انسانیت ،محبت اوراتحاد ِ مذاہب کاعلمبردار ’مانوکلیان سیوادھرم‘

0

علامہ اقبال نے بہت پہلےکہا تھا ؎

مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا

علامہ نے عرصہ قبل مذہبی رواداری کا جو تصور پیش کیا تھا آج اس کو عملی جامہ پہنانے کا بیڑا اٹھایا ہے انہیں کے ہم نام م محمد اقبال ایڈ و کیٹ نے ۔ صحافت کے راستے سےسیاست کے میدان میں آنے والے محمد اقبال نے جب دیکھاکہ انسان سے انسان دور ہوتا جارہا ہے اور مذہب کے نام پر لڑائی جھگڑے بڑھ رہے ہیں تو وہ بہت مغموم ہوئے اور سوچنے لگے کہ جب کسی بھی مذہب یا دھر م میں نفرت و عداوت کی تعلیم نہیں دی جاتی ہے تو پھر ایسا کیوں ہورہا ہے ؟ انہوں نے اس پہلو پر سنجید گی سے غور کیا اور لوگوں سے بات کی تو یہ نتیجہ نکلا کہ اس کی اصل وجہ لوگوں کی ایک دوسرے کے مذاہب کی تعلیمات سے ناواقفیت اور مفاد پرست عناصر کے ذریعے پھیلائی جارہی غلط فہمیاں ہیں ۔ چناں چہ انہوں نے سوچا کہ صرف قلم چلانے اور سیاست کر نے سے کام نہیں چلے گا۔پھر انہوں نے میدانِ سیاست کو خیر باد کہہ کر انسان کو انسان سے جوڑنے کے لئے عملی طور سے سماجی خدمت کا بیڑا اٹھایا ۔

ایک وزیر کے سیاسی مشیر کی حیثیت سے کام کر نے والے محمد اقبال دو سرکاری بنگلے چھوڑ کر چھوٹے سے کرائے کے مکان میں منتقل ہوگئے اور لوگوں کو محبت ، رواداری اور قومی یکجہتی کا سبق پڑھانے لگے۔ اس سفر کے ابتدائی مراحل میں انہیں بہت سی دشواریوں کا سامنا کر نا پڑا ۔ اپنے بیگانے ہوگئے ، موقع پرست عناصر کنی کاٹنے لگے اور مالی تنگی نے انہیں توڑ کر رکھ دیا ۔ قافلے کے ساتھ چلنے والے محمد اقبال بالکل یکا و تنہا رہ گئے ۔ لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری او راپنے مشن میں لگے رہے ۔ رفتہ رفتہ لوگوں کی سمجھ میں ان کی باتیں آنے لگیں اور وہ ان سے جڑ نے لگے ۔اور پھر وہ دن آگیا کہ اکیلے جانب ِمنزل چلنے والے محمد اقبال کے ساتھ ایک پورا کارواں ہوگیا ۔

اپنے کام کو منظم انداز میں انجام دینے کے لئے محمد اقبال نے 10اکتوبر 2013 کو ’مانو کلیان سیوا دھرم‘کے نام سے لکھنؤ میں ایک ادارہ قائم کیا ۔ اس کے تحت انسان کی بغیر کسی مذہبی ، نسلی ، لسانی اور رنگ کے امتیاز کے انسانی فلاح و بہبود کے لئے رفاہی کام اور بے لوث خدمات انجام دی جاتی ہیں ۔ ادارے کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے وہ بتاتے ہیں :

’’مانو کلیان سیوا دھرم کا مقصد ہے کہ دنیا میں کوئی بھی انسان اور چرند و پرند بھوکا و پیاسا نہ رہے ۔ انسان ننگے بدن نہ رہے ۔ مریضوں کو دوا ملے۔ کوئی شخص ناخواندہ نہ رہے۔ سبھی تعلیم یافتہ ہوں ۔ متاثرین کو انصاف ملے اور تمام انسانوں خاص طور سےکمزور لوگوں کو مکمل تحفظ ملے۔ مانو کلیان سیوا دھرم کے ذریعے ایسے ہندوستان کی تعمیر نو کریں گے جہاں مساوات کے ساتھ سبھی کوترقی کے یکساں مواقع ملیں ۔ خوف ، بھوک ، غربت بے روزگاری ، ناخواندگی ، غذائی قلت ، بد عنوانی اور نا انصافی سےنجات ملے ۔ توہم پرستی کے خلاف سائنسی نقطہ نظر ہو ۔ ‘‘

’ مانو کلیان سیوا دھرم‘ مانتا ہے کہ چمتکار کہیں سے بھی نہیں ہوگا مچمتکارکی امید کرنے والے عمل کی راہ سے بھٹک جاتے ہیں یہی وجہ ہےکہ انھیں کامیابی نہیں ملتی۔ چمتکار کی امید میں وقت نہ گنوا کر براہ راست منظم طریقے سے عمل کرنا ہوگا۔ عمل کے بغیر کامیابی ممکن نہیں ہے۔اقبال ایڈوکیٹ کہتے ہیں :

