برتن کی صفائی سے شروع ہوا سفر پہنچا کروڑوں کی تجارت تک

پریم گنپتی نے ایک انجان شہر میں جدوجہد کی ایک نئی کہا نی رچی، جوآج ایک مثال کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔ ڈوسا پلازہ' سے تعلق رکھتی ہے جدوجہد کی ایک منفرد کہانی۔

0

ڈوسا جنوبی ہند کی مشہور ڈش ہے، لیکن آج کل ہندوستان کے دیگر حصوں میں ہی نہیں، بلکہ دنیا بھر میں بڑے چاؤسے کھایا جا رہا ہے۔ اس کا کاروبار بھی خوب پھل پھول رہا ہے۔ اس کا ذائقہ اب دنیا بھر میں مشہورہو گیا ہے۔ ڈوسے کے ساتھ کامیابی کی ایک خاص کہانی آج ہم سنا رہے ہیں۔ ایسی کہانی جو محنت اور جدوجہدکی عمدہ مثال کےطور پرآئندہ کئی برسوں تک یاد کی جاتی رہے گی۔ یہ کہانی 'ڈوسا ڈاکٹر' کے نام سے مشہور' ڈوسا پلازہ' کے مالک اور بانی پریم گنپتی کی ہے۔ وہ 'ڈوسا پلازہ' ریستراں کی ایک بڑی چین رکھتے ہیں۔ ہندوستان بھر میں 'ڈوسا پلازہ' کے بہت سے آؤٹ لیٹ ہیں اور ان آؤٹ لیٹ میں ہردن ہزاروں لوگ لذیذ پکوانوں کا مزہ لے رہے ہیں۔ اسی 'ڈوسا پلازہ' سے تعلق رکھتی ہے جدوجہد کی ایک منفرد کہانی۔ کہانی پریم گنپتی کی۔ "ڈوسا فروخت کرآج ہر دن لاکھوں روپے کما رہے پریم گنپتی کبھی ممبئی میں ایک بیکری میں برتن صاف کیا کرتے تھے۔ جس شہر میں بڑے کام حاصل کرنے کا خواب لے کر اپنے گاؤں سے آئے تھے، وہاں پہلے ہی دن ان کے ساتھ دھوکہ ہوا تھا، لیکن کسی طرح خود کو سبھال كر پریم گنپتی نے ایک انجان شہر میں جدوجہد کی ایک نئی کہا نی رچی، جوآج ایک مثال کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔

پکوانوں کے ذریعہ کروڑوں روپے کا کاروبار کر رہے پریم گنپتی کی پیدائش تمل ناڈو کے ٹوٹكورن ضلع کے ناگلاپورم گاؤں میں ہوئی۔ ان کا خاندان کافی بڑا ہے، چھ بھائی اور ایک بہن ہیں- والد لوگوں کویوگ اور ورزش کرنا سکھاتے تھے۔ تھوڑی کھیتی باڑی بھی ہوجاتی تھی، لیکن اچانک کھیتی باڑی میں نقصان ہوجانے کی وجہ سے حالات بگڑگئےاور گھر میں دوجون کی روٹیکا انتظام بھی مشکل ہونے لگا۔ اسی وقت پریم گنپتی نے فیصلہ کر لیا کہ وہ دسویں کے بعد پڑھائی نہیں کرینگےاور گھرچلانے میں والد کی مدد کرنے کے لئے کام کرینگے۔ انہونے کچھ دنوں کے لئے اپنے گاؤں میں ہی چھوٹی موٹی نوکریاں کی. لیکن، انھیں احساس ہو گیا کہ گاؤں میں ضرورت کے مطابق کمائی نہیں ہوگی۔ انہونے شہر چینئی جاکر ملازمت کرنے کا فیصلہ کیا۔ چینئی میں بھی انھیں چھوٹی نوکریاں ہی ملیں۔ اس روزگارسے ضرورتیں پوری ہونے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔ ان دنوں جب پریم اچھی کمائی کےلئے کام کی تلاش میں تھے، تب ان کے ایک واقف کا ر نے ممبئی میں اچھی نوکری دلانے کا وعدہ کیا۔ وعدہ تھا کہ وہ ممبئی میں 1200 روپے کی نوکری دلائے گا۔ اس وقت 1200 روپے پریم کے لئے بڑی رقم تھی۔ اس شخص کے ساتھ چینئی چھوڑ کر ممبئی کے لئے روانہ ہوئے۔ دونوں پہلے ويٹي (اس وقت وکٹوریہ ٹرمینل کہے جانے والے اب کے چھترپتی شیواجی ٹرمینل) پر اترے۔ اس کے بعد دونوں ممبئی کی لوکل ٹرینمیں سوار ہوئے۔ اس لوکل ٹرین کے سفر میں ہی وہ شخص پریم کو دھوکہ دے کر رپھوچكر ہو گیا۔ وہ خالی ہاتھ تھے۔ ان کے پاس جو کچھ روپے تھے،وہ اس رہزن کی نظر ہو گئے تھے، جو انھیں نوکری دلانے کا بہانہ کرکے اپنے ساتھ ممبئی لایا اورغائب ہو گیا۔ اس دھوکہ نے پریم کو ہلا کر رکھ دیا.

انجان شہر، اکیلا مسافران کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ آخر کرے تو کیا کرے۔ جیب خالی ، سوائے تمل کے کوئی اورکوئی دوسری زبان آتی بھی نہیں تھی۔ ممبئی میں ان کا کوئی دوسرا جاننے والا بھی نہیں تھا۔ ہندی، مراٹھی، انگریزی نہ جاننے والا آدمی لوگوں سے بات کرے تو کس زبان میں۔

جب وہ باندرا اسٹیشن پرلوکل ٹرین سے اترے تو مکمل طورپر نا امید ہوگیے تھے۔ لوگوں کی بھیڑ کے درمیان سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ جائیں تو کہاں جائیں؟ مدد مانگے تو کس سے اور کس طرح؟

پریم کی اس حالت پرایک ٹیکسی والے کو ترس آیا اور اس نے انہیں دھاراوی علاقے میں ماريمن مندر پہنچایا۔ اس مندر میں آنے والے زیادہ تر لوگ تمل بولنے والے ہی تھے۔ ٹیکسی ڈرائیور کو لگا کہ کوئی نہ کوئی تمل بولنے والا پریم کی مدد کردے گا اور وہ واپس اپنے گاؤں جانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ مندر میں تمل بولنے والے لوگ پریم کی مدد کے لئے آگے آئے اور انہوں نے گاؤں واپس بھجوانے میں ان کی مدد کرنے کا یقین دلایا۔ لیکن، پریم نے گاؤں واپس جانے کے ارادے کو بدل لیا تھا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ ممبئی میں ہی رہے گا اور کام کرے گا۔ مدد کرنے والے تمل شخص سے کہا کہ وہ کام کے مقصد سے ہی ممبئی آیا تھا اس لیے نوکری ہی کرے گا۔ اس نے صاف کہہ دیا کہ واپس چینئی یا پھر اپنے گاؤں جانے کا سوال ہی نہیں اٹھتا تھا۔

پریم کو ممبئی میں پہلی ملازمت چیمبورعلاقے میں ملی۔ ڈیڑھ سو روپے مہینے کی تنخواہ پر ایک چھوٹی سی بیکری میں برتن صاف کرنے کا کام ملا۔ پریم نے کئی دنوں تک برتن صاف کر روپے کمائے۔ لیکن، ان کے لئے یہ آمدنی بھی نا کافی سابت ہوئی۔ خود کی ضروریات پوری نہیں ہو رہی تھیں، اوپر سے گھر کے لئے بھی روپے بھیجنے تھے۔ بیکری کے مالک سے 'ویٹر' بنانے کی گزارش کی، لیکن مالک نے اس وقت کے حالات کے پیش نظرایسا نہیں کیا۔ مایوس پریم کو برتن صاف کرتے ہوئے ہی ملازمت کرنی پڑی۔ اب انہونے زیادہ روپے کمانے کے مقصد سے رات میں ایک چھوٹے سے ڈھابے پر کھانا پکانے کا کام بھی شروع کر دیا۔ ڈوسا بنانے کا شوق تھا اور اسی شوق کے چلتے ڈھابے کے مالک نے انہیں ڈوسا بنانے کا ہی کام سونپا۔

رات دن کی محنت کے بعد کچھ روپے جمع کرنے میں کامیابی ملی تو ان روپیوں سے اپنا خود کا چھوٹا سا کاروبار شروع کرنے کا خیال آیا۔

جمع روپیوں سے پریم نے اڈلي ڈوسا بنانے کی ٹھیلابنڈی کرایہ پر لے لی۔ 1000 روپے کے برتن خریدے ، ایک چولہا خریدا اور اڈلي ڈوسا بنانے کا کچھ سامان بھی. یہ بات ١٩٩٢ء کی ہے۔

واشی ریلوے اسٹیشن کے آس پاس ان کے مزیدار ڈوسے بہت کم وقت میں مشہور ہو گیے۔ پریم کے بنائے ڈوسے کھانے کے لئے لوگ دور دور سے آنے لگے۔ جو ایک بار ڈوسا کھا لیتا وہ دوبارہ کھانے ضرور آتا۔ طلباء میں بھی ان کی شہرت بڑھ گئی۔ اس ٹھیلے کی وجہ سے ان کی دوستی بہت سے طلباء سے ہو گئی تھی۔ وہ پریم کو اپنا کاروبار بڑھانے کے لئے مشورہ بھی دینے لگے۔

طلباء کی حوصلہ افزائی اور مدد سے انہونے 1997 میں ایک دوکان کرایہ پر لی۔ دو لوگوں کو نوکری پر بھی رکھا۔ اس طرح سے انہوں نے اپنا 'ڈوسا ریستوران' کھول دیاجس کا نام ۔ 'پرم ساگرڈوسا پلازہ' رکھا گیا۔

