نوجوان اور پرعزم شوچی پانڈیا کی کمپنی 'پیپا پلس بیلا' کے سفر کی کہانی

0

ہندوستان میں 20 سالہ عورتوں کے لئے فنڈ ریز کرنا ایک بہت بڑا چیلنج ہے کیونکہ انہیں لامحالہ سرمایہ کاروں کے بے دلیل سوالات سے گذرنا پڑتا ہے جیسا کہ 'جب آپ کی شادی ہوجائے گی اور بچے پیدا ہوں گے تب آپ کے کاروبار کا کیا ہوگا؟'۔جب کوئی ایسے سوالات پوچھتا ہے تو مجھے معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ سرمایہ کار میرے لئے صحیح نہیں ہے۔ صحیح سرمایہ کاروں کا انتخاب کرنے کے دوران یہ میرے لئے بہت ضروری تھا کہ میں ایسے لوگوں کے ساتھ کام کروں جنہیں کاروبار کی ترقی کے تئیں میرے عزم پر یقین ہو۔

یہ کہنا ہے پیپا پلس بیلاکی بانی شوچی پانڈیا کا جنہوں نے حال ہی میں سنگاپور میں قائم۔مقیم لوئن راک کیپٹل، راجیش ساہنی، تیرو ہائڈساتو اور روپا ناتھ سے 6 لاکھ 50 ہزار ڈالر کا فنڈ ریز کیا۔ کمپنی کے مشیروں میں جی ایس ایف کے بانی راجیش ساہنی اور فری کلٹر ڈاٹ کام کے سابق سی ای او سجال شاہ شامل ہیں۔

شوچی پانڈیا کی کمپنی پیپا پلس بیلاعورتوں کو فیشنی جیولری کے منظم کردہ مجموعے سستی قیمتوں پر فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے اپنی کمپنی کا نام پیپا پلس بیلا کیوں رکھا ہے، اس کے بارے میں وہ کہتی ہیں 'پیپا سپینش میں عام بول چال کا لفظ ہے جو جرأت مند یا بہادر یا خطرہ لینے والے شخص کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ بیلا ایک اٹالین لفظ ہے جو کلاسک اور خوبصورت کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ہم چاہتے تھے کہ ہمارا برانڈ اور جیولری ان دونوں شخصیات کی عکاسی کریں اور ایسی خواتین کی جیولری ضروریات کو پورا کریں جو اسے ایک یا دونوں کے ساتھ منسلک کرسکے۔'

شوچی اور اُن کی ٹیم حال ہی میں ریز کی گئی فنڈنگ کو ضروری لوگوں کی خدمات حاصل کرنے، ٹیک پلیٹ فارم کو تعمیر کرنے اور اپنے کسٹمر بیس کی توسیع کے لئے استعمال کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

بیرون ممبئی قائم پیپا پلس بیلاکی خدمات سنگاپور میں بھی دستیاب ہیں۔ تاہم شوچی کا کہنا ہے 'ہماری زیادہ تر توجہ ہندوستان پر ہی مرکوز ہے۔ یہاں مارکیٹ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اگرچہ ہم اپنے کاروبار کو بین الاقوامی سطح پر کچھ ایک ممالک میں پھیلانے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ کم از کم اگلے ایک سال کے دوران بھی ہمارا بنیادی ہدف ہندوستان ہی بنا رہے۔'

جیولری کا راستہ

شوچی کو جیولری سے بے انتہا لگاؤ ہے اور یہی لگاؤ انہیں اس سیکٹر میں کھینچ لائی۔ وہ ممبئی میں ایک ایسے خاندان میں پلی بڑھی ہے جوجیولری کے کاروبار سے وابستہ تھا اور جہاں کھانے کی میز پر ہونے والے مکالمات اکثر و بیشتر 'بہترین کاروباری طرز عمل' اور کاروبار کے ذریعے قدر پیدا کرنے کے تصورات پر مشتمل ہوتے تھے۔

