پانچ روپئے روزانہ اُجرت پانے والی جیوتی آئی ٹی سیکٹر میں پھیلارہی ہے روشنی

آہنی عزم والی ایک خاتون کی حوصلہ بخش داستان

0

وہ  ایک عام رات نہیں تھی۔ یہ ایسی رات تھی جس کو ایک نئی صبح کا انتظار تھا۔ اس رات ایک یتیم خانے میں رہنے والی لڑکی نے تمام اصولوں کو توڑنے کا فیصلہ کیا اور اپنی کچھ سہیلیوں کے ساتھ،.، جنہیں وہ پیار سے 'اکـا' کہہ کر پکارتی تھی، آدھی رات کے بعد ہی یتیم خانے لوٹی جہاں وہ اپنی ان سہیلیوں کے ساتھ رہا کرتی تھی۔

یہ شیوراتری کی رات تھی ۔ اس رات گاؤں میں واقع شیو مندر میں درشن کرنے کے بعد انہوں نے واقعتاً کچھ کرنے کی ٹھانی جس کے لئے کافی ہمت جُٹانے کی ضرورت تھی۔ اور سب مل کر اس وقت ایک دھماکے دار فلم دیکھنے گئے جو ایک محبت کی کہانی پر مبنی تھی۔

حالانکہ انیلا جیوتی ریڈی اس رات تیلنگانہ کے ورنگل علاقہ کے اس گمنام گاؤں کو پیچھے چھوڑکر کافی طویل سفر طے کر چکی ہے، لیکن گزرے دنوں کی یادیں ان کے ذہن پر کچھ اس طرح نقش ہیں جیسے وہ کل ہی کی بات ہو۔ وہ بتاتی ہیں،"اس رات جب ہم کافی دیر سے واپس لوٹے تو وارڈن نے ہماری خوب خبر لی اور ہمارے ساتھ کافی مار پیٹ کی۔ لیکن اس وقت میں اس فلم کی گہرائی میں اس قدر کھوئی ہوئی تھی کہ میں نے ان سب چیزوں پر زیادہ توجہ ہی نہیں دی۔ مجھے لگا کہ پیار کے لئے مجھے بھی شادی کر لینی چاہیے۔"

لیکن جیوتی کی قسمت میں شائد کچھ اور ہی لکھا تھا۔ اس واقعے کے ٹھیک ایک سال بعد محض 16 برس کی عمر میں ان کی شادی اپنے سے 10 برس بڑے شخص سے کردی گئی۔ اس بے جوڑ شادی کے نتیجے میں بہتر زندگی کی امید میں پالے گئے ان کے تمام خواب چکنا چور ہوگئے کیونکہ جس شخص کے ساتھ ان کی شادی ہوئی تھی وہ ایک کسان ہونے کے علاوہ نہایت کم پڑھا لکھا تھا۔ یہ تقدیر کا لکھا تھا لہٰذا انہیں تلنگانہ کے تپتے ہوئے سورج کے نیچے چاول کے کھیتوں میں ایک روزانہ دہاڑی مذدور کے طور پر کام کرنے کی شروعات کرنی پڑی ۔ دن بھر کی کڑی محنت کے بعد جیوتی کے ہاتھ آتے محض پانچ روپئے۔ جی ہاں، آپ نے سہی پڑھا، صرف پانچ روپئے۔ دن بھر محنت اور مشقت کے ساتھ کھیتوں میں کام کرنے کے بعد اسے پانچ روپئے ملتے۔ 1985 تا 1990، ان پانچ برسوں کے درمیان سب کچھ ایسے ہی چلتا رہا۔

"فی الحال جیوتی امریکہ میں رہتی ہیں اور ہر سال حیدر آباد آتی ہیں۔ فون پر ان سے ہوئی گفتگو کے دوران وہ بتاتی ہیں،"محض 17 برس کی عمر میں ، مجھے ماں بننے کا سکھ حاصل ہوچکا تھا۔ روزانہ معمول کے کام کرنے کے بعد میں سیدھے کھیتوں کا رُخ کرتی اور شام کو گھر لوٹتے ہی مجھے رات کے کھانے کی تیاری میں جُٹ جانا پڑتا تھا۔ اس وقت ہمارے گھر میں اسٹو تک نہیں تھا اس لئے مجھے لکڑی کے چولہے پر آگ جلاکر کھانا پکانا پڑتا تھا۔"

