باپو عظیم تھے اور رہیں گے، ایک مضمون سے ان کی عظمت کم نہیں ہوگی : اشوتوش

یہ تحریر عام آدمی پارٹی کے قائد آشوتوش کی ہے 

0


گزشتہ ہفتے میرے لکھے ایک کالم نے ملک بھر میں ہلچل پیدا کر دی تھی۔ اس کالم پر معاشرے کے ہر شعبے سے وابستہ لوگوں کی اپنی رائے  اور اپنی دلیل تھی۔ ہر کسی کی  اپنی سونچ تھی۔ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ میں بہت جرات مندانہ ہو گیا تھا تو کچھ لوگوں کی نظر میں میں سیدھا سادھا بیوکوف تھا۔ وہیں کچھ لوگوں نے تو میرے سیاسی کیریئر کے اختتام کی پیشن گوئی تک کردی تھی۔ مجھے کئی لوگوں کی جانب سے نفرت سے بھری ای میل ملیں۔ میرا وهاٹس ایپ اکاؤنٹ لوگوں کے رد عمل سے بھر گیا تھا۔ ان میں سے بہت سے لوگ ایسے تھے جو میرے اس کالم کی تعریف کر رہے تھے۔ تو کچھ کی نظر میں یہ بہت ہی جارحانہ  اور باعث مذمت مضمون تھا۔ اس مضمون پر ٹی وی چینلز میں بحث شروع ہو گئی۔ اخبارات نے ادارے لکھنے شروع کر دیے۔ سینئر صحافی اخبارات میں اس کے جوابات لکھنے لگے۔ ان سب کے باوجود میں چپ رہا۔

میرا یہ کالم بابائے قوم ایم کے گاندھی پر نہیں تھا، لیکن اس مضمون میں ان  کا ذکر کیا گیا تھا۔ جن کی وجہ سے ہم ہندوستانیوں کو کھلی ہوا میں سانس لینے کی طاقت ملی۔ جن کو ہم مہاتما گاندھی کہتے ہیں۔ میرے کچھ ناقدین کا خیال تھا کہ میں ان کے بارے میں بات کرنے میں ناتجربہ کار ہوں اور میرے لکھے کالم نے اس عظیم انسان کی بے عزتی کی ہے۔ ہندوستان میں کافی وقت پہلے تک کوئی بھی ان کے بارے میں بات کر سکتا تھا۔ ان کے بارے میں کچھ بھی جان سکتا تھا۔ ہندوستان کے ایک عظیم بیٹے نے کہا تھا، "یہ میری زندگی کی خوش قسمتی ہے کہ میں مہاتما گاندھی کو ذاتی طور پر جانتا ہوں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ وہ بہت شفاف اور شریف آدمی ہیں۔ باہمت ہیں۔ وہ عام لوگوں کے درمیان سے نکلے ایک عام انسان ہیں۔ وہ ہیرو ہیں۔ ایک حقیقی محب وطن ہیں۔ "یہ بات کسی اور نے نہیں بلکہ ہندوستان کے ایک عظیم شخص گوپال کرشن گوکھلے نے کہی تھی۔

کچھ لوگوں کو میرا وہ مضمون باعث مزمت بھی لگا۔ کیا واقعی ایسا تھا؟ اس بات کی بحث میں کسی اور دن کروں گا۔ لیکن اگر کوئی ایسا انسان ہے جس کی میں نے ہمیشہ تعریف کی ہے تو وہ ہیں ایم کے گاندھی۔ نہ تو میں ان کا کٹر پیروکار ہوں اور نہ ہی ان کا اندھا بھکت۔ باوجود اس کے میں ایمانداری سے سمجھتا ہوں کہ برطانوی سلطنت کے خلاف ہندوستانیوں کو متحد کر فتح دلانے کا کریڈٹ اگر کسی کو جاتا ہے تو وہ باپو ہیں۔ اگر کسی ایک انسان نے بھارت میں اجتماعی شعور بیدار کیا تو وہ انسان مہاتما گاندھی ہی ہیں اور انہوں اس کام کو اپنے طریقے سے کیا تھا۔ جب تاریخ اور ثقافتوں کا استعمال تشدد کے لئے کیا جا رہا تھا اس وقت باپو نے دوسرا راستہ منتخب کیا۔ انہوں نے اپنی جان کی قیمت پر عدم تشدد کا سہارا لیا۔

