' کچھ کھارہے ہوں شائد۔۔۔۔۔۔ دی بریک فاسٹ باکس'

غذائیت سے بھرپور ناشتے کے لئے ' دی بریک فاسٹ باکس'

0

کسی شاعر نے کہا تھا کہ

مجھ کو بھگا کے بزم سے کچھ کھا رہے ہوں آپ

محفل میں اس خیال سے پھر آگیا ہوں میں

چلئے بات مذاق کی سہی لیکن یہ بات ایک حقیقت ہے کہ انسان زندہ رہنے کے لئے کھاتا ہے لیکن کبھی کبھی ایسی نوبت آجاتی ہے کہ اسے کھانا بھی نصیب نہیں ہوتا۔ اس صورت میں اسے جو چیز مل جائے، اسی سے کام چلالینا پڑتا ہے۔ لیکن اب آپ کے سامنے ایک سہولت موجود ہے۔ اگر آپ صبح صبح کام پر جارہے ہوں یا کسی بھی وقت ناشتہ کرنا چاہتے ہوں تو 'دَ بریک فاسٹ باکس' آپ کی خدمت میں حاضر ہے۔

جئے اوجھا، اویناش جیسوال، مرگ نین کمتھیکر اور مہرشی اپادھیائے کی چوکڑی کے ذریعے شروع کیا گیا 'دَ بریک فاسٹ باکس' اپنے گاہکوں کے دروازے تک دن کے اس وقت ان کے پسند کے لیکن سب سے اہم اور ضروری ناشتے کو پہنچاتا ہے جب وہ اپنی روزمرہ مصروفیات کی وجہ سے اس پر توجہ نہیں دے پاتے۔ کئی مرتبہ تو ایسا ہوتا ہے کہ لوگ اپنے ناشتے کو بھول ہی جاتے ہیں۔

حالانکہ اس کی شروعات کرنا ان چاروں کے لئے اتنا آسان نہیں جتنا ہم سوچ سکتے ہیں۔ اس خیال کو عملی جامہ پہنانے سے پہلے یہ چاروں غور و فکر کے ایک طویل دور سے گزرے ۔ چاروں بانیان اس بات سے بھلی بھانتی واقف تھے کہ وہ ایک ایسے مسئلہ کا حل پیش کرنے کی سمت قدم بڑھارہے ہیں، جس سے وہ خود بھی کسی نہ کسی وقت روبرو ہوچکے ہیں۔ ان کے ذہن میں ان دنوں کی یاد تازہ تھی جب وہ بھی اپنے لئے لذیذ اور غذائیت سے بھرپور ناشتے کے لئے کئی جگہ بھٹکتے تھے اور آخر کار ان کے ہاتھ مایوسی ہی لگتی تھی۔

نظریہ اور قیام :

مہرشی بتاتے ہیں ،" اپنے گھروں سے دور رہنے کے دوران ہم اکثر اپنے لئے غذائیت سے بھرپور ناشتہ تلاش کرنے کی خاطر کافی پریشانیاں جھیل چکے تھے اس کے باوجود ہمیں اپنا دل پسند ناشتہ نہیں مل پاتا تھا۔" بس اسی دوران انہیں اس بات کا احساس ہوا کہ اگر سب کو دن نکلتے ہی لذیذ اور غذائیت سے بھرپور ناشتہ مہیا کروانا ہے تو اس کے لئے اس ناشتے کو لوگوں کے دروازوں تک پہنچانےکے علاوہ کوئی دوسراکار گر راستہ موجود نہیں ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں ،"ہم نے سب سے پہلے اپنے ساتھ ایک ماہرِ تغذیہ یعنی نیوٹریشنسٹ کو ملالیا جو ہمیں مہینے کے ہر روز تبدیل ہونے والا مینو تیار کرنے میں مدد کرتا ہے۔ "

'دی بریک فاسٹ باکس' اپنے گاہکوں کے لئے ایسے پکوان پیک کرواکر انہیں ان کے گھر تک پہنچانے کا انتظام کرتا ہے جو غذائیت سے بھرپور ہونے کے ساتھ ساتھ بے حد لذیذ بھی ہوتے ہیں ۔ اپنے ابتدائی دنوں میں اس ٹیم کو احساس ہوا کہ لوگ ایک متعینہ دن ان کے تیار کردہ پکوان چاہتے ہیں ۔ اس کے بعد ہی انہوں نے کھُلے بازار میں اپنے پکوان اُتارنے کا فیصلہ کیا۔

قیام اور توسیع :

انہوں نے پونے میں پہلے مہینے میں تقریباً 300 ڈبوں کی ڈیلیوری کے ساتھ کام کا آغاز کیا اور اب چار مہینے بعد یہ اوسطاً 1200 سے 1500 ڈبوں تقسیم کرتے ہیں۔ مہرشی مزید بتاتے ہیں کہ اتنے کم وقت میں پونے کے شہریوں سے مل رہے مثبت ردِ عمل اور تاثرات نیز لگاتار بڑھنے والے روابط سے تحریک پاکر ان کا ارادہ اب دوسرے شہروں میں بھی اپنے کاروبار کو وسعت دیتے ہوئے وہاں اپنے اس کاروبار کی شاخیں قائم کرنا ہے۔

وہ کہتے ہیں،"حالیہ دنوں میں کچھ نجی سرمایہ داروں اور کاروباریوں نے ہمارے اس کاروبار میں سرمایہ کاری کرنے اور ہمارا حصہ دار بننے میں دل چسپی دکھائی ہے لیکن ہم اپنے لئے خصوصی طور پر ایسے معاونین کی تلاش میں ہیں جو ہمارے اس نظریے اورگروہ کے ساتھ ہم آہنگی قائم کر سکیں۔ ہمارا دھیان صرف اپنے نفع میں اضافہ پر ہی مرکوز نہیں ہے۔"

چیلینجز:

مہرشی بتاتے ہیں کہ اپنے اس کام کے لئے مناسب لوگوں کو متعین کرنا ہمارے سامنے سب سے بڑا چیلیج رہاہے۔ انہوں نے سب سے پہلے ایک گھریلو خانساماں کے ساتھ اپنے کام کا آغاز کیا لیکن انہیں خانساماں کے ذریعے تیار کئے جانے اور پیش کئے جانے والے پکوانوں کی کوئی معلومات نہیں تھی۔ ایسی صورتِ حال میں جے ان کی مدد کے لئے سامنے آئے اور انہیں ان کی پسند کے پکوان اور غذائیں تیار کرنے کے سلسلے میں ان کی مدد کی۔

اپنی تیار کردہ اشیاء کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے مقصد سے اس ٹیم کو تقسیم کاری کے لئے کچھ لوگوں کو پارٹ ٹائم یعنی جز وقتی بنیاد پر اپنے ساتھ رکھنا پڑا کیوںکہ یہ صبح 7 بچے سے لے کر صبح 11 بجے تک کھانا مہیا کرواتے ہیں۔ کچھ عرصے کے بعد انہیں ایک اچھا باورچی یعنی شیف دستیاب ہوگیا جس نے بہت جلد ایک ہیڈ شیف اور دو معاونین کی ایک مختصر سی ٹیم کچن میں کھڑی کردی۔

مہرشی کہتے ہیں ،" فی الحال ہم جس مقام پر ہیں وہاں تک ہم اپنے بل بوتے پر پہنچے ہیں اور ہم پوری طرح خود کفیل ہیں۔ اپنے کاروبار کے قیام کے چار مہینوں کے اندر ہی ہم اپنے سرمایہ کی لاگت نکال پانے میں کامیاب رہے۔ ہمارے ساتھ ہاتھ ملانے کے ارادے سے کچھ سرمایہ کاروں نے ہم سے رابطہ کیا ہے اور ہم ان سے بات چیت کے دور سے گزر رہے ہیں۔"

اس ٹیم کا ارادہ آئندہ چار مہینوں میں پونے کے عوام کو غذائیت سے بھرپور ناشتہ مہیا کروانے کے بعد اگلے دو تین برسوں کے اندر آٹھ دیگر شہروں میں اپنے کاروبار کو توسیع دینے کا ہے۔

یور اسٹوری کا تاثر:

50 بلین ڈالر کا بازار ہونے کے باوجود فوڈ ٹیک کے شعبے میں ابھی کئی 'می ٹو' کمپنیاں منظم ہورہی ہیں۔ فوڈ پانڈا اور ٹائنی آؤل کے بُرے دور کے پیشِ نظر کئی سرمایہ کار پس و پیش میں ہیں اور انہیں لگ رہا ہے کہ اس کاروبار کو چلانا اتنا آسان نہیں ہے اور یہ کاروبار بہت زیادہ سرمایہ کاری کا متقاضی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کاروبار میں قدم رکھنے والے ہر کھلاڑی کے لئے کامیابی کی راہ اتنی آسان نہیں ہے۔ اگر آپ صرف اپریل کے مہینے میں ہی اس شعبے میں ہونے والی سرمایہ کاری پر نظر ڈالیں گے تو کُل ملاکر 7 سودوں میں 74 ملین امریکی ڈالر کی خطیر رقم کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ یہ رقم اگست کے مہینے میں گھَٹ کر محض 19 ملین امریکی ڈالر پر آکر سمٹ گئی۔ ستمبرکا مہینہ آتے آتے یہ تعداد گھٹ کر کُل دو سودوں پر آکر اَٹک گئی۔

بھرپور سرمایہ کاری ہونے کے باوجود کئی ماہرین کا ماننا ہے کہ زیادہ تر اسٹارٹپ بہت زیادہ چھوٹ اور کوپننگ کے چکر میں پڑ گئے۔ اس کے علاوہ فوڈ ٹکنالوجی کے شعبہ میں صارفین یا گاہکوں کواپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے اپنے پروڈکٹ کو خریدنے کے لئے ان کو راضی کرنا ایک مہنگا سودا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ فوڈ پانڈا جیسی عظیم فوڈ آرڈرنگ کمپنیاں ایک صارف کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے 400 سے 500 روپئے تک خرچ کردیتی ہیں۔