زندگی کے ماضی میں جھانکنا ہو گا۔ راستے میں آنے والی رکاوٹوں کو پار کرنے کا جذبہ سنتوش نے اپنی تعلیم کے ابتدائی دنوں میں ہی پا لیا تھا۔ ان دنوں اسکول جانے کے لئے سنتوش کو روزانہ 10 کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کرنا پڑتا تھا، لیکن بچپن سے ہی دھن کے پکے سنتوش نے پریشانیوں سے ہار نہ مانی اور خاندان کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیم بھی جاری رکھی۔

بچپن سے جوانی تک سنتوش نے زندگی میں روزانہ کئی طرح کی پریشانیوں کا سامنا کیا اور اس موقع کی تلاش میں روہے کہ وہ معاشرے کے لیے کچھ کر گزریں۔ ایسا کام جس سے دوسروں کی پریشانیوں کو کچھ کم کیا جا سکے۔ سنتوش کی نظر معمولی کاموں کے بجائے بڑے ہدف پر تھی۔ انہیں دیش پانڈے فاؤنڈیشن کے لیڈرز ایكسيلریٹگ ڈیولپمنٹ (LEAD) پروگرام کا ساتھ ملا ۔

سنتوش کی زندگی دیہی ماحول میں گزری تھی جس میں کاشت کاری لوگوں کا بنیادی پیشہ تھا۔ اسی وجہ سے انہیں اس کام میں کسانوں کی پریشانیوں اور مشکلات کے بارے میں معلومات تھی۔ اسی دوران انہوں نے اپنے علاقے کے کسانوں کی ایک بہت بڑی پریشانی کا خیال آیا جو ان کے کھیتوں میں اگنے والی گاجر کی صفائی سے متعلق تھا۔

کسانوں کے سامنے سب سے بڑی دقت یہ آتی تھی ان کو مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے سے پہلے گاجر کو اچھے سے دھونا پڑتا تھا۔ چونکہ گاجر زمین کے نیچے نکلتی ہے اس لئے پہلے پہل وہ دیکھنے میں بہت گندی لگتی ہے اور اس کی فروخت کے لئے اسے صاف کرنا ضروری ہوتا ہے۔ سنتوش کو پتہ تھا کہ گاجر کی صفائی کرنا بہت مشکل کام ہے اور کسانوں کا بہت وقت اس کام میں ہی گزر جاتا ہے۔ 100 کلو گرام گاجر کی صفائی میں تقریبا ایک درجن لوگوں کو کافی وقت بیکار ہوتا تھا جسے دیکھ کر سنتوش کو کافی دکھ ہوتا تھا۔

کسانوں کے اس مسئلہ کو حل کرنے کی فکر سنتوش کو ہوئی۔ دماغ میں آخر کار ایک دن واشگ مشین کو دیکھ کر ایک خیال آیا اور وہ گاجر کی آسانی سے صفائی کرنے والی ایک مشین بنانے میں دل وجان سے جٹ گئے۔ کئی بار ناکامی ہی ہاتھ، لیکن انہوں نےہار نہیں مانی اور آخرکار گاجر کی صفائی کرنے والی ایک مشین بنانے میں کامیابی حاصل کر لی۔

گاجر کی پیداوار کو کئی دنوں کی محنت درکار ہوتی ہے، پھر اس کے بعد صفائی میں بھی کافی وقت گزر جاتا ہے۔ سنتوش نے جب گاجر صفائی کی مشین تیار کرلی تو اسے لے کر اپنے گاؤں کے کسانوں کے پاس گئے۔ ان لوگوں نے سنتوش کو اپنے سر آنکھوں پر بٹھا لیا۔ پہلے 100 کلو گاجر کی صفائی میں ایک درجن لوگوں کو کئی گھنٹوں محنت کرنی پڑتی تھی۔ اب اس مشین کی وجہ سے اس کام کو صرف دو شخص صرف 15 منٹ میں ہی انجام دے دیتے ہیں۔ آج سنتوش کی ایجاد کردہ اس مشین کی مدد سے آس پاس کے کئی دیہاتوں کے کسان گاجر کی صفائی کرکے اپنا وقت اور محنت دونوں بچا رہے ہیں۔

سنتوش کی اس ایجاد کی تجارتی اہمیت کے پیش نظر دیش پانڈے فاؤنڈیشن کے 2013 کے نوجوان کانفرنس میں خود رتن ٹاٹا نے انہیں ایوارڑ سے نوازا اور سنتوش کا حوصلہ بڑھایا۔

اپنی جدت پسندی سے دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ سنتوش کو آرام سے نہیں بیٹھنے دیتا اور وہ مسلسل کچھ نہ کچھ نیا کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ سنتوش نے حال ہی میں ایک ایسا آلہ بنایا ہے جس گیس پر کھانے کے لئے پانی گرم کرنے کے ساتھ ساتھ ہی نہانے کے لئے بھی گرم پانی جمع ہو جاتا ہے۔ اس آلے کو انہوں نے ايكو واٹر كائل کا نام دیا ہے۔ ستوش کہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں گیس بہت مہنگی ہے اور کوئی بھی اس کے تحفظ کی کوشش نہیں کرتا۔

سنتوش کے اس آلے سے جہاں گیس کی بچت ہوتی ہے، وہیں دوسری جانب دو کاموں کے لئے پانی گرم ہونے سے وقت کی بھی بچت ہوتی ہے۔

ملک کے شہری علاقے دن دونی رات چوگنی ترقی کر رہے ہیں، لیکن ملک کا ایک بڑا طبقہ جو اب بھی دیہی علاقوں میں بستا ہے ترقی کی منتظر ہے۔ سنتوش اس بات کی ایک زندہ مثال ہیں کہ اگر کسی کے لئے کچھ کرنے کی سچی لگن ہو تو بغیر اقتصادی مدد کے بہت کچھ کیا جا سکتا ہے اور معاشرے کی بھلائی کے لئے اپنا رول ادا کیا جا سکتا ہے۔


FACE BOOK

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں....

ڈِپریشن نے ’پونم سولنکی ‘کو سِکھایا دوسروں کی زندگی سنوارنے کا سبق

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem