کامیابی حوصلہ مند انسانوں کے ہی قدم چومتی ہے

0

آٹھ سال پہلے تک شیاچن بھردواج ماچس کی ڈبیا جیسے چھوٹے گھر میں رہتے تھے ۔بنگلورو سے اپنے والدین کو پونے میں اپنے اس چھوٹے سے گھر میں بلانے کے لئے انہیں کافی شرمندگی محسوس ہوتی تھی ۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب شہر میں کھانا سربراہ کرنے والی کمپنی’ ٹیسٹی کھا نا ‘ مقبول ہورہی تھی۔پیسے کی مسلسل کمی و تنگی نے بھردواج کو اپنے انعامات اور ایوارڈبھی فروخت کرنے پر مجبور کردیا تھا ۔ماہانہ کرایہ ادا کرنے کے لئے اس نے اپنی ہیرو ہانڈا اسپلینڈر بھی محض 13ہزارروپئے میں فروخت کردی تھی ۔

شیاچن کے اسپلینڈر چلانے کے دن گذرچکے تھے۔ اب وہ چمکتی دمکتی براؤن بی ایم ڈبلیو چلارہا ہے ۔وہ ایک ماہ کے بیٹے کا قابل فخر باپ بھی ہے اور اپنے دوسرے وینچر کیلئے وہ اب پوری طرح تیار بھی ہے ۔ گذشتہ چند برسوں کے دوران حالات میں نمایاں تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں ۔ گذشتہ سال نومبر میں فوڈپانڈا نے تقریباً 120کروڑروپئے میں ٹیسٹی کھانا کو حاصل کرلیا ۔ اس دوران فوڈ پانڈا میں تبدیلیاں آسانی سے نہیں آئیں۔ اس کو حاصل کرنے کے لئے اگست میں بات چیت کا آغاز ہوا تاہم اس میں جلد ہی تیزی آئی اور پلک جھپکنے سے پہلے اس کی معاملت ختم بھی ہوگئی۔

برلن کی فوڈ سربراہ کرنے والی کمپنی ڈیلیوری ہیرو نے 2011میں 5ملین ڈالر سرمایہ کاری کی اور ٹیسٹی کھانا کے بیشتر شیئرس کی ملکیت حاصل کرلی ۔اس معاملت کو آگے بڑھانے میں مقامی ٹیم کے ساتھ اس نے رضامندی بھی ظاہر کی ۔

شیاچن اور شیلڈن ‘ حتمی معاملت سے خوش تھے کیونکہ وہ اپنے بعض سرمایہ کاروں کو 10xROIاور ٹیم ارکان کو معقول معاوضہ دینے کی اہلیت رکھتے تھے جنہوں نے ٹیسٹی کھانا کے ابتدائی دنوں کے دوران ان کے ساتھ تعاون کیا تھا ۔کمپنی کے حصول کے چند ماہ بعد حالاتوں ویسے نہیں چل رہے تھے جس کی توقع کی گئی تھی ۔انتظامیہ کی دونوں ٹیموں کے درمیان تنازعہ پیدا ہوگیا ۔ اس تعلق سے ہم نے تفصیلات جاننے کی کوشش کی تو شیاچن نے ان مسائل پر بات کرنے سے انکارکردیا تاہم یہ بتایا کہ فوڈ پانڈا کا ورک کلچر ٹیسٹی کھانا کی 100سے زیادہ ارکان پر مشتمل ٹیم سے بہت مختلف ہے جوورک کلچرگذشتہ سات برسوں میں بنایا گیاتھا ۔شیاچن نے اس بات پر مزید تبصرہ کرنے سے انکارکردیا کہ کس طرح فوڈ پانڈا کو چلایا جارہا ہے اور اس کے کاروبار کا انتظامیہ کیسا ہے ۔ اس نے بتا یا کہ یہ سوچنا بہتر نہیں ہوگا کہ صرف اس کے کام کرنے کا طریقہ ہی درست ہے ۔شیاچن اور بعض دوسروں نے ٹیسٹی کھانا مینجمنٹ ٹیم کو مارچ کے اوائل میں چھوڑدیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیم کے بانی نے کروڑہا روپئے لگائے جو فوڈ پانڈا کے شیئرس میں پھنس گئے ہیں ۔شیاچن بھردواج نے مزید بتا یا کہ کاروبار کو فروغ دینے کے لئے اخلاقی اقدار اور اصولوں کا درست طریقہ یہ ہے کہ اس سے کو ئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔غیر اخلاقی طریقوں یعنی شارٹ کٹس کے مقابلہ میں بتدریج ترقی کے منازل طے کرنے کو ترجیح دی جائے ۔شیاچن نے بتا یا کہ وہ اس قسم کا انسان ہے جس نے کبھی پولیس کو تک رشوت نہیں دی ۔ حقیقی طور پر اس سے ایک غلطی سرزد ہوگئی تھی اور چھ ماہ کے لئے اس کا لائسنس معطل کردیا گیا تھا ۔لیکن س اس ے پیچھا چھوڑا نے کے لئے اس نے رشوت دینا گوارا نہیں کیا ۔ان حالات سے چھٹکارا پانے اور اس کے بعد عوام کے ردعمل سے متعلق جب مزید بات چیت کی گئی تو شیاچن نے بتا یا کہ وہ جو کچھ رکھتا ہے اس سے خوش ہے اور اس سے زیادہ کی اس کو خواہش بھی نہیں ہے ۔ بعض ملازمین کے لئے ESOPSپر کاغذی کاروائی نہیں کی گئی تھی جس کے نتیجہ میں شیاچن اور شیلڈن دونوں کو اپنی جیب سے پیسے ادا کرنے پڑے۔