جیوتی فی الوقت امریکہ کی ریاست ایری زونا میں واقع 15 ملین ڈالر کی آئی ٹی کمپنی میں سافٹ وئر سالیوشن کی چیف ایکزیکیو ٹیو آفیسر یعنی سی ای او ہیں۔ ان کی کامیابی کسی ذہین ناول نگار کی تحریر کردہ داستان لگتی ہے، جس میں ہیروئن کو پوری کہانی میں مسلسل تکالیف سے پُر زندگی گزارنے کےلئے مجبور ہونا پڑتا ہے۔ اور آخر میں وہ تمام پریشانیوں کو دور کرتے ہوئے ایک فاتح کی شکل میں سامنے آتی ہے۔ اس کے علاوہ جیوتی نے اپنی تقدیر سنوارنے کے لئے ایک اہم کردار ادا کیا۔ اپنے لئے پہلے سے طے شدہ زندگی جینے سے انکار کرتے ہوئے انہوں نے خود کو درپیش تمام رکاوٹوں کو بخوبی پار کیا اور ایک فاتح بن کر اُبھریں۔

وہ کہتی ہیں کہ وہ غریب گھر میں پیدا ہوئی تھیں اور ان کی شادی بھی ایک غریب گھر میں کردی گئی تھی۔ اس دوران پیٹ بھرنے کےلئے دال اور چاول سے بھرے ہوئے 4 ڈبے ان کے لئے خواب جیسے تھے۔ " اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے کے لئے مجھے ہمیشہ مناسب مقدار میں کھانے کی فکر رہا کرتی تھی۔ میں اپنے بچوں کو وہ زندگی نہیں دینا چاہتی تھی جو میں خود جی رہی تھی۔ "16 برس کی عمر میں شادی ہوجانے کے بعد جیوتی نے محض 17 برس کی عمر میں ایک بیٹی کو جنم دیا اور اس کے ایک برس کے اندر ہی اندر وہ ایک اور بیٹی کی ماں بن گئی۔ "محض 18 برس کی عمر میں میں 2 بیٹیوں کی ماں بن چکی تھی۔ ''ہمارے پاس کبھی بھی اتنے روپئے نہیں ہوتے تھے کہ ہم ان بچیوں کوبیمار ہونے پر دواخانہ لے جاسکیں یا پھر انہیں ان کی پسند کے کھلونے دلواسکیں۔ جب ان بچیوں کو اسکول بھیجنے کا وقت آیا تو انہیں انگریزی میڈیم کے بجائے تیلگو میڈیم اسکول میں داخل کروایا گیا کیونکہ تیلگومیڈیم اسکول کی فیس 25 روپئے تھی جو انگریزی میڈیم اسکول کی فیس سے نصف تھی۔ "میرے پاس اپنی دونوں بیٹیوں کے پڑھانے کے لئے ہر مہینے صرف 50 روپئے ہوتے تھے اس لئے میں نے انہیں تیلگو میڈیم اسکول میں داخلہ دلوایا۔"

جیوتی کے تین اور بھائی بہن ہیں اور غریبی کی وجہ سے ان کے والد نے انہیں ان کی بہن کے ساتھ یہ کہتے ہوئے یتیم خانے میں داخل کروادیا تھا کہ ان بچیوں کی ماں کی موت ہوچکی ہے۔ " میں پانچ برسوں تک یتیم خانے میں رہی ۔ وہاں کی زندگی بہت مشکل تھی۔ حالانکہ میری بہن خود کو اس ماحول میں ڈھال نہیں پائی اور ہمارے والد کو اسے واپس لے جانا پڑا۔ " لیکن جیوتی وہیں ڈٹی رہیں اور ماں کی یاد اور ضرورت کے باوجود انہوں نے خود کو یتیم خانے کے اس ماحول کے مطابق ڈھال لیا۔

یتیم خانے میں گزارے دنوں کو یاد کرتے ہوئے جیوتی کہتی ہیں،" مجھے یاد ہے کہ ہر برس ایک امیر شخص یتیم خانے میں مٹھائی اور کمبل تقسیم کرنے آتا تھا۔ میں اس وقت کافی کمزور تھی اور تصور کرتی تھی کہ ایک دن میں بھی بہت امیر بنوں گی ۔ امیر بننے کے بعد میں ایک سوٹ کیس میں 10 نئی ساڑیاں رکھا کروں گی۔ "

ہر برس 29 اگست کو ہندوستان واپس آنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے جیونی کہتی ہیں کہ یہ ان کا یومِ پیدائش ہے اور وہ اپنا جنم دن ورنگل کے مختلف یتیم خانوں میں رہنے والے بچوں کے ساتھ مناتی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ نفسیاتی معذور بچوں کے لئے بھی ایک ادارہ چلاتی ہیں جہاں 220 بچے رہتے ہیں۔

جیوتی کہتی ہیں،"ہندوستان کی کُل آبادی میں 2 فیصد یتیم ہوتے ہیں جن کی اپنی کوئی شناخت نہیں ہوتی۔ کسی کو ان کی فکر نہیں ہوتی اور وہ دوسروں کے لئے غیر اہم ہوتے ہیں۔ یتیم خانوں میں کام کرنے والے لوگ صرف پیسوں کے لئے کام کرتے ہیں اور انہیں ان یتیموں کی دیکھ بھال اور انہیں پیار کرنے سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ "

جیوتی گزشتہ کئی برسوں سے یتیم بچوں کی بہبود اور ان کی باز آباد کاری کے کام میں جُٹی ہوئی ہیں۔ اسی سلسلے میں وہ بر سرِ اقتدار سیاسی رہنماؤں اور وزیروں سے ملاقات کرتی رہتی ہیں۔ انہیں سب سے زیادہ فکر اس بات کی ہے کہ ریاستی حکومت نے مختلف ریمانڈ ہومز میں رہنے والے دسویں تک کے لڑکوں کا ڈاٹا تو جاری کردیا لیکن یتیم لڑکیوں سے متعلق کہیں کسی قسم کی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ "آخر یتیم لڑکیاں ہیں کہاں؟ وہ غائب کیوں ہیں؟" وہ پوچھتی ہیں اور پھر خود ہی اپنے سوالات کا جواب بھی دیتی ہیں،" کیونکہ ان لڑکیوں کی اسمگلنگ کی جاتی ہے اور انہیں با لجبر قحبہ گری کے پیشے میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ میں نے حیدر آباد کے ایک ایسے ہی یتیم خانے کا دورہ کیا تھا جہاں مجھے دسویں جماعت میں زیرِ تعلیم 6 ایسی بچیاں ملی تھیں جو ماں بن چکی تھیں۔ ایک ہی یتیم خانے میں یہ 6 یتیم مائیں اپنے یتیم بچوں کے ساتھ رہ رہی ہیں۔"

آج جبکہ جیوتی اس قابل ہیں کہ وہ کچھ کرسکیں،وہ ہر پلیٹ فارم سے اپنی ان فکروں کو دنیا کے سامنے لانے کی کوشش کرتی ہیں تاکہ دنیا ان یتیم بچوں کی حالت سے واقف ہوسکے۔ حالانکہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب انہیں اپنے شوہر اور سسرال والوں کی نا انصافی کو خاموشی کے ساتھ برداشت کرنا پڑتا تھا۔ وہ ایک مشکل وقت تھا جب کھانے والے کئی تھے اور آمدنی نہ ہونے کے برابر تھی۔ "اس وقت میری سب سے بڑی فکر میرے بچے تھے اور میری زندگی کئی اقسام کی پابندیوں سے گھِری ہوئی تھی۔ میں کسی بیرونی آدمی سے بات بھی نہیں کرسکتی تھی۔ کھیتوں میں کام کرنے کے علاوہ میں کہیں آ جا بھی نہیں سکتی تھی۔"

لیکن ایک کہاوت ہے کہ جہاں چاہ ، وہاں راہ! جیوتی نے بھی موقع ملتے ہیں اس کا فائدہ اٹھایا اور ایک شبینہ مدرسہ یعنی نائٹ اسکول میں دیگر مزدوروں کو پڑھانے کا آغاز کردیا۔ یوں وہ ایک مزدور سے سرکاری معلمہ بن گئیں۔ "میں انہیں بنیادی باتیں جاننےکی تحریک دیا کرتی تھی اور یہی میرا خصوصی کام تھا۔ جلد ہی مجھے ترقی دی گئی اور میں ورنگل کے ہر گاؤں میں خواتیں اور نوجوانوں کو کپڑا سلائی کی تربیت دینے کے لئے جانے لگی۔ " اب وہ ہر مہینہ 120 روپئے کما رہی تھیں۔

" وہ رقم میرے لئے ایک لاکھ روپئے ملنے کے برابر تھی۔ اب میں اپنے بچوں کی دوائیوں پر پیسہ خرچ کر سکتی تھی۔ یہ میرے لئے ایک بڑی رقم تھی۔"

وقت کے ساتھ ساتھ جیوتی کے خوابوں کی اُڑان بھی وسیع ہوتی چلی جارہی تھی۔ انہوں نے امبیڈکر اوپن یونیورسٹی سے ایک پیشہ ورانہ نصاب پورا کیا اور انگریزی میں ایم ۔ اے کرنے لے لئے ورنگل کے کاکتیہ یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔ لیکن امریکہ میں رہائش پذیر ان کی ایک رشتہ دار نے ان کے خوابوں کو نئے بال و پر عطا کئے اور انہیں محسوس ہوا کہ غریبی کے بھنور سے نکل پانے کے لئے ان کا امریکہ جانا بہت ضروری ہے۔

ان کے لئے ایک تحریک ثابت ہونے والی ان کی یہ واقف کار غیر رہائش پذیر ہندوستانی یعنی این آر آئی کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے جیوتی کہتی ہیں،" اس کا اپنا ایک اسٹائل تھا اور وہ میری 'معلمہ ' والی شخصیت سے بالکل الگ تھی۔ میں نے کبھی اپنے بال کھُلے نہیں چھوڑے تھے، دھوپ کے چشمے نہیں پہنے تھے یا کار نہیں چلائی تھی۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا میں امریکہ آسکتی ہوں؟"

ان کی رشتہ دار نے ان سے کہا،"آپ جیسی حوصلہ مند خاتون بڑی آسانی سے امریکہ میں خود کو مستحکم کرسکتی ہے۔" جیوتی نے ایک لمحہ ضائع کئے بغیر کمپیوٹر سافٹ وئر کلاسس میں داخلہ لے لیا۔ انہیں ہر روز حیدرآباد کا سفر کرنا پڑتا تھا کیونکہ ان کے شوہر کو ان کے گھر سے باہر رہنے کے خیال پر ہی اعتراض تھا۔ وہ امریکہ جانے کے بارے میں مصمم ارادہ کئے ہوئے تھیں اور ان کے لئے اپنے شوہر کو راضی کرنا بہت مشکل کام تھا۔ "میں امریکہ جانے کے لئے بہت بے چین تھی کیونکہ مجھے علم تھا کہ اپنے بچوں کو ایک بہتر زندگی دینے کے لئے میرے پاس بس یہی ایک راستہ تھا۔"

انہوں نے امریکہ کا ویزا پانے کے لئے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کی مدد لی۔ "میں نے اپنی رسائی کی حد تک تمام ذرائع کا استعمال کیا اور تدریسی ذمہ داری کی ادائیگی کے دوران بھی وقت ضائع نہیں کیا۔ میں نے دوسرے معلمین کے ساتھ مل کر ایک چٹ فنڈ شروع کیا۔ 1995-1994 میں میری تنخواہ پانچ ہزار روپئے تھی اس کے علاوہ میں چٹ فند سے 25 ہزار روپئے مہینہ کمارہی تھی۔ اور اس وقت میری عمر محض 23 یا 24 برس تھی۔ میں نے امریکہ جانے کے لئے زیادہ سے زیادہ بچت کرنے پر زور دیا۔"

جیوتی کی سب سے شدید خواہش کار چلانا تھی اور انہیں بخوبی اس بات کا علم تھا کہ یہ صرف امریکہ جاکر ہی ممکن ہو سکے گا۔ "گھر میں مجھ پر کئی طرح کی پابندیاں تھیں۔ میرے شوہر نے میرے لئے صرف اتنا ہی اچھا کام کیا کہ مجھے دو بچیوں کی ماں بنادیا جنہوں نے مجھ میں زندگی سے لڑنے کا جذبہ پیدا کیا۔" وہ طنزیہ کہتی ہیں۔ " میری دونوں بیٹیاں مجھ جیسی ہی ہیں۔ وہ سخت محنت کرتی ہیں اور وقت بالکل برباد نہیں کرتیں۔" ان کی دونوں بیٹیاں سافٹ وئر انجینئر ہیں اور دونوں ہی شادی کے بعد امریکہ میں رہ رہی ہیں۔

یوں جیوتی نے خود کو درپیش تمام مشکلات سے نبرد آزما ہوتے ہوئے ان پر فتح پائی اور اپنے خوابوں کی دنیا میں پہنچ گئیں۔ انہوں نے نیو جرسی میں رہنے والے ایک گجراتی خاندان کے ساتھ پیئنگ گیسٹ کے بطور رہنا شروع کیا جس کے بدلے انہیں ہر ماہ 350 ڈالر ادا کرنے ہوتے تھے۔ امریکہ میں اپنا کاروبار شروع کرنے سے قبل انہیں پہلے ایک سیلز گرل سے لے کر بچہ سنبھالنے والی آیا کے علاوہ ہوٹل میں روم سروس کرنے اور ایک گیس اسٹیشن پر اٹنڈنٹ کے طور پر بھی کام کرنا پڑا۔

جیوتی بتاتی ہیں کہ دو برس بعد جب وہ ہندوستان واپس لوٹیں اور اپنے گاؤں کے شیو مندر میں پو جا کے لئے گئیں تو پجاری نے ان سے کہا کہ انہیں امریکہ میں مستقل نوکری نہیں ملے گی اور اگر وہ وہاں اپنا کاروبار شروع کریں تو انہیں متوقع کامیابی مل سکتی ہے۔ اس وقت انہوں نے پجاری کی باتوں کو ہوا میں اُڑادیا تھا لیکن شائد پجاری کے یہ الفاظ مستقبل میں سچ ہونے والے تھے۔ آخر کار کچھ عرصے بعد وہ اپنی بیٹیوں اور شوہر کو بھی اپنے ساتھ امریکہ لے گئیں۔

ہندوستان کے آنجہانی صدرِ مملکت جناب اے پی جے عبد الکلام کو اپنا آئیڈیل ماننے والی جیوتی کہتی ہیٰں کہ کلام ہمیشہ ان سے کہتے تھے کہ 11 سے 16 برس کی عمر کسی بھی بچے کی کردار سازی کا وقت ہوتا ہے۔ "میں نے زندگی کا وہ وقت یتیم خانے میں گزارا تھا۔ حالانکہ اس وقت بھی میں دوسرے بچوں کی مدد کیا کرتی تھی اور پریشان بچوں کا خیال رکھنے کے علاوہ ان کے لئے ٹافی وغیرہ کا انتظام کرتی تھی۔"

گزرے وقت کو یاد کرتے ہوئے جیوتی اپنے ماضی میں گم ہوجاتی ہیں جب انہیں موسمِ گرما کے سخت دنوں میں ننگے پاؤں میلوں کا سفر طے کرنا پڑتا تھا۔ تجسس کے مارے جب میں نے ان سے پوچھا کہ آج ان کے پاس جوتیوں کے کتنے جوڑ ہیں تو انہوں نے کہا،"آج میرے پاس 200 جوڑی جوتے ہیں اور مجھے اپنے کپڑوں سے میچ کرنے والے جوتے تلاش کرنے میں 15 سے 20 منٹ لگ جاتے ہیں۔" اور اب وہ ایسا کیوں نہ کریں؟ ایک معلمہ کے طور پر انہوں نے اپنے لئے پہلی بار کچھ خریدا تھا۔ "اس وقت میرے پاس صرف دو ہی ساڑیاں تھیں اور مجھے ایک تیسری ساڑی کی بہت ضرورت تھی۔ اس وقت میں نے 135 روپئے میں اپنے لئے ایک ساڑی خریدی اور آپ کو شائد یقین نہ آئے کہ میں نے اس ساڑی کو ابھی بھی بہت سنبھال کر رکھا ہے۔" مجھے ان سے پوچھنا پڑا کہ فی الحال ان کی الماری میں رکھی سب سے قیمتی ساڑی کی قمیت کیا ہے؟ چہرے پر بے چینی بھری ہنسی کے ساتھ وہ بتاتی ہیں،" میں نے اپنی چھوٹی بیٹی کی شادی میں پہننے کے لئے ایک لاکھ 60 ہزار روپئے کی نیلے اور سلور رنگ کی ساڑی خریدی تھی۔"

موجودہ وقت میں جیوتی امریکہ میں 6 اور ہندوستان میں 2 گھروں کی مالکن ہیں۔ انہوں نے اپنے کار چلانے کے خواب کو بھی حقیقت میں تبدیل کیا اور اب وہ مرسڈیز بینز چلاتی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کالے چشمے بھی پہنتی ہیں اور اپنے بال بھی کھُلے چھوڑ تی ہیں۔

جیوتی کے اس حوصلہ افزاء سفر کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے کاکتیہ یونیورسٹی نے انگریزی کے ڈگری کے نصاب میں ان پر ایک سبق شامل کیا ہے۔

"یقین مانئے کہ ایک دن میں نے اسی یونیورسٹی میں نوکری مانگنے کے لئے درخواست دی تھی جسے انہوں نے بڑی بے رُخی سے ٹھکرادیا تھا۔ آج دیہاتوں کے رہنے والے کئی بچے میرے بارے میں پڑھتے ہیں اور یہ جاننے کا تجسس رکھتے ہیں کہ یہ زندہ شخصیت کون ہے۔"