عزم جواں ہو تو عمر کی قید بے معنی ہے

13 برس کے 'امن' کی حوصلہ بخش داستان

0

کہا جاتا ہے کہ کسی انسان کو اگر کوئی کام کرنا ہو تو اس کے لئے وسائل یا اس کی قوت نہیں دیکھی جاتی بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ کتنا حوصلہ مند ہے۔ یہی کہانی ہے تیرہ برس کے 'امن' کی ۔ یہ عمر عموماً ایسی ہوتی ہے, جب صرف کھیل کود اور مستی و ہنگامہ ہی کسی لڑکے کی اولین ترجیح ہوتی ہے۔ اس عمر کے بچے اپنی اسکول کی چھٹی ہونے کی گھنٹی بجنے کا انتظار کرتے ہیں تا کہ وہ اپنی مرضی سے زندگی کا لطف اٹھاسکیں۔

امن بھی ایسے ہی خواب دیکھنے والا لڑکا ہے، لیکن اگر آپ امن کی شخصیت کو جاننے کی کوشش کریں گے تو آپ کو علم ہوگا کہ امن دوسرے بہت سے لڑکوں سے کیسے مختلف ہے۔ امن نے بی ایم سی (برہن ممبئی مہانگر پالیکا) کی اسکالرشپ میں اعلیٰ نمبرات سے کامیاب ہوا ہے اور وہ مہاراشٹرا میں اول دس طلباء میں شامل ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں، بلکہ محض 13 برس کی عمر میں امن سنگھ تعلیم کے شعبہ میں ایک تبدیلی لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ ہر روز اپنے اسکول سے واپس آنے کے بعد 'لرننگ سرکل' کا انعقاد کرتے ہیں جس میں وہ اپنے اسکول کے ساتھیوں اور دیگر بچوں کو جو کسی وجہ سے تعلیم سے محروم رہ گئے ہیں، تعلیم دیتے ہیں۔

امن بوری ولی کے رہنے والے ہیں اور وہ کھادی نامی طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا خاندان مفلوک الحال ہے۔ وہ اپنے والد کے ساتھ رہتے ہیں اور سال میں صرف ایک مرتبہ اپنی والدہ سے ملنے میں کامیاب ہوپاتے ہیں، جو خاندان کے دیگر افراد کی دیکھ ریکھ کے لئے ان کے آبائی گاؤں میں ہی رہتی ہیں۔

'لرننگ سرکل کی ابتداء' :

لرننگ سرکل قائم کرنے کا خیال امن کے ذہن میں تب آیا جب ان کی معلمہ موہنی پانڈے نے انہیں ایک کام دیا۔ موہنی پانڑے 'ٹیچ فار انڈیا' کی ایک سابق طالبہ ہیں ۔ انہوں نے اپریل 2015 میں اپنی فیلوشپ مکمل کی ہے۔ وہ گزشتہ دو برسوں سے بوری ولی کے میونسپل اسکول میں امن اور دیگر بچوں کو پڑھاتی ہیں۔ انہوں نے ہمیں اس کام کے پسِ پردہ تحریک کے بارے میں بتایا جس کی وجہ سے لرننگ سرکل اور اسٹوڈنت لیڈر جیسے پروگرام حقیقت کی شکل اختیار کر پائے۔وہ کہتی ہیں،" میں کافی زیادہ تعداد میں اطمینان بخش جماعتوں کے انعقاد کے بارے میں سوچا کرتی تھی جن کے توسط سے میرا اہم مقصد یہ تھا کہ طلباء اپنے اس سماج کےبارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کریں جس میں وہ رہ رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ میں انہیں پیش آنے والی پریشانیوں اور ضروری اشیاء اور وسائل کی کمی کے بارے میں بتانے کے لئے بھی تحریک دیتی رہتی تھی۔ میں انے کے دماغ میں اس اصول کو نقش کرنا چاہتی تھی کہ ہم سب مل کر ہی اس دنیا کو رہنے لائق بہتر مقام بناسکتے ہیں او رایسا کرنے کے لئے ہمیں دوسروں کا انتظار کرنے کے بجائے خود کو ایک قدم بڑھانے کی ضرورت ہے۔ "

اے ای ایس آر (اینوئل اسٹیٹس آف ایجوکیشن رپورٹ) کی 2014 کے احوال کے مطابق گزشتہ 6 برسوں میں اسکولوں میں داخلہ کروانے والے 6 سے 14 برس کی عمر کے بچوں کی تعداد میں لگاتار اضافہ ہورہا ہے لیکن اس کہانی کا دوسرا پہلو بھی ہے۔ 2010 اور 2012 کو چھوڑ دیں تو سرکاری اسکولوں اور نجی اسکولوں کے معیارِ تعلیم کے درمیان فرق مسلسل بڑھتا جارہا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس تناسب کے ساتھ صحت مند تبدیلی لانے کے لئے بدلاؤ اور زاویہء نظر، دونوں کو بدلنے کی شدید ضرورت ہے۔

سرکاری اور نجی اسکولوں کے معیارِ تعلیم میں یہی فرق امن اور ان کے ساتھیوں نے بھی محسوس کیا اور وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ ان کے ساتھ پڑھنے والے کئی طلباء جماعت کے تعلیمی معیار کی برابری کرنے میں خود کو ناکام پاتے ہیں۔ موہنی مزید کہتی ہیں۔ "ہم نے اس موضوع پر گھنٹوں آپس میں تبادلہء خیال کیا اور آخر کار اس نتیجے پر پہنچے کہ ہمیں طلباء کے ذریعے ہی طلباء کے لئے غیر رسمی 'لرننگ سرکل' شروع کرنا چاہیے۔

