لڑکیوں کو باکسنگ کی چالیں سکھانے والے ترنیش

0

آج سری دنیا میں خوتین کو خود کے تحفظ کے لئے باشعور کیا جا رہا ہے۔انہں مختلف اقصام کی تربیت دی جا رہی ہے۔ انمیں باکسنگ بھی ایک ہے۔ خواتین باکسنگ کا نام آتے ہی ہمارے

ذہن میں سب سے پہلے میری کوم کا نام آتا ہے۔ گوالیارکے ترنیش تپن ملک کو ایسی اور کئی مری کوم دینا چاہتے ہیں۔ اس کے لئے وہ کوشش بھی کر رہے ہیں۔ وہ باکسنگ کوچ ہیں۔ مدھیہ پردیش الیكٹركسٹی بورڈ میں ملازم ہیں، ان لڑکیوں کوٹریننگ دیتے ہیں، جو باکسنگ میں اپنا کیریئر بنانا چاہتی ہیں۔ اب تک تقریبا 70 سے زیادہ قومی کھلاڑی دے چکے ترنیش، شوقیا طور پر کوچ بنے ہیں۔ انہوں نے کہیں سے باکسنگ کی باضابطہ تربیت حاصل نہیں کی ہے۔ ترنیش کے مطابق "باکسنگ سے میرا دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا، میں تو ہاکی کا کھلاڑی تھا اور گوالیار میں درشن گیمز انسٹی ٹیوٹ نام کے ایک کلب میں کھلاڑیوں کو ٹریننگ دینے کا کام کرتا تھا۔"

ترنیش لڑکیوں اور لڑکوں باکسنگ کی تربیت دیتے ہیں۔ دراصل ان کو باکسنگ کوچ بننے کا مشورہ ان کے ایک دوست نے دیا۔ جس نے ان سے کہا کہ آپ کافی مستعد ہو تو باکسنگ جیسے کھیل کی ٹریننگ دو۔ تاہم تب گوالیار میں باکسنگ نیا کھیل تھا کیونکہ اس سے پہلے کوئی اس کھیل کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا تھا۔ اس کا جاننے میں ترنیش کو کافی دقت بھی ہوئی۔ ان کو اس کھیل کے کوچ بھی نہیں ملے۔ پھرانہونے فوج کے ان جوانوں کو اپنے ساتھ شامل کیا جو اس کھیل میں ماہر تھے۔ انہوں ان کلب میں آنے والے لڑکے لڑکیوں کو باکسنگ کی تربیت دینی شروع کی، لیکن فوج کے جوان جس طرح مشکل ٹریننگ کھلاڑیوں کو دیتے اس کو دیکھ کر جو لوگ یہ کھیل کھیلنا چاہتے تھے وہ بھی اس سے دور رہنے میں ہی اپنی بھلائی سمجھنے لگے۔ ترنیش کوخیال آیا کہ کیوں نہ وہ خود ہی باکسنگ کی تربیت دینے کا کام شروع کریں۔ اس کے لئے انہونے باکسنگ کے کئی مقابلے دیکھے اور لوگوں سے اس کھیل کی معلومات حاصل کی، بعد میں اپنی سمجھ کی مناسبت سے كھلاڑيوں کو تیار کرنے لگے۔

سال 2002 میں بین الاقوامی سطح پر خواتین باکسنگ کا ڈیبیو ہوا تو یہ یہاں کی لڑکیوں کے لئے بالکل نئی چیز تھی۔ ترنیش نے سوچا کہ کیوں نہ لڑکیوں کو باکسنگ میں شامل کیا جائے، جس کا کافی انہیں کافی فائدہ ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کو بھی ٹریننگ دینے کا کام شروع کر دیا۔ شروع شروع میں ان کے پاس 14 سال سے لے کر 18 سال تک کی 15-20 لڑکیاں باکسنگ سیکھنے کے لئے آتی تھی۔ جب پہلی بار ریاستی سطح خواتین کی باکسنگ کا مقابلہ ہوا تو اس میں ان کی ٹیم نے بھی حصہ لیا۔ اور ان کی ٹیم چمپئن بنی۔ اس کے بعد اگلے دو سالوں تک ان کی ٹیم یہ ٹائٹل اپنے نام کرتی رہی۔ اس کے علاوہ ترنیش سے ٹرینگ لینے والی نیہا ٹھاکر نے مسلسل تین سال تک ریاستی سطح پر باکسنگ کے مقابلے میں گولڈ میڈل جیت لیا۔ خاص بات یہ ہے کہ نیہا اس کھیل میں جتنی تیز تھی اتنی ہی تعلیم میں بھی ہوشیار تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس سال نیہا نے یو پی ایس سی کے امتحان میں 20 واں مقام حاصل کیا۔ ترنیش کے مطابق یہ تاریخ میں پہلی بار ہے کہ جب کوئی باکسر آئی اے ایس کی ٹریننگ لے رہی ہے۔