’’ مانو کلیان سیوا دھرم عمل کو ہی اہم بنیاد سمجھتا ہے اور عمل کی بنیاد پر مانتا ہے کہ 100 فیصد انسانی چمتکار ہوگا ۔یہ چمتکار انسان کی طرف سے انسان کے لئے، انسانی فلاح و بہبود کے لئے، انسانی وسائل جٹا کر منصوبہ بناکر ہوگا۔ اگر اب بھی آپ انسانی چمتکارکے لئے تیار نہیں ہیں اور بلا تاخیر کام شروع نہیں کر رہے ہیں تو پھر آپ وراثت میں آنے والی نسلوں کو کیا خوف، بھوک، غربت، بے روزگاری، غذائی قلت، دہشت گردی، فرقہ واریت، ذات پات، کرپشن، ناخواندگی، بے روزگاری، مہنگائی، جرائم اور ایک ایسا خوفناک غیر انسانی اندھیرا دے جائیں گے جو ہمیشہ یقینی طور پر بڑھتا ہی رہے گا۔ جہاں صرف ہوگا درد ہی درد۔ اس کے لئے یہ ملک اور عوام بھی کبھی آپ کو معاف نہیں کریں گے اور شاید خود آپ بھی؟‘‘

اصلا ً اترپردیش کے ضلع لکھیم پورکھیری کے تاریخی قصبہ محمدی کے رہنے والے محمد اقبال ایڈوکیٹ کے مطابق مذہب انسانی فلاح و بہبود کے لئے ہے،انسانی تباہی کے لئے نہیں ۔ اسی لئے تمام مذاہب کے پیروکاروں کا اتحاد لازمی ہے۔تمام مذاہب ایک دوسرے کے مذہب کااحترام کرنے کا درس دیتے ہیں ۔اس لئے آج سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ غلط فہمیاں دورکی جائیں اور محبت ورواداری کا پیغام عام کیاجائے۔

محمد اقبال کہتے ہیں کہ مانوکلیان سیوادھرم کے تحت ’ہمہ مذاہب ضیافت‘کا انعقادگاؤں سطح سے لے کر قومی سطح تک تمام مذاہب اور تمام قوموں اور تمام طبقات کے لوگوں کو شامل کرکے کئے جانے کی ضرورت ہے۔اس سے تما م مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کے قریب آئیں گے ،ایک دوسرے کے بارے میں جانیں گےاور اس طرح قومی یکجہتی کے جذبے کو فروغ حاصل ہوگا۔

’ مانو کلیان سیوا دھرم‘ تمام مذاہب کے انسانی فلاح و بہبود کے پیغام کو عوام تک پہنچانے کا کام کر رہا ہے کیونکہ تمام مذاہب دنیا میں انسانی فلاح و بہبود کے لئے ہیں انسانی تباہی کے لئے کوئی مذہب نہیں ہے ’ مانو کلیان سیوا دھرم‘ نے اس کارواں کو آگے بڑھاتے ہوئے 22دسمبر2013کو عہد کیا کہ نئے ہندوستان کی تعمیر میں فعال اور اہم شراکت دیں گے ۔مذہب کے راستے سے ہم سب کے ہاتھوں سے انسانی فلاح و بہبود اور بے لوث خدمت ہوگی اور ملک بلندیوں کی چوٹی پر پہنچے گا ۔

30 دسمبر 2013 کو لکھنؤ پریس کلب میں ایک تقریب کے دوران ادارے کے ترجمان کے ’سناتن دھرم اور انسانی فلاح و بہبود‘خصوصی شمارہ کا اجراء ہوا. 14 فروری 2014 کو’بدھ مت اور انسانی فلاح و بہبود‘ خصوصی شمارہ کا اجراء کامن ہال اے بلاک دارالشفاء لکھنؤمیں ہوا ۔ مانو کلیان سیوا دھرم‘ نے اپنے سفر کو مسلسل جاری رکھتے ہوئے 14 مارچ 2014 کو ’سکھ مذہب اور انسانی فلاح و بہبود خصوصی شمارہ کا اجراء گرودوارا عالم باغ لکھنؤ میں تمام مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان کرتے ہوئے سکھ مذہب کے ’انسانی فلاح و بہبود' کے پیغام کوعوام تک پہچانے کا کام کیا۔

27 جولائی 2015 کا دن یقینی طور پر انسانی فلاح و بہبود اور ’سرودھرم سمبھاؤ‘ کی تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا گیا کیوں کہ ’ مانو کلیان سیوا دھرم‘ نے 27 جولائی 2015 کو لکھنؤ کے دارا لشفاء کامن ہال میں سرود ھرم اور انسانی فلاح و بہبود کے موضوع پروگرام منعقدکیا، جس میں دنیا کے آٹھ اہم مذاہب سناتن دھرم، جین مذہب، بدھ مت، سکھ مذہب، یہودیت، پارسی مذہب ، عیسائیت اورمذہب ِ اسلام کے انسانی فلاح و بہبود کے تصورات اور پیغامات کو مرتب کرکےدنیا کے سامنے پیش کیا۔ 3جنوری 2016کو لکھنؤ میں ادارے کے آشرم کا بھی قیام عمل میں آیا۔ ’ مانو کلیان سیوا دھرم‘ کا انسانی خدمت کا یہ سفر مسلسل جاری ہے …۔