وہ صبح کبھی تو آئے گی...خواتین کی باوقارزندگی کے لئے کوشاں ’ہم سفر‘

0

عالم کاری اور بیداری کے اس دورمیں اب کسی کو دبانا آسان نہیں ہے۔ بلکہ کسی گروپ ،طبقے یاجنس کو دبانے کا عمل اگر شدید ہوگاتو اس کا ردعمل بھی  شدید تر ہو سکتا ہے۔ اگرتعلیم ،بیداری اور جدوجہد کو ہتھیاربنالیاجائے توجنگ جیتنابڑاآسان ہوجاتاہے۔ یہ ثابت کیاہے سماج کی ستم رسیدہ خواتین کے ایک گروپ نے۔ مرداساس معاشرے کی ان جہد کارخواتین نے جب یہ ادراک کرلیاکہ صرف مردوں کے سہارے لڑائی نہیں جیتی جاسکتی توانھوں نے بذات خود میدان میں اترنے کا فیصلہ کرلیا۔ ان عورتوں نے نصف آبادی کو انصاف دلانے،تشددسے بچانے اورخود کفیل بنانے کے لئے باقاعدہ ایک تنظیم کی داغ بیل ڈالی اور اس کانام رکھا ’ہم سفر ‘۔ اس تنظیم نے بہت سی خواتین کو تشدد زدہ ماحول سے نجات دلائی اور ان کو خود کفیل بناکر ایک باوقارزندگی گذارنے کا موقع فراہم کیا۔ ’ہم سفر‘ سے وابستہ خواتین بہت پرعزم ہیں اور امید کرتی ہیں کہ وہ دن ضرورآئے گا جب معاشرے میں عورت کو برابر کا درجہ ملے گا۔ انھوں نے ساحرلدھیانوی کے ایک مشہورنغمے کے درج ذیل ٹکڑوں کو اپنانعرہ بنالیاہے۔

وہ صبح کبھی تو آئے گی...وہ صبح ہمیں سے آئے گی

ہم سفر امدادی مرکز برائے خواتین کا قیام نومبر2003میں لکھنؤ میں ہوا تھا۔ یہ 2008میں لکھنؤ میں ایک ٹرسٹ کے طورپر رجسٹرڈ کیا گیا۔ اس کا نصب العین خواتین کے جینڈراور انسانی حقوق کی پامالی کی مخالفت کرنا نیز جنسی مساوات کی جہت میں کام کرنا ہے۔ اس کو بانی گروپ، تربیت یافتہ عملے اور بڑی تعداد میں اس سے وابستہ کمیونیٹز کے افراد، تعلیمی اداروں وحقوق انسانی کے حامیوں کے ذریعے چلا یاجاتاہے۔ ممتاسنگھ اس ادارے کی چیف کوآرڈی نیٹر اورنشی مہروترااس کی منیجنگ ٹرسٹی ہیں ۔ ’ہم سفر‘ جنس پر مبنی تشدد کے خلاف آواز اٹھانے کے لئے کثیر جہتی نقطۂ نظر اپنا تاہے۔ ہم سفر تشدد کا سامنا کررہی عورتوں اور خواجہ سراؤں کا ساتھ دیتا ہے اور ان کو کئی طرح کی سہولیات دیتاہے جن میں نسائی مشاورت ، قانونی صلاح وتعاون، سماجی ثالثی ، سہارا، طبی سہولت ، تشدد سے بچاؤ اور بازآبادکاری کی سہولیات شامل ہیں ۔ گذشتہ 12برسوں میں ہم سفر نے 7000سے زائد معاملات میں خواتین کا ساتھ دیاہے۔ ادارے کی سینئر پروگرام کوآرڈی نیٹر کمیونٹی موبلائزیشن سدھا سنگھ نے یوراسٹوری کو بتایا:

’’متاثرہ خواتین کے ساتھ12برسوں تک کام کرتے ہوئے' ہم سفر' نے یہ محسوس کیا ہے کہ ایک عورت اپنی زندگی دوبارہ شروع نہ کر پانے کے ڈرسے ہی تشدد بھرے رشتے سے باہر آنے کا فیصلہ نہیں کرپاتی۔ متعدد متاثرہ خواتین اپنے عدالتی مقدمات واپس لے کر تشدد بھرے رشتے میں واپس جانا صرف اس لئے قبول کرلیتی ہیں کیوں کہ ان کی مالی حالت بہت ہی غیر یقینی اور کمزور ہوتی ہے۔ اسی سلسلے میں ایسی خواتین کو معاشی اعتبار سے مستحکم بنانے کے ساتھ ایک باوقار زندگی گذارنے کا حق مل سکے اس کے پیش نظر روز گارپر مبنی ایسی تربیت دینے کا تہیہ کیا۔ ہم سفر نے ہمیشہ ایسی ٹریننگ دینے کی کوشش کی ہے جس سے وہ روایتی اورپدری تسلط والے ڈھانچے کو زد پہنچا سکے۔ سماج کی اس سوچ کو چیلنج کرے جو مانتی ہے کہ خواتین تکنیک کے شعبے میں مردوں کی برابری نہیں کرسکتیں ۔ ایسی سروائیورخواتین کوڈرائیونگ اور فرنیچر پالش جیسے ہنر مندی کے کاموں کی تربیت دی جارہی ہے۔ ‘‘

اس کام کے تحت ہم سفر نے 137متاثرہ خواتین کو ٹریننگ دی ہے۔ جیوتی، للیتا، میرا ، راشدہ ، ممتا، سمن اور پشپاسبھی تشدد سے دوچار ہونے کے بعد اپنی نئی زندگی شروع کررہی ہیں ۔ ان کی کہانیاں مختلف ہیں لیکن جدوجہد، محنت اور حوصلہ ایک جیسا ہی ہے۔ ان کا ہدف ہے کہ اترپردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں خواتین کے ذریعے چلائی جانے والی ٹریفک سروس فراہم کرنا۔ اسی ہدف کی تکمیل کے لئے سات متاثرہ خواتین ای رکشا اور دومتاثرہ خواتین آٹورکشا چلانے کی گذشتہ ایک سال سے ٹریننگ لے رہی ہیں اور آج لائسنس پاکر ایک ڈرائیور کے طورپر ایک نئی شناخت حاصل کرلی ہے۔ گاڑی چلانے کی ٹریننگ کے ساتھ ہم سفر نے خواتین کو سیلف ڈیفنس، گاڑی کارکھ رکھاؤ، مواصلاتی مہارت ، سڑکوں اورنقشہ پڑھنے کا علم اور جنس کی سمجھ وغیرہ کی بھی معقول تربیت دی ہے۔

’ہم سفر‘ شہری بستیوں میں رہنے والی خواتین کے ساتھ اور اسکول کا لجوں میں پڑھنے والے نوجوان لڑے لڑکیوں ، اساتذہ ، منیجروں ، آنگن باڑی کارکنوں اور دیگر رضاکار تنظیموں کے ساتھ کام کرتاہے۔

موجودہ وقت میں ہم سفر لکھنؤ منطقے کے چار اضلاع لکھنؤ، اناؤ، سیتاپوراور ہردوئی کی53بستیوں میں خواتین کے ساتھ اور42اسکولوں وکالجوں میں نوجوانوں کے ساتھ کام کررہا ہے۔

’ہم سفرکے دوست ‘پروگرام کے تحت ادارہ سماج کے مختلف شعبوں سے وابستہ لوگوں جیسے ڈاکٹر، تاجر، اساتذہ، پرنسپل، معاشرے میں کئی طرح سے اپنارول نبھانے والی خواتین اور نظام انصاف میں کام کرنے والے وکیلوں اور ججوں کے ساتھ کام کرتاہے۔ ادارے نے اسکولوں ، کالجوں اور کمیونیٹز کے نوجوان لڑکے لڑکیوں کے گروپ کو ’یواترنگ‘نامی گروپ میں جمع کیا ہے۔

’ہم سفر‘ واحد ایسی تنظیم ہے جو مختلف سرکاری محکمہ جات جیسے ڈی جی پی دفتر یوپی، اینٹی کرپشن بیورویوپی، جی آرپی یوپی اور اے پی سین ڈگری کالج لکھنؤ میں کام کی جگہ پرانسداد تشدد کمیٹی میں ایک آزادرکن ہے۔ ہم سفر لکھنؤ پولیس کے ذریعے جنسی تشدد کی شکار لڑکیوں کے لئے قائم کمیٹی میں بھی ایک رکن ہے۔ سدھاسنگھ نے یوراسٹوری کوبتایا:

’’ہم سفر کا پختہ یقین ہے کہ متاثرہ خواتین کی حصول انصاف کی لڑائی کو مختلف سطحوں پر تمام فرقوں اور طبقات کے تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ضروری ہے کہ تشدد کے آس پاس کی خاموشی کی ساز ش کو توڑاجائے کیوں کہ خواتین کو اپنے حق پانے کے لئے ایک طویل قانونی لڑائی لڑنی ہے۔ انھیں اپنی اور اپنے بچوں کی جذباتی واقتصادی باز آبادکاری کرنا ہے نیز اپنے حقوق وفرائض کے تئیں بیدار شہری کی حیثیت سے خود کو معاشرے میں ثابت کرنا ہے۔ ‘‘

