اردو سے بے پناہ محبت کا حیرت انگیز جزبہ .. ریختہ فاؤنڈیشن کے سنجیو سراف کی کہانی

0

IIT انجینئر اور پالی پلیكس انڈسٹریز کے بانی سنجیو سراف نے قائم کیا ریختہ فاؤنڈیشن

اردو شاعری سے محبت ہی ریختہ فاؤنڈیشن کے قیام کی اصلی وجہ

ریختہ فاؤنڈیشن کی ویب سائٹ Rekhta.org پر اردو سے متعلق مواد کا خزانہ

گلوبلائزیشن کے دور میں سب سے زیادہ خطرہ زبانوں پر منڈلانے لگا ہے۔ چونکہ کاروبار کی زبان انگریزی ہے اس لئے اکثر دوسری زبانوں کے تئیں بے حسی بڑھنے لگی ہے۔ اعتراض اس بات پر نہیں ہے کہ انگریزی زبان پھیل رہی ہے، بلکہ اعتراض اس بات پر ہے اس کی وجہ سے دوسری زبانیں نظر انداز ی کا شکار ہو رہی ہیں۔ انہی باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایک آئی ائِ ٹيين اور پالي پلیكس انڈسٹریز کے فاونڈر سنجیو سراف ریختہ کے ساتھ سامنے آئے۔

جی ہاں، یہ کہانی ایک ایسی شخصیت کے بارے میں ہے، جنہیں اردو سے بے پناہ محبت ہے اور اس کی وجہ سے ہی انہوں نے ایک کے بعد ایک ایسے کئی اقدامات کئے تاکہ اردو کو عام لوگوں کے رسائی کی زبان بنائی جا سکے۔ اپنے اسی مشن کے تحت کامیاب کاروباری اور پالی پلیكس انڈسٹریز کے فاونڈر سنجیو سراف نے ریختہ فاؤنڈیشن قائم کیا۔ عام بول چال میں اکثر ہم اردو کے تمام الفاظ کا استعمال کرتے ہیں، لیکن اس کی بنیادی اور ضروری باتوں کی معلومات نہ ہونے کی وجہ سے اس سے دوریاں بننے لگتی ہیں۔ کئی بار تو اردو زبان میں چیزیں آسانی سے دستیاب نہ ہو پانے کی وجہ بھی دوری کا سبب بنتی ہے۔ انہی پریشانیوں کو دور کرنے کا نام ہے ریختہ فاؤنڈیشن۔

ایک طرح سے کہہ لیں کہ ریختہ فاؤنڈیشن اردو مواد کو محفوظ اور اسے جغرافیائی فاصلوں کے دائرے سے باہر نکال کر دنیا بھر میں اردو کے چاہنے والوں تک پہنچانے کا کام کرتا ہے۔ 2013 میں اپنے قیام کے بعد سے ریختہ فاؤنڈیشن نے اردو ادب، شاعری اور نظموں اور بچوں کے لئے اردو سے منسلک مواد کو محفوظ کرنے کا کام مسلسل کر رہا ہے۔ اتنا ہی نہیں اردو کے علماء کرام سے لے کر اردو کے علم اور جو اس زبان کو نہیں جانتے ان کے لئے بھی تدریسی مواد تیار کرنے میں ریختہ فاؤنڈیشن نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ریختہ کی ویب سائٹ پر موجود اردو مواد کا استعمال دنیا بھر کے اردو کے چاہنے والے کرتے ہیں۔

ایک مطالعہ کے مطابق دنیا بھر کے تقریبا 160 ممالک میں ریختہ کی ویب سائٹ Rekhta.org تک رسائی حاصل ہے۔ ریختہ فاؤنڈیشن اردو زبان کے فروغ کے لئے جشن ریختہ کے نام سے سالانہ جلسہ منعقد کرتا ہے، جس میں بشمول ہندوستان، دنیا بھر سے اردو کے نامی گرامی شاعر سے لے کر صوفی فنکار تک حصہ لیتے ہیں۔

ریختہ فاؤنڈیشن کا ویژن

فاؤنڈیشن کے بانی سنجیو صراف نے یور اسٹوری سے بات کرتے ہوئے بتایا،

"ہماری کوشش یہ ہے کہ اردو زبان میں مواد کی دستیابی بھرپور ہو اور ساتھ ہی ساتھ اس کی پہنچ لوگوں تک مفت آن لائن مہیا ہو سکے تاکہ اس کے چاہنے والوں کے سامنے زبان کے معاملے میں کوئی مسئلہ ن پیدا ہو۔"