بچپن میں کاروبار سے متعلق سیکھی گئی باتوں نے سوچی کا نیویارک یونیورسٹی میں پیچھا نہیں چھوڑا جہاں انہوں نے اسٹرن اسکول آف بزنس سے مارکیٹنگ کی تعلیم حاصل کی۔

گھر واپسی پر وہ اپنے خاندانی کاروبار کے ساتھ جڑ گئیں۔ کہتی ہیں 'پروڈکٹ مرکوزیت والے ماحول میں میرے ابتدائی تجربے کی بدولت مجھے سپلائی چین اور قیمتوں کے تعین کی حرکیات کو سمجھنے میں مدد ملی۔'

سال 2010 میں انہوں نے ایم بی اے کی ڈگری کے لئے وارٹن اسکول میں داخلہ لے لیا۔ شوچی کا کہنا ہے 'یہاں میرے ذہن میں پیپا پلس بیلا کے بارے میں خیالات پیدا ہونے شروع ہوئے اور نئے زمانے ٹیکنالوجی پر مبنی کاروبار کو کھڑا کرنے کے لئے مجھے کیا سوچنا چاہیے، بھی سمجھنے لگی۔' وارٹن اسکول میں ایم بی ایل ڈگری کے دوران انہوں نے بزنس پلان کو تعمیر کرنے اور اس پر عملدرآمد کرنے کی سمجھ حاصل کرنے کے لئے آٹھ ہفتوں پر مبنی ایک کورس میں داخلہ لے لیا۔ علمی خلا کو پر کرنے کے لئے سوچی نے فنانس اور اکاؤٹنگ کی کلاسیں لیں اور کوڈنگ کورس میں بھی داخلہ لے لیا۔ سوچی کہتی ہیں 'کچھ انتہائی معتبر مشیروں کے مشوروں کی بدولت پیپا پلس بیلا نے جنم لے لیا۔'

اس شعبے سے اُن کی شناسائی اور اس میں تجربے کے علاوہ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ یہ کاروبار کو آن لائن فروغ دینے کا بہترین وقت ہے۔ شوچی کا کہنا ہے 'آزمائش میں آسانی اور استعمال کے لئے تیار والے عنصر کی وجہ سے جیولری کی خریداری کا عمل تسلسل کے ساتھ جاری رہتا ہے۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ فیشن جیولری میں اضافہ درج کیا جارہا ہے۔ آج کے نوجوان ہائی اسٹریٹ فیشن تلاش کررہے ہیں جو ڈیزائن کے اعتبار سے منفرد، بہتر معیار کے ساتھ ساتھ سستی اور سونے و ہیرے کی متغیر قیمتوں میں جذب ہوتے ہو۔'

نیا پن کا عنصر

اگرچہ جیولری کے کاروبار کے ساتھ کاروباری افراد کی ایک بڑی تعداد جڑ گئی ہے لیکن شوچی کا کہنا ہے کہ نیاپن کا عنصر انہیں برتری فراہم کرتا ہے۔ 'ہم ہر ہفتے تقریباً 100 نئے ڈیزائن لانچ کرتے ہیں اور اپنی ویب سائٹ پر حسب ضرورت سیکشن میں توسیع کررہے ہیں جہاں گاہک حسب ضرورت اپنے ڈیزائن کے آڈر بک کررہے ہیں۔'

شوچی کے ساتھ 12 رکنی ٹیم کام کرتی ہے اور ان کا بزنس ماڈل انوینٹری اور ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔ اور حسب ضرورت آڈرس کے لئے اُن کے پاس 21 روزہ ڈیزائن ٹو شیلف سسٹم ہے۔