’ہم سفر ‘گھریلو تشدد کے خلاف بیداری مہم چلاتی ہے اور بتاتی ہے کہ ہمارے گھروں ، پاس پڑوس اور کام کی جگہوں پر عورتوں ، لڑکیوں اور بچوں کے ساتھ ان کے گھرمیں رہنے والے مردوں کے ذریعے کئی طرح سے تشدد کیا جاتاہے ۔ عورتوں کو بتایا جاتاہے کہ مارپیٹ ، گالی گلوج، دھمکی ، طمانچہ مارنا، گھر سے باہر نہ جانے دینا، کسی سے ملنے نہ دینا، کام پر نہ جانے دینا، بچوں کو اسکول نہ جانے دینا، لڑکانہ ہونے پرطعنہ زنی،پسند کی شادی نہ کرنے دینا، مذاق اڑانا، کردار پر انگلی اٹھانا، خرچ کے پیسے نہ دینا، روپئے چھین لینا، جہیز یا دیگر اشیاء مانگنا، گھر سے نکالنا، شوہر کے ذریعے زبردستی جنسی تعلق قائم کرنا وغیرہ بھی تشدد کے زمرے میں آتاہے۔ ان کو بتایاجاتاہے کہ اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لئے ایک نیا قانون’گھریلو تشدد سے خواتین کا تحفظ 2005‘بنایا گیا ہے۔ یہ ایکٹ خواتین کو تحفظ فراہم کرتاہے۔ اس قانون کے تحت دومہینوں کے اندر معاملے کا فیصلہ کیا جاتاہے۔ اگر اس طرح کا تشدد کسی عورت پر ہو تو اس کی تحریری یا زبانی شکایت اپنے حلقہ کے تحفظ افسر، مجسٹریٹ، خدمات فراہم کنندہ ، نسواں تنظیم اور نزدیکی تھانے کے پولیس افسر سے کی جاسکتی ہے۔ ہم سفر مرکز کے ذریعے درج ذیل سہولیات فراہم کی جاتی ہیں :

٭ مشاورت ،کیس اور مدعاعلیہ کی کونسلنگ

٭ مفت وکیل اور قانونی صلاح

٭ ڈاکٹر، صلاح کا روغیرہ کی خدمات حاصل کرنے میں تعاون

٭ پولیس، انتظامیہ اور دیگر قانونی نظام تک رسائی میں تعاون

٭ مخصوص حالات میں قلیل مدتی محفوظ رہا ئش کی سہولت

٭ معاملے میں ثالثی

٭ متاثر ہ خاتون کے ساتھ عدالت جانا

’ہم سفر‘ کی کوشش ہے کہ متاثرہ عورتوں کے تمام مسائل کا ازالہ کیا جائے، ان کو تمام طرح کی سہولیات دستیاب کرائی جائیں اور اس طرح کا پرسکون وپراعتماد ماحول فراہم کیاجائے جہاں وہ اپنی بات کھل کر کہہ سکیں ۔ سدھاسنگھ کہتی ہیں :

’’عورتوں کے لئے ویسے تو بہت سی آرگنائزیشن ہیں لیکن عام طور سے وہ ایک دومسائل ہی دیکھتی ہیں ۔ اس کی وجہ سےعورتوں کو مختلف جگہوں پر جانا پڑتاہے ۔ الگ الگ جگہوں پر ان کوالگ الگ مشورے ملتے ہیں جس کے سبب وہ کنفیوز ہوجاتی ہیں اور تھک ہار کر بیٹھ جاتی ہیں ۔ ہم سفر کے قیام کا مقصد یہ ہے کہ عورتوں کے تمام مسائل کا حل ایک جگہ ہوجائے۔ ان کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جہاں ان کو ہر طرح کی سہولت مل سکے۔ سب سے اہم بات ہم سفر کو ایک ایسے مرکز کی شکل میں پیش کرنا جہاں وہ کھل کر اپنی پوری بات رکھ سکیں اور بھروسہ کرسکیں ۔ یہاں عورتوں کو مشاورت سے سے لے کر بازآبادکاری تک کی سہولت دستیاب ہے‘‘۔

اترپردیش کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو بھی ہم سفر کے کاموں کی ستائش کرتے ہیں ۔ انھوں نے 15 فروی 2016کو’ ہم سفر‘ اور’ آشاٹرسٹ‘ کے زیر اہتمام خواتین کے لئے خواتین کے ذریعے ای۔ رکشااور آٹوسروس کا آغازکیا۔ اس سروس کی شروعات سات خواتین ڈرائیوروں کے ذریعے کی گئی ۔ یہ سبھی ساتوں خواتین ڈرائیورغریب پس منظر اور تشددسے دوچار ہونے کے بعد اپنی نئی زندگی شروع کررہی ہیں ۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر اعلان کیا کہ ان ساتوں خواتین رکشا ڈرئیوروں کو ریاستی حکومت کی جانب سے مفت میں ای ۔ رکشا فراہم کرایاجائے گا۔

’ہم سفر ‘کاسفر جاری ہے ۔ مختلف طبقات کی عورتیں اس سے رجوع کررہی ہیں ،جس سے ذمہ داروں کے حوصلے بلند ہیں ۔ اس سے وابستہ خواتین کو امید ہے کہ...وہ صبح کبھی تو آئے گی...اورانھیں یقین ہے کہ ...وہ صبح ہمیں سے آئے گی۔

.........

کچھ اور دلچسپ کہانیوں کے لئے FACEBOOK پر جائیں اور لائک کریں ۔

یہ کہانیاں بھی ضرور پڑھیں ۔

...................

شعلہ سا لپک جائے ہے آواز تو دیکھو....غزل گائیکی کی نئی ادا جنیوارائے

انسانیت ،محبت اوراتحاد ِ مذاہب کاعلمبردار ’مانوکلیان سیوادھرم‘