منظم لاجسٹک میں 'پورٹر' کی خدمات پانچ شہروں میں

0

30 بلین ڈالر کا ہے ہندوستانی کاروبار

انٹراسٹی لاجسٹک کے منظم کاروبار میں نئی اپلیکیشن

دہلی، ممبئی، بینگلورو اور چینئی کے ساتھ حیدرآباد میں شروع کیا کاروبار

10 بڑے شہروں تک پہنچںے کا منصوبہ

ملک کے بڑے شہروں میں انٹراسٹی لاجسٹک کے منظم کاروبار میں نئی اپلیکیشن ٹیکنالوجی کے ساتھ داخل کرنے والی کمپنی پورٹر نے حیدرآباد میں اپنی خدمات شروع کرنے کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں 30 بلین ڈالر کے کاروبار کے امکانات ہیں۔ ملک کے پانچ شہروں میں ایک ساتھ اپنی خدمات شروع کرنے والی اس کمپنی کو تین نوجوانوں نے مل کر قائم کیا ہے۔

پورٹر کے نوجوان بانی پرنب گوئل نے بتایا کہ انہوں نے انپے آئی آئی ٹی کے ساتھی اُتّم ڈِگّا اور وکاس چودھری کے ساتھ مل کر پورٹرکا قیام 15 ماہ پہلے کیا تھا اور ہر ماہ کی تجارت میں 50 فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دہلی، ممبئی، بینگلورو اور چینئی کے ساتھ حیدرآباد میں بھی انہوں نے اپنے کاروبار کو وسعت دی ہے۔

پرنب گوئل کا اس کاروبار کی ترغیب اپنے ولد سے ملی۔ ان کے ولد گجرات میں ٹمبر کاروبار سے جڑے ہیں۔ انہیں اپنے کاروبار میں جب گاڑیوں کی ضرورت پڑتی تا ان کی خدمات حاصل کرنے میں کافی مسائل ہوتے۔ انہوں نے بتایا کہ دو گاڑیوں سے انہوں نے اپنے کاروبار کی شروعات کی تھی اور آج ان کے کاروبار کے ساتھ 3000 گاڑیاں جڑی ہیں۔ حیدرآباد میں 100 کلومیٹر کے دائرے میں سامان ایک جگہ سے دوسرے مقام پر پہنچانے کے لئے ان کی کمپنی آدھے گھنٹے کے اندر گاہک تک پہنچ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا، 'عام طور پر اشیاء ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے میں گاڑی کا صحیح وقت پر مناسب قیمت میں ملنا بڑا مسئلہ ہے۔ پہلے تو مول تول کے بغیر کام ہوتا نہیں ہے اور وقت پر ملنا بھی کئی بار ممکن نہیں ہو پاتا۔ ان حالات میں ہماری کمپنی نے پورٹر اپلیکیشن بنایا ہے، جس سے کوئی بھی شخص فی كلوميٹر کے حساب سے پہلے سے مقررہ کرایہ پر اپنا سامان منزل مقصود تک پہنچا سکتا ہے۔

پرنب گوئل نے بتایا کہ حیدرآباد میں فی الحال 200 گاڑیاں ان کے ساتھ ہیں جوہر دن چار سو ٹرپ کر رہی ہیں اور امکان ہے کہ جلد ہی یہ کام 500 گاڑی اور 1500 ٹرپ تک پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں یہ کاروبار زیادہ تر غیر منظم ہے۔ کچھ نئی کمپنیاں اسٹارٹپ کے طور پر سامنے آئی ہیں، لیکن اس میں ابھی مزید مقابلہ آرائی کی ضرورت ہے۔

ان نوجوانوں کی سب سے بڑی کامیابی اپنے کاروبار کے لئے ایپ بنانا ہے۔ اس ایپ سے اپنا مال منزل مقصود تک بغیر کسی پریشانی کے پہنچا پانا آسان ہوگا۔ بلکہ رستے میں سامان کو اتفاقی نقصان پر انہوں نے بیما کی صحولت بھی فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں سب سے بڑا مسئلہ انپڑھ ڈروئوروں سے ہے۔ تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے وہ گاہک کا صحیح پتہ معلوم کرنے اور وہاں تک جلدی پہنچ پانے میں قاصر ہوتے ہیں۔ اس مسئلے سے کیسے نپٹا جائگا؟ اس سوال کے جوب میں گوئل نے یور اسٹوری کا بتایا کہ انکا ایپ کچھ اس طرح بنایا گیا ہے کو ان پڑھ ڈرائور بھی رانگوں کی زبان سمجھ کر صحیح جگہ پر مقررہ وقت تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کمپنی ڈروئوروں کے لئے ایک ٹرینیگ پروگرام بھی بنایا ہے۔

پورٹر اگلے سال تک مزید ملک کے 10 بڑے شہروں تک پہنچںے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ انہیں امید ہے کہ وہ بہت جلد لاجسٹک کے بازار میں ایک بڑی کمپنی کے طور پر ابھریں گے۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem