پرندوں کی نغمگیں آواز کے ساتھ جگلبندی سے نایاب موسیقی بنانے کی کوشش

0

امریکی موسیقار بین میرِن مختلف اقسام کی موسیقی کے نئے نئے تجربے کرتے رہتے ہیں۔ایسی کوششوں کے لئے بین پوری دنیا میں مشہور ہیں۔ مغربی گھاٹ کے پرندوں کی قدرتی سریلی آواز اور انسان کی آواز کے سنگم سے بيٹ باكس موسیقی تیار کرنا بین میرِن کی نئی کوشش ہے۔ اس منفرد کوشش کے لئے وہ بنگلور پرندوں اور ماحولیات کے ماہر وی وی رابن کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

بین کا کہنا ہے، '' پرندوں کے ساتھ موسیقی کے جگلبدی کے لئے میں گانے والے پرندوں کی آواز ریکارڈ کروں گا اور اس کے بعد انہیں بيٹ باكس کے ساتھ ملادوںگا۔''

بین مغربی گھاٹ کے جنگل کا دورہ کر پرندوں کی آواز ریکارڈ کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس طرح کی موسیقی بنانے کے لئے موسیقی کے ساتھ ساتھ پرندوں کے بارے میں بھی معلومات کی ضرورت ہے۔

نوجوان موسیقاربین کہتے ہیں پرندوں کی نسلوں اور ان چهچهاهٹ کی نوعیت سمجھنا بہت ضروری ہے۔ اسے انسانی آواز کے ساتھ ملانے میں مدد ملے گی۔ میرِن نیویارک میں مقامی پرندوں اور اپنی آواز کا استعمال کرکے موسیقی تیار کر رہے ہیں۔

مرکز قومی حیاتیات میں مغربی گھاٹ کے پرندوں پر تحقیق کر رہے رابن نے کہا کہ وہ پرندوں کے بارے میں شعور بیدار کرانے کے لئے فوٹو گراف اور ویڈیوز کا استعمال کرکے ایک کہانی بنائیں گے۔ نغمہ ہی پرندوں سے جڑنے کا اہم ذریعہ ہیں۔ یہ ان کے تحفظ میں بھی مددگار ثابت ہو گا۔

اس اسكائی آئیلینڈ بيٹ باكس منصوبے پر فوٹو گرافر پرسینجيت یادو بھی کام رہ رہے ہیں۔

مغربی گھاٹ میں تقریبا 500 اقسام کے پرندے پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے کچھ گیت گانے والے اور نایاب مقامی پرندے شامل ہیں۔ عام طور پر پرندے سادہ آوازیں نکال سکتے ہیں، لیکن گیت گانے والے پرندوں کی خاصیت ہے کہ وہ ایک خاص سےگلے کا استعمال کرکے پیچیدہ نغمات بھی سیکھ کراسے گانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بہت سے پرندوں کے گیتوں میں خاص تال، اتار چڈھاؤ یا سُر ہوتے ہیں۔ کچھ پرندوں کی آواز میں گہرائی ہوتی ہے۔

یہ پرندے اپنے گانے، نغمگی اور چهچهاهٹ کا استعمال دوسرے پرندوں تک اپنی بات پہنچانے کے لئے کرتے ہیں۔ وہ اپنی مخصوص آوازوں کے ذریعے دیگر پرندوں کو پوشیدہ شکاری کی موجودگی کے بارے میں خبردار کرتے ہیں یا وہ اس کا استعمال اپنے ساتھی کو تلاش کرنے کے لئے کرتے ہیں۔

گیت گانے والے عام پرندوں میں بوبلر، گوریّا، بیبلر اور رابن شامل ہیں۔

رابن نے کہا، '' ہندوستان میں موسیقی نے پرندوں کو ہمیشہ ایک طاقتور استعارہ کے طور پر دیکھا ہے۔ راگ موسیقی میں سات میں سے تین سُر پرندوں کی آواز پر مبنی ہے- سا- مور کی آواز، ما- بگلے کی آواز اور پا - کویل کی آواز۔ ان کی یہ تحقیق موسیقی سے پرندوں کے اسی تعلق کو آگے لے جائے گی اور انسانی تال کو پرندوں کی سُریلی آواز کے ساتھ ملایا جائے گا۔ ''

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem