ایک پروفیسر 33سال سے جنگل میں رہ کر آدی واسیوں کی فلاح کے لئے کوشاں

0

دہلی یونیورسٹی میں پڑھاتے تھے پروفیسر پی ڈی کھیرا...

گذشتہ 33سال کی عمر میں محفوظ بیگا قبیلے کے بچوں کو دے رہے ہیں تعلیم ...

عورتوں کو غلامی سے آزادکرنے کی کوشش جاری...

توہم پرستی ، ٹوناٹوٹکا کے خلاف بیدارکرنے کی کوشش ...

چھتیس گڑھ کے بلاس پورضلع کے اچان کمارٹائیگرریزروکے جنگلاتی گاؤں لمنی چھپروا میں ونوبابھاوے کی طرح نظرآنے والا ایک شخص جنگلوں کے درمیان بنی جھونپڑی میں گذشتہ 33برسوں سے رہ رہا ہے۔ نام ہے ڈاکٹر پروفیسرپربھود ت کھیرا۔ وہ دہلی یونیورسٹی میں 15سال تک سماجی علوم پڑھاتے رہے ہیں ۔ 84۔ 1983میں ایک دوست کی شادی میں بلاس پورآنا ہوا۔ اس موقع پر جنگل گھومنے گئے۔ وہاں ایک آدی واسی بچی کوپھٹی پرانی فراک میں بدن چھپاتے دیکھ کر انھیں کچھ ایسامحسوس ہواکہ سوئی دھاگالے کراس کی فراک سلنے بیٹھ گئے۔ اس دوران وہ وہیں ریسٹ ہاؤس میں رک کر وہاں بسنے والے بیگا قبیلے کے لوگوں کے رہن سہن کو دیکھتے سمجھتے رہے۔ ان لوگوں کی حالت اور حکومت کی عدم توجہی دیکھ کر پروفیسر کھیراکادل اتنا بے چین ہواکہ انھوں نے پروفیسر کی ملازمت چھوڑدی اور دہلی کا عیش وآرام ترک کرکے لمنی کے جنگلوں میں ہی آبسے۔

اب گذشتہ 33برسوں سے بیگاآدی واسیوں کی خدمت اور ان کی زندگی میں بہتری لانا ہی پروفیسر پی ڈی کھیرا کی زندگی کا مقصد ہے۔ آج 80سال کی عمر میں وہ ریزروبیگا قبیلے کے بچوں کو زیورِتعلیم سے آراستہ کررہے ہیں ۔ عورتوں کو غلامی سے آزادکرانے کی کوشش کررہے ہیں اور توہم پرستی، ٹوناٹوٹکا سے انھیں دورکررہے ہیں ۔

1960کی دہائی میں ممتاز ماہر بشریات ایلون نے بھی بیگا قبیلے پر تحقیق کی تھی، لیکن پروفیسر کھیرا کا کہنا ہے کہ انھیں ان بیگاؤں کے نت نئے مسائل سے اتنی فرصت ہی نہیں ملتی کہ وہ کوئی کتاب لکھ سکیں ۔ کھیرا نے یوراسٹوری کو بتایا:

’’جب میں ان لوگوں کے درمیان آکر بساتولوگوں اور سرکارکے نمائندوں نے مجھے نکسلی سمجھ لیا اور جانچ تک کرڈالی۔ بعد میں میراجذبۂ خدمت دیکھ کر سمجھ میں آیا کہ یہ توپاگل پروفیسر ہے جو اپنی زندگی برباد کرنے ان لوگوں کے بیچ آیا ہے۔ ‘‘

33سال بعد کھیرا کی ہی محنت سے بیگا قبیلے کے بچے 12ویں جماعت تک پڑھ رہے ہیں ۔ نوجوان شہر جاکر روزگار حاصل کررہے ہیں اور ان کی طرزِ زندگی میں کافی تبدیلی آئی ہے۔

پروفیسر کھیرا کاکہنا ہے:

’’سرکار بیگاؤں کو محفوظ قبیلے کادرجہ دے کر بھول گئی ہے۔ اور جتنے منصوبے اور اعلانات ہوتے ہیں اس کے مطابق کام نہیں ہوتا۔ ‘‘

پروفیسر کھیراکے جذبۂ خدمت کا پاگل پن کچھ ایسا ہے کہ وہ اپنی پنشن کازیادہ ترحصہ ان بیگابچوں پر خرچ کردیتے ہیں ۔ جنگل میں جھونپڑی میں رہنے والےاوراپنا ساراکام خود کرنے والے اس 80سال کے نوجوان کو دیکھ کر ایسا لگتاہے جیسے گاندھی جی کہہ رہے ہوں کہ یہی ہے ان کے خوابوں کی صحیح تعبیر۔

قلمکار : روی ورما

مترجم : محمد وصی اللہ حسینی

Writer : Ravi Verma

Translation By : Mohd.Wasiullah Husaini