ہو سکتا ہے کہ موجودہ نسل یہ نہیں جانتی کہ ایک وقت وہ بھی تھا، جب گاندھی تشدد کی حمایت کرتے تھے۔ اس بات کا اعتراف انہوں نے خود کیا ہے، "جب میں انگلینڈ گیا تو اس وقت میں تشدد کا حامی تھا۔ تب مجھے عدم تشدد پر نہیں۔ تشدد پر یقین تھا۔ " لیکن ان میں تبدیلی تب آئی جب انہوں نے عظیم روسی مصنف لیو ٹالسٹائی کے بارے میں پڑھا۔ گاندھی ایک سچے انسان تھے۔ انہوں سال 1942 میں لکھا "ایک مقصد  سال 1906 میں مجھے ملا کہ سچائی کو پھیلاو اور انسانیت کے درمیان تشدد کی جگہ عدم تشدد کا مقام ہو۔"

تشدد کسی کو بھی اپنی طرف متوجہ کر سکتا ہے اور جس پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے اسے تشدد سنسنی خیز اور جادو کرنے والا لگتا ہے۔ تاریخ میں جھانک کر دیكھیں تو بہادروں سے جڑی کئی کہانیوں کی بھرمار ملے گی کہ کس طرح تشدد نے تاریخ کو بدل کر رکھ دیا۔ سال 1917 میں ہوئے روسی انقلاب کی تازہ مثال ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب مارکسزم-کمیونزم کو دنیا بھر میں کافی پسند کیا جا رہا تھا۔ اس کی وجہ سے کئی بڑے لیڈر پیدا ہوئے۔ مارکسی مزدوروں اور کام کرنے والے طبقے کے نام پر تشدد کو صحیح قرار دیتے تھے تاکہ  طبقات سے آزاد سماج کی تعمیر کیا جا سکے اور دشمن طبقے کا مقابلہ کیا جا سکے۔ ساتھ ہی سرمایہ داری کی وجہ سے غلامی اور غلامی سے ایسے لوگوں کو آزاد کرایا جا سکے۔ جار کی حکمرانی کو جس طریقے سے لینن نے اکھاڑ پھینکنے میں تشدد کی مدد لی یہ اس کا تازہ ثبوت تھا۔ لیکن گاندھی کوئی عام انسان نہیں تھے، جو اس طرح کی مثالوں کے لالچ میں پھنس جائیں۔

وہ عدم تشدد کو لے کر ٹھوس یقین رکھتے تھے۔ برطانیہ کے خلاف جنگ لڑنے میں 'ستیہ گرہ' ایک امید کی بڑی کرن تھی۔ جب پورا ملک سر کرزن کے قتل کرنے والے مدن لال ڈھینگرا کو صحیح ٹھہرانے کی کوشش کر رہا تھا،  تب بھی گاندھی اس معاملے میں نہیں پگھلے۔ انہوں نےصاف کہا کہ  'ہندوستان میں قاتلوں کے راج سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا۔ پھر یہ کوئی معنی نہیں رکھتا کہ وہ انسان کالا ہے یا سفید۔ اس طرح کے راج میں ہندوستان پوری طرح برباد اور ویران ہو جائے گا۔ '