سنجیو کہتے ہیں کہ طویل مدت میں میری کوشش ہے کہ اردو زبان کے جانکار سے لے کر اس زبان کے اسکالر اور اسٹوڈنٹس تک تمام کی اردو سے متعلق ضررتوں لئے مواد Rekhta پر موجود ہوں اور اس کے لئے ہم مسلسل کوشاں رہتے ہیں۔

سنجیو کہتے ہیں،

''چونکہ ہندی اور اردو دونوں کی پیدائشی مقام اور دونوں زبان کا گرامر ایک ہی ہے سو اردو کو عام لوگوں کی زبان بنانے کے مشن میں کوئی خاص مشکل نہیں یہ ایک طرح سے انترپرینيورشپ والا کام ہے اور میرے اندر کی انترپرینيورشپ کی آگ اردو زبان میں مواد کو جمع کرنے میں کافی مدد کرتی ہے۔''

جشن ریختہ

ریختہ فاؤنڈیشن اردو زبان کے فروغ کے لئے جشن ریختہ نام سے ایک سالانہ جلسہ منعقد کرتا ہے، جس میں دنیا بھر سے اردو کی نامور ہستیاں حصہ لیتی ہے۔ سنجیو سراف نے نامور شاعر اور ندا فاضلی کے انتقال پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صرف کچھ دن بعد ہی انہیں سالانہ جلسے میں حصہ لینے دلی آنا تھا۔

سنجیو کے مطابق اس بار دنیا بھر سے تقریبا 75 نامور ہستیاں جس میں، اردو کے شاعر ، اسکالر اور فنکار حصہ لینے آ رہے ہیں۔ حصہ لینے والی اہم شخصیات میں گلزار، جاوید اختر، مہیش بھٹ، شبانہ اعظمی، تگمانشو دھولیہ، نندتا داس، مننور رانا وغیرہ شامل ہیں۔ 12 سے 14 فروری کے درمیان ہونے والے سالانہ جلسے کے بارے میں زیادہ معلومات جشن ریختہ کی ویب سائٹ http://jashnerkekhta.org سے حاصل کی جا سکتی ہے۔

کامیاب کاروباری سے سوشل انترپرینيور کا سفر

ریختہ کے بانی سنجیو سراف نے 1980 میں IIT كھڑگپور سے ایگریکلچرل انجینئرنگ کرنے کے بعد اپنے فیملی بزنس میں ہاتھ بٹانا شروع کیا۔ لیکن کچھ مختلف کرنے کی دھن نے سنجیو کے انترپرینيورشپ کے سفر کو جاری رکھا اور 1984 میں انہوں نے پالی پلیكس کا قیام کیا۔ پالي پلیكس انڈسٹریز دنیا بھر میں انڈسٹریل پیکیجنگ میں استعمال ہونے والی پالئییسٹر فلم کی سب سے بڑی پیداواری کمپنیوں میں سے ایک ہے۔

یور اسٹوری سے بات کرتے ہوئے سنجیو سراف نے کہا،

''جب بزنس میں سب کچھ سیٹ ہو گیا تو میرے پاس وقت تھا کہ میں کچھ نیا کروں۔ بچپن سے ہی مجھے اردو کا شوق تھا، شعرو شاعری سے لگاؤ کی وجہ سے اردو سیکھنا شروع کیا۔ میں نے سوچا کہ یہ تو میرا شوق ہے، لیکن اس سے ایسے لوگوں کو بھی فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے جنہیں اس کی ضرورت تو ہے، لیکن اردو میں مواد کہاں ملے۔ یہ مسئلہ تھا سو میں نے ریختہ فاؤنڈیشن کا آغاز کیا۔ اب یہ انٹرنیٹ اور نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے سے لاکھوں لوگوں تک پہنچ رہا ہے۔ "

سنجیو بتاتے ہیں کہ میں نے اس میں وہ چیزیں دینے میں کامیابی حاصل کی ہے جس کی وجہ سے Rekhta.org پر لاکھوں لوگوں کو اردو کا مواد دستیاب ہو پا رہا ہے۔ سنجیو اتراکھنڈ کے كھٹيما میں ایک اسکول بھی چلا رہے ہیں جہاں قریب 2000 بچوں کو 12 ویں کلاس تک جدید تعلیم دی جاتی ہے۔

قلمکار روبی سینگھ

مترجم: زلیخا نظیر