آہستہ آہستہ ان سے ٹریننگ لے کر کئی کھلاڑی ریاستی اور قومی سطح پر کافی نام کمانے لگے، جس کے بعد خواتین باکسنگ میں گوالیار بڑی طاقت بن گیا۔ اس کے بعد ترنیش نے نئے بچوں کو باکسنگ کی تربیت دینے کے لئے گوالیار کے ایک سرکاری اسکول سے کچھ لڑکیوں کو منتخب کیا۔ ان میں زیادہ تر لڑکیاں غریب طبقے سے تھیں۔ انہی لڑکیوں میں سے پریتی سونی، پرینکا سونی اور میسا جاٹو ایسی لڑکیاں تھی، جنہوں نے کھیل کے لئے ہر سال دیے جانے والے مدھیہ پردیش حکومت کے ایكلویہ ایوارڈ کو اپنے نام کیا۔ یہ تینوں لڑکیاں بہت غریب خاندان سے تھیں اور مزدوروں کی بیٹیاں تھیں۔ انہیں باکسنگ چالیں ترنیش نے سکھائں تھیں۔ آج ترنیش 14 سال سے لے کر 24 سال تک کی تقریبا 20 لڑکیوں کو باکسنگ کی تربیت دے رہے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ مفت میں لڑکیوں کو باکسنگ کی تربیت دیتے ہیں۔ ٹریننگ میں آنے والا خرچ کلب کے رکن ہی اٹھاتے ہیں۔

یہ ترنیش کی تربیت کا ہی اثر ہے کہ اب تک ان کے 70 سے زیادہ خواتین اور مرد کھلاڑی مختلف قومی باکسنگ مقابلوں میں حصہ لے چکے ہیں۔ جبکہ 25 سے زیادہ نیشنل پلیئر کی ٹریننگ جاری ہے۔ ترنیش سےتربیت حاصل کرنے والہ باکسر انجلی شرما نے تو بین الاقوامی سطح پر اپنی دھاک جمائی ہے۔ اب ترنیش کے ساتھ ان کی شاگرد پریتی سونی بھی ہیں، دونوں مل کر باکسنگ کے نئے کھلاڑیوں کو سامنے لانے کا کام کر رہے ہیں۔ ترنیش کی سکھائی باکسنگ کے بدلوت سو سے زیادہ کھلاڑی مختلف اداروں میں کام کر رہے ہیں۔ اگرچہ ان کے سب سے زیادہ کھلاڑی فوج میں شامل ہیں۔

ظاہر ہے اتنا کرنے کے بعد بھی ترنیش کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کھلاڑیوں کو ٹریننگ دینے کے لئے یا پھر ٹیم کے ساتھ دوسرے شہروں میں جانے کے لئے ترنیش کو کئی کئی دن ان کی سرکاری کام سے چھٹی بھی لینی پڑتی ہے۔ اقتصادی تنگی کی وجہ سے کھلاڑیوں کو باکسنگ کلبس کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ باوجود اس کے ترنیش کے ارادے اور جذبہ میں اب تک ایسا کوئی فرق نہیں آیا کہ وہ ٹریننگ دینے کا کام روک دیتے۔ مشکلات کا سامنا کرنا انہوں نے اچھی طرح سیکھ لیا ہے۔ تبھی تو وہ کہتے ہیں کہ "سرکاری نوکری سے رٹائرمینٹ کے بعد میں اپنے آپ کو اس کھیل میں مکمل طور جھونک دوں گا۔"

قلمکار ہرشت بھٹ

مترجم زلیخہ نظیر