فوڈ پانڈا میں مختصر مدت گذارنے کے بعد شیاچن اچانک اپنی زندگی کا ایک اوراہم سنگ میل طے کرنے جارہا تھا یعنی وہ باپ بننے والا تھا ۔ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے اس نے بتا یا کہ کس طرح زندگی الٹراسونوگرافی اور گیانیکالوجسٹ سے اپائٹمنٹس لینے میں مصروف رہی ۔شیاچن کا کہنا ہے کہ ان تمام مقامات پر اس کو انتظار میں گھنٹوں وقت گذارنا پڑا۔اس نے کہا کہ آپ بھی اپنے ذاتی تجربہ سے یہ اچھی طرح جانتے ہون گے کہ انتظار کی گھڑیاں کتنی طویل ہوتی ہیں ۔ بس شیاچن کے ذہن میں یہ بات آئی اور وہ سوچتا رہا کہ انتظار کے اس عمل کو کس طرح کارآمد بنایا جاسکتا ہے ۔شیاچن اور اس کی بیوی نے اس بارے میں سوچا ۔ کئی مرتبہ انہیں اپائنٹمنٹس سے محروم ہونا پڑا تھا ۔شیاچن نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ لوگ اپنی قطاروں کو بہتر کیوں نہیں بناتے ۔اس کو خیال آیا کہ ٹکنالوجی اس مسئلہ کو یقینی طور پر حل کرسکتی ہے ۔ اس بات کو عملی شکل دینے کیلئے اس نے سابق شریک بانی شیلڈن اور ٹیسٹی کھانا کے چیف سیلز آفیسر سنتوش کے ساتھ پہلے ہی

sminq

کا آغاز کردیا جس کا تلفظ ’ سمنک‘ہے ۔ شیاچن نے اس کے لئے پونے میں آٹھ کلنکس کے ساتھ معاہدہ کرلیا ۔سمنک کیا ہے اور یہ کس طری کام کرتا ہے اب یہ جاننا ہے ۔ سمنک ایک موبائیل ایپ ہے جو کمپنیوں کو اپنے کسٹمرس کے ساتھ معاملت بہتر بنانے میں مدد کرتا ہے ۔اس کے ذریعہ قطاریں بنائی جا سکتی ہیں اور کسٹمرس کو ایس ایم ایس نوٹیفیکشن بھیج کر یہ بتا یا جاتا ہے کہ کس کا نمبر آگیا ہے اور حاصل کرنے کے لئے کس کا سامان تیار ہے ۔اس ایپ کے ذریعہ کسٹمرس قطار کا حقیقی موقف معلوم کرسکتے ہیں اور دور رہ کر ہی اس میں شامل ہوسکتے ہیں ۔اس ایپ کے ذریعہ وہ ہر ماہ ان ڈاکٹرس کے ساتھ تقریباً ایک ہزار بکنگس کررہے ہیں جن کے ساتھ انہو ں نے معاہدہ کیا ہے ۔اس ایپ کے ذریعہ انٹرویوز کے انتظامات میں مدد کے علاوہ ہیومن ریسورس فرم کی بھی رہنمائی کی جارہی ہے۔

شیاچن کے مطابق سمنک ایپ میں وسیع تر گنجائش ہے ۔ اس کو کئی مقاصد کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔کلنکس سے سرکاری نوکری کے انٹرویوزتک اس کا استعمال ہوسکتا ہے جیسے روڈ ٹرانسپورٹ آفیس اور پاسپورٹ سیوا کیندر ‘ کار یا بائیک سرویس اسٹیشنوں وغیرہ کے لئے بھی اس کو استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ کسٹمرس کے لئے یہ ایپ سی آر ایم کی طرح کام کرسکتا ہے ۔ یہ کسٹمر مینجمنٹ سے متعلق تمام کام انجام دے سکتا ہے ۔پراڈکٹ کی لاگت ماہانہ دو ہزار روپئے کے لگ بھگ ہے تاہم اس کا انحصار کسٹمرس کی تعداد پر ہے ۔ دنیا بھر میں کئی کمپنیاں کسٹمرس کی قطاروں کے انتظام کا کام کررہی ہیں جن میں بعض کلنکس کے لئے اور بعض ریسٹورنٹس کے لئے ہیں لیکن صرف دو کمپنیاں مائی ٹائمز اور کیو ۔ لیس ایسی ہیں جو کئی مراحل میں قطاروں کے انتظامیہ کا کام انجام دے رہی ہیں ۔

شیاچن نے مستقبل کے منصوبوں سے متعلق بتا یا کہ وہ اس دوران کئی مراحل سے گذرا ہے لیکن ابھی بہت کچھ سیکھنا باقی ہے ۔وہ بہت خوش ہے کہ اس نے اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر ٹیسٹی کھانا کاکامیاب بزنس قائم کیا اور اب وہ یہی کام دوبارہ سمنک کے لئے کر نے تیار ہے ۔ بیشک اس کا مطلب چھوٹے کمرے میں سونا نہیں اور نہ ہی بائیک فروخت کرنا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شیاچن کیلئے صنعت قائم کرنے کا سفر جاری رہے گا کیونکہ کامیابی حوصلہ مند انسانوں کے ہی قدم چومتی ہے ۔

قلمکار:اپرنا گھوش

مترجم : اکبر خاں