گاندھی کی عظمت کا پرچار کرنا کچھ بھی غلط نہیں ہے۔ گاندھی کی عظمت کا پرچار کرنے میں جھوٹ نہیں ہے۔ ان کے اصولوں میں سچائی ہے۔ انہوں نے کبھی ایسی کوئی بات نہیں کہی جس کا عمل انہوں اپنی ذاتی زندگی میں نہ کیا ہو۔ اس وجہ سے کئی بار ان کے خاندان کو کافی پریشانیاں جھیلنی پڑیں۔ ان کی بیوی کستوربا کو سب سے زیادہ خمیازہ بھگتنا پڑا۔ گاندھی جب جنوبی افریقہ میں تھے تو ستیہ گرہ کے دوران پولیس نے ان کو گرفتار کر لیا تھا۔ اس وقت کستوربا کافی بیمار تھیں اور ان کی حالت کافی خراب تھی۔ تب لوگوں نے گاندھی کو مشورہ دیا کہ وہ پے رول پر باہر آ جائیں۔ لیکن گاندھی اس کےلئے تیار نہیں ہوئے۔ اس کی جگہ انہوں نے ایک خط لکھا۔ آج کے ماڈرن زمانے میں شاید ہی کوئی شوہر ایسا کرے۔ انہوں نے لکھا،  " تاہم ان کا دل ٹوٹ گیا ہے، کیونکہ ستیہ گرہ کی وجہ سے وہ ان کے ساتھ نہیں ہیں۔ اگر وہ ہمت رکھیں گی اور ضروری غذائیں لیں گی تو وہ ٹھیک ہو جائیں گی۔ لیکن اگر قسمت بری ہوئی اور کچھ انہونی ہو گئی تو ان کو یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ ان کی علیحدگی میں مرنا۔ ان کی موجودگی میں مرنے سے مختلف ہو جائے گا۔ "

باپو کے بیٹے هیرالال بھی ان کے رویے سے خوش نہیں تھے۔ اصل میں بعد کے دنوں میں هیرالال اپنے والد سے کافی پریشان رہنے لگے۔ وہ اس بات سے ناخوش تھے کہ ان کے والد نے نہ صرف ان کی تعلیم پر زیادہ توجہ نہیں دی بلکہ قانونی تعلیم کے لیے انگلینڈ بھی نہیں بھیجا۔ جبکہ هیرالال انگلینڈ جاکر قانون کی پڑھائی کرنا چاہتے تھے۔ هیرالال نے ایک خط میں اپنے والد کو لکھا تھا، "آپ نے ہمیں جاہل بنا دیا۔" آپ ایسا بھی کہہ سکتے ہیں کہ گاندھی اپنے والد کی ذمہ داری کو ٹھیک سے ادا نہیں کر پائے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ کسی طرح کا کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتے تھے پھر چاہے وہ ان کا اپنا بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔ اگر وہ دوسروں کے تئیں سخت ہو سکتے ہیں تو ایسا وہ اپنے بیٹے کے ساتھ بھی ہو سکتے ہیں۔

 ہندوستان میں جہاں ہر سیاستدان اپنے بچوں کو آگے بڑھانے میں لگا رہتا ہے، وہیں گاندھی جی ایک روشن مثال ہیں۔ ان کے خیال اور خواہش میں ہر کوئی برابر تھا اور انہوں نے ہر کسی کے ساتھ یکساں طور پر برتاؤ بھی کیا۔ ان کے مطابق انگلینڈ میں قانون کی تعلیم کے لیے ملنے والی اسکالر شپ کےلئے چھگن لال۔ هیرالال کے مقابلے زیادہ مناسب کردار تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ باپ اور بیٹے میں درار آ گئی۔ گاندھی جی بہت اچھے تھے ، کیونکہ وہ عام انسان تھے۔ حقیقت یہ تھی کہ ان کے قول وعمل میں تضاد نہیں بلکہ شفافیت ہوتی تھی۔ ان کا خیال تھا کہ حقیقت وہ چیز ہے، جس سے کسی معاشرے کے کردار اور انسان کا پتہ چلتا ہے۔ لیکن آج ہم اس دور میں رہ رہے ہیں جب حقیقت کو ہم نے ایک کنارے رکھ دیا ہے۔

گاندھی عظیم تھے اور عظیم رہیں گے۔ صرف ایک کالم تاریخ کے صفحات میں ان کا درجہ نہیں گھٹا سکتا، بلکہ تاریخ میں ان کی زندگی اور ان کے زمانے کی چھان بین کرنے سے اور اضافہ ہوگا۔ اس پر بحث جاری رہنی چاہئے۔