شوچی کے مطابق اُن کی ٹیم کے لئے سب سے بڑا چیلنج یہ تھا 'پروڈکٹ کے زمروں کے تئیں گاہکوں کے مستقل اعتبار اور وفاداری کوپیدا کرنا جوروایتی طور پر صرف برانڈنگ سے ممکن نہیںہے۔ ایسا کرنے کے لئے ہمیں ایک برانڈ بنانا پڑا جو تمناہی ہونے کے ساتھ ساتھ سستا بھی تھا۔ لیکن جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ، اکثرو بیشتر اچھا معیار اور قابل استطاعت ساتھ ساتھ نہیں چلتے ہیں۔ خوش قسمتی سے جیولری مینوفیکچرنگ اور ڈیزائن میں ہمارے تجربے کی وجہ سے ہمیں اپنی سپلائی چین کو بہتر بنانے میں مدد ملی ہے۔ ہم اپنے پروڈکٹوں کومعیاری اور ڈیزائن کے لحاظ سے منفرد بنانے کے لئے اپنے فروشوں کے ساتھ قریبی رابطہ بنائے رکھتے ہیں۔'

شوچی کا کہنا ہے کہ قابل لوگوں کی خدمات حاصل کرنا ایک چیلنج ہے۔ اچھے ٹیلنٹ اور کام کے لئے جذبہ رکھنے والے لوگوں کو تلاش کرنا ایک بڑا مشکل کام ہے۔ سوچی کو خوش قسمتی سے متحرک، تخلیقی اور محنتی افراد پر مشتمل ٹیم مل گئی ہے جو کمپنی کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں مصروف ہیں۔

وہ عنقریب ایک موبائیل ایپ شروع کرنے اور اپنے پلیٹ فار موں پر اپنے مصنوعات کی پیشکش کو وسعت دینے اور کسٹمر لویلٹی پروگراموں کو متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ سوچی کہتی ہیں 'میرا ماننا ہے کہ ایک شخص کو اُس کے مرکزی استعداد پر توجہ مرکوز کرنا چاہیے اور اس سے جدت طرازی کے لئے بنیاد کے طور پر استعمال میں لانا چاہیے۔'

فنڈنگ کا مشورہ

حال ہی میں فنڈ ریز کرنے والی شوچی کا یہی راہ اپنانے والے دوسرے کاروباری افراد کے لئے کچھ مشورے ہیں:۔

پہلا۔ 'جتنا جلد ہوسکے شروع کرو!۔ آپ کے اندازے کے برخلاف چیزوں کو انجام دینے میں بہت وقت لگ سکتا ہے اور آپ سرمایہ کاروں کے ساتھ مذاکرات کے دوران آپ آوٹ آف کیش ہونے چاہیے۔'

دوسرا۔ 'آپ کو اپنے سرمایہ کاروں کے ساتھ ایماندار رہنا ہوگا اور جن مسائل اور چیلنجوں کا آپ کو سامنا ہے، انہیں کھل کا بیان کرنا ہوگا۔ میرا ماننا ہے کہ مسائل اور چیلنجوں کو چھپانے کے بجائے کھل کر بیان کرنا ایک کارآمد طریقہ ہے کیونکہ جن چیزوں کو آپ آج چھپاتے ہیں وہ ایک نہ ایک سامنے ہی آجاتی ہیں اور تب آپ اپنے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو کھو دیتے ہیں ۔'

تیسرا۔ 'شرائط تشخیص سے زیادہ اہم ہیں۔ شرائط اس بات کا تعین کرتی ہیں کہ آپ اپنے کاروبار کو ہر روز کس طرح سے چلائیں گے اور یہ واقعی آپ کی خوشی کو بنا یا توڑ سکتی ہے۔ اس کی انجام دہی کے لئے ایک اچھے سے وکیل کی خدمات حاصل کریں۔'

چوتھا۔ 'جانئے کہ آپ پیسے ریز کیوں کررہے ہیں اور آپ ان پیسوں کو کیسے خرچ کریں گے۔'

پانچواں۔'آپ کو پیسے دینے کے لئے تیار ہر وہ شخص اچھا سرمایہ کار نہیں ہوسکتا ہے۔ کچھ ریفرنس چیکس کے مرحلے سے ضرور گذرنا اور اس پر سوچ بچار کرنا کہ فلاں سرمایہ کار کے ساتھ کام کرنا ایسا ہوگا۔'

قلمکار: تنوی دوبے

مترجم: ظہور اکبر

Writer: Tanvi Dubey

Translation by: Zahoor Akbar

Related Stories