اس نام کے پیچھے بھی ایک وجہ تھی۔ جس جگہ انہوں نے دوکان کرایہ پر لی تھی وہ جگہ واشی پلازہ کہلاتی تھی۔ ان کو لگا کہ اگر وہ واشی اور ڈوسا کو جوڑیں گے تو جلد مشہور گے۔ حقیقت میں ہوا بھی ایسے ہی۔ دوکان خوب چل نکلی۔

پریم کے بنائے ڈوسو کا ذائقہ اتنا لذیذ تھا کہ وہ خوشبو جگہ جگہ پھیلنے لگی۔ اس ریستوران میں بھی زیادہ تر کالج کے طلباء ہی آیا کرتے۔ اور، انہی کی مدد سے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئےپریم نے کمپیوٹر بھی سیکھ لیا. کمپیوٹر پر انٹرنیٹ کی مدد سے دنیا بھر میں مختلف جگہ بنائے جانے والے لذیذ پکوانوں کو بنانا بھی سیکھ لیا.

اسی دوران ایک عمدہ خیال نے پریم کی زندگی بدل دی اور اس کے خواب کو ایک نئی پروازبھی ملی۔ نئی نئی طرح کے ڈوسے بنانا ، مختلف مزیدار پکوانوں کو ڈوسوکےساتھ شامل کرنا، چائنس کھانا پسند کرنے والوں کے لئے چانيس ڈوسا بھی پیش کیا۔ شمالی ہندوستانیوں کے لئے پنیرڈوسے کا بھی استعمال ہوا۔ اپنے تجربوں کو آزمانے کے لیےانہونے منتخب طلباء کو تجرباتی ڈوسے کھلاتا۔ اگران کو ذائقہ پسند آ جاتا توانہیں فروخت کیا جاتا۔ جلد ہی پریم نے اپنے ریستوران میں 20 قسم کے ڈوسے فروخت کرنے شروع کیے۔ نئے اور لذیذ ڈوسو کو کھانے کے لئے لوگوں کی بھیڑ جٹنے لگی۔ تعداد بڑھتی گیی۔ بھیڑ کو دیکھتے ہوئے ریستوران توسیع کرنا پڑا۔ اور بھی نئے نئے ڈوسے ایجاد کیے۔ ان نئے نئے ڈوسوں کے ذائقہ کی بحث ممبئی میں کچھ اس طرح ہوئی کہ ان کے ریستوران میں لوگوں کا ہجوم امڑنے لگا۔ 2005 تک انہوں نے اسی ریستوران میں اپنے تجربات سے 104 قسم کے ڈوسے تیار کر ڈالے۔ پریم کا تعارف اب 'دوسوں کا ڈاکٹر' کے نام سے بھی ہونے لگا۔ تجرباتی ڈوسو کی وجہ سے خوب منافع بھی ہونے لگا۔ لاکھوں کا مطالبہ دیکھتے ہوئےانہوں نے نیا ریستوراں کھولا۔ مانگ اور پھر ایک نیا سلسلہ شروع ہوا۔ نئے نئے ریستوراں کھولنے کا سلسلہ۔ ریستوراں بڑھتے گئے۔ کام اور کاروبار اتنا بڑھ گیا کہ مدد کے لئے انہوں نے گاؤں سے اپنے بھائی کو ممبئی بلا لیا۔ ان کے ڈوسوں کی خوشبو اتنی پھیلی کہ ممبئی کے باہر سے بھی ریستوراں کھولنے کا مطالبہ ہوا اور ممبئی کے باہر بھی ڈوسا پلازہ کھولنے شروع کئے۔ ایک ایک کر کے مختلف شہروں میں ڈوسا پلازہ کھلے۔ تمام ریستوران خوب چلے۔ پریم نے کامیابی کی ایک اور بڑی منزل اس وقت حاصل کی جب 'دوسا پلازہ' کی ایک دکان بیرون ملک بھی کھولی گیی۔ پریم اور ان کے 'ڈوسا پلازہ' کی کامیابی یہیں نہیں رکی، اوربھی ممالک میں ریستوران کھولنے کا سلسلہ جاری ہے۔ نیوزی لینڈ، مشرق وسطی اور دبئی سمیت 10 ممالک میں 'ڈوسا پلازہ' ریستوران ان کی کامیابی کی کامیابی کی کہانی بیان کر رہے ہیں۔ دنیا بھر میں 'ڈوسا پلازہ' کے 105 اقسام میں سے 27 کے ٹریڈ مارک بن گئے ہیں۔ ملک کی کئی ریاستوں میں اب لوگ 'ڈوسا پلازہ' سے ڈوسا اور دوسرے پکوانوں کا لطف اٹھا رہے ہیں۔

پریم گنپتی کی یہ کہانی جدوجہد سے کیا کچھ حاصل کیا جا سکتا ہےاس کی ایک خوبصورت مثال پیش کرتی ہے۔ ایک شخص جو کبھی کسی کے یہاں جھوٹے برتن صاف کرتا تھا وہ آدمی محنت، جدوجہد اور لگن کے بل پر اب بہت سے لوگوں کو نوکریاں دینے والے 'ڈوسا پلازہ' کا مالک ہے۔