اس فیصلے کے پیچھے بھی ایک بے حد انوکھی اور اہم وجہ ہے۔ امن کہتے ہیں، "مجھے لگتا ہے کہ میری جماعت کے کچھ ساتھی طلباء جو پڑھائی میں کمزور ہیں اور وہ دیگر طلباء سے پیچھے رہ جاتے ہیں، انہیں کئی مرتبہ مدد کی ضرورت ہوتی ہے ۔ کئی دفعہ یوں ہوتا ہے کہ اساتذہ کو تدریس کے ساتھ ساتھ دیگر انتظامی سرگرمیاں بھی انجام دینی پڑتی ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کے لئے جماعت میں ہر طالبِ علم پر یکساں توجہ دینا ممکن نہٰں ہوپاتا۔ موہنی دیدی (اساتذہ کو دیدی یا بھیا کہہ کر انہیں بڑے بھائی یا بہن کا درجہ دیا جاتا ہے۔) نے ہمیں روزانہ کی بنیاد پر پیش آنے والی مشکلات اور چیلیجس کا سامنا کرنا اور انہیں حل کرنا سکھایا ہے۔ اسی وجہ سے میں نے آ گے آکر اس مسئلہ کو ایک چیلیج سمجھ کر قبول کیا اور اپنے ساتھی طلباء کی مدد کرنے اور ایک مثبت تبدیلی کا محرک بننے کا فیصلہ کیا۔ "

طلباء اس کام کو کیسے انجام دیتے ہیں؟:

موہنی اس کام میں ایک رہنماء اور محافظ کا کردار ادا کرتی ہیں۔ چونکہ وہ گزشتہ دو برسوں سے ان طلباء کو تعلیم دے رہی ہیں اس لئے ان کا باہمی ربط بے مثال ہے۔ وہ اس بات اچھی طرح واقف ہیں کہ ان کو درپیش مسائل اور چیلینجس کا مقابلہ کرتے ہوئے انہیں کیسے اس کام میں مصروف رکھنا ہے۔ انہوں نے اپنے اس خیال کو سب سے پہلے اپنے ہی اسکول میں عملی جامہ پہناتے ہوئے آزمایا اور اس کے نتائج نہایت حوصلہ افزاء رہے۔ ان کی اپنی جماعت کے طلباء کی انگریزی بولنے اور سوچنے کی صلاحیت میں بے حد اہم ترقی ہوئی۔ دیگر مضامین میں کی ہر اکائی میں انہیں تقریباً 0۔5 ٪ اضافہ حاصل ہوا۔ اس کے علاوہ موہنی اور ان کے طلباء کے درمیان ایک دوستانہ ماحول بھی اس منصوبہ کی کامیابی کی ایک اہم وجہ تھا۔

ایک مرتبہ جب بہترین نتائج حاصل ہوگئے تو پھر موہنی اور ان کی ٹیم کے حوصلے کافی بلند ہوگئے ۔ انہوں نے اپنے خیالات میں ترمیم اور اصلاح کرتے ہوئے بچوں کو اس پروگرام کو اپنے اسکول سے باہر بھی انجام دینے کے لئے تحریک دی۔ ان کی کوشش یہ بھی رہی کہ اب ان کی ٹیم ان بچوں کو اپنا ہدف بناکر آگے بڑھے جو اسکول جانے میں کامیاب نہیں ہو پاتے۔

'لرننگ اسکول' ہر روز اسکول کے نظام الاوقات کے بعد دیڑھ گھنٹے کے لئے منعقد کیا جاتا ہے جس میں طلباء اسٹوڈنٹ لیڈر کے گھر جاتے ہیں۔ اگر ناگزیر وجوہات کی بناء پر اسٹوڈنٹ لیڈر موجود نہیں ہوتا اس صورت میں بھی ان کا کام رکتا نہیں ہے۔ اور اس دن یہ سیشن اس ٹیم سے جُڑے کسی اور رکن کے گھر پر منعقد کیا جاتا ہے۔

امن ہمیں بتاتے ہیں کہ ان کا یہ لرننگ سرکل کیسے کام کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں،"سب سے پہلے ہم اپنی ٹیم کو موجودہ گریڈ معیار کی بنیاد پر چھوٹے چھوٹے گروہوں میں تقسیم کردیتے ہیں۔ اس کے بعد ہم اپنےاس دن کے مقاصد طے کرتے ہوئے سبھی شرکاء کے ساتھ لرننگ سرکل میں شریک ہوتے ہیں تاکہ ہر کوئی اجتماعی کام کی اہمیت سے واقف ہوسکے۔ ہرسیشن کے بعد تمام شرکاء کو سیکھے ہوئے کام کا مطالعہ کرنے کے لئے ایک ورک شیٹ دی جاتی ہے ۔ اس کے بعد سبھی اسٹوڈنٹ لیڈر ایک ساتھ بیٹھتے ہیں اور ارتقاء کے جانچنے کے لئےامتحانی پرچے تیار کئے جاتے ہیں۔ "

اس کے علاوہ ان کے لرننگ سرکل کے تمام شرکاء اپنی سرگرمیوں اور لیڈرس کے بارے میں اپنی رائے سے بھی اس ٹیم کو آگاہ کرتے ہیں۔ جیسے جیسے لرننگ سرکل کے تجربات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ویسے ویسے اسے دوسرے علاقوں تک دوہرایا جاتا ہے۔ لرننک سرکل صرٖف طلباء تیزی سے آگے آنے کے لئے ہی تحریک نہیں دیتا بلکہ وہ ان میں رہنمایانہ صفات اور ملک و قوم کے لئے اجتماعی طور پر کچھ کرنے کے جذبے کو بھی پروان چڑھاتا ہے۔